الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. بَابُ اسْتِفْسَارِ الْمُقِرِ بِالرِّنَا وَاعْتِبَارِ تَصْرِيحِهِ بِمَا لَاتَرَدُّدَ فِيهِ
زنا کا اقرار کرنے والے سے مزید استفسار کرنا اور ایسی وضاحت طلب کرنا کہ جس میں کوئی تردد نہ ہو
حدیث نمبر: 6708
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِمَاعِزٍ حِينَ قَالَ زَنَيْتُ لَعَلَّكَ غَمَزْتَ أَوْ قَبَّلْتَ أَوْ نَظَرْتَ إِلَيْهَا قَالَ كَأَنَّهُ يَخَافُ أَنْ لَا يَدْرِي مَا الزِّنَا
۔ (دوسری سند) جب ماعز نے کہا کہ اس نے زنا کیا ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شاید تونے آنکھ سے اشارہ کیا ہو (یا مطلب یہ ہے کہ تونے ہاتھ کے ساتھ چھیر چھار کی ہو) یا بوسہ لیا ہو یا دیکھا ہو؟ راوی کہتا ہے: ایسے لگتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ڈر تھا کہ ممکن ہے کہ یہ شخص زنا کی تعریف سے ناآشنا ہو۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6708]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3000»
وضاحت: فوائد: … راوی نے ان سوالات کی وجہ بیان کر دی ہے، حدیث نمبر (۶۶۵۹) اور اس کے بعد والی احادیث میں زنا کی مختلف قسموں کا ذکر گزر چکا ہے، مثلا آنکھ، ہاتھ، پاؤں اور زبان کا زنا، اس لیے ممکن ہے کہ کوئی آدمی ان کو وہ زنا سمجھ لے، جس کی وجہ سے حدّ لگتی ہے، سو جرم کا اقرار کرنے والے کی کیفیت کو دیکھ کر مختلف انداز میں شک و شبہ کو دور کیا جا سکتا ہے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3000
22. بَاب مَنْ أَقَرَّ بِحَدٌ وَلَمْ يُسَمِّهِ لَمْ يُحَدَّ
اس چیز کا بیان کہ اس شخص کو حد نہیں لگائی جائے گی، جو کسی حد کا اقرار تو کرے اور اس کا نام نہ لے
حدیث نمبر: 6709
عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا مِنْ حُدُودِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَأَقِمْ فِيَّ حَدَّ اللَّهِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ قَالَهَا الثَّالِثَةَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ أَتَاهُ الرَّابِعَةَ فَقَالَ إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا مِنْ حُدُودِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَأَقِمْ فِيَّ حَدَّ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فَدَعَاهُ فَقَالَ أَلَمْ تُحْسِنِ الطُّهُورَ أَوِ الْوُضُوءَ ثُمَّ شَهِدْتَ الصَّلَاةَ مَعَنَا آنِفًا قَالَ بَلَى قَالَ فَاذْهَبْ فَهِيَ كَفَّارَتُكَ
۔ سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھا، آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: میں اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے ایک حد کو پہنچا ہوں، لہٰذا آپ اللہ تعالیٰ کی حد کو مجھ پر قائم کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اپنا رخ پھیرلیا، پھر اس نے دوسری بار آ کر اقرار کیا، لیکن اس بار بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا چہرہ پھیر لیا، پھر اس نے تیسری بار آ کر اعتراف کیا، لیکن اس بار بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اپنا رخ موڑ لیا، اتنے میں نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی، جب اس نے نماز ادا کرلی تو وہ چوتھی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میں اللہ تعالی کی حدود میں سے ایک حد کو پہنچا ہوں، آپ اللہ کی اس حد کو مجھ پر نافذ کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا: کیا تو نے ابھی ابھی اچھی طرح وضو کر کے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی؟ اس نے کہا: جی کیوں نہیں،یہ عمل کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تو چلا جا، یہ عمل تیرا کفارہ ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6709]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ليث بن ابي سليم۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 22/ 191، والنسائي في ’’الكبري‘‘: 7312، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16014 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16110»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف ليث بن ابي سليم۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 22/ 191
حدیث نمبر: 6710
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجْتَ مِنْ مَنْزِلِكَ تَوَضَّأْتَ فَأَحْسَنْتَ الْوُضُوءَ وَصَلَّيْتَ مَعَنَا قَالَ الرَّجُلُ بَلَى قَالَ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ غَفَرَ لَكَ حَدَّكَ أَوْ ذَنْبَكَ
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، پھر سابقہ حدیث سے ملتی جلتی حدیث بیان کی، البتہ اس میں ہے: کیا اس طرح ہوا کہ تو اپنے گھر سے نکلا، وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا اور ہمارے ساتھ نماز پڑھی؟ اس آدمی نے کہا: جی کیوں نہیں، ایسے ہی کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی نے تیرا گناہ یا تیری حد کو معاف کر دیا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6710]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2765، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22163 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22516»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ کا صحیح مسلم میں پورا متن درج ذیل ہے:
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بَیْنَمَا رَسُولُ اللّٰہِV فِی الْمَسْجِدِ وَنَحْنُ قُعُودٌ مَعَہُ إِذْ جَاء َ رَجُلٌ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْہُ عَلَیَّ فَسَکَتَ عَنْہُ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَعَادَ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْہُ عَلَیَّ فَسَکَتَ عَنْہُ وَأُقِیمَتِ الصَّلَاۃُ فَلَمَّا انْصَرَفَ نَبِیُّ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو أُمَامَۃَ: فَاتَّبَعَ الرَّجُلُ رَسُولَ اللّٰہِV حِینَ انْصَرَفَ وَاتَّبَعْتُ رَسُولَ اللَّہِV أَنْظُرُ مَا یَرُدُّ عَلَی الرَّجُلِ، فَلَحِقَ الرَّجُلُ رَسُولَ اللّٰہِV فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْہُ عَلَیَّ، قَالَ أَبُو أُمَامَۃَ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((أَرَأَیْتَ حِینَ خَرَجْتَ مِنْ بَیْتِکَ أَلَیْسَ قَدْ تَوَضَّأْتَ فَأَحْسَنْتَ الْوُضُوئَ؟)) قَالَ: بَلٰییَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَالَ: ((ثُمَّ شَہِدْتَ الصَّلَاۃَ مَعَنَا؟)) فَقَالَ: نَعَمْ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَالَ: فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((فَإِنَّ اللّٰہَ قَدْ غَفَرَ لَکَ حَدَّکَ أَوْ قَالَ ذَنْبَکَ۔)) … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے، ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے حدّ والے جرم کا ارتکاب کیا ہے، لہذا آپ مجھ پر وہ حد قائم کریں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، اس نے پھر وہی بات دوہرائی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں حدّ کو پہنچا ہوں، لہذا آپ اس کو مجھ پر قائم کریں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر خاموش رہے، اتنے میں نماز کھڑی کر دی گئی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو کر چلے تو وہ آدمی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل پڑا، میں (ابو امامہ) بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل دیا، تاکہ دیکھ سکوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو کیا جواب دیتے ہیں، پس وہ آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جا ملا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے حدّ والے گناہ کا ارتکاب کیا ہے، لہذا آپ اس حدّ کو مجھ پر نافذ کریں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اس بارے میں بتلا کہ جب تو گھر سے نکلا ہے تو کیا تو نے اچھے انداز میں وضو نہیں کیا تھا؟“ اس نے کہا: جی کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو نے ہمارے ساتھ نماز پڑھی ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پس بیشک اللہ تعالی نے تیری حدّ یا تیرے گناہ کو معاف کر دیا ہے۔“ (صحیح مسلم: ۴۹۶۶)
جب کوئی آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنے جرم اور گناہ کا اظہار کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے استفساراً جو سوال کرتے، وہ اس کے ذکر کردہ جرم سے کم گناہ والے امور سے متعلقہ ہوتے، مثلا: پچھلے باب میں مذکورہ احادیث کے مطابق جب آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے زنا کا اعتراف کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”شاید تونے آنکھ سے اشارہ کیا ہو، یا بوسہ لیا ہو، یا دیکھا ہو۔“ غور کریں کہ ایک آدمی اپنے بارے میں زنا کا اقرار کرتا ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو کم گناہ والے امور کی طرف لاتے ہیں۔
بالکلیہی معاملہ یہاں ہے کہ اس آدمی نے حدّ کا تو ذکر کیا، لیکن حدّ کے سبب کی تفصیل بیان نہیں کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سبب کے بارے میں دریافت نہ کرنے کو ترجیح دی، تاکہ اس کے جرم پر پردہ پڑا رہے اور اس تاویل کی بھی گنجائش ہے کہ معلوم نہیں اس آدمی نے کون سا گناہ کیا ہے اور کیا اس پر حدّ بھی لگتی ہے یا نہیں، لیکن اگر تفصیل پوچھی جائے تو پردہ پوشی کے منافی ہے، سو خاموشی کو ترجیح دی گئی۔
آج کل مربی ّ لوگوں کا انداز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس انداز سے بالکل مختلف ہے، سب سے بڑی کمییہ ہے کہ ان کا اپنا نیکی و تقوی کا معیار بہت کم ہوتا ہے، ان کا ارادہ یہ ہوتا ہے کہ ان کے ماتحت افراد امورِ خیر کا مجسمہ بن کر نظر آئیں،لیکن اگر وہ خود عمل نہ بھی کریں تو خیر ہے، ایک سرپرست یہ چاہتا تھا کہ اس کے شاگردوں میںیہ جذبہ پیدا ہو جائے کہ وہ اذان کے فوراً بعد نماز کی تیاری میں لگ جائیں اور سنتوں اور نفلوں کا بھی اہتمام کریں اور فجر کی نماز کے لیے جلدی بیدار ہو جائیں، لیکن وہ خود دفتر میں بیٹھا رہتا، جب اقامت ہونے لگتی تو وضو کرنے کے لیے گھر چلا جاتا اور جماعت کی تیسری چوتھی رکعت میں آ کر ملتا، اسی طرح اس کی اپنی فجر کی کئی نمازیں نیند کی نظر ہو جاتیں، لیکن طلبہ کی سستی پر ان پر خوب برستا تھا،پھر جب اِن تربیت کرنے والے افراد کو کسی کے ہلکے سے جرم کا پتہ چلتا ہے تو یہ مجرم کے سامنے بڑے بڑے گناہوں کا ذکر کر کے اس سے کسی بڑے گناہ کا اعتراف کروانے کے چکر میں پڑ جاتے ہیں۔
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بَیْنَمَا رَسُولُ اللّٰہِV فِی الْمَسْجِدِ وَنَحْنُ قُعُودٌ مَعَہُ إِذْ جَاء َ رَجُلٌ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْہُ عَلَیَّ فَسَکَتَ عَنْہُ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَعَادَ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْہُ عَلَیَّ فَسَکَتَ عَنْہُ وَأُقِیمَتِ الصَّلَاۃُ فَلَمَّا انْصَرَفَ نَبِیُّ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو أُمَامَۃَ: فَاتَّبَعَ الرَّجُلُ رَسُولَ اللّٰہِV حِینَ انْصَرَفَ وَاتَّبَعْتُ رَسُولَ اللَّہِV أَنْظُرُ مَا یَرُدُّ عَلَی الرَّجُلِ، فَلَحِقَ الرَّجُلُ رَسُولَ اللّٰہِV فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْہُ عَلَیَّ، قَالَ أَبُو أُمَامَۃَ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((أَرَأَیْتَ حِینَ خَرَجْتَ مِنْ بَیْتِکَ أَلَیْسَ قَدْ تَوَضَّأْتَ فَأَحْسَنْتَ الْوُضُوئَ؟)) قَالَ: بَلٰییَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَالَ: ((ثُمَّ شَہِدْتَ الصَّلَاۃَ مَعَنَا؟)) فَقَالَ: نَعَمْ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَالَ: فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((فَإِنَّ اللّٰہَ قَدْ غَفَرَ لَکَ حَدَّکَ أَوْ قَالَ ذَنْبَکَ۔)) … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے، ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے حدّ والے جرم کا ارتکاب کیا ہے، لہذا آپ مجھ پر وہ حد قائم کریں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، اس نے پھر وہی بات دوہرائی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں حدّ کو پہنچا ہوں، لہذا آپ اس کو مجھ پر قائم کریں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر خاموش رہے، اتنے میں نماز کھڑی کر دی گئی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو کر چلے تو وہ آدمی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل پڑا، میں (ابو امامہ) بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل دیا، تاکہ دیکھ سکوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو کیا جواب دیتے ہیں، پس وہ آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جا ملا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے حدّ والے گناہ کا ارتکاب کیا ہے، لہذا آپ اس حدّ کو مجھ پر نافذ کریں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اس بارے میں بتلا کہ جب تو گھر سے نکلا ہے تو کیا تو نے اچھے انداز میں وضو نہیں کیا تھا؟“ اس نے کہا: جی کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو نے ہمارے ساتھ نماز پڑھی ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پس بیشک اللہ تعالی نے تیری حدّ یا تیرے گناہ کو معاف کر دیا ہے۔“ (صحیح مسلم: ۴۹۶۶)
جب کوئی آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنے جرم اور گناہ کا اظہار کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے استفساراً جو سوال کرتے، وہ اس کے ذکر کردہ جرم سے کم گناہ والے امور سے متعلقہ ہوتے، مثلا: پچھلے باب میں مذکورہ احادیث کے مطابق جب آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے زنا کا اعتراف کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”شاید تونے آنکھ سے اشارہ کیا ہو، یا بوسہ لیا ہو، یا دیکھا ہو۔“ غور کریں کہ ایک آدمی اپنے بارے میں زنا کا اقرار کرتا ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو کم گناہ والے امور کی طرف لاتے ہیں۔
بالکلیہی معاملہ یہاں ہے کہ اس آدمی نے حدّ کا تو ذکر کیا، لیکن حدّ کے سبب کی تفصیل بیان نہیں کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سبب کے بارے میں دریافت نہ کرنے کو ترجیح دی، تاکہ اس کے جرم پر پردہ پڑا رہے اور اس تاویل کی بھی گنجائش ہے کہ معلوم نہیں اس آدمی نے کون سا گناہ کیا ہے اور کیا اس پر حدّ بھی لگتی ہے یا نہیں، لیکن اگر تفصیل پوچھی جائے تو پردہ پوشی کے منافی ہے، سو خاموشی کو ترجیح دی گئی۔
آج کل مربی ّ لوگوں کا انداز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس انداز سے بالکل مختلف ہے، سب سے بڑی کمییہ ہے کہ ان کا اپنا نیکی و تقوی کا معیار بہت کم ہوتا ہے، ان کا ارادہ یہ ہوتا ہے کہ ان کے ماتحت افراد امورِ خیر کا مجسمہ بن کر نظر آئیں،لیکن اگر وہ خود عمل نہ بھی کریں تو خیر ہے، ایک سرپرست یہ چاہتا تھا کہ اس کے شاگردوں میںیہ جذبہ پیدا ہو جائے کہ وہ اذان کے فوراً بعد نماز کی تیاری میں لگ جائیں اور سنتوں اور نفلوں کا بھی اہتمام کریں اور فجر کی نماز کے لیے جلدی بیدار ہو جائیں، لیکن وہ خود دفتر میں بیٹھا رہتا، جب اقامت ہونے لگتی تو وضو کرنے کے لیے گھر چلا جاتا اور جماعت کی تیسری چوتھی رکعت میں آ کر ملتا، اسی طرح اس کی اپنی فجر کی کئی نمازیں نیند کی نظر ہو جاتیں، لیکن طلبہ کی سستی پر ان پر خوب برستا تھا،پھر جب اِن تربیت کرنے والے افراد کو کسی کے ہلکے سے جرم کا پتہ چلتا ہے تو یہ مجرم کے سامنے بڑے بڑے گناہوں کا ذکر کر کے اس سے کسی بڑے گناہ کا اعتراف کروانے کے چکر میں پڑ جاتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2765
23. باب فِيمَا يُذْكَرُ فِي الرُّجُوعِ عَنِ الْإِقْرَارِ وَمَنْ أَقَرَّ أَنَّهُ زَنٰي بِإِمْرَأَةٍ فَجَحَدَتْ
زنا کا اقرار کر لینے کے بعد دوبارہ اس کا انکاری ہو جانے کا بیان، اسی طرح اس شخص کا بیان کہ وہ تو ایک عورت سے زنا کرنے کا اقرار کرے، لیکن وہ عورت انکار کر دے
حدیث نمبر: 6711
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنْتُ فِيمَنْ رَجَمَ الرَّجُلَ يَعْنِي مَاعِزًا إِنَّا لَمَّا رَجَمْنَاهُ وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ فَقَالَ أَيْ قَوْمِ رُدُّونِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ قَوْمِي قَتَلُونِي وَغَرُّونِي مِنْ نَفْسِي وَقَالُوا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ قَاتِلِكَ قَالَ فَلَمْ نَنْزَعْ عَنْهُ حَتَّى فَرَغْنَا مِنْهُ قَالَ فَلَمَّا رَجَعْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْنَا لَهُ قَوْلَهُ فَقَالَ أَلَا تَرَكْتُمُ الرَّجُلَ وَجِئْتُمُونِي بِهِ إِنَّمَا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَثَبَّتَ فِي أَمْرِهِ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں ان افراد میں تھا، جنہوں نے ماعز کو سنگسار کیا تھا، جب ہم نے اس کو سنگسار کیا اور اس نے پتھروں کی تکلیف محسوس کی تو کہا: لوگو! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لوٹاؤ، کیونکہ میری قوم نے مجھے قتل کیا ہے، انھوں نے مجھے دھوکہ دیا ہے، لوگوں نے کہا: بیشک اللہ کے رسول تو تجھے قتل کرنے والے نہیں ہیں، پس ہم اس سے باز نہ آئے، یہاں تک کہ اس کو رجم کرنے سے فارغ ہو گئے، پھر جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف لوٹے اور اس کی بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا تھا اور اسے میرے پاس کیوں نہیں لے آئے تھے؟ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے معاملے میں مزید تحقیق کر لیتے۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6711]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 4420، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15089 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15155»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 4420
حدیث نمبر: 6712
عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ بْنِ نَصْرِ بْنِ دَهْرٍ الْأَسْلَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى مَاعِزُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَالِكٍ رَجُلٌ مِنَّا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَوْدَى عَلَى نَفْسِهِ بِالزِّنَا فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِرَجْمِهِ فَخَرَجْنَا إِلَى حَرَّةِ بَنِي نِيَارٍ فَرَجَمْنَاهُ فَلَمَّا وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ جَزِعَ جَزَعًا شَدِيدًا فَلَمَّا فَرَغْنَا مِنْهُ وَرَجَعْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْنَا لَهُ جَزَعَهُ فَقَالَ هَلَّا تَرَكْتُمُوهُ
۔ نصر بن دہراسلمی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہماری قوم کا ایک آدمی ماعز بن خالد بن مالک،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور اپنے نفس پر زنا کا اقرار کیا، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اس کو سنگسار کریں، پس ہم اس کو لے کر حرّۂ بنی نیار کی طرف نکلے اور اس کو رجم کیا، جب اس نے پتھروں کی تکلیف پائی تو وہ سخت بے قرار ہوا، پھر جب ہم اس کو سنگسار کر نے سے فارغ ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس واپس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کی بے قراری کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا تھا؟ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6712]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره۔ أخرجه النسائي في ’’الكبري‘‘: 7208، والدارمي: 2/ 177،، وابن ابي شيبة: 10/ 77، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15555 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15640»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره۔ أخرجه النسائي في ’’الكبري‘‘: 7208
حدیث نمبر: 6713
عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَنِي مَنْ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ بِرَجْمِ رَجُلٍ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَلَمَّا أَصَابَتْهُ الْحِجَارَةُ فَرَّ وَفِي لَفْظٍ فَلَمَّا وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ خَرَجَ فَهَرَبَ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَهَلَّا تَرَكْتُمُوهُ
۔ عبدالعزیز بن عبد اللہ قرشی کہتے ہیں: مجھے اس شخص نے بیان کیا،جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ اور مدینہ کے درمیان تھے کہ ایک آدمی کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سنگسار کر نے کا حکم دیا، جب اسے پتھر لگے تو وہ بھاگا، ایک روایت میں ہے: جب اس نے پتھروں کی تکلیف محسوس کی تو نکل پڑا اور بھاگ گیا، جب یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا تھا؟ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6713]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، غير ان قوله: ’’بين مكة والمدينة‘‘ فيه نظر، وھذا اسناده ضعيف لجھالة حال عبد العزيز بن عبد الله، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16585 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16701»
وضاحت: فوائد: … جو آدمی از خود اعتراف کرے، اس کو انکار کرنے کا حق حاصل ہے، حدیث نمبر (۶۶۹۲، ۶۷۰۲) کی شرح میں اس مسئلہ کی وضاحت ہو چکی ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره
حدیث نمبر: 6714
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّهُ زَنَى بِامْرَأَةٍ سَمَّاهَا فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَرْأَةِ فَدَعَاهَا فَسَأَلَهَا عَمَّا قَالَ فَأَنْكَرَتْ فَحَدَّهُ وَتَرَكَهَا
۔ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو اسلم قبیلہ کا ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور یہ اقرار کیا کہ اس نے ایک عورت کے ساتھ زنا کیا ہے، اس نے اس عورت کا نام بھی لیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت کو بلا بھیجا اور اس سے اس برائی کے بارے میں پوچھا، اس نے انکار کر دیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص کو حدّ لگائی اور اس خاتون کو چھوڑ دیا۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6714]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه الدارقطني: 3/ 99، والحاكم: 4/ 370، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22875 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23263»
وضاحت: فوائد: … زنا کے معترف کو ہر صورت میں حد لگائی جائے گی،لیکن وہ جس پر الزام لگا رہا ہو گا،ا گر اس کی طرف سے نہ اعتراف ہو، نہ اس پر چار گواہ ہوں اور نہ حمل کی علامت ہو تو اس کو سزا نہیں دی جائے گی۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن۔ أخرجه الدارقطني: 3/ 99
24. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّسَاهُلِ وَالتَّسَامُحِ فِي الْبَيْعِ والإقالَةِ وَحُسْنِ التَّقَاضِي وَفَضْل ذلِكَ
اس چیز کے سنت ہونے کا بیان کہ گواہ خود سنگسار کرنے کی ابتداء کرے اور زانی کے اقرار کرنے کی صورت میں حکمران ابتداء کرے، نیز اس چیز کا بیان کہ شادی شدہ زانی کو کوڑے لگا کر رجم کیا جائے
حدیث نمبر: 6715
عَنْ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ لِشَرَاحَةَ زَوْجٌ غَائِبٌ بِالشَّامِ وَأَنَّهَا حَمَلَتْ فَجَاءَ بِهَا مَوْلَاهَا إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ زَنَتْ فَاعْتَرَفَتْ فَجَلَدَهَا يَوْمَ الْخَمِيسِ مِائَةً وَرَجَمَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَحَفَرَ لَهَا إِلَى السُّرَّةِ وَأَنَا شَاهِدٌ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الرَّجْمَ سُنَّةٌ سَنَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَوْ كَانَ شَهِدَ عَلَى هَذِهِ أَحَدٌ لَكَانَ أَوَّلُ مَنْ يَرْمِي الشَّاهِدَ يَشْهَدُ ثُمَّ يُتْبِعُ شَهَادَتَهُ حَجَرَهُ وَلَكِنَّهَا أَقَرَّتْ فَأَنَا أَوَّلُ مَنْ رَمَاهَا فَرَمَاهَا بِحَجَرٍ ثُمَّ رَمَى النَّاسُ وَأَنَا فِيهِمْ قَالَ فَكُنْتُ وَاللَّهِ فِيمَنْ قَتَلَهَا
۔ عامر شعبی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: شراحہ کا خاوند اس کے پاس سے غائب تھا اور وہ شام میں تھا، لیکن شراحہ حاملہ ہوگئی، اس کا سرپرست اسے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس لے آیا اور کہا: اس نے زنا کیا ہے اور اس نے خود بھی اعتراف کر لیا، پس سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جمعرات کے دن اس کو سو کوڑے لگائے اور جمعہ کے دن اس کو رجم کیا، اس کے لئے ناف تک گڑھا کھودا، میں بھی وہاں موجود تھا، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: بیشک رجم سنت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو نافذ کیا، اگر اس عورت پر کوئی گواہی دیتا تو وہی پہلا پتھر پھینکتا، پہلے گواہی دیتا، ساتھ ہی گواہی کے بعد پتھر مارتا۔ لیکن اس عورت نے اقرار کیا ہے، اس لیے میں پہلا ہوں جو اسے پتھر مارتا ہوں، پھر اس پر پتھر پھینکا، بعد ازاں لوگوں نے پتھر مارے، عامر کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں ان میں سے ہوں، جنہوں نے اسے قتل کیا تھا۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6715]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري وروايته مختصرة بقصة الرجم فقط: 6812، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 978 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 978»
وضاحت: فوائد: … گواہی دینے والے کا پہلا پتھر پھینکنا اور اعتراف کرنے والے پر حاکم کا پہلا پتھر پھینکنا،یہ مستحب امور ہیں۔
الحكم على الحديث:
صحيح۔ أخرجه البخاري وروايته مختصرة بقصة الرجم فقط: 6812
حدیث نمبر: 6716
عَنِ الشَّعْبِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ شَرَاحَةَ الْهَمْدَانِيَّةَ أَتَتْ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَتْ إِنِّي زَنَيْتُ فَقَالَ لَعَلَّكِ غَيْرَى لَعَلَّكِ رَأَيْتِ فِي مَنَامِكِ لَعَلَّكِ اسْتُكْرِهْتِ وَفِي لَفْظٍ لَعَلَّ زَوْجَكِ جَاءَكِ فَكُلٌّ تَقُولُ لَا فَجَلَدَهَا يَوْمَ الْخَمِيسِ وَرَجَمَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَقَالَ جَلَدْتُهَا بِكِتَابِ اللَّهِ وَرَجَمْتُهَا بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ شعبی سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: شراحہ ہمدانیہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہا: میں نے زنا کیا ہے، انھوں نے کہا: شاید تیری غیرت پیدا ہو گئی ہو، یا خواب دیکھا ہو، یا تجھے مجبور کیا گیا ہو، ایک روایت میں ہے: شاید تیرا خاوند تیرے پاس آیا ہو، لیکن اس نے ہر سوال کے جواب میں کہا: نہیں، نہیں، پس سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے جمعرات کو کوڑے لگائے اور جمعہ کے دن رجم کیا اور کہا: میں کتاب اللہ کی روشنی میں اس کو کوڑے لگائے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کی روشنی میں رجم کیا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6716]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وانظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1185»
وضاحت: فوائد: … حدیث نمبر (۶۶۸۷، ۶۶۸۸) کی شرح میں وضاحت ہو چکی ہے کہ شادی شدہ زانی کو دو سزائیں دی جائیں گی، پہلے سو کوڑے لگائے جائیں گے اور پھر اس کو رجم کر دیا جائے گا۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
25. باب تأخير الحَدَ عَنِ الْحُبْلَى حَتَّى تَضَعَ حَمْلَهَا
وضع حمل تک حاملہ عورت سے حد کو مؤخر کر دینے کا بیان
حدیث نمبر: 6717
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ غَامِدٍ فَقَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ تُطَهِّرَنِي فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ارْجِعِي فَلَمَّا أَنْ كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَتْهُ أَيْضًا فَاعْتَرَفَتْ عِنْدَهُ بِالزِّنَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي زَنَيْتُ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ تُطَهِّرَنِي فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ارْجِعِي فَلَمَّا أَنْ كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَتْهُ أَيْضًا فَاعْتَرَفَتْ عِنْدَهُ بِالزِّنَا فَقَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ طَهِّرْنِي فَلَعَلَّكَ أَنْ تَرُدَّنِي كَمَا رَدَدْتَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَحُبْلَى فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ارْجِعِي حَتَّى تَلِدِي فَلَمَّا وَلَدَتْ جَاءَتْ بِالصَّبِيِّ تَحْمِلُهُ فَقَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ هَذَا قَدْ وَلَدْتُ قَالَ فَاذْهَبِي فَأَرْضِعِيهِ حَتَّى تَفْطِمِيهِ فَلَمَّا فَطَمَتْهُ جَاءَتْ بِالصَّبِيِّ فِي يَدِهِ كِسْرَةُ خُبْزٍ قَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ هَذَا قَدْ فَطَمْتُهُ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالصَّبِيِّ فَدَفَعَهُ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَأَمَرَ بِهَا فَحُفِرَ لَهَا حُفْرَةٌ فَجُعِلَتْ فِيهَا إِلَى صَدْرِهَا ثُمَّ أَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَرْجُمُوهَا فَأَقْبَلَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ بِحَجَرٍ فَرَمَى رَأْسَهَا فَنَضَحَ الدَّمُ عَلَى وَجْنَةِ خَالِدٍ فَسَبَّهَا فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَبَّهُ إِيَّاهَا فَقَالَ مَهْلًا يَا خَالِدُ بْنَ الْوَلِيدِ لَا تَسُبَّهَا فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا صَاحِبُ مَكْسٍ لَغُفِرَ لَهُ فَأَمَرَ بِهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا وَدُفِنَتْ
۔ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہواتھا،غامد قبیلہ کی ایک عورت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے اور میں چاہتی ہوں کہ آپ مجھے پاک کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: واپس لوٹ جا۔ وہ اگلے دن پھر آ گئی اور آپ کے پاس زنا کا اعتراف کیا، کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے اور میں چاہتی ہوں کہ آپ مجھے پاک کر دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو واپس چلی جا۔ اگلے دن وہ پھر آ گئی اور آپ کے پاس زنا کا اعتراف کیا اور کہا: اے اللہ کے نبی! آپ مجھے پاک کریں، شاید آپ مجھے واپس لوٹانا چاہتے ہیں جس طرح آپ نے ماعز بن مالک کو واپس لوٹایا تھا، اللہ کی قسم! میں زنا کی وجہ سے حاملہ بھی ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو واپس چلی جا، یہاں تک کہ بچے کو جنم دے۔ پس جب اس نے بچہ جنم دیا تو بچہ اٹھائے ہوئے آئی اور کہنے لگی: اے اللہ کے نبی!میں نے بچہ جنم دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو واپس چلی جا، اسے دودھ پلا، یہاں تک کہ تو اس کا دودھ چھڑا دے۔ جب اس نے دودھ چھڑالیا تو بچہ کو اٹھا کر لائی، جبکہ اس کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا تھا اور کہنے لگی: اے اللہ کے نبی! میں نے اس کا دودھ چھڑا دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بچے کے متعلق حکم دیا کہ اسے ایک مسلمان آدمی کے سپرد کیا گیا اور اس عورت کے متعلق حکم دیا کہ اس کے لئے ایک گڑھا کھودا جائے اور سینے تک اس میں گاڑدی جائے، پھر لوگوں کو حکم دیا کہ اس کو سنگسار کر دو، سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ایک پتھر لے کر آئے اور اس کے سر پرمارا، جب اس سے ان کے رخسار پر خون کے چھینٹے پڑے تو انہوں نے اسے برا بھلا کہا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ وہ برا بھلا کہہ رہے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خالد! باز آ جاؤ، اسے گالی نہ دو، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس نے ایسی توبہ کی ہے اگر ٹیکس لینے والا بھی ایسی توبہ کرے تو اسے بھی بخش دیا جائے گا۔ پھر آپ نے اس کے متعلق حکم دیا پھر ا س پر نماز جنازہ پڑھی پھر اسے دفن کر دیا گیا۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6717]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1695، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22949 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23337»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1695