🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1ق. باب مَا جَاءَ أَنَّ الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْكَافِرِ 
باب: دنیا مومن کے لئے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہونے کے بیان میں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2976 ترقیم شاملہ: -- 7457
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِيَانِ الْفَزَارِيَّ عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، وقَالَ ابْنُ عَبَّادٍ " وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ مَا أَشْبَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ تِبَاعًا، مِنْ خُبْزِ حِنْطَةٍ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا ".
محمد بن عباد اور ابن ابی عمر نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں مروان فزاری نے یزید بن کیسان سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوحازم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جبکہ ابن عباد نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی جان ہے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنے گھروالوں کو تین لگاتار گندم کی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھلائی تھی یہاں تک کہ آپ دنیا سے تشریف لے گئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7457]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! ابن عباد کی روایت میں ہے: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی جان جس کے ہاتھ میں ہے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنے اہل کو متواتر تین دن پیٹ بھر گندم کی روٹی نہیں کھلائی، حتیٰ کہ دنیا چھوڑ گئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7457]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2976
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2976 ترقیم شاملہ: -- 7458
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُشِيرُ بِإِصْبَعِهِ مِرَارًا، يَقُولُ: " وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ، مَا شَبِعَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَهْلُهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ تِبَاعًا مِنْ خُبْزِ حِنْطَةٍ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا ".
یحییٰ بن سعید نے ہمیں یزید بن کیسان سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے حازم نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کئی بار دیکھا، وہ انگلی سے اشارہ کرتے تھے، کہتے تھے: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی جان ہے! اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے گھروالوں نے کبھی لگاتار تین دن گندم کی روٹی سیر ہو کر نہیں کھائی تھی یہاں تک کہ آپ دنیا سے رخصت ہو گئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7458]
ابوحازم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بار بار انگلی کا اشارہ کرتے دیکھا، وہ کہہ رہے تھے: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابوہریرہ کی جان ہے! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے گھر والے مسلسل تین دن گندم کی روٹی سے سیر نہیں ہوئے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کو چھوڑ دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7458]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2976
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2977 ترقیم شاملہ: -- 7459
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، يَقُولُ: " أَلَسْتُمْ فِي طَعَامٍ وَشَرَابٍ مَا شِئْتُمْ؟، لَقَدْ رَأَيْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا يَجِدُ مِنَ الدَّقَلِ مَا يَمْلَأُ بِهِ بَطْنَهُ "، وَقُتَيْبَةُ لَمْ يَذْكُرْ بِهِ،
قتیبہ بن سعید اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں ابواحوص نے سماک بن حرب سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: کیا تم لوگوں کو اپنی مرضی کا کھانا اور پینا میسر نہیں؟ میں نے تمھارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا، آپ کے پاس روٹی کھجور بھی اتنی نہیں ہوتی تھی جس سے آپ اپنا پیٹ بھر لیں۔ اور قتیبہ نے (جس سے) کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7459]
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: کیا تم اپنی مرضی کا کھاتے پیتے نہیں ہو؟ میں تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان حالات سے گزرتے دیکھ چکا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیر ہونے کے لیے (پیٹ بھرنے کے لیے) ردی کھجوریں بھی میسر نہ تھیں۔ قتیبہ نے «يَمْلَأُ بِهِ» کے بعد نہیں کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7459]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2977
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2977 ترقیم شاملہ: -- 7460
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ . ح حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْمُلَائِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ كِلَاهُمَا، عَنْ سِمَاكٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ زُهَيْرٍ: وَمَا تَرْضَوْنَ دُونَ أَلْوَانِ التَّمْرِ وَالزُّبْدِ.
زہیر اور اسرائیل دونوں نے سماک سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مطابق حدیث بیان کی اور زہیر کی حدیث میں مزید ہے: اور تم کھجوروں اور مکھن کی کئی قسموں کے بغیر راضی نہیں ہوتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7460]
امام صاحب رحمہ اللہ اپنے دو اساتذہ کی مذکورہ بالا روایت کے ہم معنی روایت بیان کرتے ہیں اور زبیر رضی اللہ عنہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے: اور تم رنگ برنگ کھجوروں اور مکھن کے بغیر مطمئن ہی نہیں ہوتے ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7460]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2977
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2978 ترقیم شاملہ: -- 7461
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ يَخْطُبُ، قَالَ: ذَكَرَ عُمَرُ مَا أَصَابَ النَّاسُ مِنَ الدُّنْيَا، فَقَالَ " لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَظَلُّ الْيَوْمَ يَلْتَوِي مَا يَجِدُ دَقَلًا يَمْلَأُ بِهِ بَطْنَهُ ".
شعبہ نے سماک بن حرب سے حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا، کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس بات کا ذکر کیا کہ لوگوں نے دنیا میں سے کیا کچھ حاصل کر لیا ہے۔ پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا، آپ پورا دن بھوک لوٹتے تھے اور آپ کو سوکھی ہوئی اتنی سخت کھجور بھی میسر نہ ہوتی تہی جس سے اپنا پیٹ بھر لیتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7461]
سماک بن حرب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میں نے نعمان رضی اللہ عنہ کو خطبہ میں یہ بیان کرتے سنا، عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں نے جس قدر دنیا حاصل کر لی ہے، اس کا ذکر کر کے فرمایا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دن بھر بھوک سے پیچ و تاب کھاتے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیٹ بھرنے کے لیے ردی کھجوریں بھی دستیاب نہ تھیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7461]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2978
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2979 ترقیم شاملہ: -- 7462
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ ، سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، وَسَأَلَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ " أَلَسْنَا مِنْ فُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ؟، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ: " أَلَكَ امْرَأَةٌ تَأْوِي إِلَيْهَا؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَلَكَ مَسْكَنٌ تَسْكُنُهُ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْتَ مِنَ الْأَغْنِيَاءِ، قَالَ: فَإِنَّ لِي خَادِمًا، قَالَ: فَأَنْتَ مِنَ الْمُلُوكِ ".
ابوہانی نے ابوعبدالرحمٰن کو کہتے ہوئے سنا: میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے سنا، ان سے کسی آدمی نے پوچھا تھا: کیا ہم فقراء مہاجرین میں سے نہیں ہیں؟ تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: کیا تمھاری بیوی ہے جس کے پاس تم آرام کرنے کے لیے جاتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں۔ پوچھا: کیا تمھارے پاس رہائش گاہ ہے جہاں تم رہتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں۔ کہا: پھر تو تم بادشاہوں میں سے ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7462]
ابوعبدالرحمن حبلی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے سنا، ان سے کسی آدمی نے پوچھا تھا: کیا ہم فقراء مہاجرین میں سے نہیں ہیں؟ تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما نے اس سے کہا: کیا تمہاری بیوی ہے جس کے پاس تم آرام کرنے کے لیے جاتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں، انہوں نے پوچھا: کیا تمہارے پاس رہائش گاہ ہے جہاں تم رہتے ہو؟ اس نے کہا: میرے پاس تو خادم (بھی) ہے، انہوں نے کہا: پھر تو تم بادشاہوں میں سے ہو (جن کو یہ سہولت میسر ہوتی ہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7462]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2979
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2979 ترقیم شاملہ: -- 7463
(حديث موقوف) قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ : وَجَاءَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، وَأَنَا عِنْدَهُ، فَقَالُوا يَا أَبَا مُحَمَّدٍ: إِنَّا وَاللَّهِ مَا نَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ، لَا نَفَقَةٍ، وَلَا دَابَّةٍ، وَلَا مَتَاعٍ، فَقَالَ لَهُمْ: مَا شِئْتُمْ إِنْ شِئْتُمْ رَجَعْتُمْ إِلَيْنَا، فَأَعْطَيْنَاكُمْ مَا يَسَّرَ اللَّهُ لَكُمْ، وَإِنْ شِئْتُمْ ذَكَرْنَا أَمْرَكُمْ لِلسُّلْطَانِ، وَإِنْ شِئْتُمْ صَبَرْتُمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ فُقَرَاءَ الْمُهَاجِرِينَ يَسْبِقُونَ الْأَغْنِيَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى الْجَنَّةِ بِأَرْبَعِينَ خَرِيفًا "، قَالُوا: فَإِنَّا نَصْبِرُ لَا نَسْأَلُ شَيْئًا.
ابوعبدالرحمٰن نے کہا: حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس تین شخص آئے جبکہ میں ان کے ہاں تھا، وہ کہنے لگے: ابومحمد! اللہ کی قسم! ہمیں کوئی چیز میسر نہیں ہے، نہ خرچ، نہ سواری اور نہ سامان (وہ لوگ واقعتاً فقیر تھے)۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تم کیا چاہتے ہو؟ اگر تم پسند کرو تو دوبارہ ہمارے پاس آؤ، اللہ تعالیٰ جو تمھارے لیے مہیا کرے گا ہم تمھیں دے دیں گے۔ اگر چاہو تو ہم تمھارا ذکر بااختیار حاکم کے پاس کر دیں گے (وہ تمھاری ضرورتوں کا خیال رکھے گا)۔ اور اگر تم چاہو تو صبر کرو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: بے شک ہجرت کر کے آنے والے فقیر قیامت کے روز اغنیاء کی نسبت چالیس سال پہلے جنت میں جائیں گے۔ ان (صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین) نے کہا: ہم صبر کریں گے، کوئی چیز نہیں مانگیں گے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7463]
ابو عبدالرحمان بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کے پاس تین شخص آئے جبکہ میں ان کے ہاں تھا، وہ کہنے لگے: ابو محمد! اللہ کی قسم! ہمیں کوئی چیز میسر نہیں ہے، نہ خرچ، نہ سواری اور نہ سامان۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا: تم کیا چاہتے ہو؟ اگر تم پسند کرو تو دوبارہ ہمارے پاس آؤ، اللہ تعالیٰ جو تمہارے لیے مہیا کرے گا ہم تمہیں دے دیں گے۔ اگر چاہو تو ہم تمہارا ذکر بااختیار حاکم کے پاس کر دیں گے (وہ تمہاری ضرورتوں کا خیال رکھے گا) اور اگر تم چاہو تو صبر کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: بے شک ہجرت کر کے آنے والے فقیر قیامت کے روز اغنیاء کی نسبت چالیس سال پہلے جنت میں جائیں گے۔ ان (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) نے کہا: ہم صبر کریں گے اور کوئی چیز نہیں مانگیں گے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7463]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2979
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1. بَابٌ الْنِّهْي عَنِ الدُّخُولِ عَلٰي أَهْلِ الْحِجْرِ إِلَّا مَنْ يَدْخُلُ باكِيْا
باب: قوم ثمود کے گھروں میں جانے کی ممانعت مگر جو روتا ہوا جائے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2980 ترقیم شاملہ: -- 7464
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ جميعا، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِ الْحِجْرِ: " لَا تَدْخُلُوا عَلَى هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ الْمُعَذَّبِينَ إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ، فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا بَاكِينَ، فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ ".
عبداللہ بن دینار نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحاب حجر کے متعلق فرمایا: ان عذاب دیے گئے لوگوں کے ہاں (ان کے گھروں میں) داخل نہ ہو، مگر اس صورت میں کہ تم (اللہ کے غضب کے ڈر سے) رو رہے ہو۔ اگر تم رو نہیں رہے ہو تو ان کے ہاں داخل نہ ہو، ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی وہی عذاب آ جائے جو ان پر آیا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7464]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحابِ حجر کے متعلق فرمایا: ان عذاب دیے گئے لوگوں کے ہاں ان کے گھروں میں داخل نہ ہونا مگر اس صورت میں کہ تم رو رہے ہو۔ اگر تم رو نہیں رہے ہو تو ان کے ہاں داخل نہ ہونا ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی وہی عذاب آ جائے جو ان پر آیا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7464]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2980
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2980 ترقیم شاملہ: -- 7465
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ وَهُوَ يَذْكُرُ الْحِجْرَ مَسَاكِنَ ثَمُودَ، قَالَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ: مَرَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْحِجْرِ، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَدْخُلُوا مَسَاكِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ، إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ حَذَرًا أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ، ثُمَّ زَجَرَ فَأَسْرَعَ حَتَّى خَلَّفَهَا ".
سالم بن عبداللہ نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حجر (قوم ثمود کی اجڑی ہوئی بستی) کے پاس سے گزرے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: جن لوگوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا ہے ان کی رہائش گاہوں میں داخل نہ ہو، مگر اس طرح کہ تم رو رہے ہو۔ ڈر ہے کہ تمھیں بھی وہی عذاب نہ آئے جس نے انھیں آ لیا تھا۔ پھر آپ نے زور سے سواری کو ہانکا، رفتار تیز کی یہاں تک کہ اس جگہ کو پیچھے چھوڑ دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7465]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حجر کے پاس سے گزرے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: جن لوگوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا ہے ان کی رہائش گاہوں میں داخل نہ ہونا مگر اس طرح کہ تم رو رہے ہو، ڈرتے ہوئے کہ تمہیں بھی وہی عذاب نہ آ پہنچے جس نے انہیں آ لیا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زور سے سواری کو ہانکا، رفتار تیز کی یہاں تک کہ اس جگہ کو پیچھے چھوڑ دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7465]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2980
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2981 ترقیم شاملہ: -- 7466
حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّاسَ نَزَلُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْحِجْرِ أَرْضِ ثَمُودَ، فَاسْتَقَوْا مِنْ آبَارِهَا، وَعَجَنُوا بِهِ الْعَجِينَ، " فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُهَرِيقُوا مَا اسْتَقَوْا، وَيَعْلِفُوا الْإِبِلَ الْعَجِينَ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَسْتَقُوا مِنَ الْبِئْرِ الَّتِي كَانَتْ تَرِدُهَا النَّاقَةُ "،
شعیب بن اسحٰق نے کہا: ہمیں عبید اللہ نے نافع سے خبر دی، انھیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ (سفر کرنے والے) لوگ سرزمین ثمود حجر میں اتر گئے اور وہاں کے کنوؤں سے پانی حاصل کیا اور اس کے ساتھ آٹا (بھی) گوندھ لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حکم دیا کہ انہوں نے جو پانی بھرا ہے وہ بہا دیں اور گندھا ہوا آٹا اونٹوں کو کھلا دیں اور ان سے کہا: کہ وہ اس کنویں سے پانی حاصل کریں جہاں (حضرت صالح رضی اللہ عنہ کی) اونٹنی پانی پینے کے لیے آیا کرتی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7466]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر کرنے والے لوگ سرزمینِ ثمود، حِجر میں اتر گئے اور وہاں کے کنوؤں سے پانی حاصل کیا اور اس کے ساتھ آٹا (بھی) گوندھ لیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ: انہوں نے جو پانی بھرا ہے وہ بہا دیں اور گندھا ہوا آٹا اونٹوں کو کھلا دیں اور ان سے فرمایا کہ: وہ اس کنویں سے پانی حاصل کریں جہاں اونٹنی پانی پینے کے لیے آیا کرتی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7466]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2981
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں