الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَدْمٍ قُبُولِ هَدِيَّةِ الْمُشْرِكِينَ
مشرکوں کے تحائف قبول نہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6280
عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ الْمُجَاشِعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَعْرِفَةٌ قَبْلَ أَنْ يُبْعَثَ فَلَمَّا بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَهْدَى لَهُ هَدِيَّةً قَالَ أَحْسِبُهَا إِبِلًا فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهَا وَقَالَ إِنَّا لَا نَقْبَلُ زَبْدَ الْمُشْرِكِينَ قَالَ قُلْتُ مَا زَبْدُ الْمُشْرِكِينَ قَالَ رِفْدُهُمْ هَدِيَّتُهُمْ
۔ حسن بصری بیان کرتے ہیں کہ عیاض بن حماد مجاشعی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان بعثت سے پہلے جان پہچان تھی، پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نبوت ملی تو عیاض نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک تحفہ دیا، میرا خیال ہے کہ وہ اونٹ کی صورت میں تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبول کرنے سے انکار کر دیا اورفرمایا: ہم مشرکوں کاہدیہ قبول نہیں کرتے۔ میں ابن عون نے کہا: مشرکوں کے زَبْد سے کیا مراد ہے؟ حسن بصری نے کہا: ان کے تحفے اور عطیے۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6280]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3057، والترمذي: 1577، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17482 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17621»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3057
حدیث نمبر: 6281
عَنْ ذِي الْجَوْشَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَنْ فَرَغَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ بِابْنِ فَرَسٍ لِي يُقَالُ لَهَا الْقَرْحَاءُ فَقُلْتُ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي قَدْ جِئْتُكَ بِابْنِ الْعَرْجَاءِ لِتَتَّخِذَهُ قَالَ لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ وَلَكِنْ إِنْ شِئْتَ أَنْ أَقِيضَكَ بِهِ الْمُخْتَارَةَ مِنْ دُرُوعِ بَدْرٍ فَعَلْتُ فَقُلْتُ مَا كُنْتُ لِأَقِيضَكَ الْيَوْمَ بِغُرَّةٍ قَالَ فَلَا حَاجَةَ لِي فِيهِ ثُمَّ قَالَ يَا ذَا الْجَوْشَنِ أَلَا تُسْلِمُ فَتَكُونَ مِنْ أَوَّلِ هَذَا الْأَمْرِ قُلْتُ لَا قَالَ لِمَ قُلْتُ إِنِّي رَأَيْتُ قَوْمَكَ قَدْ وَلَعُوا بِكَ قَالَ فَكَيْفَ بَلَغَكَ عَنْ مَصَارِعِهِمْ بِبَدْرٍ قَالَ قُلْتُ بَلَغَنِي أَنْ تَغْلِبَ عَلَى مَكَّةَ وَتَقْطُنَهَا قَالَ لَعَلَّكَ إِنْ عِشْتَ أَنْ تَرَى ذَلِكَ قَالَ ثُمَّ قَالَ يَا بِلَالُ خُذْ حَقِيبَةَ الرَّجُلِ فَزَوِّدْهُ مِنَ الْعَجْوَةِ فَلَمَّا أَنْ أَدْبَرْتُ قَالَ أَمَا إِنَّهُ مِنْ خَيْرِ بَنِي عَامِرٍ قَالَ فَوَاللَّهِ إِنِّي بِأَهْلِي بِالْغَوْرِ إِذْ أَقْبَلَ رَاكِبٌ فَقُلْتُ مِنْ أَيْنَ قَالَ مِنْ مَكَّةَ فَقُلْتُ مَا فَعَلَ النَّاسُ قَالَ قَدْ غَلَبَ عَلَيْهَا مُحَمَّدٌ قَالَ قُلْتُ هَبَلَتْنِي أُمِّي فَوَاللَّهِ لَوْ أُسْلِمُ يَوْمَئِذٍ ثُمَّ أَسْأَلُهُ الْحِيرَةَ لَأَقْطَعَنِيهَا
۔ سیدنا ذوالجوشن کہتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنگ بدر سے فارغ ہوئے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے محمد! میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے اس گھوڑی کا بچہ لایا ہوں، جس کے چہرے پر تھوڑی سی سفیدی ہوتی ہے، تاکہ آپ اس کو بطور تحفہ قبول فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس کی ضرورت نہیں،لیکن اگر تو چاہتا ہے کہ میں تجھے اس کے بدلے میں بدر کی عمدہ زرہیں دے دوں، تو ٹھیک ہے۔ اس نے کہا: جی نہیں،میں تو آج اس کے عوض لونڈی بھی نہیں لوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ذوالجوشن! کیا تو اسلام قبول نہیں کر لیتا، تاکہ اس دین کے پہلے والے لوگوں میں سے ہو جائے؟ اس نے کہا: جی نہیں، میں ایسا نہیں کروں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیوں، اس کی کیا وجہ ہے؟ میں نے کہا: میں دیکھ رہا ہوں کہ ابھی تک آپ کی قوم (قریش) آپ سے لڑ رہی ہے، (معلوم نہیں کہ کس کے حق میں نتیجہ نکلتا ہے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میدان بدر میں ہونے والی ان کی ہلاکتوں کی اطلاع تجھے نہیں ملی؟ اس نے کہا: جی یہ بات تو مجھے پتہ چلی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم تیرے لیے وضاحت کریں گے۔ اس نے کہا: اگر آپ کعبہ پر غالب آ کر اس کو اپنا مسکن بنا لیں تو پھر بات بنے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو زندہ رہا تو اپنی آنکھوں سے اس چیز کو بھی دیکھ لے گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بلال! اس آدمی کا توشہ دان لو اور اس میں عجوہ کھجوریں ڈال کر دو۔ سیدنا ذوالجوشن کہتے ہیں: جب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں سے واپس لوٹا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! یہ بنو عامر کا سب سے بہترین گھوڑ سوار ہے۔ سیدنا ذو الجوشن کہتے ہیں: (ایک عرصہ گزر جانے کے بعد) میں نے دیکھا کہ ایک سوار میری طرف آ رہا تھا، جبکہ میں اس وقت اپنے اہل کے ساتھ (یمن کی) ایک پست جگہ میں تھا، میں نے کہا: کہاں سے آئے ہو؟ اس نے کہا: مکہ سے، میں نے کہا: کیا بنا لوگوں کا؟ اس نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ پر غالب آ گئے ہیں۔ میں نے کہا: میری ماں مجھے گم پائے، اگر میں اسی دن مسلمان ہو چکا ہوتا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حیرہ کا سوال کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دے دینا تھا۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6281]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، ابو اسحاق عمرو بن عبد الله السبيعي لم يسمع من ذي الجوشن۔ أخرجه ابوداود: 2786، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16633 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16750»
وضاحت: فوائد: … پچھلے باب کے فوائد میں مذکورہ احادیث سے معلوم ہوا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غیر مسلموں سے ہدیہ وصول کر لیتے تھے، جبکہ اس باب کی احادیث ایسا نہ کرنے پر دلالت کرتے ہیں، اس ظاہری تعارض کو دور کرنے کے لیے ائمہ اسلام اور محدثین نے درج ذیل تطبیقات پیش کی ہیں:
(۱) جس غیر مسلم کے بارے میںیہ امید ہو کہ وہ مسلمان ہو جا ئے گا، تو اس کا ہدیہ قبول کر کے اس کی دلجوئی اور تالیف ِ قلبی کی جائے، لیکن جو غیر مسلم اپنے ہدیے کے ذریعے محض دوستی چاہتا ہو، اس کے تحفے کو ردّ کر دیا جائے۔
(۲) ممانعت کی احادیث منسوخ ہو چکی ہے اور جواز والی احادیث کا حکم باقی ہے۔
(۳) موقع و محل کو مدنظر رکھ کر ہدایا قبول کر کے یا قبول نہ کر کے متعلقہ آدمی کو قبولیت ِ اسلام کی طرف رغبت دی گئی۔
(۴) جب دل میں مشرک کی محبت پیدا ہونے کا اندیشہ ہو تو تحفے ردّ کر دیے جائیں گے۔ (واللہ اعلم بالصواب)
(۱) جس غیر مسلم کے بارے میںیہ امید ہو کہ وہ مسلمان ہو جا ئے گا، تو اس کا ہدیہ قبول کر کے اس کی دلجوئی اور تالیف ِ قلبی کی جائے، لیکن جو غیر مسلم اپنے ہدیے کے ذریعے محض دوستی چاہتا ہو، اس کے تحفے کو ردّ کر دیا جائے۔
(۲) ممانعت کی احادیث منسوخ ہو چکی ہے اور جواز والی احادیث کا حکم باقی ہے۔
(۳) موقع و محل کو مدنظر رکھ کر ہدایا قبول کر کے یا قبول نہ کر کے متعلقہ آدمی کو قبولیت ِ اسلام کی طرف رغبت دی گئی۔
(۴) جب دل میں مشرک کی محبت پیدا ہونے کا اندیشہ ہو تو تحفے ردّ کر دیے جائیں گے۔ (واللہ اعلم بالصواب)
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
6. بَابُ اسْتِحْبَابِ تَقْسِيمِ الْهَدِيَّةِ فِي الْأَهْلِ وَالْأَصْحَابِ ومن حَضَرَ
ہدیہ کو اہل و عیال، دوستوں اور حاضرین میں تقسیم کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6282
عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةٌ مُزَرَّرَةٌ بِالذَّهَبِ فَقَسَمَهَا فِي أَصْحَابِهِ فَقَالَ مَخْرَمَةُ يَا مِسْوَرُ اذْهَبْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّهُ قَدْ ذُكِرَ لِي أَنَّهُ قَسَمَ أَقْبِيَةً فَانْطَلَقْنَا فَقَالَ ادْخُلْ فَادْعُهُ لِي قَالَ فَدَخَلْتُ فَدَعَوْتُهُ إِلَيْهِ فَخَرَجَ إِلَيَّ وَعَلَيْهِ قَبَاءٌ مِنْهَا قَالَ خَبَأْتُ لَكَ هَذَا يَا مَخْرَمَةُ قَالَ فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَقَالَ رَضِيَ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ
۔ سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کچھ چوغے بطور ہدیہ پیش کیے گئے، ان کے بٹن سونے کے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ چوغے اپنے صحابہ کے درمیان تقسیم کر دیے، سیدنا مخرمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے مسور!ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے چلو، میں نے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چوغے تقسیم کر رہے ہیں، پس ہم چلے گئے، جب وہاں پہنچے تو اس نے کہا: اندر جاؤ اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بلاؤ، پس میں گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بلا لایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے اورایک چوغہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے مخرمہ! یہ میں نے تیرے لیے چھپا کر رکھا ہوا تھا۔ چنانچہ انھوں نے اس کو دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مخرمہ راضی ہو گیا ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو وہ دے دیا۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6282]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2599، 5800، ومسلم: 1058، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18927 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19135»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2599
حدیث نمبر: 6283
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَهْدَى الْأُكَيْدَرُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَرَّةً مِنْ مَنٍّ فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ مَرَّ عَلَى الْقَوْمِ فَجَعَلَ يُعْطِي كُلَّ رَجُلٍ مِنْهُمْ قِطْعَةً فَأَعْطَى جَابِرًا قِطْعَةً ثُمَّ إِنَّهُ رَجَعَ إِلَيْهِ فَأَعْطَاهُ قِطْعَةً أُخْرَى فَقَالَ إِنَّكَ قَدْ أَعْطَيْتَنِي مَرَّةً قَالَ هَذَا لِبَنَاتِ عَبْدِ اللَّهِ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (روم کے بادشاہ) اکیدر نے جمی ہوئی بوندی کا ایک گھڑا بھر کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے تحفہ بھیجا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہو ئے اور لوگوں کے پاس سے گزرے تو ہر ایک کو ایک ایک ٹکڑا دیتے گئے، ان میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کوبھی ایک ٹکڑا دیاتھا، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوبارہ لوٹے اور ان کو ایک اور ٹکڑا دیا تو انھوں نے کہا: آپ مجھے ایک دفعہ تو دے چکے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: یہ عبد اللہ کی بیٹیوں کے لیے ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6283]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان۔ أخرجه مختصرا ابن ابي شيبة: 12/ 468، والبزار: 1936، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12224 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12249»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان۔ أخرجه مختصرا ابن ابي شيبة: 12/ 468
حدیث نمبر: 6284
عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَ لَمَّا تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُمَّ سَلَمَةَ قَالَ لَهَا إِنِّي قَدْ أَهْدَيْتُ إِلَى النَّجَاشِيِّ حُلَّةً وَأَوَاقِيَّ مِنْ مِسْكٍ وَلَا أَرَى النَّجَاشِيَّ إِلَّا قَدْ مَاتَ وَلَا أَرَى هَدِيَّتِي إِلَّا مَرْدُودَةً عَلَيَّ فَإِنْ رُدَّتْ عَلَيَّ فَهِيَ لَكِ قَالَتْ وَكَانَ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرُدَّتْ عَلَيْهِ هَدِيَّتُهُ فَأَعْطَى كُلَّ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ أُوقِيَّةَ مِسْكٍ وَأَعْطَى أُمَّ سَلَمَةَ بَقِيَّةَ الْمِسْكِ وَالْحُلَّةَ
۔ سیدہ ام کلثوم بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو ان سے فرمایا: میں نے نجاشی کی جانب ایک جوڑا اور کچھ اوقیے کستوری بطور تحفہ بھیجی تھی، چونکہ نجاشی اب فوت ہو چکا ہے، اس لیے میرا خیال ہے کہ میرایہ تحفہ واپس کر دیا جائے گا، بہرحال اگر وہ واپس آیا تو وہ تمہارے لئے ہوگا۔ وہی کچھ ہوا، جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہدیہ واپس کر دیا گیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر بیوی کو کستوری کا ایک ایک اوقیہ دیا اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو بچ جانے والی کستوری اور جوڑا دیا۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6284]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، لضعف مسلم بن خالد، ووالدة موسي بن عقبة لم نقف لھا علي ترجمة، وقد اضطرب مسلم بن خالد في تعيينھا۔ أخرجه الحاكم: 2/ 188، والبيھقي: 6/ 26، وابن حبان: 5114، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27276 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27819»
وضاحت: فوائد: … عام طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روٹینیہی تھی کہ جو چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو موصول ہوتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو وقت کی مناسبت کے مطابق رشتہ داروں، حاضرین اور دوسرے صحابہ کرام اور محتاجوں میں تقسیم کر دیتے تھے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 6285
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنَا سَيَّارٌ وَأَخْبرَنَا مُغِيرَةُ أَنَا دَاوُدُ عَنِ الشَّعْبِيِّ وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ سَالِمٍ وَمُجَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَحَلَنِي أَبِي نُحْلًا قَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ مِنْ بَيْنِ الْقَوْمِ نَحَلَهُ غُلَامًا قَالَ فَقَالَتْ لَهُ أُمِّي عَمْرَةُ بِنْتُ رَوَاحَةَ ائْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَشْهِدْهُ قَالَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي النُّعْمَانَ نُحْلًا وَإِنَّ عَمْرَةَ سَأَلَتْنِي أَنْ أُشْهِدَكَ عَلَى ذَلِكَ فَقَالَ أَلَكَ وَلَدٌ سِوَاهُ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَكُلَّهُمْ أَعْطَيْتَ مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَ النُّعْمَانَ قَالَ لَا فَقَالَ بَعْضُ هَؤُلَاءِ الْمُحَدِّثِينَ هَذَا جَوْرٌ وَقَالَ بَعْضُهُمْ هَذَا تَلْجِئَةٌ فَأَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي وَقَالَ مُغِيرَةُ فِي حَدِيثِهِ أَلَيْسَ يَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا لَكَ فِي الْبِرِّ وَاللُّطْفِ سَوَاءً قَالَ نَعَمْ قَالَ فَأَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي وَذَكَرَ مُجَالِدٌ فِي حَدِيثِهِ إِنَّ لَهُمْ عَلَيْكَ مِنَ الْحَقِّ أَنْ تَعْدِلَ بَيْنَهُمْ كَمَا أَنَّ لَكَ عَلَيْهِمْ مِنَ الْحَقِّ أَنْ يَبَرُّوكَ
۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میرے باپ نے مجھے ہبہ دیا، ایک راوی کے بیان کے مطابق وہ غلام تھا۔میری ماں عمرہ بنت رواحہ نے میرے والد سے کہا:تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ اوراس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گواہ بناؤ، پس وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ساری بات بتلائی اورکہا: میں نے اپنے بیٹے نعمان کو ایک عطیہ دیا ہے اور عمرہ نے مجھ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گواہ بنایا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا اس کے علاوہ بھی تمہاری اولاد ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان سب کو وہ چیز دی ہے، جو نعمان کو دی ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو ظلم ہے، جو تیری بیوی کے دباؤ کی وجہ سے کیا جا رہا ہے، جاؤ اس پر میرے علاوہ کسی اور کو گواہ بناؤ۔ مغیرہ نے اپنی حدیث میں کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تجھے یہ بات خوش کرتی ہے کہ تیری ساری اولاد نیکی اور مہربانی میں تیرے ساتھ برابر برابر پیش آئیں؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر جاؤ اور کسی اور کو گواہ بنا لو، بیشک ان کا تجھ پر یہ حق ہے کہ تو ان کے مابین انصاف اور برابری کرے، جیسا کہ ان پر تیرایہ حق ہے کہ وہ تجھ سے نیکی کریں۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6285]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2650، ومسلم: 1623، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18378 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18568»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب والدین اپنی اولاد کو عطیہ دیں گے تو بیٹی اور بیٹے کو برابر برابر دیں گے، یہاں میراث کا قانون نہیں چلے گا کہ بیٹے کو دو گنا اور بیٹی کو ایک گنا دیا جائے، کیونکہ ”وَلَد“ کا اطلاق بیٹے اور بیٹی دونوں پر ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2650
حدیث نمبر: 6286
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيْضًا قَالَ سَأَلَتْ أُمِّي أَبِي بَعْضَ الْمَوْهِبَةِ لِي فَوَهَبَهَا لِي فَقَالَتْ لَا أَرْضَى حَتَّى تُشْهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَخَذَنِي أَبِي بِيَدِي وَأَنَا غُلَامٌ وَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمَّ هَذَا ابْنَةَ رَوَاحَةَ زَاوَلَتْنِي عَلَى بَعْضِ الْمَوْهِبَةِ لَهُ وَإِنِّي قَدْ وَهَبْتُهَا لَهُ وَقَدْ أَعْجَبَهَا أَنْ أُشْهِدَكَ قَالَ يَا بَشِيرُ أَلَكَ ابْنٌ غَيْرُ هَذَا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَوَهَبْتَ لَهُ مِثْلَ الَّذِي وَهَبْتَ لِهَذَا قَالَ لَا قَالَ فَلَا تُشْهِدْنِي إِذًا فَإِنِّي لَا أَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ وَفِي رِوَايَةٍ فَقَالَ أَكُلَّ وَلَدِكَ قَدْ نَحَلْتَ قَالَ لَا قَالَ فَارْدُدْهُ وَفِي لَفْظٍ فَقَالَ فَارْجِعْهَا وَفِي لَفْظٍ آخَرَ قَالَ فَسَوِّ بَيْنَهُمْ
۔ (دوسری سند) سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میری ماں نے میرے باپ سے میرے لئے کچھ ہبہ کرنے کا مطالبہ کیا اور انہوں نے مجھے ایک چیز ہبہ کر دی، ماں نے کہا: میں چاہتی ہوں کہ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گواہ بناؤ، پس میرے باپ نے میرا ہاتھ پکڑا،جبکہ میں ایک لڑکا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس کی ماں بنت رواحہ نے مجھے اس کو ہبہ دینے پر آمادہ کیا اور میں نے اسے ہبہ کر دیا، اب اس کو یہ بات اچھی لگتی ہے کہ میں آپ کو اس پر گواہ بناؤں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بشیر! اس کے علاوہ بھی تیرے بیٹے ہیں؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کو بھی تونے اس قسم کی چیز ہبہ کی ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر مجھے گواہ نہ بناؤ، کیونکہ میں ظلم پر گواہ نہیں بنوں گا۔ ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو نے سب بچوں کو یہ عطیہ دیا ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اس سے بھی واپس کر لے۔ ایک روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے بچوں کے درمیان برابری کر۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6286]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18553»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18553
حدیث نمبر: 6287
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اعْدِلُوا بَيْنَ أَبْنَائِكُمْ اعْدِلُوا بَيْنَ أَبْنَائِكُمْ اعْدِلُوا بَيْنَ أَبْنَائِكُمْ وَفِي لَفْظٍ قَارِبُوا بَيْنَ أَبْنَائِكُمْ يَعْنِي سَوُّوا بَيْنَهُمْ
۔ سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے بیٹوں کے درمیان عدل کرو، اپنے بیٹوں کے درمیان عدل کرو، اپنے بیٹوں کے درمیان عدل کرو۔ ایک روایت میں ہے: اپنے بیٹوں کے درمیان برابری کرو۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6287]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1623، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18452 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18643»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1623
حدیث نمبر: 6288
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَتِ امْرَأَةُ بَشِيرٍ انْحَلْ ابْنِي غُلَامَكَ وَأَشْهِدْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ ابْنَةَ فُلَانٍ سَأَلَتْنِي أَنْ أَنْحَلَ ابْنَهَا غُلَامِي وَقَالَتْ وَأَشْهِدْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَهُ إِخْوَةٌ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَكُلَّهُمْ أَعْطَيْتَ مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَهُ قَالَ لَا قَالَ فَلَيْسَ يَصْلُحُ هَذَا وَإِنِّي لَا أَشْهَدُ إِلَّا عَلَى حَقٍّ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ کی بیوی نے کہا: میرے بیٹے کو غلام کا عطیہ دو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس پر گواہ بناؤ۔ پس سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: میری بیوہ عمرہ بنت رواحہ کامطالبہ ہے کہ میں اس کے بیٹے کو اپنے غلام کا عطیہ دوں، نیز وہ کہتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس پر گواہ بناؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا اس کے اور بھائی بھی ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے سب کو اسی طرح کا عطیہ دیا ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر یہ تو جائز نہیں ہے اور میں صرف حق پر گواہ بنتاہوں۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6288]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1624، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14492 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14546»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ والدین اپنی اولاد کو عطیہ تو دے سکتے ہیں، لیکن شرط یہ ہے کہ سب کو دیں اور برابری اور مساوات کا بھی خیال رکھیں، اگر ایسے نہ کیا تو یہ ظلم ہو گا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1624
7. بَابُ النَّهْي أَنْ يَرْجِعَ الرَّجُلُ فِي هِيَتِهِ إِلَّا الْوَالِدُ
والد کے علاوہ سب کے لیے ہبہ کی ہوئی چیز کو واپس لینے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 6289
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْءِ الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمارے لئے بری مثال نہیں ہے، اپنے ہبہ میں لوٹنے والا اس کتے کی مانند ہے جو اپنی قے کو چاٹنا شروع کر دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6289]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2622، 6975، ومسلم: 1622، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1872 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1872»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2622