🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1ق. باب مَا جَاءَ أَنَّ الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْكَافِرِ 
باب: دنیا مومن کے لئے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہونے کے بیان میں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2970 ترقیم شاملہ: -- 7447
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ " مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزِ الْبُرِّ ثَلَاثًا حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ ".
حفص بن غیاث نے ہمیں ہشام بن عروہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں نے کبھی تین دن سیر ہو کر گندم کی روٹی کھائی یہاں تک کہ آپ اپنی راہ پر روانہ ہو گئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7447]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن بھی گندم کی روٹی سے پیٹ نہیں بھرا، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی راہ لی۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7447]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2970
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2971 ترقیم شاملہ: -- 7448
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ حُمَيْدٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَيْنِ مِنْ خُبْزِ بُرٍّ، إِلَّا وَأَحَدُهُمَا تَمْرٌ ".
بلال بن حمید نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی مسلسل دو دن گندم کی روٹی سیر ہو کر نہیں کھائی مگر دو دنوں میں سے ایک دن کھجور ہوتی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7448]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کنبہ دو دن بھی گندم کی روٹی سے سیر نہیں ہوا، مگر ان میں ایک دن کھجوریں تھیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7448]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2971
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2972 ترقیم شاملہ: -- 7449
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: وَيَحْيَى بْنُ يَمَانٍ حَدَّثَنَا، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " إِنْ كُنَّا آلَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنَمْكُثُ شَهْرًا مَا نَسْتَوْقِدُ بِنَارٍ، إِنْ هُوَ إِلَّا التَّمْرُ وَالْمَاءُ "،
یحییٰ بن یمان نے کہا: ہمیں ہشام بن عروہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایک ماہ تک اس حالت میں رہتے تھے کہ آگ نہیں جلاتے تھے، بس کھجور اور پانی پر گزر ہوتی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7449]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ یقیناً ہم آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر بعض دفعہ مہینہ گزر جاتا اور ہم اپنے گھروں میں چولہا نہ جلاتے، بس صرف کھجوروں اور پانی پر گزارا ہوتا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7449]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2972
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2972 ترقیم شاملہ: -- 7450
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، إِنْ كُنَّا لَنَمْكُثُ، وَلَمْ يَذْكُرْ آلَ مُحَمَّدٍ وَزَادَ أَبُو كُرَيْبٍ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ ابْنِ نُمَيْرٍ إِلَّا أَنْ يَأْتِيَنَا اللُّحَيْمُ.
ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابوکریب نے کہا: ہمیں ابواسامہ اور ابن نمیر نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، ہم لوگ اسی حالت میں رہتے تھے۔ اور انہوں نے آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا۔ اور ابوکریب نے ابن نمیر سے مروی اپنی حدیث میں مزید کہا: الا یہ کہ ہمارے پاس (کہیں سے) تھوڑا سا گوشت آ جاتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7450]
امام صاحب دو اور اساتذہ سے یہی روایت نقل کرتے ہیں، اس میں «إِنْ كُنَّا لَنَمْكُثُ» ہم ٹھہرتے تھے ہے، درمیان میں آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں ہوا اور ابوکریب، ابن نمیر سے یہ اضافہ بیان کرتے ہیں: الا یہ کہ کہیں سے تھوڑا سا گوشت ہمیں مل جاتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7450]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2972
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2973 ترقیم شاملہ: -- 7451
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا فِي رَفِّي مِنْ شَيْءٍ يَأْكُلُهُ، ذُو كَبِدٍ إِلَّا شَطْرُ شَعِيرٍ فِي رَفٍّ لِي، فَأَكَلْتُ مِنْهُ حَتَّى طَالَ عَلَيَّ، فَكِلْتُهُ فَفَنِيَ ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے اور میرے طاقچے میں کسی جگر رکھنے والے (ذی روح) کے کھانے کے لیے تھوڑے سے جو کے سوا کچھ نہ تھا، میں اس میں سے (پکا کر) کھاتی رہی یہاں تک کہ بہت دن گزر گئے (ایک دن) میں نے ان کو ماپ لیا تو وہ ختم ہو گئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7451]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے اور میرے طاق میں کسی جگر رکھنے والے (ذی روح) کے کھانے کے لیے تھوڑے سے جو کے سوا کچھ نہ تھا، میں اس میں سے (پکا کر) کھاتی رہی یہاں تک کہ بہت دن گزر گئے، (ایک دن) میں نے انہیں ماپ لیا تو وہ ختم ہو گئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7451]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2973
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2972 ترقیم شاملہ: -- 7452
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ " وَاللَّهِ يَا ابْنَ أُخْتِي إِنْ كُنَّا لَنَنْظُرُ إِلَى الْهِلَالِ، ثُمَّ الْهِلَالِ، ثُمَّ الْهِلَالِ ثَلَاثَةَ أَهِلَّةٍ فِي شَهْرَيْنِ، وَمَا أُوقِدَ فِي أَبْيَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَارٌ، قَالَ: قُلْتُ يَا خَالَةُ: فَمَا كَانَ يُعَيِّشُكُمْ؟، قَالَتِ الْأَسْوَدَانِ: التَّمْرُ وَالْمَاءُ، إِلَّا أَنَّهُ قَدْ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِيرَانٌ مِنْ الْأَنْصَارِ، وَكَانَتْ لَهُمْ مَنَائِحُ، فَكَانُوا يُرْسِلُونَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَلْبَانِهَا فَيَسْقِينَاهُ ".
یزید بن رومان نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ آپ بتایا کرتی تھیں: اللہ کی قسم! میرے بھانجے! ہم ایک دفعہ پہلی کا چاند دیکھتے، پھر (اگلے مہینے) پہلی کا چاند دیکھتے، دو مہینوں میں تین دفعہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجروں میں چولہا نہ جلا ہوتا۔ (عروہ نے) کہا: میں نے پوچھا: خالہ! تو آپ کی گزران کے لیے کون سی چیز ہوتی؟ انہوں نے کہا: وہ کالی چیزیں، کھجور اور پانی، البتہ انصار میں سے کچھ (گھرانے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمسائے تھے اور انھیں دودھ دینے والی اونٹنیاں ملی ہوئی تھیں۔ وہ ان کے دودھ میں سے کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیج دیا کرتے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ ہمیں پلا دیتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7452]
عروہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں: اللہ کی قسم! میرے بھانجے! ہم ایک دفعہ پہلی کا چاند دیکھتے پھر (اگلے مہینے) پہلی کا چاند دیکھتے، دو مہینوں میں تین دفعہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجروں میں چولہا نہ جلا ہوتا۔ (عروہ نے) کہا: میں نے پوچھا: خالہ! تو آپ کی گزران کے لیے کون سی چیز ہوتی؟ انہوں نے کہا: وہ کالی چیزیں کھجور اور پانی، البتہ انصار میں سے کچھ (گھرانے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمسائے تھے اور انہیں دودھ دینے والی اونٹنیاں ملی ہوئی تھیں، وہ ان کے دودھ میں سے کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیج دیا کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ ہمیں پلا دیتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7452]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2972
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2974 ترقیم شاملہ: -- 7453
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ . ح وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنْ ابْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: " لَقَدْ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا شَبِعَ مِنْ خُبْزٍ وَزَيْتٍ فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ مَرَّتَيْنِ ".
عروہ بن زبیر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رحلت فرما گئے اور آپ کبھی ایک دن میں دو بار روٹی اور زیتون کے تیل سے سیر نہیں ہوئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7453]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن میں دو مرتبہ پیٹ بھر کر روٹی اور زیتون نہیں کھایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7453]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2974
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2975 ترقیم شاملہ: -- 7454
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَكِّيُّ الْعَطَّارُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ . ح وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنِي مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَجَبِيُّ ، عَنْ أُمِّهِ صَفِيَّةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ شَبِعَ النَّاسُ مِنَ الْأَسْوَدَيْنِ التَّمْرِ وَالْمَاءِ ".
داؤد بن عبدالرحمٰن عطار نے ہمیں خبر دی، کہا: مجھے منصور بن عبدالرحمٰن یحییٰ نے اپنی والدہ صفیہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: جب لوگ دو سیاہ چیزیں، کھجور اور پانی، سے سیر ہونے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رحلت فرما گئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7454]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت فوت ہوئے جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو پیٹ بھر کر دو سیاہ چیزیں، کھجوریں اور پانی میسر تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7454]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2975
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2975 ترقیم شاملہ: -- 7455
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ صَفِيَّةَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ شَبِعْنَا مِنَ الْأَسْوَدَيْنِ الْمَاءِ وَالتَّمْرِ "،
عبدالرحمٰن (بن مہدی) نے ہمیں سفیان (ثوری) سے حدیث بیان کی، انہوں نے منصور بن صفیہ سے، انہوں نے اپنی والدہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت ہو گئی اور ہم دو سیاہ چیزوں، پانی اور کھجور، سے سیر ہونے لگے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7455]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، جبکہ ہمیں پیٹ بھرنے کے لیے دو سیاہ چیزیں، پانی اور کھجوریں دستیاب تھیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7455]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2975
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2975 ترقیم شاملہ: -- 7456
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ . ح وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ كِلَاهُمَا، عَنْ سُفْيَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِمَا، عَنْ سُفْيَانَ: وَمَا شَبِعْنَا مِنَ الْأَسْوَدَيْنِ.
(عبید اللہ بن عبدالرحمٰن) اشجعی اور ابواحمد دونوں نے سفیان سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، مگر ان دونوں کی سفیان سے مروی حدیث میں ہے: (آپ تشریف لے گئے) جبکہ (ابھی) ہم دو سیاہ چیزیں (پانی اور کھجور) بھی پیٹ بھر کے نہیں کھاتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7456]
امام صاحب رحمہ اللہ دو اور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں کہ ہم دو سیاہ چیزوں سے بھی سیر نہیں ہوئے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7456]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2975
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں