الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. بَاب مَا جَاءَ فِي مَنْ وَطِئَ جَارِيَةَ امْرَأَتِهِ
بیوی کی لونڈی کو استعمال کر لینے والے شخص کا بیان
حدیث نمبر: 6728
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت ان کے پاس آئی، … …، پھر اوپر والی حدیث کی طرح روایت ذکر کی۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6728]
تخریج الحدیث: «انظر الحديثين السابقين ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18595»
الحكم على الحديث:
انظر الحديثين السابقين ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18595
حدیث نمبر: 6729
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا وَقَعَ عَلَى جَارِيَةِ امْرَأَتِهِ وَفِي لَفْظٍ أَنَّ رَجُلًا خَرَجَ فِي غَزَاةٍ وَمَعَهُ جَارِيَةٌ لِامْرَأَتِهِ فَوَقَعَ بِهَا فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنْ كَانَتْ طَاوَعَتْهُ فَهِيَ لَهُ وَعَلَيْهِ مِثْلُهَا لَهَا وَإِنْ كَانَ اسْتَكْرَهَهَا فَهِيَ حُرَّةٌ وَعَلَيْهِ مِثْلُهَا لَهَا
۔ سیدنا سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کی لونڈی سے زنا کر لیا، ایک روایت میں ہے: ایک آدمی کسی غزوہ میں گیا، اس کے ساتھ اس کی بیوی کی لونڈی بھی تھی، وہ اس پر واقع ہو گیا، جب اس کا معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عدالت میں لایاگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر اس لونڈی نے اس آدمی سے موافقت کی ہے تو یہ لونڈی اسی کی ہو جائے گی اور اس کو اسی طرح کی لونڈی اپنی بیوی کو دینا ہو گی، اور اگر اس نے لونڈی کو مجبور کیا ہے تو وہ آزاد ہو جائے گی، لیکن اس کو اسی طرح کی لونڈی اپنی بیوی کو دینا ہو گی۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6729]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، الحسن البصري لم يسمع من سلمة بن المحبق، وقد اختلف في اسناد ھذا الحديث علي الحسن۔ أخرجه ابوداود: 4461، والبيھقي: 8/ 240، وعبد الرزاق: 13418، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 6337، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20060 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20319»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 6730
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي رَجُلٍ وَطِئَ جَارِيَةَ امْرَأَتِهِ إِنْ كَانَ اسْتَكْرَهَهَا فَهِيَ حُرَّةٌ وَعَلَيْهِ لِسَيِّدَتِهَا مِثْلُهَا
۔ (دوسری سند) جس آدمی نے اپنی بیوی کی لونڈی سے برائی کر لی تھی، اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ اگر اس نے اس لونڈی کو مجبور کیا تھا تو وہ آزاد ہو جائے گی، لیکن اس کے ذمہ ہے اس کی آقا کو اسی طرح کی لونڈی دے۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6730]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20328»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی تمام روایات ضعیف ہیں۔
تفہیم مسئلہ کی غرض سے حدیث کی کچھ ضروری توضیح پیش نظر ہے: ناجائز چیز کسی کے حلال کرنے سے جائز نہیں بن جاتی، بیوی اپنی لونڈی کو خاوند کے لیے حلال قرار دے تو وہ لونڈی خاوند کے لیے حلال نہیں ہو گی، کیونکہ وہ اس کی لونڈی نہیں، بیوی کی لونڈی ہے، اور جماع اپنی لونڈی سے جائز ہے، لیکن چونکہ اس میں شبہ ہے کہ بیوی کی لونڈی خاوند کی بھی لونڈی ہے، تو جب بیوی نے اپنی مملوکہ چیز خاوند کے لیے جائز قرار دے دی تو شاید وہ اس کے لیے حلال ہو، اس لیے سزا میں تخفیف ہے کہ بجائے رجم کے کوڑے مارنے کا ذکر فرمایا، مگر یاد رہے کہ اس شبہ کی بنا پر اس مرد کو باکل معاف نہیں کیا جا سکتا، سزا ہلکی ہو سکتی ہے، ہاں اگر بیوی اپنی لونڈی خاوند کو ہبہ کر دے اور وہ اس کی لونڈی بن جائے یا اپنی لونڈی کا نکاح خاوند سے کرادے تو جائز ہے۔
تفہیم مسئلہ کی غرض سے حدیث کی کچھ ضروری توضیح پیش نظر ہے: ناجائز چیز کسی کے حلال کرنے سے جائز نہیں بن جاتی، بیوی اپنی لونڈی کو خاوند کے لیے حلال قرار دے تو وہ لونڈی خاوند کے لیے حلال نہیں ہو گی، کیونکہ وہ اس کی لونڈی نہیں، بیوی کی لونڈی ہے، اور جماع اپنی لونڈی سے جائز ہے، لیکن چونکہ اس میں شبہ ہے کہ بیوی کی لونڈی خاوند کی بھی لونڈی ہے، تو جب بیوی نے اپنی مملوکہ چیز خاوند کے لیے جائز قرار دے دی تو شاید وہ اس کے لیے حلال ہو، اس لیے سزا میں تخفیف ہے کہ بجائے رجم کے کوڑے مارنے کا ذکر فرمایا، مگر یاد رہے کہ اس شبہ کی بنا پر اس مرد کو باکل معاف نہیں کیا جا سکتا، سزا ہلکی ہو سکتی ہے، ہاں اگر بیوی اپنی لونڈی خاوند کو ہبہ کر دے اور وہ اس کی لونڈی بن جائے یا اپنی لونڈی کا نکاح خاوند سے کرادے تو جائز ہے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20328
29. بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ وَقَعَ عَلَى ذَاتِ مَحْرَمٍ أَوَ أَتَى بَهِيمَةٌ أَوْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمٍ لُوطٍ
اس شخص کا بیان جو مَحرم عورت سے منہ کالا کرے یا کسی چوپائے سے برائی کرے یا قومِ لوط¤والا عمل کر بیٹھے
حدیث نمبر: 6731
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اقْتُلُوا الْفَاعِلَ وَالْمَفْعُولَ بِهِ فِي عَمَلِ قَوْمِ لُوطٍ وَالْبَهِيمَةَ وَالْوَاقِعَ عَلَى الْبَهِيمَةِ وَمَنْ وَقَعَ عَلَى ذَاتِ مَحْرَمٍ فَاقْتُلُوهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قوم لوط کے عمل میں ملوث فاعل اور مفعول دونوں کوقتل کر دو اور جانور کو بھی قتل کر دو اور جو جانور پر واقع ہو ا ہے، اس کو بھی قتل کر دو اور جو ذی محرم سے زنا کرے، اسے بھی قتل کر دو۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6731]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابن ابي حبيبة۔ أخرجه دون ذكر حد اللواط ابن ماجه: 4564، وأخرجه الترمذي بحكم من وقع علي ذات محرم فقط: 1462، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2727 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2727»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن عباس d سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ وَجَدْتُّمُوْہٗیَعْمَلُ عَمَلَ قَوْمِ لُوْطٍ فَاقْتُلُوا الْفَاعِلَ وَالْمَفْعُوْلَ بِہٖ۔)) … ”جسشخصکوتماسحالمیں پاؤ کہ وہ قوم لوط والی بد فعلی کر رہا ہو تو فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کر دو۔“ (ابو داود: ۴۴۶۲، ابن ماجہ: ۲۵۶۱، ترمذی: ۱۴۵۶، قال الالبانی: صحیح)
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف ابن ابي حبيبة۔ أخرجه دون ذكر حد اللواط ابن ماجه: 4564
حدیث نمبر: 6732
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ وَقَعَ عَلَى بَهِيمَةٍ فَاقْتُلُوهُ وَاقْتُلُوا الْبَهِيمَةَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو جانور پر واقع ہو، اسے بھی قتل کر دو اور جانور کو بھی۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6732]
تخریج الحدیث: «اسناده جيّد۔ أخرجه ابوداود: 4464، والترمذي: 1455، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2420 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2420»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث بیان کرنے کے بعد عکرمہ نے کہا: قُلْتُ لَہُ: مَا شَأْنُ الْبَہِیمَۃِ؟ قَالَ: مَا أُرَاہُ قَالَ ذَلِکَ إِلَّا أَنَّہُ کَرِہَ أَنْ یُؤْکَلَ لَحْمُہَا وَقَدْ عُمِلَ بِہَا ذَلِکَ الْعَمَلُ۔ … ”میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: جانور کو قتل کرنے کی کیا وجہ ہے؟انھوں نے کہا: میرا خیال تو یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند کیا کہ اس کا گوشت کھایا جائے، جبکہ اس کے ساتھ یہ گندا کام کیا گیا ہے۔ (ابوداود: ۴۴۶۴، ترمذی: ۱۴۵۵)
اس حدیث کے برعکس سیدنا عبد اللہ بن عباسdکا اپنا قول یہ ہے: لیس علی الذییأتی البھیمۃ حدّ۔ … جو آدمی جانورسے یہ برا کام کرتا ہے، اس پر کوئی حد نہیں ہے۔ (ابو داود: ۴۴۶۵، ترمذی: ۱۴۵۵)
عمرو بن ابی عمرو راوی اس حدیث کو مرفوعا بیان کرتا ہے اور عاصم بن بہدلہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ پر موقوفاً بیان کرتاہے، امام ترمذی نے موقوف روایت کے حق میں کہا: وہذا أصح من الحدیث الأول والعمل علی ہذا عند أہل العلم وہو قول أحمد وإسحق۔ … یہ حدیث پہلییعنی مرفوع حدیث سے زیادہ صحیح ہے، اور اہل علم کے ہاں اسی پر عمل ہے اور امام احمد اور امام اسحاق کا بھییہی قول ہے۔
اما م ابو داود نے کہا: حدیثُ عاصم یضعِّف حدیثَ عمرو بن ابی عمرو۔ … عاصم کی موقوف حدیث، عمرو بن ابو عمرو کی حدیث کو ضعیف کر رہی ہے۔
شیخ البانی کہتے ہیں: لیکن امام بیہقی نے موقوف کو ترجیح دینے والی اس رائے کا بہت عمدہ تعاقب کیا، انھوں نے کہا: کئی سندوں سے عکرمہ سے یہ حدیث ہمیں بیان کی گئی ہے، میرا خیال ہے کہ عمرو بن ابی عمرو حفظ و ضبط میں عاصم بن بہدلہ سے کم تو نہیں ہے، جبکہ ایک جماعت نے عمرو بن ابی عمرو کی متابعت بھی کر رکھی ہے اور اکثر ائمہ کے نزدیک عکرمہ ثقات و اثبات راویوں میں سے ہے۔
میں (البانی) کہتا ہوں: تحقیقیہی ہے کہ عمرو بن ابو عمرو، عاصم بن بھدلہ سے کم مرتبہ نہیں ہے، بلکہ ممکن ہے کہ وہ حدیث کے معاملے میں اس سے اچھا روای ہو، ان دونوں راویوں کے ترجمہ سے اس حقیقت کااندازہ ہو گا۔
حافظ ابن حجر نے ”تقریب“ میں عمرو کے بارے میں ”ثقۃ ربما وھم“ کہا اور عاصم کے بارے میں ”صدوق لہ اوھام“ کہا۔
امام ذہبی نے عاصم کے بارے میں کہا: صدوق یھم، امام بخاری اور امام مسلم نے اس سے مقروناً روایت لی ہے۔ اور عمرو کے بارے میں کہا: یہ ”صدوق“ ہے، اس کی روایت صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے اصول میں موجود ہے۔ پس واضح ہوا کہ عمرو راوی، عاصم سے قوی ہے اور تعارض کے وقت اسی عمرو کی حدیث راجح ہو گی۔ اس پر مستزاد یہ کہ عمرو کی حدیث مرفوع ہے اور عاصم کی موقوف اور روایت کو رائے پر ترجیح دیتے وقت اہل الحدیث کے قواعدکے مطابق یہ بات درست نہیںہے کہ موقوف روایت کی وجہ سے مرفوع کو ضعیف قرار دیا جائے، احناف کے بر خلاف۔ پھر امام بیہقی نے جن متابعات کی طرف اشارہ کیا ہے، ان سے عمرو کی حدیث کو قوت ملتی ہے، مجھے ان میں سے دو متابعات ملی ہیں:
(اول) … داود بن حصین عن عکرمۃ بہ، امام ابن ماجہ، امام دارقطنی، امام بیہقی اور امام احمد نے اس سند کے ساتھ اس حدیث کو بیان کیا ہے، اس سند میں ابراہیم اشہلی بھی ضعیف ہے اور ابن حصین، عکرمہ سے روایت لینے میں ضعیف ہے۔
(دوم) … عباد بن منصور عن عکرمۃ بہ، امام حاکم، امام بیہقی اور امام ابن عساکر نے اس کو روایت کیا ہے۔اس میں عباد بن منصور صدوق ہے، وہ تدلیس بھی کرتا تھا اور اس کو آخر میں اختلاط بھی ہو گیا تھا۔
پھر عمرو بن ابی عمرو کی حدیث کا ایک مرفوع شاہد بھی ہے، جو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، امام ابو یعلی نے اپنی مسند میں اس کو بیان کیا، اس کے راوی ثقہ اور معروف ہیں، ما سوائے عبد الغفار بن عبد اللہ کے، جبکہ ابن ابی حاتم نے اس کا ذکر کر کے اس پر کوئی جرح اور تعدیل نقل نہیں، ظن غالب یہی ہے کہ امام ابن حبان نے اس کو ”الثقات“ میں ذکر کیا ہے۔حافظ ہیثمی نے ”مجمع الزوائد“ میں اس حدیث کو ابو یعلی کی طرف منسوب کرنے کے بعد کہا: اس میںمحمد بن عمرو ہے، اس کی حدیث حسن ہے اور باقی راوی ثقہ ہیں، البتہ حافظ ابن حجر نے ”تلخیص الحبیر“ میں کہا: ابو یعلی نے کہا: ہمیںیہ بات پہنچی ہے کہ عبد الغفار نے اس سے رجوع کر لیا تھا، اور ابن عدی نے کہا کہ لوگوں نے اس کو تلقین کی تھی۔ (ملاحظہ ہو: ارواء الغلیل: ۸/ ۱۷)
اس بحث سے یہ ثابت ہوا کہ اس باب کی حدیث نمبر (۶۷۳۲) صحیح ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ”جو جانور پر واقع ہو، اسے بھی قتل کر دو اور جانور کو بھی۔“
اس حدیث کے برعکس سیدنا عبد اللہ بن عباسdکا اپنا قول یہ ہے: لیس علی الذییأتی البھیمۃ حدّ۔ … جو آدمی جانورسے یہ برا کام کرتا ہے، اس پر کوئی حد نہیں ہے۔ (ابو داود: ۴۴۶۵، ترمذی: ۱۴۵۵)
عمرو بن ابی عمرو راوی اس حدیث کو مرفوعا بیان کرتا ہے اور عاصم بن بہدلہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ پر موقوفاً بیان کرتاہے، امام ترمذی نے موقوف روایت کے حق میں کہا: وہذا أصح من الحدیث الأول والعمل علی ہذا عند أہل العلم وہو قول أحمد وإسحق۔ … یہ حدیث پہلییعنی مرفوع حدیث سے زیادہ صحیح ہے، اور اہل علم کے ہاں اسی پر عمل ہے اور امام احمد اور امام اسحاق کا بھییہی قول ہے۔
اما م ابو داود نے کہا: حدیثُ عاصم یضعِّف حدیثَ عمرو بن ابی عمرو۔ … عاصم کی موقوف حدیث، عمرو بن ابو عمرو کی حدیث کو ضعیف کر رہی ہے۔
شیخ البانی کہتے ہیں: لیکن امام بیہقی نے موقوف کو ترجیح دینے والی اس رائے کا بہت عمدہ تعاقب کیا، انھوں نے کہا: کئی سندوں سے عکرمہ سے یہ حدیث ہمیں بیان کی گئی ہے، میرا خیال ہے کہ عمرو بن ابی عمرو حفظ و ضبط میں عاصم بن بہدلہ سے کم تو نہیں ہے، جبکہ ایک جماعت نے عمرو بن ابی عمرو کی متابعت بھی کر رکھی ہے اور اکثر ائمہ کے نزدیک عکرمہ ثقات و اثبات راویوں میں سے ہے۔
میں (البانی) کہتا ہوں: تحقیقیہی ہے کہ عمرو بن ابو عمرو، عاصم بن بھدلہ سے کم مرتبہ نہیں ہے، بلکہ ممکن ہے کہ وہ حدیث کے معاملے میں اس سے اچھا روای ہو، ان دونوں راویوں کے ترجمہ سے اس حقیقت کااندازہ ہو گا۔
حافظ ابن حجر نے ”تقریب“ میں عمرو کے بارے میں ”ثقۃ ربما وھم“ کہا اور عاصم کے بارے میں ”صدوق لہ اوھام“ کہا۔
امام ذہبی نے عاصم کے بارے میں کہا: صدوق یھم، امام بخاری اور امام مسلم نے اس سے مقروناً روایت لی ہے۔ اور عمرو کے بارے میں کہا: یہ ”صدوق“ ہے، اس کی روایت صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے اصول میں موجود ہے۔ پس واضح ہوا کہ عمرو راوی، عاصم سے قوی ہے اور تعارض کے وقت اسی عمرو کی حدیث راجح ہو گی۔ اس پر مستزاد یہ کہ عمرو کی حدیث مرفوع ہے اور عاصم کی موقوف اور روایت کو رائے پر ترجیح دیتے وقت اہل الحدیث کے قواعدکے مطابق یہ بات درست نہیںہے کہ موقوف روایت کی وجہ سے مرفوع کو ضعیف قرار دیا جائے، احناف کے بر خلاف۔ پھر امام بیہقی نے جن متابعات کی طرف اشارہ کیا ہے، ان سے عمرو کی حدیث کو قوت ملتی ہے، مجھے ان میں سے دو متابعات ملی ہیں:
(اول) … داود بن حصین عن عکرمۃ بہ، امام ابن ماجہ، امام دارقطنی، امام بیہقی اور امام احمد نے اس سند کے ساتھ اس حدیث کو بیان کیا ہے، اس سند میں ابراہیم اشہلی بھی ضعیف ہے اور ابن حصین، عکرمہ سے روایت لینے میں ضعیف ہے۔
(دوم) … عباد بن منصور عن عکرمۃ بہ، امام حاکم، امام بیہقی اور امام ابن عساکر نے اس کو روایت کیا ہے۔اس میں عباد بن منصور صدوق ہے، وہ تدلیس بھی کرتا تھا اور اس کو آخر میں اختلاط بھی ہو گیا تھا۔
پھر عمرو بن ابی عمرو کی حدیث کا ایک مرفوع شاہد بھی ہے، جو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، امام ابو یعلی نے اپنی مسند میں اس کو بیان کیا، اس کے راوی ثقہ اور معروف ہیں، ما سوائے عبد الغفار بن عبد اللہ کے، جبکہ ابن ابی حاتم نے اس کا ذکر کر کے اس پر کوئی جرح اور تعدیل نقل نہیں، ظن غالب یہی ہے کہ امام ابن حبان نے اس کو ”الثقات“ میں ذکر کیا ہے۔حافظ ہیثمی نے ”مجمع الزوائد“ میں اس حدیث کو ابو یعلی کی طرف منسوب کرنے کے بعد کہا: اس میںمحمد بن عمرو ہے، اس کی حدیث حسن ہے اور باقی راوی ثقہ ہیں، البتہ حافظ ابن حجر نے ”تلخیص الحبیر“ میں کہا: ابو یعلی نے کہا: ہمیںیہ بات پہنچی ہے کہ عبد الغفار نے اس سے رجوع کر لیا تھا، اور ابن عدی نے کہا کہ لوگوں نے اس کو تلقین کی تھی۔ (ملاحظہ ہو: ارواء الغلیل: ۸/ ۱۷)
اس بحث سے یہ ثابت ہوا کہ اس باب کی حدیث نمبر (۶۷۳۲) صحیح ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ”جو جانور پر واقع ہو، اسے بھی قتل کر دو اور جانور کو بھی۔“
الحكم على الحديث:
اسناده جيّد۔ أخرجه ابوداود: 4464
حدیث نمبر: 6733
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَرَّ بِي عَمِّي الْحَارِثُ بْنُ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَمَعَهُ لِوَاءٌ قَدْ عَقَدَهُ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لَهُ يَا عَمِّ أَيْنَ بَعَثَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَعَثَنِي إِلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ فَأَمَرَنِي أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میرے چچا سیدنا حارث بن عمرو رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے اور ان کے پاس ایک جھنڈا تھا، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں باندھ کر دیا تھا، میں نے ان سے کہا: اے چچا! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تم کو کہاں بھیجا ہے؟ انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک ایسے آدمی کی طرف بھیجا کہ جس نے اپنے باپ کی بیوی کے ساتھ نکاح کرلیا ہے، آپ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6733]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني۔ أخرجه ابن ماجه: 2607، والترمذي: 1362، والنسائي: 6/ 109، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18557، 18579 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18780»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالی ہے: {وَلَا تَنْکِحُوْا مَانَکَحَ آٰبَائُکُمْ مِنَ النِّسَائِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ} … ”اور اس خاتون سے نکاح نہ کرو، جس سے تمہارے باپوں نے نکاح کیا ہو۔“ (سورۂ نسائ:۲۲) سوتیلی ماں سے صرف نکاح کرنے کییہ سزا ہے، خواہ اس نے جماع کیا ہو یا نہ کیا ہو۔
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 6734
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي عَمَلُ قَوْمِ لُوطٍ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ جس چیز کا ڈر ہے، وہ قوم لوط کا فعل ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6734]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، القاسم بن عبد الواحد و عبد الله بن محمد بن عقيليقبل حديثھما عند المتابعة، وقد تفردا بھذا الحديث۔ أخرجه الترمذي: 1457، وابن ماجه: 2563، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15093 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15159»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث میں قوم لوط والی بد فعلی کرنے والے، جانور سے برائی کرنے والے اور محرم خواتین سے نکاح کرنے والے کی سزاؤںکا بیان ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
30. بَابُ مَا جَاءَ فِي رَجْمِ الزَّانِي الْمُحْصَنِ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَأَنَّ الْإِسْلَامَ لَيْسَ بِشَرْطٍ فِي الْإِحْصَانِ
اہل کتاب کے شادی شدہ زانی کو رجم کرنے اور اس معاملے میں اسلام کے شرط نہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6735
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ الْيَهُودَ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ وَامْرَأَةٍ مِنْهُمْ قَدْ زَنَيَا فَقَالَ مَا تَجِدُونَ فِي كِتَابِكُمْ فَقَالُوا نُسَخِّمُ وُجُوهَهُمَا وَيُخْزَيَانِ قَالَ كَذَبْتُمْ إِنَّ فِيهَا الرَّجْمَ فَأْتُوا بِالتَّوْرَاةِ فَاتْلُوهَا إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ فَجَاءُوا بِالتَّوْرَاةِ وَجَاءُوا بِقَارِئٍ لَهُمْ أَعْوَرَ يُقَالُ لَهُ ابْنُ صُورِيَا فَقَرَأَ حَتَّى إِذَا انْتَهَى إِلَى مَوْضِعٍ مِنْهَا وَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهِ فَقِيلَ لَهُ ارْفَعْ يَدَكَ فَرَفَعَ يَدَهُ فَإِذَا هِيَ تَلُوحُ فَقَالَ أَوْ قَالُوا يَا مُحَمَّدُ إِنَّ فِيهَا الرَّجْمَ وَلَكِنَّا كُنَّا نَتَكَاتَمُهُ بَيْنَنَا فَأَمَرَ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَا قَالَ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَجَانِئُ عَلَيْهَا يَقِيهَا الْحِجَارَةَ بِنَفْسِهِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ یہودی لوگ ایک مرد اور ایک عورت کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، انہوں نے زنا کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی کتاب میں اس کے متعلق کیا حکم پاتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم ان کا منہ کالا کرتے ہیں اور انہیں رسوا کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم جھوٹ بول رہے ہو، اس میں رجم کرنے کی بات ہے، لاؤ تورات اور اس کو پڑھو، اگر تم سچے ہو تو۔ پس وہ تورات اور ایک پڑھنے والے کو لے آئے،پڑھنے والا کانا تھا اور اس کو ابن صوریا کہتے تھے، اس نے تورات پڑھی اوررجم کے ذکر تک پڑھتا گیا، جب وہ اس مقام تک پہنچا تو اس آیت پر اپنا ہاتھ رکھ لیا، اس سے کہا گیااپنا ہاتھ اٹھا، جب اس نے اپنا ہاتھ اٹھایا تو رجم سے متعلقہ آیت چمک رہی تھی، پھر انہوں نے اعتراف کرتے ہوئے کہا: اے محمد! اس میں رجم کی سزا موجود ہے، لیکن ہم اس کو آپس میں چھپائے ہوئے تھے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کو رجم کر نے کا حکم دیا،پس ان دونوں کو رجم کر دیا گیا، ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے اس یہودی کو دیکھا کہ وہ اس عورت پرجھک رہا تھا اور اپنے وجود کے ذریعے اس عورت کو پتھروں سے بچارہا تھا۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6735]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7543، ومسلم: 1699، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4498 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4498»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 7543
حدیث نمبر: 6736
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِرَجْمِ الْيَهُودِيِّ وَالْيَهُودِيَّةِ عِنْدَ بَابِ مَسْجِدٍ فَلَمَّا وَجَدَ الْيَهُودِيُّ مَسَّ الْحِجَارَةِ قَامَ عَلَى صَاحِبَتِهِ فَحَنَا عَلَيْهَا يَقِيهَا مَسَّ الْحِجَارَةِ حَتَّى قُتِلَا جَمِيعًا فَكَانَ مِمَّا صَنَعَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِرَسُولِهِ فِي تَحْقِيقِ الزِّنَا مِنْهُمَا
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک یہودی مرد اور ایک یہودی عورت کو اپنی مسجد کے دروازے کے نزدیک رجم کرنے کا حکم دیا، جب یہودی کو پتھر لگنے کی تکلیف ہوئی تو وہ کھڑا ہو کر اپنی سہیلی پر جھک گیا، تاکہ اس کو پتھروں کی تکلیف سے بچائے،یہاں تک کہ ان دونوں کوقتل کر دیا گیا، اللہ تعالی نے اپنے رسول کے لیے جو کچھ کیا، وہ ان دونوں سے زنا کو ثابت کرنے کے لیے تھا۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6736]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره۔ أخرجه الطبراني: 10820، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2368 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2368»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره۔ أخرجه الطبراني: 10820
حدیث نمبر: 6737
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجَمَ يَهُودِيًّا وَقَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أُشْهِدُكَ أَنِّي أَوَّلُ مَنْ أَحْيَا سُنَّةً قَدْ أَمَاتُوهَا
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک یہودی کو رجم کیا اور پھر فرمایا: اے اللہ! میں تجھے گواہ بناتا ہوں کہ میں وہ پہلا شخص ہوں، جس نے اس سنت کو زندہ کیا، جسے ان لوگوں نے مٹا دیا تھا۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6737]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1700، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18663 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18866»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1700