صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1ق. باب مَا جَاءَ أَنَّ الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْكَافِرِ
باب: دنیا مومن کے لئے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہونے کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2956 ترقیم شاملہ: -- 7417
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْكَافِرِ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا مومن کا قید خانہ اور کافر کی جنت ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7417]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا مومن کا قید خانہ ہے اور کافر کی جنت ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7417]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2956
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2957 ترقیم شاملہ: -- 7418
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِالسُّوقِ دَاخِلًا مِنْ بَعْضِ الْعَالِيَةِ، وَالنَّاسُ كَنَفَتَهُ فَمَرَّ بِجَدْيٍ أَسَكَّ مَيِّتٍ، فَتَنَاوَلَهُ فَأَخَذَ بِأُذُنِهِ، ثُمَّ قَالَ: " أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنَّ هَذَا لَهُ بِدِرْهَمٍ "، فَقَالُوا: مَا نُحِبُّ أَنَّهُ لَنَا بِشَيْءٍ، وَمَا نَصْنَعُ بِهِ، قَالَ: " أَتُحِبُّونَ أَنَّهُ لَكُمْ؟ "، قَالُوا: وَاللَّهِ لَوْ كَانَ حَيًّا كَانَ عَيْبًا فِيهِ لِأَنَّهُ أَسَكُّ، فَكَيْفَ وَهُوَ مَيِّتٌ؟، فَقَالَ: " فَوَاللَّهِ لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ هَذَا عَلَيْكُمْ "،
سلیمان بن بلال نے جعفر سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ کی) کسی بالائی جانب سے داخل ہوتے ہوئے بازار سے گزرے، لوگ آپ کے پہلو میں (آپ کے ساتھ چل رہے) تھے۔ آپ حقیر سے کانوں والے مرے ہوئے میمنے کے پاس سے گزرے، آپ نے اسے کان سے پکڑ کر اٹھایا، پھر فرمایا: ”تم میں سے کون اسے ایک درہم کے عوض لینا پسند کرے گا؟“ تو انہوں (صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین) نے کہا: ہمیں یہ کسی بھی چیز کے عوض لینا پسند نہیں، ہم اسے لے کر کیا کریں گے؟ آپ نے فرمایا: ”(پھر) کیا تم پسند کرتے ہو کہ یہ تمھیں مل جائے؟“ انہوں (صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین) نے عرض کی: اللہ کی قسم! اگر یہ زندہ ہوتا تو تب بھی اس میں عیب تھا، کیونکہ (ایک تو) یہ حقیر سے کانوں والا ہے (بھلا نہیں لگتا)۔ پھر جب وہ مرا ہوا ہے تو کس کام کا؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! جتنا تمھارے نزدیک یہ حقیر ہے اللہ کے نزدیک دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7418]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ کی) کسی بالائی جانب سے داخل ہوتے ہوئے بازار سے گزرے، لوگ آپ کے پہلو میں (آپ کے ساتھ چل رہے) تھے۔ آپ حقیر سے کانوں والے مرے ہوئے میمنے کے پاس سے گزرے، آپ نے اسے کان سے پکڑ کر اٹھایا، پھر فرمایا: ”تم میں سے کون اسے ایک درہم کے عوض لینا پسند کرے گا؟“ تو انہوں نے (صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین) نے کہا: ہمیں یہ کسی بھی چیز کے عوض لینا پسند نہیں، ہم اسے لے کر کیا کریں گے؟ آپ نے فرمایا: ”(پھر) کیا تم پسند کرتے ہو کہ یہ تمہیں مل جائے؟“ انہوں نے (صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین) نے عرض کی: اللہ کی قسم! اگر یہ زندہ ہوتا تو تب بھی اس میں عیب تھا، کیونکہ (ایک تو) یہ حقیر سے کانوں والا ہے (بھلا نہیں لگتا)، پھر جب وہ مرا ہوا ہے تو کس کام کا؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! جتنا تمہارے نزدیک یہ حقیر ہے، اللہ کے نزدیک دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7418]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2957
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2957 ترقیم شاملہ: -- 7419
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ السَّامِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِيَانِ الثَّقَفِيَّ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ الثَّقَفِيِّ: فَلَوْ كَانَ حَيًّا كَانَ هَذَا السَّكَكُ بِهِ عَيْبًا.
محمد بن مثنیٰ عنزی اور ابراہیم بن محمد بن عروہ سامی نے مجھے حدیث بیان کی، دونوں نے کہا: ہمیں عبدالوہاب ثقفی نے جعفر (صادق) سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد (محمد باقر) سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی، البتہ ثقفی کی روایت میں ہے: (صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے کہا:) اگر یہ زندہ ہوتا تب بھی حقیر سے کانوں والا ہونا اس کا عیب تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7419]
امام صاحب دو اور اساتذہ سے یہی حدیث اس فرق سے بیان کرتے ہیں: ”سو اگر یہ زندہ ہوتا تو تب بھی یہ بوچا پن اس کے لیے عیب و نقص ہوتا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7419]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2957
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2958 ترقیم شاملہ: -- 7420
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقْرَأُ أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ قَالَ: يَقُولُ ابْنُ آدَمَ: " مَالِي مَالِي، قَالَ: وَهَلْ لَكَ يَابْنَ آدَمَ مِنْ مَالِكَ إِلَّا مَا أَكَلْتَ، فَأَفْنَيْتَ أَوْ لَبِسْتَ، فَأَبْلَيْتَ أَوْ تَصَدَّقْتَ، فَأَمْضَيْتَ "،
ہمام (بن یحییٰ بن دینار) نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں قتادہ نے مطرف سے، انہوں نے اپنے والد (حضرت عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، کہا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ (سورت) أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ تلاوت فرما رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن آدم کہتا ہے میرا مال، میرا مال۔“ فرمایا: ”آدم علیہ السلام کے بیٹے! تیرے مال میں سے تیرے لیے صرف وہی ہے جو تم نے کھا کر فنا کر دیا، یا پہن کر پرانا کر دیا، یا صدقہ کر کے آگے بھیج دیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7420]
مطرف رحمہ اللہ اپنے والد (حضرت عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ (سورت) ﴿أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ﴾ [سورة التكاثر: 1] تلاوت فرما رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابنِ آدم کہتا ہے: میرا مال، میرا مال۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے آدم کے بیٹے! تیرے مال میں سے تیرے لیے صرف وہی ہے جو تو نے کھا کر فنا کر دیا، یا پہن کر پُرانا کر دیا، یا صدقہ کر کے آگے بھیج دیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7420]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2958
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2958 ترقیم شاملہ: -- 7421
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَقَالَا جَمِيعًا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي كُلُّهُمْ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ هَمَّامٍ.
شعبہ، سعید (بن ابی عروبہ) اور ہشام سب نے قتادہ سے، انہوں نے مطرف سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا۔ (آگے) ہمام کی حدیث کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7421]
امام صاحب اپنے تین اساتذہ سے مذکورہ بالا حدیث بیان کرتے ہیں اور اس میں «أَتَيْتُ» کی جگہ «انْتَهَيْتُ» (آپ تک پہنچا) ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7421]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2958
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2959 ترقیم شاملہ: -- 7422
حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَقُولُ الْعَبْدُ مَالِي مَالِي، إِنَّمَا لَهُ مِنْ مَالِهِ ثَلَاثٌ مَا أَكَلَ، فَأَفْنَى أَوْ لَبِسَ فَأَبْلَى أَوْ أَعْطَى، فَاقْتَنَى وَمَا سِوَى ذَلِكَ، فَهُوَ ذَاهِبٌ وَتَارِكُهُ لِلنَّاسِ "،
حفص بن میسرہ نے علاء (بن عبدالرحمٰن) سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ کہتا ہے میرا مال، میرا مال، اس لیے تو اس کے مال سے صرف تین چیزیں ہیں: جو اس نے کھایا اور فنا کر دیا، جو پہنا اور بوسیدہ کر دیا، یا جو کسی کو دے کر (آخرت کے لیے) ذخیرہ کر لیا۔ اس کے سوا جو کچھ بھی ہے تو وہ (بندہ جانے والا اور اس (مال) کو لوگوں کے لیے چھوڑنے والا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7422]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ کہتا ہے: میرا مال، میرا مال، اس لیے تو اس کے مال سے صرف تین چیزیں ہیں: جو اس نے کھایا اور فنا کر دیا، جو پہنا اور بوحضرت کر دیا، یا جو کسی کو دے کر (آخرت کے لیے) ذخیرہ کر لیا۔ اس کے سوا جو کچھ بھی ہے تو وہ (بندہ) جانے والا اور اس (مال) کو لوگوں کے لیے چھوڑنے والا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7422]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2959
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2959 ترقیم شاملہ: -- 7423
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
محمد بن جعفر نے کہا: مجھے علاء بن عبدالرحمٰن نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7423]
امام صاحب نے یہی روایت ایک اور استاد سے سنی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7423]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2959
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2960 ترقیم شاملہ: -- 7424
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ كِلَاهُمَا، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَتْبَعُ الْمَيِّتَ ثَلَاثَةٌ، فَيَرْجِعُ اثْنَانِ وَيَبْقَى وَاحِدٌ يَتْبَعُهُ أَهْلُهُ وَمَالُهُ وَعَمَلُهُ، فَيَرْجِعُ أَهْلُهُ وَمَالُهُ وَيَبْقَى عَمَلُهُ ".
عبداللہ بن ابی بکر نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میت کے پیچھے تین چیزیں ہوتی ہیں، ان میں سے دو لوٹ آتی ہیں اور ایک ساتھ رہ جاتی ہے، اس کے گھر والے، اس کا مال اور اس کا عمل اس کے پیچھے رہ جاتے ہیں، گھر والے اور مال لوٹ آتے ہیں اور عمل ساتھ رہ جاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7424]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میت کے پیچھے تین چیزیں ہوتی ہیں، ان میں سے دو لوٹ آتی ہیں اور ایک ساتھ رہ جاتی ہے؛ اس کے گھر والے، اس کا مال اور اس کا عمل اس کے پیچھے رہ جاتے ہیں، گھر والے اور مال لوٹ آتے ہیں اور عمل ساتھ رہ جاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7424]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2960
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2961 ترقیم شاملہ: -- 7425
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ التُّجِيبِيَّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَوْفٍ وَهُوَ حَلِيفُ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ، وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ إِلَى الْبَحْرَيْنِ يَأْتِي بِجِزْيَتِهَا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ صَالَحَ أَهْلَ الْبَحْرَيْنِ وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ، فَقَدِمَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِمَالٍ مِنْ الْبَحْرَيْنِ، فَسَمِعَتْ الْأَنْصَارُ بِقُدُومِ أَبِي عُبَيْدَةَ، فَوَافَوْا صَلَاةَ الْفَجْرِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ، فَتَعَرَّضُوا لَهُ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَآهُمْ، ثُمَّ قَالَ: " أَظُنُّكُمْ سَمِعْتُمْ أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ قَدِمَ بِشَيْءٍ مِنْ الْبَحْرَيْنِ؟، فَقَالُوا: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " فَأَبْشِرُوا وَأَمِّلُوا مَا يَسُرُّكُمْ، فَوَاللَّهِ مَا الْفَقْرَ أَخْشَى عَلَيْكُمْ، وَلَكِنِّي أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تُبْسَطَ الدُّنْيَا عَلَيْكُمْ كَمَا بُسِطَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، فَتَنَافَسُوهَا كَمَا تَنَافَسُوهَا وَتُهْلِكَكُمْ كَمَا أَهْلَكَتْهُمْ "،
یونس نے ابن شہاب سے، انہوں نے عروہ بن زبیر سے روایت کی کہ حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے انھیں بتایا کہ عمرو بن عوف جو بنی عامر کے حلیف تھے، انہوں نے جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شرکت کی تھی، انہوں نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بحرین بھیجا تاکہ وہاں کا جزیہ لے آئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بذات خود اہل بحرین سے صلح کی تھی اور علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کو ان پر امیر مقرر کیا تھا، حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ بحرین سے مال لے آئے، انصار نے حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے آنے کی خبر سنی تو وہ سب صبح کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کر لی، واپس ہوئے تو وہ (صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انھیں دیکھا تو مسکرا دیے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا خیال ہے کہ تم لوگوں نے سن لیا ہے کہ ابوعبیدہ بحرین سے کچھ لے کر آئے ہیں؟“ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے بجا فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خوش ہو جاؤ اور اس کی امید رکھو جس سے تمھیں خوشی ہو گی۔ اللہ کی قسم! مجھے تم پر فقر کا خوف نہیں (کہ تمھیں اس سے نقصان پہنچے گا) لیکن مجھے تم پر اس بات کا خوف ہے کہ دنیا اسی طرح تم پر کشادہ کر دی جائے گی جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر کشادہ کر دی گئی تھی۔ پھر تم اس میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرو گے جس طرح ان لوگوں نے ایک دوسرے کا مقابلہ کیا اور یہ تمھیں بھی تباہ کر دے گی جس طرح اس نے ان کو تباہ کر دیا تھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7425]
حضرت عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ جو بنی عامر بن لوی کے حلیف تھے اور انہوں نے جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شرکت کی تھی، انہوں نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بحرین بھیجا تاکہ وہاں کا جزیہ لے آئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بذات خود اہل بحرین سے صلح کی تھی اور حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کو ان پر امیر مقرر کیا تھا، حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ بحرین سے مال لے آئے، انصار نے حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے آنے کی خبر سنی تو وہ سب صبح کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کر لی اور واپس ہوئے تو وہ (صحابہ رضی اللہ عنہم) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں دیکھا تو مسکرا دیے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا خیال ہے کہ تم لوگوں نے سن لیا ہے کہ ابو عبیدہ بحرین سے کچھ لے کر آئے ہیں؟“ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے بجا فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خوش ہو جاؤ اور اس کی امید رکھو جس سے تمہیں خوشی ہو گی۔ اللہ کی قسم! مجھے تم پر فقر کا خوف نہیں (کہ تمہیں اس سے نقصان پہنچے گا) لیکن مجھے تم پر اس بات کا خوف ہے کہ دنیا اسی طرح تم پر کشادہ کر دی جائے گی جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر کشادہ کر دی گئی تھی۔ پھر تم اس میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرو گے جس طرح ان لوگوں نے ایک دوسرے کا مقابلہ کیا اور یہ تمہیں بھی تباہ کر دے گی جس طرح اس نے ان کو تباہ کر دیا تھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7425]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2961
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2961 ترقیم شاملہ: -- 7426
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ كِلَاهُمَا، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِ يُونُسَ، وَمِثْلِ حَدِيثِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ صَالِحٍ، وَتُلْهِيَكُمْ كَمَا أَلْهَتْهُمْ.
صالح اور شعیب دونوں نے زہری سے یونس کی سند کے ساتھ اس کی حدیث کے مانند روایت کی، مگر صالح کی حدیث میں ہے: ”اور یہ تمھیں بھی اس طرح لبھائے گی (دنیا میں مگن اور آخرت سے غافل کر دے گی) جس طرح اس نے ان کو لبھایا تھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7426]
صالح اور شعیب دونوں نے زہری سے یونس کی سند کے ساتھ اس کی حدیث کے مانند روایت کی، مگر صالح کی حدیث میں ہے: ”اور یہ تمہیں بھی اسی طرح لبھائے گی (دنیا میں مگن اور آخرت سے غافل کردے گی) جس طرح اس نے ان کو لبھایا تھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7426]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2961
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة