🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
30. بَابُ مَا جَاءَ فِي رَجْمِ الزَّانِي الْمُحْصَنِ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَأَنَّ الْإِسْلَامَ لَيْسَ بِشَرْطٍ فِي الْإِحْصَانِ
اہل کتاب کے شادی شدہ زانی کو رجم کرنے اور اس معاملے میں اسلام کے شرط نہ ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6738
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَا رَجَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَهُودِيًّا وَيَهُودِيَّةً
۔ سیدنا جابر بن سمرہ اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہودی مرد اور یہودی عورت کو رجم کیا۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6738]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 2557، والترمذي: 1437، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20914 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21221»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 2557
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6739
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ الشَّيْبَانِيُّ أَخْبَرَنِي قَالَ قُلْتُ لِابْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ يَهُودِيًّا وَيَهُودِيَّةً قَالَ قُلْتُ بَعْدَ نُزُولِ النُّورِ أَوْ قَبْلَهَا قَالَ لَا أَدْرِي
۔ شیبانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رجم کیا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہودی مرد اور یہودی عورت کو رجم کیا تھا۔ میں نے کہا: سورۂ نور کے نزول سے پہلے کیا تھا یا بعد میں، انھوں نے کہا: اس کا تو مجھے علم نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6739]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6813، ومسلم: 1702، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19126 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19337»
وضاحت: فوائد: … سورۂ نور کے نزول کے بارے میں سوال سے مراد یہ آیت تھی: { اَلزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنْھُمَا مِائَۃَ جَلْدَۃٍ} … ”زانی مرد اور زانی عورت، ان میں سے ہر ایک کو سو کوڑے لگاؤ۔“ (سورۂ نور: ۲) سنن ابی داود میں بھی اس موضوع سے متعلقہ تفصیلی روایات موجود ہیں، ان تمام روایات کے سیاق و سباق سے پتہ چلتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تورات کی روشنی میں ان یہودیوں کے درمیان فیصلہ کیا تھا، نہ کہ اسلام کا حکم ہونے کی وجہ سے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6813
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
31. بَاب حَدٍ رَنَا الرَّفِيقِ خَمْسُونَ جَلَدَةٌ
زانی غلام کی پچاس کوڑے حد ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6740
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَمَةٍ لَهُ سَوْدَاءَ زَنَتْ لِأَجْلِدَهَا قَالَ فَوَجَدْتُهَا فِي دِمَائِهَا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ فَقَالَ إِذَا تَعَالَتْ مِنْ نِفَاسِهَا فَاجْلِدْهَا خَمْسِينَ وَفِي لَفْظٍ فَحُدَّهَا ثُمَّ قَالَ أَقِيمُوا الْحُدُودَ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنی ایک سیاہ فام لونڈی کی طرف بھیجا، اس نے زنا کیا تھا، جب میں نے اسے نفاس کے خون میں پایا تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف لوٹ آیا اور آپ پر حقیقت ِ حال واضح کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب وہ نفاس کے خون سے پاک صاف ہو جائے تو اس کو پچاس کوڑے لگانے ہیں، ایک روایت میں ہے: اس کو یہ حد لگانی ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حدیں قائم کیا کرو۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6740]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه الطيالسي: 146، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1142 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1142»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه الطيالسي: 146
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6741
عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ يُحَنَّسَ وَصَفِيَّةَ كَانَا مِنْ سَبْيِ الْخُمُسِ فَزَنَتْ صَفِيَّةُ بِرَجُلٍ مِنَ الْخُمُسِ فَوَلَدَتْ غُلَامًا فَادَّعَاهُ الزَّانِي وَيُحَنَّسُ فَاخْتَصَمَا إِلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَرَفَعَهُمَا إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ عَلِيٌّ: أَقْضِي فِيهِمَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ وَجَلَدَهُمَا خَمْسِينَ خَمْسِينَ
۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یحنس اور صفیہ مال غنیمت کے خُمُس کے قیدیوں میں سے تھے، صفیہ نے خُمُس کے آدمی سے زنا کیا اور بچہ بھی جنم دیا، زانی اور یحنس دونوں نے اس بچے کا دعویٰ کر دیا اور اپنا جھگڑا لے کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آ گئے، انہوں نے ان کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف بھیج دیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان کے بارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کروں گا اور وہ یہ ہے کہ بچہ اسے ملے گا جس کے بستر پر پیدا ہوا ہے اورزانی کے لیے پتھر ہوں گے، پھر انھوں نے ان دونوں کو پچاس پچاس کوڑے لگائے۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6741]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، سعد بن معبد لم يرو عنه غير ابنه، ولم يوثقه غير ابن حبان، والحجاج بن ارطاة مدلس وقد عنعن۔ أخرجه مختصرا البزار: 816، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 820 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 820»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالی ہے: { فَاِذَآ اُحْصِنَّ فَاِنْ اَتَیْنَ بِفَاحِشَۃٍ فَعَلَیْھِنَّ نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ } … ”پس جب یہ لونڈیاں نکاح میں آ جائیں، پھر اگر وہ بے حیائی کا کام کریں تو انہیں آدھی سزا ہے، اس سزا سے جو آزاد عورتوں کی ہے۔“ (سورۂ نسائ: ۲۵)
یعنی لونڈیوں کو سو (۱۰۰) کے بجائے نصف یعنی پچاس کوڑوں کی سزادی جائے گی، گویا ان کے لیے سزائے رجم نہیں ہے، کیونکہ وہ نصف نہیں ہو سکتی، اگلے باب کی احادیث سے مزید وضاحت ہو گی۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
32. باب فِي أَنَّ السَّيْدَ يُقِيمُ الْحَدَّ عَلَى رَفِيقِهِ
آقا کا اپنے غلام پر حد نافذ کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6742
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا زَنَتْ أَمَةُ أَحَدِكُمْ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ: فَتَبَيَّنَ زِنَاهَا) فَلْيَجْلِدْهَا وَلَا يُعَيِّرْهَا، فَإِنْ عَادَتْ فَلْيَجْلِدْهَا وَلَا يُعَيِّرْهَا، فَإِنْ عَادَتْ فَلْيَجْلِدْهَا وَلَا يُعَيِّرْهَا، فَإِنْ عَادَتْ فِي الرَّابِعَةِ فَلْيَبِعْهَا وَلَوْ بِحَبْلٍ مِنْ شَعْرٍ أَوْ ضَفِيرٍ مِنْ شَعْرٍ) )
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کی لونڈی زنا کرے اوراس کا زنا ظاہر ہو جائے تو وہ اپنی لونڈی کو حد لگائے اور اسے عار نہ دلائے،پھر اگر وہ اسی جرم کا ارتکاب کرے تو اس کو کوڑے لگائے، لیکن عار نہ دلائے، اگر وہ پھر زنا کرے تو اس کو حدّ لگائے اور اسے عار نہ دلائے، اگر وہ چوتھی مرتبہ زنا کی مرتکب ہو جائے تووہ اس لونڈی کو فروخت کر دے، اگرچہ بالوں کی رسی یا چند بٹے ہوئے بالوں کے عوض فروخت کرنا پڑے۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6742]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1703، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8886 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8873»
وضاحت: فوائد: … ”فَلْیَجْلِدْھَا“ کا معنییہ نہیں کہ مالک اپنی لونڈی کو تعزیری کوڑے لگائے، بلکہ ان الفاظ سے مراد حد والے پچاس کوڑے ہیں، کیونکہ مسند احمد کی حدیث نمبر(۷۳۹۵) کے الفاظ یہ ہیں: ”فَلْیَجْلِدْھَا الْحَدَّ“ یعنی وہ اس کو حد لگائے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1703
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6743
عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ قَالَ: خَطَبَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ! أَقِيمُوا عَلَى أَرِقَّائِكُمُ الْحُدُودَ، مَنْ أُحْصِنَ مِنْهُمْ وَمَنْ لَمْ يُحْصَنْ، فَإِنَّ أَمَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ زَنَتْ فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُقِيمَ عَلَيْهَا الْحَدَّ فَأَتَيْتُهَا فَإِذَا هِيَ حَدِيثُ عَهْدٍ بِنِفَاسٍ فَخَشِيتُ إِنْ أَنَا جَلَدْتُهَا أَنْ تَمُوتَ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: ( (أَحْسَنْتَ) )
۔ ابو عبد الرحمن سلمی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خطاب کیا اور کہا: لوگو! اپنے لونڈیوں اور غلاموں پر حدیں قائم کیا کرو، وہ شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک لونڈی نے زنا کیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اس پر حد قائم کروں، لیکن جب میں اس کے پاس آیا تو میں نے اس کو اس حالت میں پایا کہ ابھی ابھی اس کا نفاس کا خون شروع ہوا تھا، پس میں ڈر گیا کہ اگر اس کو کوڑے لگائے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ مر جائے، پس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ تفصیل بتائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے اچھا کیا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6743]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1705، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1341 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1341»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ زنا کی حد کے معاملے میں غلام اور لونڈی کے شادی شدہ ہونے اور نہ ہونے میں کوئی فرق نہیں ہے، بلکہ دونوں صورتوں میںپچاس پچاس کوڑے لگائے جائیں گے۔
بیماری وغیرہ کی صورت میں کوڑوں کی سزا کو مؤخر کیا جا سکتا ہے، تاکہ مجرم کا کوئی اور نقصان نہ ہو جائے، حدیث نمبر (۶۷۲۱) کی شرح میںیہی مسئلہ بیان کیا گیا تھا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1705
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6744
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ وَشَبْلٍ قَالُوا: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْأَمَةِ تَزْنِي قَبْلَ أَنْ تُحْصَنَ؟ قَالَ: ( (اجْلِدُوهَا، فَإِنْ عَادَتْ فَاجْلِدُوهَا، فَإِنْ عَادَتْ فَاجْلِدُوهَا، فَإِنْ عَادَتْ فَبِيعُوهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ) )
۔ سیدنا ابوہریرہ، سیدنا زید بن خالد اور سیدنا شبل رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس لونڈی کے متعلق دریافت کیا گیا جو شادی سے پہلے زنا کرتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے حد لگاؤ،اگر وہ دوبارہ برائی کرے تو پھر حد لگاؤ، اگر تیسری باری جرم کرے تو پھر حد لگاؤ اور اگر وہ اس کے بعد پھر زنا کرے تو اس کو بیچ دو، اگرچہ ایک رسی کے عوض ہو۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6744]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2233، 2555، ومسلم: 1704، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:)17043 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17169»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2233
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6745
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا زَنَتِ الْأَمَةُ فَاجْلِدُوهَا، وَإِذَا زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، وَإِذَا زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا ثُمَّ بِيعُوهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ) ) وَالضَّفِيرُ الْحَبْلُ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب لونڈی زنا کرے تو اسے کوڑے مارو،اگر وہ دوسری بار زنا کرے تو پھر اس کو کوڑے لگاؤ اور اگر وہ پھر اس جرم میں مبتلا ہو جائے تو اسے کوڑے لگاؤ اور فروخت کردو، اگرچہ ایک رسی کے عوض فروخت کرنا پڑے۔ ضَفِیْر کا معنی رسی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6745]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 2566، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24361 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24865»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 2566
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6746
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ شِبْلَ بْنَ حَامِدٍ الْمُزَنِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَالِكٍ الْأَوْسِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْوَلِيدَةِ: ( (إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَبِيعُوهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ (وَالضَّفِيرُ الْحَبْلُ) فِي الثَّالِثَةِ أَوْ فِي الرَّابِعَةِ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن مالک اوسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لونڈی کے بارے میں فرمایا: اگروہ زنا کرے تو اسے کوڑے لگاؤ، اگر وہ پھر زنا کرے تو پھر اسے کوڑے لگاؤ، اگر وہ تیسری بار زنا کرے تو پھر اسے حدّ لگاؤ، اگر وہ اس کے بعد بھی زنا کرے تو اسے فروخت کر دو، اگرچہ ایک رسی کے عوض بیچنا پڑے۔ بیچنے کی بات تیسری یا چوتھی مرتبہ کی تھی۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6746]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19017 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19226»
وضاحت: فوائد: … تین چار بار حد لگنے کے باوجود برائی سے باز نہ رہنے کا مطلب یہ ہوا کہ لونڈی میں شرّ غالب آ چکا ہے اور وہ خیر و بھلائی سے دور ہو گئی ہے، لہذا اس کو فروخت کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں