🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. أَبْوَابُ مَا يَجُوزُ قَتْلُهُ مِنَ الْحَيَوَانِ وَمَا لَا يَجُوزُ¤بَابُ الأمْرِ بِقَتْلِ الْفَوَاسِقِ مِنَ الْحَيَوَان
اس چیز کے ابواب کہ کون سے حیوان قتل کرنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز فاسق حیوانات کو قتل کرنے کے حکم کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6490
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ قَتَلَ حَيَّةً فَلَهُ سَبْعُ حَسَنَاتٍ، وَمَنْ قَتَلَ وَزَغًا فَلَهُ حَسَنَةٌ، وَمَنْ تَرَكَ حَيَّةً مَخَافَةَ عَاقِبَتِهَا فَلَيْسَ مِنَّا) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو سانپ کو قتل کرے، اسے سات نیکیاں ملتی ہیں اور جو چھپکلی کو مارے، اسے ایک نیکی ملتی ہے اور جس نے سانپ کو اس کے انتقام کے خوف کی وجہ سے چھوڑ دیا، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6490]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، المسيب بن رافع لم يلق ابن مسعود۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 10492، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3984 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3984»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ قَتَلَ وَزَغًا فِی أَوَّلِ ضَرْبَۃٍ کُتِبَتْ لَہُ مِائَۃُ حَسَنَۃٍ وَفِی الثَّانِیَۃِ دُونَ ذَلِکَ وَفِی الثَّالِثَۃِ دُونَ ذَلِکَ۔)) … ”جس نے چھپکلی کو پہلی ضرب میں قتل کر دیا، اس کے لیے سو نیکیاں ہیں اور جس نے دوسری ضرب میں قتل کیا، اس کے لیے اس سے کم نیکیاں ہیں اور جس نے تیسری ضرب میں قتل کیا، اس کے لیے اس سے کم نیکیاں ہیں۔“ (صحیح مسلم: ۲۲۴۰)

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6491
عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ الْجُشَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَا ابْنُ مَسْعُودٍ يَخْطُبُ ذَاتَ يَوْمٍ فَإِذَا هُوَ بِحَيَّةٍ تَمْشِي عَلَى الْجِدَارِ فَقَطَعَ خُطْبَتَهُ ثُمَّ ضَرَبَهَا بِقَضِيبِهِ أَوْ بِقَصَبَةٍ قَالَ يُونُسُ بِقَضِيبِهِ حَتَّى قَتَلَهَا ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ قَتَلَ حَيَّةً فَكَأَنَّمَا قَتَلَ رَجُلًا مُشْرِكًا قَدْ حَلَّ دَمُهُ
۔ ابو الاحوص جشمی کہتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ خطبہ دے رہے تھے، اچانک انہوں نے دیکھا کہ ایک سانپ دیوار پر چل رہا ہے، انھوں نے اپنے خطاب کو روک دیا اور اپنی چھڑی کے ساتھ اس کو مارنا شروع کردیا،یہاں تک کہ اس کو قتل کر دیا اور پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جس نے سانپ کو مارا، گویا کہ اس نے اس مشرک کو قتل کر دیا، جس کا خون بہانا جائز ہو چکا تھا۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6491]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو الاعين العبدي ضعفه يحيي بن معين، وقال ابو حاتم: مجھول، وقال ابن حبان: لا يجوز الاحتجاج به، وورد ھذا الحديث موقوفا واسناده صحيح۔ أخرجه الطيالسي: 315، وابويعلي: 5320، وابن ابي شيبة: 5/ 405، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3996 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3996»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6492
عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا رَفَعَ الْحَدِيثَ قَالَ كَانَ يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْحَيَّاتِ وَيَقُولُ مَنْ تَرَكَهُنَّ خَشْيَةَ أَوْ مَخَافَةَ تَأْثِيرٍ فَلَيْسَ مِنَّا قَالَ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ الْحَيَّاتِ مَسِيخُ الْجِنِّ كَمَا مُسِخَتِ الْقِرَدَةُ مِنْ إِسْرَائِيلَ
۔ عکرمہ کہتے ہیں: میرایہی خیالیہ کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مرفوعاً بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سانپوں کو قتل کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: جس نے ان کو ان کی انتقامی کاروائی سے ڈرتے ہوئے چھوڑا، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ پھر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: بیشک سانپ، جنوں کی مسخ شدہ شکلیں ہیں، جیسا کہ بنواسرائیل کو بندروں کی شکلوں میں مسخ کیا گیا تھا۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6492]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابوداود: 5250، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3254 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3254»

الحكم على الحديث:
أخرجه ابوداود: 5250
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6493
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْحَيَّاتُ مَسِيخُ الْجِنِّ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بعض سانپ جنوں سے مسخ شدہ ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6493]
تخریج الحدیث: «صحيح موقوفا۔ أخرجه البزار: 1232، وابن حبان: 5640، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3255 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3255»
وضاحت: فوائد: … آپ کو علم ہونا چاہیے کہ اس حدیث کا یہ مفہوم نہیں کہ موجودہ سانپ جنوں کی مسخ شدہ شکلیں ہیں۔ اس کا مفہوم تو یہ ہے کہ بعض جنوں کو سانپوں کی شکل میں مسخ کیا گیا تھا، جیسا کہ یہودیوں کو بندروں اور خنزیروں کی شکلوں میں مسخ کیا گیا تھا، لیکن ایسی حالت میں ان کی نسل نہیں ہوئی تھی، جیسا کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میںیہ بات ہونے لگی کہ بندر اور خنزیر کس کی مسخ شدہ شکلیں ہیں۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ اللّٰہَ لَمْ یَمْسَخْ شَیْئًا فَیَدَعَ لَہٗنَسْلًااَوْعَاقِبَۃً، وَقَدْ کَانَتِ الْقِرَدَۃُ وَالْخَنَازِیْرُ قَبْلَ ذَالِکَ۔)) (صحیح مسلم) … ”جب اللہ تعالی کسی مخلوق کو (دوسری مخلوق کی شکل میں) مسخ کرتے ہیں تو اس کی آگے نسل اور اولاد نہیں ہوتی (یعنی وہ اسی مسخ شدہ شکل میں ہلاک ہو جاتی ہے) اور بندر اور خنزیر (جن کے بارے میں تم باتیں کر رہے ہو، یہ تو مسخ شدہ قوموں سے) پہلے بھی تھے۔“

الحكم على الحديث:
صحيح موقوفا۔ أخرجه البزار: 1232
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. باب النهي عَنْ قَبل حَيَّاتِ البيوتِ إِلَّا بَعْدَ تَحْذِيرِهَا إلا الْأَبْتَر وَذَا الطميتينِ فَإِنَّهُمَا يُقتلان
گھریلو سانپوں کو مارنے کی ممانعت کا بیان، الا یہ کہ پہلے ان کو متنبہ کیا جائے، مگر چھوٹی دم والا موذی سانپ اور وہ سانپ جس کی پشت پر دو دھاریاں ہوں، ان دونوں کو ہر صورت میں قتل کیا جائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6494
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ قَتْلِ حَيَّاتِ الْبُيُوتِ إِلَّا الْأَبْتَرَ وَذَا الطُّفْيَتَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَخْتَطِفَانِ وَفِي لَفْظٍ يَطْمِسَانِ الْأَبْصَارَ وَيَطْرَحَانِ الْحَمْلَ مِنْ بُطُونِ النِّسَاءِ وَمَنْ تَرَكَهُمَا فَلَيْسَ مِنَّا
۔ سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھریلو سانپوں کو مارنے سے منع کیا ہے، ماسوائے ان دو سانپوں کے، چھوٹی دم والا موذی سانپ اور جس کی پشت پر دو دھاریاں ہوں، کیونکہ یہ نظر کا نور اچک لیتے ہیں اور عورتوں کے پیٹ سے حمل گرا کر دیتے ہیں، جوان دونوں کو چھوڑے گا، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6494]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3308، ومسلم: 2232، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24010 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24511»
وضاحت: فوائد: … ممکن ہے کہ ان سانپوںکی نظر میں زہریلا مواد ہو اور اس چیز کا بھی احتمال ہے کہ ان کے ڈسنے سے نظر ختم ہو جاتی ہو اور حاملہ عورتوںکے حمل گر جاتے ہیں، ایک معنییہ بھی کیا گیا ہے کہ جب حاملہ عورت ان کی طرف دیکھتی ہے اور ڈرتی ہے تو اس کا حمل گر جاتا ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3308
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6495
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ عَوَامِرِ الْبُيُوتِ إِلَّا مَنْ كَانَ مِنْ ذَوِي الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ فَإِنَّهُمَا يَكْمِهَانِ الْأَبْصَارَ وَتُخْدَجُ مِنْهُنَّ النِّسَاءُ
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھروں میں رہنے والے سانپوں کو مارنے سے منع کیا ہے،ما سوائے دو سانپوں کے، ایک جس کی پشت پر دو دھاریاں ہوں اور دوسرا چھوٹی دم والا موذی سانپ، یہ دونوں نظر کو ختم کر دیتے ہیں اور ان کی وجہ سے حاملہ عورتوں کے حمل گر جاتے ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6495]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 7726، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22262 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22617»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 7726
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6496
عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ وَاقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ فَإِنَّهُمَا يُسْقِطَانِ الْحَبَلَ وَيُطْمِسَانِ الْبَصَرَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَرَآنِي أَبُو لُبَابَةَ أَوْ زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ وَأَنَا أُطَارِدُ حَيَّةً لِأَقْتُلَهَا فَنَهَانِي فَقُلْتُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَ بِقَتْلِهِنَّ فَقَالَ إِنَّهُ قَدْ نَهَى بَعْدَ ذَلِكَ عَنْ قَتْلِ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَهِيَ الْعَوَامِرُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سانپوں کو قتل کرو اور خاص طور پر پشت پر دو دھاریوں والے کو اور چھوٹی دم والے موذی سانپ کو، کیونکہ یہ دونوں حمل گرادیتے ہیں اور نظر مٹا دیتے ہیں۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: سیدنا ابو لبابہ نے یا سیدنا زید بن خطاب رضی اللہ عنہما نے مجھے دیکھا کہ میں ایک سانپ کومارنے کے لئے اس کا پیچھا کر رہا تھا تو اس نے مجھے ایسا کرنے سے منع کر دیا، میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو مارنے کا حکم دیا ہے، لیکن انہوں نے کہا کہ بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھریلو سانپوں کو قتل کرنے سے روک دیا تھا۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6496]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3297، 3298، ومسلم: 2233، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15748 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15840»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3297
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6497
عَنْ نَافِعٍ قَالَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْحَيَّاتِ كُلِّهِنَّ فَاسْتَأْذَنَهُ أَبُو لُبَابَةَ أَنْ يَدْخُلَ مِنْ خَوْخَةٍ لَهُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَرَآهُمْ يَقْتُلُونَ حَيَّةً فَقَالَ لَهُمْ أَبُو لُبَابَةَ أَمَا بَلَغَكُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ قَتْلِ أُولَاتِ الْبُيُوتِ وَالدُّورِ وَأَمَرَ بِقَتْلِ ذَوِي الطُّفْيَتَيْنِ
۔ امام نافع روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما تمام قسم کے سانپوں کو مارنے کا حکم دیا کرتے تھے، ایک دن سیدنا ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے ان سے ان کی کھڑکی سے مسجد میں آنے کی اجازت طلب کی اور ان کو دیکھا کہ وہ ایک سانپ قتل کررہے تھے، پس سیدنا ابو لبابہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تمہیں یہ بات نہیں پہنچی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھریلو سانپوں کو مارنے سے منع کیا اور اس سانپ کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے، جس کی پشت پر دو دھاریاں ہوں۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6497]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15843»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15843
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6498
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْحَيَّاتِ كُلِّهِنَّ لَا يَدَعُ مِنْهُنَّ شَيْئًا حَتَّى حَدَّثَهُ أَبُو لُبَابَةَ الْبَدْرِيُّ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ قَتْلِ جِنَّانِ الْبُيُوتِ
۔ (دوسری سند) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ہر قسم کے سانپ مارنے کا حکم دیا کرتے تھے اور کسی کو نہیں چھوڑتے تھے، یہاں تک کہ سیدنا ابو لبابہ بدری رضی اللہ عنہ نے ان کو بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھریلو سانپوں کو مارنے سے منع کر دیا تھا۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6498]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15632»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15632
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6499
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَتَحَ خَوْخَةً لَهُ وَعِنْدَهُ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَخَرَجَتْ عَلَيْهِمْ حَيَّةٌ فَأَمَرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بِقَتْلِهَا فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَنْ يُؤْذِنَهُنَّ قَبْلَ أَنْ يَقْتُلَهُنَّ
۔ سیدنا زید بن اسلم کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی ایک کھڑکی کھولی، ان کے پاس سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، اچانک ایک سانپ نکلا، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے مارنے کا حکم دیا، لیکن سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم یہ نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ حکم دیا کہ ان کو قتل کرنے سے پہلے اطلاع دی جائے۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6499]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن في الشواھد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11090 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11106»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن في الشواھد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں