🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1ق. باب مَا جَاءَ أَنَّ الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْكَافِرِ 
باب: دنیا مومن کے لئے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہونے کے بیان میں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2967 ترقیم شاملہ: -- 7437
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُتْبَةَ بْنَ غَزْوَانَ يَقُولُ: " لَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا طَعَامُنَا إِلَّا وَرَقُ الْحُبْلَةِ حَتَّى، قَرِحَتْ أَشْدَاقُنَا ".
قرہ بن خالد نے حمید بلال سے اور انہوں نے خالد بن عمیر سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے، میں نے دیکھا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (ایمان لانے والے) سات لوگوں میں سے ساتواں شخص تھا، خاردار درختوں کے پتوں کے سوا ہمارے پاس کھانے کو کچھ نہیں تھا یہاں تک کہ ہماری باچھیں زخمی ہو گئیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7437]
خالد بن عمیر بیان کرتے ہیں، میں نے عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: میں نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سات ساتھیوں میں ساتواں فرد دیکھا، ہمارا کھانا صرف حبلہ درخت کے پتے تھے، حتی کہ ہماری باچھیں چھل گئیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7437]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2967
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2968 ترقیم شاملہ: -- 7438
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟، قَالَ: " هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ فِي الظَّهِيرَةِ لَيْسَتْ فِي سَحَابَةٍ؟، قَالُوا: لَا، قَالَ: " فَهَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ فِي سَحَابَةٍ؟ "، قَالُوا: لَا، قَالَ: " فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ، إِلَّا كَمَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ أَحَدِهِمَا "، قَالَ: " فَيَلْقَى الْعَبْدَ، فَيَقُولُ: أَيْ فُلْ، أَلَمْ أُكْرِمْكَ، وَأُسَوِّدْكَ، وَأُزَوِّجْكَ، وَأُسَخِّرْ لَكَ الْخَيْلَ وَالْإِبِلَ، وَأَذَرْكَ تَرْأَسُ وَتَرْبَعُ؟، فَيَقُولُ: بَلَى، قَالَ: فَيَقُولُ: أَفَظَنَنْتَ أَنَّكَ مُلَاقِيَّ؟، فَيَقُولُ: لَا، فَيَقُولُ: فَإِنِّي أَنْسَاكَ كَمَا نَسِيتَنِي ثُمَّ يَلْقَى الثَّانِيَ، فَيَقُولُ أَيْ فُلْ: أَلَمْ أُكْرِمْكَ، وَأُسَوِّدْكَ، وَأُزَوِّجْكَ وَأُسَخِّرْ لَكَ الْخَيْلَ وَالْإِبِلَ، وَأَذَرْكَ تَرْأَسُ وَتَرْبَعُ؟، فَيَقُولُ: بَلَى أَيْ رَبِّ، فَيَقُولُ: أَفَظَنَنْتَ أَنَّكَ مُلَاقِيَّ؟، فَيَقُولُ: لَا، فَيَقُولُ: فَإِنِّي أَنْسَاكَ كَمَا نَسِيتَنِي، ثُمَّ يَلْقَى الثَّالِثَ، فَيَقُولُ لَهُ: مِثْلَ ذَلِكَ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ آمَنْتُ بِكَ وَبِكِتَابِكَ وَبِرُسُلِكَ، وَصَلَّيْتُ وَصُمْتُ وَتَصَدَّقْتُ، وَيُثْنِي بِخَيْرٍ مَا اسْتَطَاعَ، فَيَقُولُ: هَاهُنَا إِذًا قَالَ، ثُمَّ يُقَالُ لَهُ: الْآنَ نَبْعَثُ شَاهِدَنَا عَلَيْكَ، وَيَتَفَكَّرُ فِي نَفْسِهِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْهَدُ عَلَيَّ، فَيُخْتَمُ عَلَى فِيهِ، وَيُقَالُ لِفَخِذِهِ وَلَحْمِهِ وَعِظَامِهِ انْطِقِي، فَتَنْطِقُ فَخِذُهُ وَلَحْمُهُ وَعِظَامُهُ بِعَمَلِهِ، وَذَلِكَ لِيُعْذِرَ مِنْ نَفْسِهِ، وَذَلِكَ الْمُنَافِقُ، وَذَلِكَ الَّذِي يَسْخَطُ اللَّهُ عَلَيْهِ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: انہوں (صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین) نے عرض کی: اللہ کے رسول! قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا دوپہر کے وقت جب بادل نہ ہوں تمھیں سورج کو دیکھنے میں کوئی زحمت ہوتی ہے؟ انہوں (صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین) نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: چودھویں کی رات کو جب بادل نہ ہوں تو کیا تمھیں چاند کو دیکھنے میں کوئی زحمت ہوتی ہے؟ انہوں (صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین) نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تمھیں اپنے رب کو دیکھنے میں اس سے زیادہ زحمت نہیں ہو گی جتنی زحمت تمھیں ان دونوں کو دیکھنے میں ہوتی ہے۔ آپ نے فرمایا: وہ (رب) بندے سے ملاقات فرمائے گا تو کہے گا: اے فلاں! کیا میں نے تمھیں عزت نہ دی تھی، تمھیں سردار نہ بنایا تھا، تمھاری شادی نہ کرائی تھی، گھوڑے اور اونٹ تمھارے اختیار میں نہ دیے تھے اور تمھیں ایسا نہیں بنا چھوڑا تھا کہ تم سرداری کرتے تھے اور لوگوں کی آمدنی میں سے چوتھائی حصہ لیتے تھے؟ وہ جواب میں کہے گا: کیوں نہیں! (بالکل ایسا ہی تھا۔) تو وہ فرمائے گا: کیا تم سمجھتے تھے کہ تم مجھ سے ملو گے؟ وہ کہے گا: نہیں۔ تو وہ فرمائے گا: آج میں اسی طرح تمھیں بھول جاؤں گا، جس طرح تم مجھے بھول گئے تھے۔ پھر دوسرے سے ملاقات کرے گا: اے فلاں! کیا میں نے تمھیں عزت اور سیادت سے نہیں نوازا تھا، تمھاری شادی نہیں کرائی تھی، تمھارے لیے اونٹ اور گھوڑے مسخر نہیں کیے تھے اور تمھیں اس طرح نہیں بنا چھوڑا تھا کہ تم ریاست کے مزے لیتے تھے اور لوگوں کے مالوں میں سے چوتھائی حصہ وصول کرتے تھے؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں میرے رب! تو وہ فرمائے گا: تمھیں اس بات کا کوئی گمان بھی تھا کہ تم مجھ سے ملاقات کرو گے؟ وہ کہے گا: نہیں۔ تو وہ فرمائے گا: اب میں بھی اسی طرح تمھیں بھول جاؤں گا جس طرح تم مجھے بھول گئے تھے۔ پھر تیسرے سے ملے گا۔ اس سے بھی وہی فرمائے گا۔ وہ کہے گا: اے میرے رب! میں تجھ پر، تیری کتابوں اور تیرے رسولوں پر ایمان لایا تھا اور نمازیں پڑھی تھیں، روزے رکھے تھے اور صدقہ دیا کرتا تھا، جتنا اس کے بس میں ہو گا (اپنی نیکی کی) تعریف کرے گا، چنانچہ وہ فرمائے گا: تب تم یہیں ٹھہرو۔ فرمایا: پھر اس سے کہا جائے گا: اب ہم تمھارے خلاف اپنا گواہ لائیں گے۔ وہ دل میں سوچے گا: میرے خلاف کون گواہی دے گا؟ پھر اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کی ران، گوشت اور ہڈیوں سے کہا جائے گا: بولو، تو اس کی ران، اس کا گوشت اور اس کی ہڈیاں اس کے عمل کے متعلق بتائیں گی۔ یہ (اس لیے) کہا جائے گا کہ وہ (اللہ) اس کی ذات سے اس کا عذر دور کر دے۔ اور وہ منافق ہو گا اور وہی شخص ہو گا جس پر اللہ تعالیٰ سخت ناراض ہو گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7438]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا دوپہر کے وقت جب بادل نہ ہوں، تمہیں سورج کو دیکھنے میں کوئی زحمت ہوتی ہے؟ انہوں نے (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے) عرض کیا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چودھویں کی رات کو جب بادل نہ ہوں تو کیا تمہیں چاند کو دیکھنے میں کوئی زحمت ہوتی ہے؟ انہوں نے (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے) عرض کیا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تمہیں اپنے رب کو دیکھنے میں اس سے زیادہ زحمت نہیں ہوگی جتنی زحمت تمہیں ان دونوں کو دیکھنے میں ہوتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ (رب) بندے سے ملاقات فرمائے گا تو کہے گا: اے فلاں! کیا میں نے تمہیں عزت نہ دی تھی، تمہیں سردار نہ بنایا تھا، تمہاری شادی نہ کرائی تھی، گھوڑے اور اونٹ تمہارے اختیار میں نہ دیے تھے اور تمہیں ایسا نہیں چھوڑا تھا کہ تم سرداری کرتے تھے اور لوگوں کی آمدنی میں سے چوتھائی حصہ لیتے تھے؟ وہ جواب میں کہے گا: کیوں نہیں! (بالکل ایسا ہی تھا۔) تو وہ فرمائے گا: کیا تم سمجھتے تھے کہ تم مجھ سے ملو گے؟ وہ کہے گا: نہیں۔ تو وہ فرمائے گا: آج میں اسی طرح تمہیں بھول جاؤں گا جس طرح تم مجھے بھول گئے تھے۔ پھر دوسرے سے ملاقات کرے گا: اے فلاں! کیا میں نے تمہیں عزت اور سیادت سے نہیں نوازا تھا، تمہاری شادی نہیں کرائی تھی، تمہارے لیے اونٹ اور گھوڑے مسخر نہیں کیے تھے اور تمہیں اس طرح نہیں چھوڑا تھا کہ تم ریاست کے مزے لیتے تھے اور لوگوں کے مالوں میں سے چوتھائی حصہ وصول کرتے تھے؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں میرے رب! تو وہ فرمائے گا: تمہیں اس بات کا کوئی گمان بھی تھا کہ تم مجھ سے ملاقات کرو گے؟ وہ کہے گا: نہیں۔ تو وہ فرمائے گا: اب میں بھی اسی طرح تمہیں بھول جاؤں گا جس طرح تم مجھے بھول گئے تھے۔ پھر تیسرے سے ملے گا، اس سے بھی وہی فرمائے گا۔ وہ کہے گا: اے میرے رب! میں تجھ پر، تیری کتابوں اور تیرے رسولوں پر ایمان لایا تھا اور نمازیں پڑھی تھیں، روزے رکھے تھے اور صدقہ دیا کرتا تھا، جتنا اس کے بس میں ہوگا (اپنی نیکی کی) تعریف کرے گا، چنانچہ وہ فرمائے گا: تب تم یہیں ٹھہرو۔ فرمایا: پھر اس سے کہا جائے گا: اب ہم تمہارے خلاف اپنا گواہ لائیں گے۔ وہ دل میں سوچے گا: میرے خلاف کون گواہی دے گا؟ پھر اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کی ران، گوشت اور ہڈیوں سے کہا جائے گا: بولو۔ تو اس کی ران، اس کا گوشت اور اس کی ہڈیاں اس کے عمل کے متعلق بتائیں گی۔ یہ (اس لیے) کیا جائے گا تاکہ وہ (اللہ) اس کی ذات سے اس کا عذر دور کر دے، اور وہ منافق ہوگا اور وہی شخص ہوگا جس پر اللہ تعالیٰ سخت ناراض ہوگا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7438]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2968
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2969 ترقیم شاملہ: -- 7439
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدٍ الْمُكْتِبِ ، عَنْ فُضَيْلٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ، فَقَالَ:" هَلْ تَدْرُونَ مِمَّ أَضْحَكُ؟، قَالَ: قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: مِنْ مُخَاطَبَةِ الْعَبْدِ رَبَّهُ، يَقُولُ يَا رَبِّ: أَلَمْ تُجِرْنِي مِنَ الظُّلْمِ؟، قَالَ: يَقُولُ: بَلَى، قَالَ: فَيَقُولُ: فَإِنِّي لَا أُجِيزُ عَلَى نَفْسِي إِلَّا شَاهِدًا مِنِّي، قَالَ: فَيَقُولُ: كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ شَهِيدًا، وَبِالْكِرَامِ الْكَاتِبِينَ شُهُودًا، قَالَ: فَيُخْتَمُ عَلَى فِيهِ، فَيُقَالُ لِأَرْكَانِهِ انْطِقِي، قَالَ: فَتَنْطِقُ بِأَعْمَالِهِ، قَالَ: ثُمَّ يُخَلَّى بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَلَامِ، قَالَ: فَيَقُولُ: بُعْدًا لَكُنَّ وَسُحْقًا، فَعَنْكُنَّ كُنْتُ أُنَاضِلُ".
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (بیٹھے ہوئے) تھے کہ آپ ہنس پڑے، پھر آپ نے پوچھا: کیا تمھیں یہ معلوم ہے کہ میں کس بات پر ہنس رہا ہوں؟ ہم نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ جاننے والے ہیں۔ آپ نے فرمایا: مجھے بندے کی اپنے رب کے ساتھ کی گئی بات پر ہنسی آتی ہے، وہ کہے گا: اے میرے رب! کیا تو نے مجھے ظلم سے پناہ نہیں دی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: وہ فرمائے گا: کیوں نہیں! فرمایا: بندہ کہے گا: میں اپنے خلاف اپنی طرف کے گواہ کے سوا اور کسی (کی گواہی) کو جائز قرار نہیں دیتا۔ تو وہ فرمائے گا: آج تم اپنے خلاف بطور گواہ خود کافی ہو اور کراماً کاتبین بھی گواہ ہیں، چنانچہ اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی۔ اور اس کے (اپنے) اعضاء سے کہا جائے گا: بولو، فرمایا: تو وہ اس کے اعمال کے بارے میں بتائیں گے، پھر اسے اور (اس کے اعضاء کے) بولنے کو اکیلا چھوڑ دیا جائے گا۔ فرمایا: تو (ان کی گواہی سن کر) وہ کہے گا: دور ہو جاؤ، میں تمھاری طرف سے (دوسروں کے ساتھ) لڑا کرتا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7439]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے، تو آپ ہنسے اور فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں کس بات پر ہنس رہا ہوں؟ ہم نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ جاننے والے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے بندے کی اپنے رب کے ساتھ کی گئی گفتگو پر ہنسی آتی ہے، وہ کہے گا: اے میرے رب! کیا تو نے مجھے ظلم سے پناہ نہیں دی؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیوں نہیں! وہ کہے گا: میں اپنے خلاف اپنی طرف کے گواہ کے سوا اور کسی کی گواہی کو جائز قرار نہیں دیتا، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: آج تم اپنے خلاف بطور گواہ خود کافی ہو اور کراماً کاتبین بھی گواہ ہیں، چنانچہ اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کے اعضا و ارکان (جوارح) سے کہا جائے گا کہ بولیں، تو وہ اس کے عملوں کی گواہی دیں گے، پھر اس کو کلام کرنے کے لیے چھوڑ دیا جائے گا تو وہ کہے گا: تمہارے لیے دوری اور تباہی ہو، تمہاری طرف سے تو میں دفاع کر رہا تھا، یعنی تمہیں ہی آگ سے بچانے کی کوشش کر رہا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7439]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2969
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1055 ترقیم شاملہ: -- 7440
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا ".
ابوزرعہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دعا کرتے ہوئے) فرمایا: اے اللہ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے گھروالوں کے رزق کو زندگی برقرار رکھنے جتنا کر دے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7440]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا» اے اللہ! آلِ محمد کا رزق بقدرِ کفایت کر دے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7440]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1055
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1055 ترقیم شاملہ: -- 7441
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا "، وَفِي رِوَايَةِ عَمْرٍو: اللَّهُمَّ ارْزُقْ،
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، زہیر بن حرب اور ابوکریب نے کہا: ہمیں وکیع نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں اعمش نے عمارہ بن قعقاع سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوزرعہ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: اے اللہ! آل محمد کا رزق زندگی برقرار رکھنے جتنا کر دے۔ اور عمرو کی روایت میں ہے: اے اللہ! (آل محمد کو زندگی برقرار رکھنے جتنا) رزق دے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7441]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: اے اللہ! آلِ محمد (خاندانِ محمد) کا رزق بقدرِ کفایت فرما۔ اور عمرو کی روایت میں «اللَّهُمَّ ارْزُقْ» ہے، یعنی «اجْعَلْ» کی جگہ «ارْزُقْ» ہے، مقصد ایک ہی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7441]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1055
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1055 ترقیم شاملہ: -- 7442
وحَدَّثَنَاه أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ ذَكَرَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: كَفَافًا.
ابواسامہ نے کہا: میں نے اعمش سے سنا، انہوں نے عمارہ بن قعقاع سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا: بقدر کفایت (کر دے۔) [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7442]
امام صاحب یہی روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں، اس میں «قُوت» کی جگہ «كَفَاف» بقدرِ گزران ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7442]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1055
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2970 ترقیم شاملہ: -- 7443
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ مِنْ طَعَامِ بُرٍّ ثَلَاثَ لَيَالٍ تِبَاعًا حَتَّى قُبِضَ ".
منصور نے ابراہیم سے، انہوں نے اسود سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں نے جب سے آپ مدینہ آئے آپ کی وفات تک کبھی تین راتیں مسلسل گندم کی روٹی سیر ہو کر نہیں کھائی۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7443]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والے، جب سے آپ مدینہ تشریف لائے ہیں، کبھی مسلسل تین راتیں گندم کی خوراک و غذا سے سیر نہیں ہوئے، حتیٰ کہ آپ کی وفات ہو گئی۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7443]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2970
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2970 ترقیم شاملہ: -- 7444
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا شَبِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ تِبَاعًا مِنْ خُبْزِ بُرٍّ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ ".
اعمش نے ابراہیم سے، انہوں نے اسود سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی متواتر تین دن سیر ہو کر گندم کی روٹی نہیں کھائی یہاں تک کہ آپ اپنی راہ پر روانہ ہو گئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7444]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم متواتر تین دن گندم کی روٹی سے سیر نہیں ہوئے، حتیٰ کہ فوت ہو گئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7444]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2970
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2970 ترقیم شاملہ: -- 7445
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ يُحَدِّثُ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: " مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزِ شَعِيرٍ يَوْمَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ، حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
عبدالرحمٰن بن یزید نے ہمیں اسود سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں نے کبھی دو دن متواتر جو کی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7445]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کنبہ (بیوی بچے) متواتر دو دن جو کی روٹی سے سیر نہیں ہوئے، حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح قبض کر لی گئی۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7445]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2970
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2970 ترقیم شاملہ: -- 7446
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزِ بُرٍّ فَوْقَ ثَلَاثٍ ".
عابس نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں نے تین دن سے زیادہ کبھی سیر ہو کر گندم کی روٹی نہیں کھائی۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7446]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا خاندان تین دن سے زائد گندم کی روٹی سے سیر نہیں ہوا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7446]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2970
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں