🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. أَبْوَابُ مَا جَاءَ فِي قَتْلِ الْكِلَابِ وَاقْتِنَائِهَا¤ بَابُ الْأَمْرِ بِقَتْلِهَا وَ سَبَبٍ ذَلِكَ
کتوں کو قتل کرنے اور انہیں پالنے کا بیان کتوں کو قتل کرنے کے حکم اور اس کے سبب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6510
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقْتُلَ الْكِلَابَ فَخَرَجْتُ أَقْتُلُهَا، لَا أَرَى كَلْبًا إِلَّا قَتَلْتُهُ فَإِذَا كَلْبٌ يَدُورُ بِبَيْتٍ فَذَهَبْتُ لِأَقْتُلَهُ فَنَادَانِي إِنْسَانٌ مِنْ جَوْفِ الْبَيْتِ يَا عَبْدَ اللَّهِ! مَا تُرِيدُ أَنْ تَصْنَعَ؟ قُلْتُ: أُرِيدُ أَنْ أَقْتُلَ هَذَا الْكَلْبَ، فَقَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ مَضِيعَةٌ وَإِنَّ هَذَا الْكَلْبَ يَطْرُدُ عَنِّي السَّبُعَ وَيُؤَذِّنُنِي بِالْجَائِي، فَأْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاذْكُرْ ذَلِكَ لَهُ، قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذُكِرَ ذَلِكَ لَهُ فَأَمَرَنِي بِقَتْلِهِ
۔ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کتوں کو قتل کر نے کا حکم دیا، پس میں ان کو قتل کرنے کے لیے نکلا، جو کتابھی مجھے نظر آتا، میں اسے قتل کر دیتا، ایک کتا ایک گھر کے گرد گھوم رہا تھا، جب میں اسے مارنے لگا تو گھر کے اندر سے ایک انسان نے مجھے آواز دی اور کہا: او اللہ کے بندے! تو کیا کرنا چاہتاہے؟ میں نے کہا: میں اس کتے کو مارنا چاہتاہوں، اس عورت نے کہا: میں اس جنگل بیاباں میں رہتی ہے، (جو کہ ضیاع و ہلاکت کا سبب ہے) اور یہ کتا درندوں کو مجھ سے دفع کرتا ہے اور اس کی وجہ سے آنے جانے والوں کی مجھے اطلاع ہو جاتی ہے، اس لیے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جا اور میری یہ بات بتلا، پس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور یہ بات بتلائی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اس کتے کو قتل کرنے کا ہی حکم دیا۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6510]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح ان ثبت سماع سالم بن عبد الله من أبي رافع۔ أخرجه الطحاوي في ’’شرح مشكل الآثار‘‘: 4668، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27188 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27730»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح ان ثبت سماع سالم بن عبد الله من أبي رافع۔ أخرجه الطحاوي في ’’شرح مشكل الآثار‘‘: 4668
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6511
عَنْ جَابِرٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِكِلَابِ الْمَدِينَةِ أَنْ تُقْتَلَ فَجَاءَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ فَقَالَ إِنَّ مَنْزِلِي شَاسِعٌ وَلِي كَلْبٌ فَرَخَّصَ لَهُ أَيَّامًا ثُمَّ أَمَرَ بِقَتْلِ كَلْبِهِ
۔ سیدنا جابر انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ کے کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا، سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: میرا گھر آبادی سے دور ہے اور میرا ایک کتا ہے جو اس کی رکھوالی کرتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چند دن کے لئے ان کو رخصت دی، لیکن پھر اس کتے کو بھی مارنے کا حکم دے دیا۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6511]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عيسي بن جارية۔ أخرجه ابويعلي: 1804، 1886، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14494 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14548»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف عيسي بن جارية۔ أخرجه ابويعلي: 1804
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6512
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ حَتَّى قَتَلْنَا كَلْبَ امْرَأَةٍ جَاءَتْ مِنَ الْبَادِيَةِ
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتوں کو مارنے کا حکم دیا (اور ہم نے کتے مارنے شروع کر دیئے) یہاں تک کہ ہم نے دیہات سے آنے والی ایک عورت کا کتا بھی مار ڈالا۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6512]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1570، 1571، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4744»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1570
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6513
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ الْعِينِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کشادہ آنکھوں والے کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6513]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره دون قوله ’’العين‘‘، وھذا اسناد ضعيف لانقطاعه، ابراهيم بن يزيد النخعي لم يسمع من عائشة، والمغيرة ابن مقسم ضعيف في روايتة عن ابراهيم النخعي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24785 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25295»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره دون قوله ’’العين‘‘
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6514
عَنِ الْحَسَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ شَهِدْتُ عُثْمَانَ يَأْمُرُ فِي خُطْبَتِهِ بِقَتْلِ الْكِلَابِ وَذَبْحِ الْحَمَامِ
۔ سیدنا حسن بصری صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہتے ہیں:میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خطبہ میں موجود تھا، انھوں نے اپنے خطبے میں کتوں کو قتل کرنے اور کبوتروں کو ذبح کرنے کا حکم دیا۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6514]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، مبارك بن فضالة ضعفه النسائي۔ أخرجه عبد الرزاق: 19733، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 521 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 521»
وضاحت: فوائد: … اس باب میں کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا ہے، مزید تفصیل اگلے باب میں آ رہی ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابُ الرُّحْصَةِ فِي عَدْمٍ قَتْلِ الْكِلابِ إِلَّا الْأَسْوَدَ البهيم
کالے سیاہ کتے کے علاوہ باقی کتوں کو قتل نہ کرنے کی رخصت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6515
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ حَتَّى إِنَّ الْمَرْأَةَ تَقْدَمُ مِنَ الْبَادِيَةِ بِكَلْبِهَا فَنَقْتُلُهُ ثُمَّ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِهَا وَقَالَ عَلَيْكُمْ بِالْأَسْوَدِ الْبَهِيمِ ذِي النُّقْطَتَيْنِ فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں کتے مارنے کا حکم دیا اور (پھر ہم نے کتوں کا قتل کیا) یہاں تک کہ ہم دیہات سے آنے والی عورت کے کتے بھی قتل کر دیتے، لیکن بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتوں کو قتل کرنے سے منع کر دیا اور فرمایا: آنکھوں پر سفید رنگ کے دو نقطوں والے سیاہ رنگ کے کتے کو مار دو، کیونکہ وہ شیطان ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6515]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1572، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14575 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14629»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1572
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6516
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا أَنَّ الْكِلَابَ أُمَّةٌ مِنَ الْأُمَمِ لَأَمَرْتُ بِقَتْلِهَا فَاقْتُلُوا مِنْهَا كُلَّ أَسْوَدَ بَهِيمٍ
۔ سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر کتے بھی مختلف امتوں میں سے ایک امت نہ ہوتے تو میں ان کو مکمل طور پر قتل کرنے کا حکم دے دیتا، اب تم ان میں سے ہر سیاہ کالے کو قتل کر دیا کرو۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6516]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه ابوداود: 2845، والترمذي: 1486، والنسائي: 7/185، وابن ماجه: 3205، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20547 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20821»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوقات میں سے ہر ایک کو پیدا کرنے میں کوئی نہ کوئی حکمت اور مصلحت رکھی ہوتی ہے، اس لئے اس کی مخلوق میں سے ایک قوم کو صفحہ ہستی سے مٹا دینا مناسب نہیں، تاہم ان میں سے شریر قسم کے کتے جو کالی سیاہ رنگت والے ہیں انہیں ماردو، باقیوں کو قتل نہ کرو۔

الحكم على الحديث:
حسن۔ أخرجه ابوداود: 2845
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6517
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ الْبَهِيمُ شَيْطَانٌ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کالا سیاہ کتا شیطان ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6517]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه الطبراني في ’’الاوسط‘‘، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25243 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25757»
وضاحت: فوائد: … کالے سیاہ کتے کو شیطان قرار دینے کا مقصد یہ ہے کہ اس کا ضرر دوسرے کتوں سے زیادہ ہوتا ہے، مجازی طور پر اس کو شیطان کہا گیا ہے، ویسے بھی عربوں کے کلام میں ہر سر کش کو شیطان کہہ دیتے ہیں۔ جیسے برے اور شرارتی انسان کو شیطان کہہ دیا جاتا ہے، اسی طرح ڈراؤنے اور موذی کتے کو بھی شیطان کہا گیا ہے، شیطان کسی کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ وصف ہے، جس میں بھی پایا جائے گا، اس کو شیطان کہیں گے۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه الطبراني في ’’الاوسط‘‘
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6518
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ ثُمَّ قَالَ مَا لَكُمْ وَالْكِلَابَ ثُمَّ رَخَّصَ فِي كَلْبِ الصَّيْدِ وَالْغَنَمِ
۔ سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتوں کو ماردینے کا حکم دیا اور پھر فرمایا: تمہارا کتوں کے ساتھ کیا تعلق ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شکاری کتے اور بکریوں کی حفاظت کرنے والے کتوں کی اجازت دے دی۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6518]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 280، 1573، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20566 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20840»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی احادیث سے معلوم ہوا کہ کتوں کو قتل کرنے کا عام حکم منسوخ ہو چکا ہے، البتہ کالے سیاہ کتے کو قتل کرنے کا حکم باقی ہے، رہا مسئلہ کہ گھر کے اندر کتا رکھا جا سکتا ہے یا نہیں، اس کی تفصیل اگلے باب میں آ رہی ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 280
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. تَابُ مَا يَجُوزُ اقْتِنَاؤُهُ مِنَ الْكِلَابِ بَعْدَ الرُّحْصَةِ وَمَا لَايَجُوزُ
اس چیز کا بیان کہ اِس رخصت کے بعد کون سے کتے پالنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6519
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَمْسَكَ كَلْبًا فَإِنَّهُ يَنْقُصُ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ إِلَّا كَلْبَ حَرْثٍ أَوْ مَاشِيَةٍ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کتا پالا، روزانہ اس کے عمل میں سے ایک قیراط کی کمی ہو جاتی ہے، الّا یہ کہ وہ کتا کھیتی اور مویشیوں کی حفاظت کے لئے ہو۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6519]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1575، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10115 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10119»
وضاحت: فوائد: … کھیتی اور جانوروںکی حفاظت کے لیے اور شکار کرنے کی خاطر کتا رکھا جا سکتا ہے، اسی طرح اشد ضرورت کی بنا پر گھر کی رکھوالی کے لیے بھی اس کی اجازت ہو سکتی ہے، جس نے مذکورہ صورتوں کے علاوہ کتا رکھا تو وہ شخص خسارے میں ہے، اس کے نیک اعمال سے روزانہ ایک قیراط وزن کم کر دیا جائے گا۔ اگلی حدیث میں دو قیراط کا ذکر ہے۔
قیراط کا اطلاق دو طرح کے وزن پر ہوتا ہے:
(۱) معمولی وزن پر اور وہ اس طرح کہ ایک دینار بیس قیراط کا ہوتا ہے اور دینار ساڑھے چار ماشے (یعنی: ۳۷۴.۴گرام) کا ہوتا ہے، گویا ایک قیراط کا وزن تقریباً (۲۲۰) ملی گرام بنتا ہے۔
(۲) غیر معمولی وزن پر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخصوص احادیث میں قیراط کو احد پہاڑ کے برابر قرار دیا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اس باب کی احادیث میں قیراط سے مراد کیا ہے؟ تو اس کی بابت اہل علم کی آراء مختلف ہیں، بعض نے معمولی وزن مراد لیا اور بعض نے غیر معمولی۔
درج ذیل دو نکات کی وجہ سے اس مقام پر مطلق قیراط کو معمولی مراد لینا چاہیے:
(۱) اللہ تعالی کا فضل و کرم اور رحمت و مغفرت بڑی وسیع ہے، بلکہ اس کے غصے اور سزا سے زیادہ ہے، اس لیے اس کا تقاضا یہ ہے کہ کم نیکیاں کاٹی جائیں۔
(۲) شریعت ِ مطہرہ کا مزاج نرمی ہے، نہ سختی اور نرمی معمولی قیراط مراد لینے میںہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1575
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں