الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. باب تأخير الحَدَ عَنِ الْحُبْلَى حَتَّى تَضَعَ حَمْلَهَا
وضع حمل تک حاملہ عورت سے حد کو مؤخر کر دینے کا بیان
حدیث نمبر: 6718
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ جُهَيْنَةَ اعْتَرَفَتْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِزِنًا وَقَالَتْ أَنَا حُبْلَى فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلِيَّهَا فَقَالَ أَحْسِنْ إِلَيْهَا فَإِذَا وَضَعَتْ فَأَخْبِرْنِي فَفَعَلَ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا ثُمَّ أَمَرَ بِرَجْمِهَا فَرُجِمَتْ ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَجَمْتَهَا ثُمَّ تُصَلِّي عَلَيْهَا قَالَ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ وَهَلْ وَجَدْتَ شَيْئًا أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جہینہ قبیلہ کی ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس زنا کا اعتراف کیا اور اس نے کہا: میں حاملہ ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سرپرست کو بلایا اورفرمایا: اس سے حسن سلوک کرنا اور جب یہ بچہ جنم دے تو مجھے بتانا۔ اس نے ایسا ہی کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت کے بارے میں حکم دیا، پس اس پر اس کے کپڑے کس دیئے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے رجم کر نے کا حکم دیا اور اس کو رجم کر دیا گیا، پھر آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول!اسے آپ نے رجم کیا ہے اور پھر اب اس کی نمازِ جنازہ بھی پڑھ رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اہل مدینہ کے ستر آدمیوں کے درمیان اس کو تقسیم کیا جائے تو یہ ان کو بھی بخشوا دے گی، بھلا کیا تم نے اس سے بھی کوئی چیز افضل پائی ہے کہ اس عورت نے اللہ تعالیٰ کے لئے اپنی جان قربان کر دی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6718]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1696، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19861 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20101»
وضاحت: فوائد: … اگر ان دو احادیث کو ایک عورت کے بارے میں سمجھا جائے تو پھر یہ مسئلہ سمجھنا آسان ہے کہ عورت کو بچے کو دودھ پلانے کا موقع دیا جائے گا اور اگر یہ دو الگ الگ واقعات ہیں تو پہلی حدیث کی روشنی میں دوسری حدیث کی تاویل کریں گے، یعنی اس میں دودھ پلانے کا ذکر نہیں ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو بھییہ موقع دیا ہو گا، تاکہ کسی کے جرم کی وجہ سے بچے کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی نہ ہو، اور یہ بھی ممکن ہے کہ دوسری حدیث کے مطابق خاتون کو بچے کی ولادت کے بعد اس لیے فوراً رجم کر دیا گیا ہو کہ اس کو دودھ پلانے والی کوئیاور خاتون موجود ہے۔
مؤخر الذکر تاویل کی دلیلیہ ہے کہ اس باب کی پہلی حدیث کے ایک طریق کے الفاظ یہ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اِذَنْ لَا نَرْجُمُھَا وَنَدَعُ وَلَدَھَا صَغِیْرَ السِّنِّ لَیْسَ لَہٗمَنْیُّرْضِعُہُ۔)) … ”تو پھر ہم ابھی اس کو رجم نہیں کریں گے، تاکہ ایسا نہ ہو کہ ہم بچے کو کم عمری میں اس طرح چھوڑ دیں کہ اس کو دودھ پلانے والا ہی کوئی نہ ہو۔“ (صحیح مسلم: ۱۶۹۵)
مؤخر الذکر تاویل کی دلیلیہ ہے کہ اس باب کی پہلی حدیث کے ایک طریق کے الفاظ یہ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اِذَنْ لَا نَرْجُمُھَا وَنَدَعُ وَلَدَھَا صَغِیْرَ السِّنِّ لَیْسَ لَہٗمَنْیُّرْضِعُہُ۔)) … ”تو پھر ہم ابھی اس کو رجم نہیں کریں گے، تاکہ ایسا نہ ہو کہ ہم بچے کو کم عمری میں اس طرح چھوڑ دیں کہ اس کو دودھ پلانے والا ہی کوئی نہ ہو۔“ (صحیح مسلم: ۱۶۹۵)
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1696
حدیث نمبر: 6719
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُمْ أَنَّهُ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ وَاقِفًا إِذْ جَاءُوا بِامْرَأَةٍ حُبْلَى فَقَالَتْ إِنَّهَا زَنَتْ أَوْ بَغَتْ فَارْجُمْهَا فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اسْتَتِرِي بِسِتْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَرَجَعَتْ ثُمَّ جَاءَتِ الثَّانِيَةَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ فَقَالَتْ ارْجُمْهَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَقَالَ اسْتَتِرِي بِسِتْرِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَرَجَعَتْ ثُمَّ جَاءَتِ الثَّالِثَةَ وَهُوَ وَاقِفٌ حَتَّى أَخَذَتْ بِلِجَامِ بَغْلَتِهِ فَقَالَتْ أَنْشُدُكَ اللَّهَ إِلَّا رَجَمْتَهَا فَقَالَ اذْهَبِي حَتَّى تَلِدِي فَانْطَلَقَتْ فَوَلَدَتْ غُلَامًا ثُمَّ جَاءَتْ فَكَلَّمَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ اذْهَبِي فَتَطَهَّرِي مِنَ الدَّمِ فَانْطَلَقَتْ ثُمَّ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّهَا قَدْ تَطَهَّرَتْ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نِسْوَةً فَأَمَرَهُنَّ أَنْ يَسْتَبْرِئْنَ الْمَرْأَةَ فَجِئْنَ وَشَهِدْنَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِطُهْرِهَا فَأَمَرَ لَهَا بِحُفَيْرَةٍ إِلَى ثَنْدُوَتِهَا ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمُونَ فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَصَاةً مِثْلَ الْحِمَّصَةِ فَرَمَاهَا ثُمَّ مَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ لِلْمُسْلِمِينَ ارْمُوهَا وَإِيَّاكُمْ وَوَجْهَهَا فَلَمَّا طَفِئَتْ أَمَرَ بِإِخْرَاجِهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَ لَوْ قُسِمَ أَجْرُهَا بَيْنَ أَهْلِ الْحِجَازِ وَسِعَهُمْ
۔ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پا س موجود تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خچر پر سوار تھے، وہ خچر کھڑا تھا، لوگ ایک حاملہ عورت لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پاس آئے، اس عورت نے کہا: میں نے زنا کیا ہے، مجھے رجم کیجئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: اللہ تعالی کی پردہ پوشی کے ساتھ اپنے آپ پر پردہ کر۔ سو وہ واپس چلی گئی، لیکن پھر آ گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خچر پر ہی سوار تھے،اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! مجھے رجم کیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی کی پردہ پوشی کے ساتھ اپنے آپ پر پردہ کر۔ سو وہ لوٹ گئی، لیکن پھر تیسری مرتبہ آ گئی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے تھے،اس بار اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خچر کی لگام تھام لی اور کہنے لگی: میں آپ کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر کہتی ہوں کہ مجھے رجم کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اور بچہ جنم دینے کے بعد آنا۔ پس وہ بچہ جنم دےکر دوبارہ آئی، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بات چیت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چلی جا اورخون سے پاک ہو کر آنا۔ پس وہ چلی گئی اور بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: میں پاک ہو چکی ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں کو اس کی جانب بھیجا کہ وہ اس کے خون کے صاف ہونے کا جائزہ لیں۔ انہوں نے آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گواہی دی کہ وہ واقعی پاک ہو چکی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سینہ تک گڑھا کھودنے کا حکم دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور دوسرے مسلمان بھی آ گئے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چنا کے برابر کنکری لی اور اس عورت کو ماری، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک طرف ہٹ گئے اور مسلمانوں سے کہا: اس پر سنگباری کر دو اور اس کا چہرہ بچاؤ۔ پس جب وہ فوت ہوگئی تو آپ نے اسے گڑھے سے باہر نکالنے کا حکم دیا اور پھر اس کی نماز جنازہ پڑھی اور فرمایا: اگر اس کے اجر کو اہل حجاز پر تقسیم کر دیا جائے تو ان کے لیے بھی یہ کافی ہو جائے گا۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6719]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام الراوي عن عبد الرحمن بن ابي بكرة، لكن اصل القصة صحيح۔ أخرجه ابوداود: 4444، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20436 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20708»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لابھام الراوي عن عبد الرحمن بن ابي بكرة
حدیث نمبر: 6720
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَمَةً لَهُمْ زَنَتْ فَحَمَلَتْ فَأَتَى عَلِيٌّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَ فَقَالَ لَهُ دَعْهَا حَتَّى تَلِدَ وَتَضَعَ ثُمَّ اجْلِدْهَا
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ان کی ایک لونڈی نے زنا کیا اور اس کی وجہ سے وہ حاملہ ہوگئی، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی خبر دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے وضع حمل تک چھوڑ دو، پھر اسے حد لگانا۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6720]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 4473، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 679 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 679»
الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 4473
حدیث نمبر: 6721
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ خَادِمًا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحْدَثَتْ فَأَمَرَنِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُقِيمَ عَلَيْهَا الْحَدَّ فَأَتَيْتُهَا فَوَجَدْتُهَا لَمْ تَجِفَّ مِنْ دَمِهَا فَأَتَيْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ إِذَا جَفَّتْ مِنْ دَمِهَا فَأَقِمْ عَلَيْهَا الْحَدَّ أَقِيمُوا الْحُدُودَ عَلَى مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اس طرح بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک لونڈی نے زنا کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اس پر حد قائم کروں، لیکن جب میں اس کے پاس آیا تو اس کو اس حال میں پایا کہ ابھی اس کا نفاس کا خون خشک نہیں ہوا تھا، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس واپس آ گیااورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صورتحال پر مطلع کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اس کا خون خشک ہو جائے تو پھر اس کو حد لگانا،اپنے غلاموں پر بھی حدیں قائم کیا کرو۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6721]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 736»
وضاحت: فوائد: … اگر کوڑے لگانے کی سزا ہو تو مریض کے صحت یاب ہونے کا انتظار کیا جائے، ”البحر“ میں اس بات پر اجماع نقل کیا گیا ہے کہ سخت گرمی، سخت سردی اور کسی متوقع بیماری کی وجہ سے کنوارے زانی مجرم کو مہلت دی جائے گی،یہاں تک کہ موسم کی شدت ختم ہو جائے اور بیماری کا خطرہ ٹل جائے۔
اگر حالات کے لحاظ سے کنوارے زانی کو مہلت دی جاسکتی ہے تو شادی شدہ کے لیے بھی اس مہلت کا جواز ہونا چاہیے۔ فرق کی کوئی شرعی دلیل نہیں۔ (عبداللہ رفیق)
اگر حالات کے لحاظ سے کنوارے زانی کو مہلت دی جاسکتی ہے تو شادی شدہ کے لیے بھی اس مہلت کا جواز ہونا چاہیے۔ فرق کی کوئی شرعی دلیل نہیں۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 736
26. بَاب مَا جَاءَ فِي إِقَامَةِ الْحَدَ عَلَى الْمَرِيضِ
مریض پر حد قائم کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6722
عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ بَيْنَ أَبْيَاتِنَا إِنْسَانٌ مُخْدَجٌ ضَعِيفٌ لَمْ يُرْعَ أَهْلُ الدَّارِ إِلَّا وَهُوَ عَلَى أَمَةٍ مِنْ إِمَاءِ الدَّارِ يَخْبُثُ بِهَا وَكَانَ مُسْلِمًا فَرَفَعَ شَأْنَهُ سَعْدٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اضْرِبُوهُ حَدَّهُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ أَضْعَفُ مِنْ ذَلِكَ إِنْ ضَرَبْنَاهُ مِائَةً قَتَلْنَاهُ قَالَ فَخُذُوا لَهُ عِثْكَالًا فِيهِ مِائَةُ شِمْرَاخٍ فَاضْرِبُوهُ بِهِ ضَرْبَةً وَاحِدَةً وَخَلُّوا سَبِيلَهُ
۔ سیدنا سعید بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہمارے محلے میں ایک ناقص الخلقت انسان رہتا تھا، گھر والوں کو یہ دیکھ کر بڑی حیرانی ہوئی کہ وہ محلہ کی ایک لونڈی کے ساتھ زنا کررہا ہے، جبکہ وہ مسلمان تھا۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اس کا معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے حد لگاؤ۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ اس قابل نہیں کہ حد برداشت کر سکے، اگر ہم نے اسے سو کوڑے لگائے تو وہ مر جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر ایک ٹہنی لے لو، جس میں سو شاخیں ہوں اور اسے ایک دفعہ مار دو اور پھر اس کو چھوڑ دو۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6722]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 2574، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21935 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22281»
وضاحت: فوائد: … اس سے ثابت ہوا کہ اگر مریض اصل حد برداشت نہ کر سکے تو اسے اس طرح سزا دے کر فارغ کیا جاسکتا ہے۔ لیکنیہ استثنائی صورت اس سزا کے بارے میں ہے، جو موت سے کم ہو، جیسا کہ کنوارے زانی کو کوڑے مارنا ہے، اگر سزا ہی موت ہو تو پھر مکمل طور پر حدّ لگائی جائے گی۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 2574
27. بابُ مَا جَاءَ فِي الْحَفْرِ لِلْمَرْجُوْمِ
سنگسار ہونے والے کے لئے گڑھا کھودنے کا بیان
حدیث نمبر: 6723
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَرْجُمَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ خَرَجْنَا إِلَى الْبَقِيعِ فَوَاللَّهِ مَا حَفَرْنَا لَهُ وَلَا أَوْثَقْنَاهُ وَلَكِنَّهُ قَامَ لَنَا فَرَمَيْنَاهُ بِالْعِظَامِ وَالْخَزَفِ فَاشْتَكَى فَخَرَجَ يَشْتَدُّ حَتَّى انْتَصَبَ لَنَا فِي عُرْضِ الْحَرَّةِ فَرَمَيْنَاهُ بِجَلَامِيدِ الْجَنْدَلِ حَتَّى سَكَتَ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم ماعز بن مالک کو رجم کریں، پس ہم بقیع کی طرف نکلے، اللہ کی قسم! نہ ہم نے اس کے لئے گڑھا کھودا اور نہ اس کو باندھا، وہ خود کھڑا ہو گیا، ہم نے اس پر ہڈیاں اور سنگریزے پھینکنے شروع کر دئیے، جب اس کو تکلیف پہنچی تو وہ تیزی سے بھاگ نکلا، یہاں تک حرہ کی ایک جانب کھڑا ہوگیا، پھر ہم نے اس کو بڑے بڑے پتھر مارے، یہاں تک کہ وہ فوت ہو گیا۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6723]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1694، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11589 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11610»
وضاحت: فوائد: … حدیث نمبر (۶۷۰۲) میںیہ بات گزری ہے کہ ماعز بن مالک کے لیے گڑھا کھودا گیا تھا، جبکہ اس حدیث میں نفی کی گئی ہے، جمع تطبیق کی درج ذیل چار صورتیں ہیں:
(۱)۔ مثبت کو منفی پر مقدم کیا جائے گا۔
(۲)۔ اس گڑھے کی نفی کی گئی ہے، جس سے نکل کر بھاگ جانا ممکن نہ تھا اور اس گڑھے کو ثابت کیا گیا ہے، جس سے فرار اختیار کر جانا ممکن تھا۔
(۳)۔ شروع میں گڑھا نہیں کھودا تھا، لیکن جب وہ بھاگا تو انھوں نے اس کو پکڑا اور اس کے لیے گڑھا کھودا۔
(۴)۔ شروع میں ہی گڑھا کھودا گیا تھا، لیکن جب اس کو پتھر لگا تو وہ نکل کر بھاگ گیا، پھر صحابہ نے اس کا پیچھا کیا اور اس کو مار دیا۔
امام نووی نے کہا: یہ حدیث علمائے کرام کے ایک اتفاقی مسئلہ کی دلیل ہے کہ رجم کے لیے پتھر، ڈھیلے، ہڈیاں،
سنگریزے اور لکڑی وغیرہ استعمال کیے جائیں گے، یعنی جس سے بھی بندے کو قتل کیا جا سکتے، صرف پتھر شرط نہیں ہیں۔
(۱)۔ مثبت کو منفی پر مقدم کیا جائے گا۔
(۲)۔ اس گڑھے کی نفی کی گئی ہے، جس سے نکل کر بھاگ جانا ممکن نہ تھا اور اس گڑھے کو ثابت کیا گیا ہے، جس سے فرار اختیار کر جانا ممکن تھا۔
(۳)۔ شروع میں گڑھا نہیں کھودا تھا، لیکن جب وہ بھاگا تو انھوں نے اس کو پکڑا اور اس کے لیے گڑھا کھودا۔
(۴)۔ شروع میں ہی گڑھا کھودا گیا تھا، لیکن جب اس کو پتھر لگا تو وہ نکل کر بھاگ گیا، پھر صحابہ نے اس کا پیچھا کیا اور اس کو مار دیا۔
امام نووی نے کہا: یہ حدیث علمائے کرام کے ایک اتفاقی مسئلہ کی دلیل ہے کہ رجم کے لیے پتھر، ڈھیلے، ہڈیاں،
سنگریزے اور لکڑی وغیرہ استعمال کیے جائیں گے، یعنی جس سے بھی بندے کو قتل کیا جا سکتے، صرف پتھر شرط نہیں ہیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1694
حدیث نمبر: 6724
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجَمَ امْرَأَةً فَحُفِرَ لَهَا إِلَى الثَّنْدُوَةِ
۔ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک عورت کو رجم کیا اور سینہ تک اس کے لئے گڑھا کھودا۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6724]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 4443، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20378 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20649»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 4443
حدیث نمبر: 6725
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجَمَ امْرَأَةً فَأَمَرَنِي أَنْ أَحْفِرَ لَهَا فَحَفَرْتُ لَهَا إِلَى سُرَّتِهَا
۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک عورت کو رجم کیا اور مجھے حکم دیا کہ میں اس کے لئے گڑھا کھودوں، پس میں نے اپنی ناف تک گہرا گڑھا کھودا۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6725]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف جابر بن يزيد الجعفي، وثابت بن سعد لم نتبينه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21545 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21878»
وضاحت: فوائد: … صحیح مسلم (۱۶۹۵) کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاتون کے لیے اس کے سینے تک گڑھا کھدوایا تھا۔
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ رجم کرنے کے لیے گڑھا کھودا جائے گا۔
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ رجم کرنے کے لیے گڑھا کھودا جائے گا۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف جابر بن يزيد الجعفي
28. بَاب مَا جَاءَ فِي مَنْ وَطِئَ جَارِيَةَ امْرَأَتِهِ
بیوی کی لونڈی کو استعمال کر لینے والے شخص کا بیان
حدیث نمبر: 6726
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ وَهُوَ الْعَطَّارُ ثَنَا قَتَادَةُ حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ عُرْفُطَةَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُنَيْنٍ وَكَانَ يُنْبَزُ قُرْقُورًا وَقَعَ عَلَى جَارِيَةِ امْرَأَتِهِ قَالَ فَرُفِعَ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ لَأَقْضِيَنَّ فِيكَ بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَتْ أَحَلَّتْهَا لَكَ جَلَدْتُكَ مِائَةً وَإِنْ لَمْ تَكُنْ أَحَلَّتْهَا لَكَ رَجَمْتُكَ بِالْحِجَارَةِ قَالَ وَكَانَتْ قَدْ أَحَلَّتْهَا لَهُ فَجَلَدَهُ مِائَةً وَقَالَ سَمِعْتُ أَبَانًا يَقُولُ وَأَخْبَرَنَا قَتَادَةُ أَنَّهُ كَتَبَ فِيهِ إِلَى حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ وَكَتَبَ إِلَيْهِ بِهَذَا
۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبد الرحمن بن حنین نامی ایک آدمی تھا، اس کو قرقور کے لقب سے پکارا جاتا تھا، اس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے زنا کر لیا، جب اس کا معاملہ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کی عدالت میں لایا گیا تو انہوں نے کہا: میں تمہارے درمیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم والا فیصلہ کروں گا، اگر تیری بیوی نے تیرے لئے اس لونڈی کو حلال قرار دیا تھا تو پھر میں تجھے سو کوڑے ماروں گا اور اگر اس نے تیرے لئے حلال نہیں کیا تھا تو تجھے پتھروں سے رجم کروں گا۔ جب تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ اس کی بیوی نے اپنی لونڈی کو اس کے لئے حلال قرار دیا تھا، اس لیے انھوں نے اس کو سو کوڑے لگائے۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6726]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، خالد بن عرفطة مجھول، ثم ان فيه اضطرابا۔ أخرجه ابوداود: 4458، والنسائي: 6/ 124، والترمذي: 1451، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18425 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18615»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 6727
حَدَّثَنَا هُثَيْمٌ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ إِنَّ زَوْجَهَا وَقَعَ عَلَى جَارِيَتِهَا قَالَ أَمَّا إِنَّ عِنْدِي فِي ذَلِكَ خَبَرًا شَافِيًا أَخَذْتُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنْ كُنْتِ أَذِنْتِ لَهُ ضَرَبْتُهُ مِائَةً وَإِنْ كُنْتِ لَمْ تَأْذَنِي لَهُ رَجَمْتُهُ قَالَ فَأَقْبَلَ النَّاسُ عَلَيْهَا فَقَالُوا زَوْجُكِ يُرْجَمُ قُولِي إِنَّكِ قَدْ كُنْتِ أَذِنْتِ لَهُ فَقَالَتْ قَدْ كُنْتُ أَذِنْتُ لَهُ فَقَدَّمَهُ فَضَرَبَهُ مِائَةً
۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے پاس ایک عورت آئی اور کہا:میرے خاوند نے میری لونڈی سے زنا کیا ہے، انہوں نے کہا: اس بارے میں میرے پاس تسلی بخش حدیث ہے،میں نے اس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حاصل کیا ہے، اگر تو نے اسے اجازت دی تھی تو میں اسے سو کوڑے لگاؤں گا اور اگر تو نے اسے اجازت نہیں دی تھی تو میں اسے رجم کردوں گا، یہ سن کر لوگ اس عورت کی طرف آئے اور کہا: تیرا خاوند رجم کیا جانے لگا ہے،اس لیے تو نے یہ کہہ دینا ہے کہ میں نے اس کو اجازت دی تھی، پس اس نے کہا: میں نے اپنے خاوند کو اجازت دی تھی، پھر انھوں نے اس کو آگے کیا اور سو کوڑے لگائے۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6727]
تخریج الحدیث: «حديث ضعيف، ابو بشر لم يسمع من حبيب، انما رواه عن خالد بن عرفطة، وھو مجھول، ثم ان في اسناد ھذا الحديث اضطرابا، وانظر الحديث السابق، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18446 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18637»
الحكم على الحديث:
حديث ضعيف