الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب النهي عَنْ قَبل حَيَّاتِ البيوتِ إِلَّا بَعْدَ تَحْذِيرِهَا إلا الْأَبْتَر وَذَا الطميتينِ فَإِنَّهُمَا يُقتلان
گھریلو سانپوں کو مارنے کی ممانعت کا بیان، الا یہ کہ پہلے ان کو متنبہ کیا جائے، مگر چھوٹی دم والا موذی سانپ اور وہ سانپ جس کی پشت پر دو دھاریاں ہوں، ان دونوں کو ہر صورت میں قتل کیا جائے گا
حدیث نمبر: 6500
عَنْ أَبِي السَّائِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَبَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَهُ إِذْ سَمِعْتُ تَحْتَ سَرِيرِهِ تَحْرِيكَ شَيْءٍ فَنَظَرْتُ فَإِذَا حَيَّةٌ فَقُمْتُ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ مَا لَكَ قُلْتُ حَيَّةٌ هَاهُنَا فَقَالَ فَتُرِيدُ مَاذَا قُلْتُ أُرِيدُ قَتْلَهَا فَأَشَارَ لِي إِلَى بَيْتٍ فِي دَارِهِ تِلْقَاءَ بَيْتِهِ فَقَالَ إِنَّ ابْنَ عَمٍّ لِي كَانَ فِي هَذَا الْبَيْتِ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْأَحْزَابِ اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِهِ وَكَانَ حَدِيثَ عَهْدٍ بِعُرْسٍ فَأَذِنَ لَهُ وَأَمَرَهُ أَنْ يَتَأَهَّبَ بِسِلَاحِهِ مَعَهُ فَأَتَى دَارَهُ فَوَجَدَ امْرَأَتَهُ قَائِمَةً عَلَى بَابِ الْبَيْتِ فَأَشَارَ إِلَيْهَا بِالرُّمْحِ فَقَالَتْ لَا تَعْجَلْ حَتَّى تَنْظُرَ مَا أَخْرَجَنِي فَدَخَلَ الْبَيْتَ فَإِذَا حَيَّةٌ مُنْكَرَةٌ فَطَعَنَهَا بِالرُّمْحِ ثُمَّ خَرَجَ بِهَا فِي الرُّمْحِ تَرْتَكِضُ ثُمَّ قَالَ لَا أَدْرِي أَيُّهُمَا كَانَ أَسْرَعَ مَوْتًا الرَّجُلُ أَوِ الْحَيَّةُ فَأَتَى قَوْمُهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَرُدَّ صَاحِبَنَا قَالَ اسْتَغْفِرُوا لِصَاحِبِكُمْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ أَسْلَمُوا فَإِذَا رَأَيْتُمْ أَحَدًا مِنْهُمْ فَحَذِّرُوهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ إِنْ بَدَا لَكُمْ بَعْدُ أَنْ تَقْتُلُوهُ فَاقْتُلُوهُ بَعْدَ الثَّالِثَةِ
۔ ابو سائب کہتے ہیں: میں سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ میں نے ان کی چارپائی کے نیچے کسی چیز کی حرکت محسوس کی،میں نے دیکھا کہ ایک سانپ تھا، پس میں کھڑا ہو گیا، سیدناابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا بات ہے؟ میں نے کہا کہ یہاں سانپ ہے، انھوں نے کہا:کیا ارادہ ہے؟میں نے کہا: اس کو مار دینے کا۔ انہوں نے اپنے گھر کے سامنے ایک گھر کی طرف اشارہ کیا اور کہا: میرا ایک بھتیجا اس گھر میں رہائش پذیر تھا، جب وہ غزوئہ احزاب سے واپس آیا تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے گھر آنے کی اجازت طلب کی، اس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اجازت دے دی اور یہ حکم دیا کہ مسلح ہو کر جانا، پس جب وہ اپنے گھر آیا تو دیکھا کہ اس کی بیوی دروازے پر کھڑی ہے، اس نے غیرت کے مارے نیزہ اس کی طرف سیدھا کیا، لیکن اتنے میں اس نے کہا: جلد بازی میں نہ پڑ، پہلے وہ چیز دیکھ جس نے مجھے نکال دیا،جب وہ گھر کے اندر داخل ہوا تو اس نے دیکھا تو ایک مکروہ قسم کا سانپ تھا، اس نوجوان نے اس کو نیزہ مارا اور نیزے کے ساتھ اس کو باہر نکالنا چاہا، وہ سانپ تڑپ رہا تھا، میں نہیں جانتا کہ بندہ پہلے مرا ہو گا یا سانپ۔ پھر اس کی قوم کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کی: اللہ تعالی سے دعا کیجئے کہ وہ ہمارا ساتھی واپس لوٹا دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا: اپنے ساتھی کے لئے مغفرت طلب کرو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنوں میں سے کچھ افراد اسلام لا چکے ہیں، جب تم انہیں دیکھو تو انہیں تین مرتبہ یعنی تین دن تک ڈراؤ آگاہ کرو۔ اگر پھر بھی نظر آئیں تو تین دن کے بعد اگر انہیں مارانا چاہو تو مار سکتے ہو۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6500]
تخریج الحدیث: «أخرجه بنحوه مسلم: 2236، وابوداود!: 5257، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11369 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11389»
وضاحت: فوائد: … یہ سانپ دراصل جِن تھا۔
مطلبیہ ہے بہت جلد سانپ مرگیا اور وہ نوجوان بھی فوت ہوگیا۔ ان دونوں کے بہت جلد مرنے کی صراحت صحیح مسلم میں ہے۔ زیر مطالعہ حدیث سے بھییہی بات سمجھ آرہی ہے۔ (عبداللہ رفیق)
مطلبیہ ہے بہت جلد سانپ مرگیا اور وہ نوجوان بھی فوت ہوگیا۔ ان دونوں کے بہت جلد مرنے کی صراحت صحیح مسلم میں ہے۔ زیر مطالعہ حدیث سے بھییہی بات سمجھ آرہی ہے۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث:
أخرجه بنحوه مسلم: 2236
حدیث نمبر: 6501
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ صَيْفِيٍّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: وَجَدَ رَجُلٌ فِي مَنْزِلِهِ حَيَّةً فَأَخَذَ رُمْحَهُ فَشَكَّهَا فِيهِ فَلَمْ تَمُتِ الْحَيَّةُ حَتَّى مَاتَ الرَّجُلُ، فَأُخْبِرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (إِنَّ مَعَكُمْ عَوَامِرَ فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهُمْ شَيْئًا فَحَرِّجُوا عَلَيْهِ ثَلَاثًا، فَإِنْ رَأَيْتُمُوهُ بَعْدَ ذَلِكَ فَاقْتُلُوهُ) )
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے اپنے گھر میں سانپ دیکھا اور اس نے نیزہ لے کر اس میں پیوست کر دیا، تو سانپ نہ مرا، حتیٰ کہ وہ بندہ فوت ہو گیا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس واقعہ کی خبر دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے ساتھ گھروں میں جن بھی آباد ہیں، اس لیے جب تم ان میں سے کوئی چیز دیکھو تو تین دن تک ان پر تنگی پیدا کرو، اگر تم تین دن کے بعد بھی ان کو دیکھو توپھر انہیں قتل کر دو۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6501]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد منقطع، وانظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11233»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث ِ مبارکہ میں گھریلوں سانپوںکو قتل سے منع کیا گیا ہے، صرف دو قسم کے سانپوںکو مستثنی کیا گیا،یعنی ان کو ہر صورت میں قتل کر دیا جائے۔
صحیح مسلم کے الفاظ یہ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((فَإِذَا رَأَیْتُمْ مِنْہُمْ شَیْئًا فَآذِنُوہُ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ فَإِنْ بَدَا لَکُمْ بَعْدَ ذَلِکَ فَاقْتُلُوہُ فَإِنَّمَا ہُوَ شَیْطَانٌ۔)) … ”جب تم ان گھریلو سانپوں میں سے کوئی دیکھو تو تین دنوں تک اس کو آگاہ کرو، پس اگر وہ اس مدت کے بعد بھی نظر آ جائے تو اس کو قتل کر دو، کیونکہ وہ شیطان ہے۔“
صحیح مسلم کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ لِہَذِہِ الْبُیُوتِ عَوَامِرَ فَإِذَا رَأَیْتُمْ شَیْئًا مِنْہَا فَحَرِّجُوا عَلَیْہَا ثَلَاثًا فَإِنْ ذَہَبَ وَإِلَّا فَاقْتُلُوہُ فَإِنَّہُ کَافِرٌ۔)) … ”بیشک ان گھروں میں رہنے والے جن بھیہوتے ہیں، لہذا جب تم ان میں سے کسی کو دیکھو تو تین (دنوں) تک ان پر تنگی کرو، اگر وہ چلا جائے تو ٹھیک، وگرنہ اس کو قتل کر دو، کیونکہ وہ کافر ہے۔“
گھروں میںرہنے والے سانپ عموماً گھر والوں کو نقصان نہیں پہنچاتے، بچوں تک کو نہیں کاٹتے، ان کے بارے میں قتل نہ کرنے کا حکم اس بنا پر ہے کہ شایدیہ جن کی کوئی قسم ہوں اور جنوں کو مارنا جائز نہیں، نیز قتل کی وجہ ایذا ہے، جب وہ ہمیں کچھ نہیں کہتے تو ہم انہیں کیوں کچھ کہیں، البتہ آبادی سے باہر رہنے والے سانپ موذی ہوتے ہیں، لہذا انہیں فوراً مار دینا چاہیے۔
تنگی کرنے سے اور آگاہ کرنے سے مراد یہ ہے کہ اس کو کہا جائے کہ تیرے لیے ہمارے ذمہ تنگی ہے، اگر تو نہ گیایا
واپس آ گیا تو ہم تیرا پیچھا کر کے یا تجھے دھتکار کر یا تجھے قتل کر کے تجھ پر تنگی کر دیں گے، مزید اس قسم کا انداز اختیار کر کے اس کو آگاہ کیا جا سکتاہے۔
اگر ہم اپنے معاشرے کے افراد کی طبع اور جلد بازی کو دیکھیں تو ان احادیث ِ مبارکہ پر عمل کرناخاصا مشکل نظر آتا ہے، کیونکہ آجکل اگر کسی گھر میں سانپ نظر آ جائے تو گھر کے سارے افراد اس وقت تک بے سکون رہیں گے اور اس گھر میں چین سے نہ بیٹھیں گے، نہ سوئیں گے، جب تک اس سانپ کو قتل نہیں کر دیں گے۔ بہرحال اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات پر کامل ایمان ہو تو ایسے احکام پر عمل کرنا آسان ہو جاتا ہے، اصل محافظ تو اللہ تعالی ہی ہے، دیکھیں حدیث نمبر (۶۵۰۰) کے مطابق جس نوجوان نے سانپ کو سانپ سمجھ کر مارنا چاہا، وہ خود بھی مر گیا، کیونکہ وہ سانپ دراصل جن تھا۔
صحیح مسلم کے الفاظ یہ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((فَإِذَا رَأَیْتُمْ مِنْہُمْ شَیْئًا فَآذِنُوہُ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ فَإِنْ بَدَا لَکُمْ بَعْدَ ذَلِکَ فَاقْتُلُوہُ فَإِنَّمَا ہُوَ شَیْطَانٌ۔)) … ”جب تم ان گھریلو سانپوں میں سے کوئی دیکھو تو تین دنوں تک اس کو آگاہ کرو، پس اگر وہ اس مدت کے بعد بھی نظر آ جائے تو اس کو قتل کر دو، کیونکہ وہ شیطان ہے۔“
صحیح مسلم کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ لِہَذِہِ الْبُیُوتِ عَوَامِرَ فَإِذَا رَأَیْتُمْ شَیْئًا مِنْہَا فَحَرِّجُوا عَلَیْہَا ثَلَاثًا فَإِنْ ذَہَبَ وَإِلَّا فَاقْتُلُوہُ فَإِنَّہُ کَافِرٌ۔)) … ”بیشک ان گھروں میں رہنے والے جن بھیہوتے ہیں، لہذا جب تم ان میں سے کسی کو دیکھو تو تین (دنوں) تک ان پر تنگی کرو، اگر وہ چلا جائے تو ٹھیک، وگرنہ اس کو قتل کر دو، کیونکہ وہ کافر ہے۔“
گھروں میںرہنے والے سانپ عموماً گھر والوں کو نقصان نہیں پہنچاتے، بچوں تک کو نہیں کاٹتے، ان کے بارے میں قتل نہ کرنے کا حکم اس بنا پر ہے کہ شایدیہ جن کی کوئی قسم ہوں اور جنوں کو مارنا جائز نہیں، نیز قتل کی وجہ ایذا ہے، جب وہ ہمیں کچھ نہیں کہتے تو ہم انہیں کیوں کچھ کہیں، البتہ آبادی سے باہر رہنے والے سانپ موذی ہوتے ہیں، لہذا انہیں فوراً مار دینا چاہیے۔
تنگی کرنے سے اور آگاہ کرنے سے مراد یہ ہے کہ اس کو کہا جائے کہ تیرے لیے ہمارے ذمہ تنگی ہے، اگر تو نہ گیایا
واپس آ گیا تو ہم تیرا پیچھا کر کے یا تجھے دھتکار کر یا تجھے قتل کر کے تجھ پر تنگی کر دیں گے، مزید اس قسم کا انداز اختیار کر کے اس کو آگاہ کیا جا سکتاہے۔
اگر ہم اپنے معاشرے کے افراد کی طبع اور جلد بازی کو دیکھیں تو ان احادیث ِ مبارکہ پر عمل کرناخاصا مشکل نظر آتا ہے، کیونکہ آجکل اگر کسی گھر میں سانپ نظر آ جائے تو گھر کے سارے افراد اس وقت تک بے سکون رہیں گے اور اس گھر میں چین سے نہ بیٹھیں گے، نہ سوئیں گے، جب تک اس سانپ کو قتل نہیں کر دیں گے۔ بہرحال اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات پر کامل ایمان ہو تو ایسے احکام پر عمل کرنا آسان ہو جاتا ہے، اصل محافظ تو اللہ تعالی ہی ہے، دیکھیں حدیث نمبر (۶۵۰۰) کے مطابق جس نوجوان نے سانپ کو سانپ سمجھ کر مارنا چاہا، وہ خود بھی مر گیا، کیونکہ وہ سانپ دراصل جن تھا۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
9. باب اسْتِحْبَابِ قَتْلِ الْوَزْعَ وَتَوَابِ قَاتِلِهِ
چھپکلی کو قتل کرنے کے مستحب ہونے اور اس کو مارنے والے کے اجر و ثواب کا بیان
حدیث نمبر: 6502
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ قَتَلَ الْوَزَغَ فِي الضَّرْبَةِ الْأُولَى فَلَهُ كَذَا وَكَذَا مِنْ حَسَنَةٍ، وَمَنْ قَتَلَهُ فِي الثَّانِيَةِ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا مِنْ حَسَنَةٍ، وَمَنْ قَتَلَهُ فِي الثَّالِثَةِ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا) ) قَالَ سُهَيْلٌ: الْأُولَى أَكْثَرُ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے چھپکلی کو پہلی ضرب میں مارا، اسے اتنی اتنی نیکیاں ملیں گی، جس نے دوسری ضرب سے مارا اسے اتنی اتنی ملیں گی اور جس نے تیسری ضرب میں مارا، اسے اتنی اتنی ملیں گی۔ سہیل کہتے ہیں: پہلی ضرب زیادہ اجر وثواب والی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6502]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2240، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8659 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8644»
وضاحت: فوائد: … صحیح مسلم کی ایک روایت میں پہلی ضرب میں مارنے والے کے لیے سو نیکیوں اور ایک روایت میں ستر نیکیوں کا ذکر ہے، دوسرییا تیسری ضرب میں مارنے والے کے لیے اس سے کم ثواب ہو گا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2240
حدیث نمبر: 6503
عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ بِقَتْلِ الْوَزَغِ وَسَمَّاهُ فُوَيْسِقًا
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھپکلی کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے اور اسے موذی اور فاسق قرار دیا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6503]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2238، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1523 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1523»
وضاحت: فوائد: … چونکہ دوسرے حشرات کی بہ نسبت چھپکلی زیاد ہ مضر اور تکلیف دہ ہے، اس لیے اس کو فاسق قرار دیا گیا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2238
حدیث نمبر: 6504
عَنْ سَائِبَةَ مَوْلَاةٍ لِلْفَاكِهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَرَأَتْ فِي بَيْتِهَا رُمْحًا مَوْضُوعًا، فَقَالَتْ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ! مَاذَا تَصْنَعِينَ بِهَذَا الرُّمْحِ؟ قَالَتْ: هَذَا لِهَذِهِ الْأَوْزَاغِ، نَقْتُلُهُنَّ بِهِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا أَنَّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ حِينَ أُلْقِيَ فِي النَّارِ لَمْ تَكُنْ فِي الْأَرْضِ دَابَّةٌ إِلَّا تُطْفِئُ النَّارَ عَنْهُ غَيْرَ الْوَزَغِ كَانَ يَنْفَخُ عَلَيْهِ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِهِ
۔ فاکہ بن مغیرہ کی آزاد کردہ لونڈی سائبہ سے مروی ہے کہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی اور ان کے گھر میں ایک نیزہ دیکھا اور اس کے بارے میں پوچھا: اے ام المؤمنین! آپ اس نیزے کو کیا کرتی ہیں؟ انھوں نے کہا:ہم اس کے ساتھ یہ چھپکلیاں مارتی ہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں بیان کیا ہے کہ جب ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو روئے زمین کا ہر جانور آگ بجھاتا تھا، ما سوائے اس چھپکلی کے کہ یہ آگ پر پھونک مارتی تھی، اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس کے قتل کرنے کا حکم دیا۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6504]
تخریج الحدیث: «الأمر بقتل الوزغ، وانه كان ينفخ علي ابراهيمGصحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف۔ أخرجه ابن ماجه: 3231، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24780 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25289»
وضاحت: فوائد: … چھپکلی کی پھونک آتش نمرود میں کوئی اشتعال پیدا نہ کر سکتی تھی، اس سے اس کی بدی اور خبث ِ باطن کا اظہار ہو رہا ہے۔
الحكم على الحديث:
الأمر بقتل الوزغ
حدیث نمبر: 6505
عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْوَزَغِ: ( (فُوَيْسِقٌ) ) وَلَمْ أَسْمَعْهُ أَمَرَ بِقَتْلِهِ
۔ عروہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھپکلی کو موذی اور فاسق جانور قرار دیا،لیکن انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس قسم کی حدیث نہیں سنی کہ جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو قتل کرنے کا حکم دیا ہو۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6505]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1831، 3306، ومسلم: 2239، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24568 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25075»
وضاحت: فوائد: … چھپکلی کو قتل کرنے کی روایت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سمیت کئی صحابہ سے مروی ہے، ممکن ہے سیدہ کی مراد یہ ہو کہ انھوں نے بنفس نفیس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے فرماتے ہوئے نہیں سنا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1831
حدیث نمبر: 6506
عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (اقْتُلُوا الْوَزَغَ فَإِنَّهُ كَانَ يَنْفَخُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ النَّارَ) ) قَالَ: وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَقْتُلُهُنَّ
۔ مولائے ابن عمر امام نافع سے مروی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چھپکلی کو قتل کر دیا کرو، کیونکہ یہ ابراہیم علیہ السلام پر جلائی گئی آگ پر پھونک مارتی تھی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا خود بھی چھپکلیوں کو مار دیا کرتی تھیں۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6506]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25643 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26162»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 6507
عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أُمَّ شَرِيكٍ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا اسْتَأْمَرَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَتْلَ الْوَزَغَاتِ فَأَمَرَهَا بِقَتْلِ الْوَزَغَاتِ
۔ سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ام شریک رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے چھپکلیوں کو قتل کرنے کا حکم دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں چھپکلیاں مارنے کا حکم دیا۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6507]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3359، ومسلم: 2237، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27365 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27909»
وضاحت: فوائد: … چھپکلی زہریلا جانور ہے، اگرکسی کھانے پینے کی چیز میں گر جائے تو اسے زہریلا کر دیتا ہے، حتی کہ موت کا سبب بھی سکتا ہے، لہذا اس کو مارنے کا حکم ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3359
10. أَبْوَابُ مَا جَاءَ فِي قَتْلِ الْكِلَابِ وَاقْتِنَائِهَا¤ بَابُ الْأَمْرِ بِقَتْلِهَا وَ سَبَبٍ ذَلِكَ
کتوں کو قتل کرنے اور انہیں پالنے کا بیان کتوں کو قتل کرنے کے حکم اور اس کے سبب کا بیان
حدیث نمبر: 6508
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: وَاعَدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلُ فِي سَاعَةٍ أَنْ يَأْتِيَهُ فِيهَا فَرَثَ عَلَيْهِ أَنْ يَأْتِيَهُ فِيهَا فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَهُ بِالْبَابِ قَائِمًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنِّي انْتَظَرْتُكَ لِمِيعَادِكَ) ) فَقَالَ: إِنَّ فِي الْبَيْتِ كَلْبًا وَلَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ، وَكَانَ تَحْتَ سَرِيرِ عَائِشَةَ جِرْوُ كَلْبٍ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأُخْرِجَ ثُمَّ أَمَرَ بِالْكِلَابِ حِينَ أَصْبَحَ فَقُتِلَتْ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جبریل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک مقررہ وقت میں آنے کا وعدہ کیا، پھر انہوں نے تاخیر کر دی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر نکلے تو جبریل علیہ السلام باہر دروازے پر کھڑے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: میں توآپ کے وعدے کے مطابق آپ کا انتظار کرتا رہا، سیدنا جبریل علیہ السلام نے کہا: گھر میں ایک کتا ہے اور جس گھر میں کتا اورتصویر ہوں،ہم اس میں داخل نہیں ہوتے۔ دراصل سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی چار پائی کے نیچے کتے کا ایک پلا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو باہر نکالنے کا حکم دیا، پس اس کو نکال دیا گیا، اور پھر جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دے دیا اور ان کو قتل کیا جانے لگا۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6508]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2104 دون امر قتل الكلاب، وامرهV بقتل الكلاب ورد من حديث ميمونة عند مسلم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25100 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25613»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جہاں تصویر اور کتا ہو اس گھر میں فرشتہ نہیں آتا، آج مسلمانوں کے گھروں میں ان دونوں چیزوں کی بھرمار ہے۔ حفاظت، شکار وغیرہ کی ضرورت کے تحت کتا رکھنا اس سے مستثنیٰ ہیں۔ شاید اسی وجہ سے آج گھروں سے برکت ورحمت ختم ہوتی جارہی ہے۔ رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے، وگرنہ کاتب، محافظ اور موت کے فرشتے تو ہر گھر میں جاتے ہیں۔ تصویر سے مراد ذی روح چیز کی تصویر ہے، خواہ وہ آدمی کی ہو یا حیوان کی، اس سے وہ تصویریں مستثنی ہیں، جو ناگزیر مقاصد کے لیے ہوں اور جن کے بغیر کوئی چارۂ کار نہ ہو، مثلا پاسپورٹ، شناختی کارڈ، لائسنس وغیرہ کے لیے، لیکن بہتر یہ ہے کہ ان کو بھی محفوظ یا بند جگہ میں رکھا جائے اور آویزاں نہ کیا جائے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2104 دون امر قتل الكلاب
حدیث نمبر: 6509
عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (يَا أَبَا رَافِعٍ! اقْتُلْ كُلَّ كَلْبٍ بِالْمَدِينَةِ) ) قَالَ: فَوَجَدْتُ نِسْوَةً مِنَ الْأَنْصَارِ بِالصَّوْرَيْنِ مِنَ الْبَقِيعِ لَهُنَّ كَلْبٌ فَقُلْنَ: يَا أَبَا رَافِعٍ! إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَغْزَى رِجَالَنَا وَإِنَّ هَذَا الْكَلْبَ يَمْنَعُنَا بَعْدَ اللَّهِ، وَاللَّهِ! مَا يَسْتَطِيعُ أَحَدٌ أَنْ يَأْتِيَنَا حَتَّى تَقُومَ امْرَأَةٌ مِنَّا فَتَحُولَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ فَاذْكُرْهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَهُ أَبُو رَافِعٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (يَا أَبَا رَافِعٍ! اقْتُلْهُ فَإِنَّمَا يَمْنَعُهُنَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ) )
۔ مولائے رسول سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو رافع! مدینہ کے ہر کتے کو مارڈال۔ وہ کہتے ہیں: میں نے بقیع کے قریب صورین جگہ میں چند انصاری عورتوں کو پایا،ان کے ساتھ ایک کتا تھا، انھوں نے کہا: اے ابو رافع! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے مردوں کو جنگ میں بھیج رکھا ہے اور اللہ کے بعد اب یہ کتا ہماری حفاظت کرتا ہے، اللہ کی قسم! اس کتے کے خوف کی وجہ سے کوئی مرد ہم تک اس وقت تک آنے کی کوئی جرأت نہیں کرتا، جب تک ہم میں کوئی اٹھ کر اس کتے کو پیچھے نہ ہٹا دے، تم جاؤ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ساری بات بتلاؤ، چنانچہ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کی بات بتلائی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو رافع! تو اس کتے کو قتل کر دے، اللہ تعالی خود ان خواتین کی حفاظت کرے گا۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6509]
تخریج الحدیث: «اصل الحديث صحيح لغيره بغير ھذه السياقة كما سيأتي بالرقم الآتي، وھذا اسناد ضعيف، الفضل بن عبيد الله لم يدرك جده ابا رافع، والعباس بن ابي خداش من رجال ’’التعجيل‘‘۔ أخرجه البزار: 3869،و ابن ابي شيبة: 5/ 405، والحاكم: 2/ 311، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 971، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23865 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24367»
الحكم على الحديث:
اصل الحديث صحيح لغيره بغير ھذه السياقة كما سيأتي بالرقم الآتي