🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. بَابُ مَا جَاءَ فِي جَوَازِهِمَا
عمری اور رقبی کے جائز ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6300
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعُمْرَى جَائِزَةٌ لِأَهْلِهَا وَالرُّقْبَى جَائِزَةٌ لِأَهْلِهَا
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عمریٰ اور رقبیٰ ان کے لیے نافذ ہو جانے والا ہے، جن کو دیا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6300]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1625، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14254 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14304»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1625
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6301
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَعْطَيْتُ أُمِّي حَدِيقَةً حَيَاتَهَا وَأُمُّهَا مَاتَتْ فَلَمْ تَتْرُكْ وَارِثًا غَيْرِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَجَبَتْ صَدَقَتُكَ وَرَجَعَتْ إِلَيْكَ حَدِيقَتُكَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اپنی ماں کو ان کی زندگی بھر کے لئے باغ دے دیا تھا، اب وہ فوت ہو گئی ہیں اور اس نے میرے سوا کوئی وارث بھی نہیں چھوڑا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا صدقہ بھی ثابت ہو گیا ہے اور تیرا باغ بھی تجھے وراثت میں واپس مل گیا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6301]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 2395، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6731 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6731»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جو چیز کسی کو بطورِ رقبییا عمری دی جاتی ہے، وہ مستقل طور پر اسی کی ہو جاتی ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 2395
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنْهُمَا
عمریٰ اور رقبیٰ کی ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6302
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرُّقْبَى وَقَالَ مَنْ أُرْقِبَ فَهُوَ لَهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رقبی سے منع کیا اور فرمایا: جو چیز جس کو بطور رقبیٰ دی جائے گی، وہ اسی کی ہو جائے گی۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6302]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه النسائي: 6/ 274، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4801 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4801»
وضاحت: فوائد: … یہ نہی حرمت کے لیے نہیں، بلکہ ارشاد اور رہنمائی کے لیے ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرمانا چاہتے ہیں کہ یہ کوئی مصلحت نہیں ہے کہ تم اپنے گھراور مال بطورِ رقبی دے دو، ہاں اگر اسی طرح ہی دینے ہیں تو جان لو کہ بطورِ رقبی دی ہوئی چیز واپس نہیں آئے گی اور مستقل طور پر تمہاری ملکیت سے نکل جائے گی۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه النسائي: 6/ 274
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6303
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا عُمْرَى فَمَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی عمریٰ نہیں ہے اور جس کو کوئی چیز بطورِ عمریٰ دی گئی، وہ اسی کی ہو جائے گی۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6303]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه النسائي: 6/ 277، وابن ماجه: 2379، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8686 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8671»
وضاحت: فوائد: … عمری سے نہی کی بھی وہی تفصیل ہے جو سابق حدیث کے فوائد میں بیان ہو چکی ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه النسائي: 6/ 277
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6304
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَا أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا عُمْرَى وَلَا رُقْبَى فَمَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا أَوْ أُرْقِبَهُ فَهُوَ لَهُ حَيَاتَهُ وَمَمَاتَهُ قَالَ ابْنُ بَكْرٍ فِي حَدِيثِهِ قَالَ عَطَاءٌ وَالرُّقْبَى هِيَ أَيْضًا لِلْآخِرِ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ مِنِّي وَمِنْكَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی عمریٰ اور رقبیٰ نہیں ہے،اور جس کو کوئی چیز بطورِ عمریٰ یا رقبیٰ دی گئی تو وہ اس کی موت و حیات میں اسی کی ہو جائے گی۔ ابن بکر نے اپنی حدیث میں کہا: عطاء نے کہا کہ رقبیٰ بھی اسی کا ہو جائے گا، عبد الرزاق نے کہا: میری طرف سے اور تیری طرف سے (یعنی اگر میں تجھ سے پہلے مرجاؤں تو یہ چیز تیری ہے اور اگر تومجھ سے پہلے مرجائے تو یہ میری ہے)۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6304]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه النسائي: 6/ 273، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5422 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5422»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه النسائي: 6/ 273
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6305
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمْسِكُوا عَلَيْكُمْ أَمْوَالَكُمْ وَلَا تُعْطُوهَا أَحَدًا فَمَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ زَادَ فِي رِوَايَةٍ فَلَا تُفْسِدُوهَا فَإِنَّهُ مَنْ أَعْمَرَ عُمْرَى فَهِيَ لِلَّذِي أَعْمَرَهَا حَيًّا وَمَيِّتًا وَلِعَقِبِهِ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے مال روک کر رکھو اور کسی کو نہ دو، جس کو کوئی چیز بطور عمریٰ دی گئی، وہ اسی کی ہو جائے گی۔ ایک روایت میں ہے: اپنے مالوں کو خراب نہ کرو، جس نے کسی کو کوئی چیز بطورِ عمریٰ دی تو وہ اسی کی اور اس کی نسل کی ہو جائے گی، وہ زندہ رہے یا مر جائے۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6305]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1625، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15176 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15243»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1625
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6306
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَعْمَرَ عُمْرَى فَهِيَ لِمُعْمَرِهِ مَحْيَاهُ وَمَمَاتَهُ لَا تُرْقِبُوا فَمَنْ أَرْقَبَ شَيْئًا فَهُوَ سَبِيلُ الْمِيرَاثِ
۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی کو کوئی چیز بطورِ عمریٰ دی تو وہ موت و حیات میں اسی کی ہو جائے گی، جس کو دی گئی، تم کوئی چیز بطور رقبیٰ نہ دو، جس نے کوئی چیز بطور رقبیٰ دے دی تو میراث کی روٹین میں آ جائے گی۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6306]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3559، والنسائي: 6/ 272، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21651 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21990»
وضاحت: فوائد: … ان روایات سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصود یہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اس امید میں عمری اور رقبی کے طور پر چیزیں دو کہ وہ بالآخر واپس آ جائیں گی، جبکہ وہ مستقل طور پر اسی کی ہو جائیں گی، جس کو دی جائیں گی، اس لیے جو آدمی رقبییا عمری کے طور پر کوئی چیز دینا چاہے تواس کو علم ہونا چاہیے کہ یہ چیز واپس نہیں آئے گی، سو وہ محتاط ہو جائے گا اور اگر کوئی آدمی عمری اور رقبی کے احکام کا علم ہونے کے بعد کوئی چیز اس طرح دینا چاہے تو وہ بیشک دے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3559
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. بَابُ مَا جَاءَ فِي تَفْسِيرِ الْعُمْرَى وَلِمَنْ يَكُونَ الْقَضَاءُ بها
عمریٰ کی تفسیر کااور اس چیز کا بیان کہ کس کے حق میں اس کا فیصلہ ہو گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6307
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ إِنَّمَا الْعُمْرَى الَّتِي أَجَازَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقُولَ هِيَ لَكَ وَلِعَقِبِكَ فَأَمَّا إِذَا قَالَ فَهِيَ لَكَ فَإِنَّمَا تَرْجِعُ إِلَى صَاحِبِهَا
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: وہ عمریٰ جس کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نافذ قرار دیا تھا، اس کی صورت یہ ہے کہ دینے والا آدمی کہے: یہ چیز تیرے لیے اور تیرے ورثاء کے لئے ہے۔ جب وہ صرف اتنا کہے کہ یہ چیز تیرے لئے ہے، تو وہ چیز اصل مالک کی طرف لوٹ آئے گی۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6307]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1625، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14131 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14177»
وضاحت: فوائد: … کیا ورثاء کی قید لگانا عمرییا رقبی کے لیے ضروری ہے؟ جواب کے لیے اس باب کی آخری حدیث کے فوائد دیکھیں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1625
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6308
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَعْطَى أُمَّهُ حَدِيقَةً مِنْ نَخْلٍ حَيَاتَهَا فَمَاتَتْ فَجَاءَ إِخْوَتُهُ فَقَالُوا نَحْنُ فِيهِ شَرْعٌ سَوَاءٌ فَأَبَى فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَسَمَهَا بَيْنَهُمْ مِيرَاثًا
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے ہی روایت ہے کہ ایک انصاری نے اپنی ماں کو اس کی زندگی بھر کے لیے کھجوروں کا ایک باغ دیا، جب اس کی ماں کی وفات ہوئی تو اس انصاری کے دوسرے بھائی آکر کہنے لگے کہ ہم سب اس باغ میں برابر کے شریک ہیں، لیکن اس نے انکار کر دیا، پس وہ جھگڑا لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس باغ کو ان کے مابین بطورِ میراث تقسیم کر دیا۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6308]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3557، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14197 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14246»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کے مطابق صرف متعلقہ آدمی کی عمر کی قید لگانے سے عمری نافذ ہو جائے گا۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3557
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6309
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَّارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَمِيرًا كَانَ بِالْمَدِينَةِ يُقَالُ لَهُ طَارِقٌ قَضَى بِالْعُمْرَى لِلْوَارِثِ عَلَى قَوْلِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ سلیمان بن یسار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مدینہ کے طارق نامی ایک امیر نے عمریٰ میں دی گئی چیز کا فیصلہ وارث کے حق میں کیا تھا، اس کا یہ فیصلہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کردہ حدیث کی روشنی میں تھا۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6309]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1625، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15077 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15143»
وضاحت: فوائد: … یہ طارق بن عمرو مکی اموی تھا، جو عبد الملک بن مروان کی جانب سے مدینہ کا گورنر تھا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1625
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں