الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بابُ لَعْنِ السَّارِقِ وَفِي كَمْ تُقْطَعُ يَدُهُ
چور پر لعنت کرنے اور اس چیز کا بیان کہ کتنی مقدار میں ہاتھ کاٹا جائے گا
حدیث نمبر: 6752
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ اللَّهُ السَّارِقَ يَسْرِقُ الْبَيْضَةَ فَتُقْطَعُ يَدُهُ وَيَسْرِقُ الْحَبْلَ فَتُقْطَعُ يَدُهُ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ چور پر لعنت کرے، وہ انڈا چوری کرتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے، وہ رسی چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب حد السرقة/حدیث: 6752]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6783، 6799، ومسلم: 1687، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7436 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7430»
وضاحت: فوائد: … اگر ”اَلْبَیْضَۃ“ کا معنی انڈا ہو تو انڈے اور رسی کا ذکر کلام میں زور پیدا کرنے کے لیے کیا گیا ہے، مراد یہ ہے کہ آدمی معمولی چیز کے عوض اپنے ہاتھ سے بھی محروم ہو جاتا ہے اور عام معاشرے میں رسوائی کی علامت بھی بن جاتا ہے، الا من رحم ربی۔
چور اور چوری کی قباحت و شناعت بیان کی جا رہی ہے، کتنی مقدار کی چوری پر ہاتھ کاٹا جائے گا؟ اس کی وضاحت اگلی احادیث میں آ رہی ہے۔
اللہ تعالی کی رحمت سے دوری کو لعنت کہتے ہیں۔ غیر معین نافرمانوں پر لعنت کی جا سکتی ہے، کیونکہیہ جنس پر لعنت ہوتی ہے، نہ کہ خاص فرد پر، جیسے ارشادِ باری تعالی ہے: {الا لعنۃ اللہ علی الظالمین} … ”خبردار! ظالموں پر اللہ تعالی کی لعنت ہو۔“ اسی طرح ان لوگوں پر لعنت کرنا درست ہے، جن کے بارے میں انبیائے کرام کی تصدیق کی وجہ سے یہیقین ہو چکا ہے کہ وہ جہنمی ہیں، جیسے ابو جہل، ابو لہب، فرعون و غیرہ۔
جن احادیث میں لعنت کرنے سے منع کیا گیا ہے، ان سے مراد یہ ہے کہ کسی خاص فرد پر لعنت نہ کی جائے۔
چور اور چوری کی قباحت و شناعت بیان کی جا رہی ہے، کتنی مقدار کی چوری پر ہاتھ کاٹا جائے گا؟ اس کی وضاحت اگلی احادیث میں آ رہی ہے۔
اللہ تعالی کی رحمت سے دوری کو لعنت کہتے ہیں۔ غیر معین نافرمانوں پر لعنت کی جا سکتی ہے، کیونکہیہ جنس پر لعنت ہوتی ہے، نہ کہ خاص فرد پر، جیسے ارشادِ باری تعالی ہے: {الا لعنۃ اللہ علی الظالمین} … ”خبردار! ظالموں پر اللہ تعالی کی لعنت ہو۔“ اسی طرح ان لوگوں پر لعنت کرنا درست ہے، جن کے بارے میں انبیائے کرام کی تصدیق کی وجہ سے یہیقین ہو چکا ہے کہ وہ جہنمی ہیں، جیسے ابو جہل، ابو لہب، فرعون و غیرہ۔
جن احادیث میں لعنت کرنے سے منع کیا گیا ہے، ان سے مراد یہ ہے کہ کسی خاص فرد پر لعنت نہ کی جائے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6753
عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى الْغَسَّانِيِّ قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ وَهُوَ عَامِلٌ عَلَى الْمَدِينَةِ قَالَ أُتِيتُ بِسَارِقٍ فَأَرْسَلَتْ إِلَيَّ خَالَتِي عَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنْ لَا تَعْجَلْ فِي أَمْرِ هَذَا الرَّجُلِ حَتَّى آتِيَكَ فَأُخْبِرَكَ مَا سَمِعْتُ مِنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي أَمْرِ السَّارِقِ قَالَ فَأَتَتْنِي وَأَخْبَرَتْنِي أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اقْطَعُوا فِي رُبْعِ الدِّينَارِ وَلَا تَقْطَعُوا فِيمَا هُوَ أَدْنَى مِنْ ذَلِكَ وَكَانَ رُبْعُ الدِّينَارِ يَوْمَئِذٍ ثَلَاثَةَ دَرَاهِمَ فَالدِّينَارُ اثْنَا عَشَرَ دِرْهَمًا قَالَ وَكَانَتْ سَرِقَتُهُ دُونَ رُبْعِ الدِّينَارِ فَلَمْ أَقْطَعْهُ
۔ یحییٰ بن یحییٰ غسانی کہتے ہیں: میں مدینہ منورہ آیا اور مدینہ کے عامل ابوبکر بن محمد کو ملا، انھوں نے کہا: میرے پاس ایک چور لایا گیا اورمیری خالہ عمرہ بنت عبد الرحمن نے میری طرف پیغام بھیجا کہ اس آدمی کے بارے میں جلدی فیصلہ نہ کرنا، مجھے آلینے دو تاکہ میں تجھے وہ حدیث بتا سکوں جو میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے چور کے بارے میں سنی ہے، پس وہ میرے پاس آئیں اور انہوں نے مجھے بتایا کہ انھوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے چور کے بارے میں سنا، انھوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چور کا ہاتھ دینار کے چوتھے حصہ میں کاٹو، اس سے کم میں نہ کاٹو۔ ان دنوں میں دینار کا چوتھا حصہ تین درہم کے برابر ہوتا تھا، تو دینار بارہ درہم کا ہوا، اس چور کی چوری دینار کے چوتھے حصہ سے کم تھی، لہذا میں نے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا۔ [الفتح الربانی/أبواب حد السرقة/حدیث: 6753]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1684، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24515 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25020»
وضاحت: فوائد: … دینار کا وزن= 4ماشہ‘ 4رتی (ساڑھے چار ماشے) =4.374گرام
دینار کا چوتھائی حصہ: 1ماشہ، 1رتی،یعنی: تقریباً 1.093گرام
یاد رہے کہ دینار سونے کے درج بالا وزن کا نام ہے، بہتر ہے کہ 4ماشہ، 4 رتی سونے کے روپے بنا لیے جائیں،
پھر جواب کو 4 پر تقسیم کر لیا جائے، چوتھائی دینار کی قیمت معلوم ہو جائے گی، پھر جو چیز چوری کی گئی ہو، اس کی قیمت کو سامنے رکھ کر فیصلہ کیا جائے گا کہ چور کا ہاتھ کاٹا جائے یا نہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چوتھائی دینار کی قیمت، تین درہم چاندی کی قیمت کے برابر ہوتی تھی، لیکن اس زمانے میں چوتھائی دینار کی قیمت تین درہم سے کافی زیادہ ہے، اور وہ اس طرح کہ اگر ایک تولے سونے کی قیمت (۰۰۰،۵۰) روپے ہو تو چوتھائی دینار کی قیمت پانچ ہزار روپے سے کچھ کم بنتی ہے، جبکہ تین درہم چاندی کی قیمت ایک ہزار روپے سے بھی کم بنتی ہے۔
دینار کا چوتھائی حصہ: 1ماشہ، 1رتی،یعنی: تقریباً 1.093گرام
یاد رہے کہ دینار سونے کے درج بالا وزن کا نام ہے، بہتر ہے کہ 4ماشہ، 4 رتی سونے کے روپے بنا لیے جائیں،
پھر جواب کو 4 پر تقسیم کر لیا جائے، چوتھائی دینار کی قیمت معلوم ہو جائے گی، پھر جو چیز چوری کی گئی ہو، اس کی قیمت کو سامنے رکھ کر فیصلہ کیا جائے گا کہ چور کا ہاتھ کاٹا جائے یا نہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چوتھائی دینار کی قیمت، تین درہم چاندی کی قیمت کے برابر ہوتی تھی، لیکن اس زمانے میں چوتھائی دینار کی قیمت تین درہم سے کافی زیادہ ہے، اور وہ اس طرح کہ اگر ایک تولے سونے کی قیمت (۰۰۰،۵۰) روپے ہو تو چوتھائی دینار کی قیمت پانچ ہزار روپے سے کچھ کم بنتی ہے، جبکہ تین درہم چاندی کی قیمت ایک ہزار روپے سے بھی کم بنتی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6754
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ تُقْطَعُ يَدُ السَّارِقِ وَفِي لَفْظٍ لَا تُقْطَعُ يَدُ السَّارِقِ إِلَّا فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، مگر دینار کے چوتھائی حصے میں یااس سے زیادہ میں۔ [الفتح الربانی/أبواب حد السرقة/حدیث: 6754]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1684، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25304 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25818»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6755
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَطَعَ يَدَ رَجُلٍ سَرَقَ تُرْسًا مِنْ صُفَّةِ النِّسَاءِ ثَمَنُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کا ہاتھ کاٹا تھا، اس نے عورتوں کے چبوترے سے ڈھال چوری کی تھی، اس کی قیمت تین درہم تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب حد السرقة/حدیث: 6755]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1686، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6317 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6317»
وضاحت: فوائد: … اور زمانۂ نبوی میں تین درہم، چوتھائی دینار کے برابر ہوتے تھے، اصل معیار چوتھائی دینار ہے، جیسا کہ گزشتہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6756
عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ تُقْطَعُ الْيَدُ فِي ثَمَنِ الْمِجَنِّ
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ڈھال کی قیمت کے برابر کی چوری میں ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب حد السرقة/حدیث: 6756]
تخریج الحدیث: «ضعيف، قاله الالباني، أخرجه ابن ماجه: 2586، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1455 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1455»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 6757
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ قِيمَةَ الْمِجَنِّ كَانَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةَ دَرَاهِمَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ڈھال کی قیمت دس درہم تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب حد السرقة/حدیث: 6757]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، محمد بن اسحاق مدلس، وقد عنعن، أخرجه ابوداود: 4387، والنسائي: 8/ 84، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6687 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6687»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 6758
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا قَطْعَ فِيمَا دُونَ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دس درہم سے کم میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب حد السرقة/حدیث: 6758]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، الحجاج بن ارطاة كثير الخطأ والتدليس، أخرجه الدارقطني: 3/ 192، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6900 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6900»
وضاحت: فوائد: … امام ابو حنیفہk نے اسی حدیث کی روشنی میں دس درہم ہاتھ کاٹنے کی حد مقرر کی ہے، لیکنیہ روایت ضعیف ہے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
2. بَابُ اعْتِبَارِ الْحَرَرُ وَمَا جَاءَ فِي الْمُخْتَلِسِ وَالْمُتَهَبِ وَالْخَائِنِ وَجَاحِدِ الْعَارِيَةِ وَمَا لَا قَطعَ فِيهِ
چوری میں محفوظ جگہ کا اعتبار کرنے کا بیان اور لوٹنے والے، ڈاکہ ڈالنے والے، خیانت کرنے والے اور عاریہ کا انکار کرنے والے کا بیان اور ان چیزوں کی وضاحت جن میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا
حدیث نمبر: 6759
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْحَرِيسَةِ الَّتِي تُوجَدُ فِي مَرَاتِعِهَا وَقَدْ سُئِلَ عَنْهَا قَالَ فِيهَا ثَمَنُهَا مَرَّتَيْنِ وَضَرْبُ نَكَالٍ وَمَا أُخِذَ مِنْ عَطَنِهِ فَفِيهِ الْقَطْعُ إِذَا بَلَغَ مَا يُؤْخَذُ مِنْ ذَلِكَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَالثِّمَارُ وَمَا أُخِذَ مِنْهَا فِي أَكْمَامِهَا قَالَ مَنْ أَخَذَ بِفِيهِ وَلَمْ يَتَّخِذْ خُبْنَةً فَلَيْسَ عَلَيْهِ شَيْءٌ وَمَنِ احْتَمَلَ فَعَلَيْهِ ثَمَنُهُ مَرَّتَيْنِ وَضَرْبٌ نَكَالٌ وَمَا أُخِذَ مِنْ أَجْرَانِهِ فَفِيهِ الْقَطْعُ إِذَا بَلَغَ مَا يُؤْخَذُ مِنْ ذَلِكَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس محفوظ جانور کے بارے میں جو کہ اپنی چراگاہ میں تھا سوال کیا گیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی چوری میں دگنی قیمت ہوگی اور چور کو سزا بھی دی جائے گی اور جو جانوروں کے باڑے سے چرا لیا جائے گا، اس میں ہاتھ کاٹا جائے گا، بشرطیکہ وہ ڈھال کی قیمت کے برابر ہو۔ سائل نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان پھلوں کے متعلق کیا حکم ہے جو گابھے اور شگوفے سے چرا لیے جائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے صرف کھا لیا اور کپڑے میں ڈال کر نہ لے گیا،اس پر کوئی پکڑ نہیں اور جو کپڑے میں اٹھا کر لے جائے گا تو اسے اس کی دو گناقیمت دینا پڑے گی اور مار اور سزا بھی ساتھ ہوگی اور جو کھجور کھلیان جیسے محفوظ مقام سے چرائی جائے گی، اس میں ہاتھ کاٹا جائے گا، بشرطیکہ وہ ڈھال کی قیمت کو پہنچ جائے۔ [الفتح الربانی/أبواب حد السرقة/حدیث: 6759]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه ابوداود: 1710، والنسائي: 8/ 85، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6683 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6683»
وضاحت: فوائد: … جانوروں کے باڑے اور کھجور وغیرہ کے کھلیان محفوظ مقام ہیں، اس لیے وہاں سے اٹھائی ہوئی چیز کو چوری کہا جائے گا۔ چراگاہ حفاظت والا مقام نہیں ہے، اس لیے اس مقام سے چوری کرنے سے ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ پچھلے باب کے شروع میں چوری کی تعریف ملاحظہ کر لیں۔
باغ سے گزرنے والا اپنی ضرورت کے مطابق باغ کا پھل کھا سکتا ہے۔
یہ مسلمان کے مال کی حرمت ہے کہ دوگنا جرمانہ بھی ڈالا جا رہا ہے اور سزا بھی دی جا رہی ہے۔
باغ سے گزرنے والا اپنی ضرورت کے مطابق باغ کا پھل کھا سکتا ہے۔
یہ مسلمان کے مال کی حرمت ہے کہ دوگنا جرمانہ بھی ڈالا جا رہا ہے اور سزا بھی دی جا رہی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6760
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ عَلَى الْمُنْتَهِبِ قَطْعٌ وَمَنِ انْتَهَبَ نُهْبَةً مَشْهُورَةً فَلَيْسَ مِنَّا وَقَالَ لَيْسَ عَلَى الْخَائِنِ قَطْعٌ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ڈاکو پر ہاتھ کاٹنے کی سزا نہیں ہے اور جس نے واضح طور پر ڈاکہ مارا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خیانت کرنے والے پر بھی ہاتھ کاٹنے کی سزا نہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب حد السرقة/حدیث: 6760]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابوداود: 4391، 4392، وابن ماجه: 2591، والترمذي: 1448، والنسائي: 8/ 88، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15070 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15136»
وضاحت: فوائد: … اصحاب السنن کی روایات میں ((وَلَا الْمُخْتَلِس)) کا اضافہ بھی ہے، اس کے معنی ہیں: غفلت سے فائدہ اٹھا کر چیز کو اچک لینے والا، یعنی ایسے شخص کا بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
خائن سے مرادوہ شخص ہے کہ جس کے پاس لوگ امانتیں رکھتے ہیں، لیکن وہ ان کو استعمال کر کے ضائع کر دیتا ہے۔
خائن سے مرادوہ شخص ہے کہ جس کے پاس لوگ امانتیں رکھتے ہیں، لیکن وہ ان کو استعمال کر کے ضائع کر دیتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6761
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَتْ مَخْزُومِيَّةٌ تَسْتَعِيرُ الْمَتَاعَ وَتَجْحَدُهُ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقَطْعِهَا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مخزوم قبیلے کی ایک عورت سامان ادھار لیتی تھی اور پھر انکار کر دیتی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ [الفتح الربانی/أبواب حد السرقة/حدیث: 6761]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه النسائي: 8/71، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6383 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6383»
وضاحت: فوائد: … بظاہر اس حدیث ِ مبارکہ سے اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ عاریۃً لی ہوئی چیز کا انکار کر دینے کی وجہ سے اس عورت کا ہاتھ کاٹا گیا، لیکن جمہور اہل علم کی رائے یہ ہے کہ ایسے انکار کی وجہ سے تو ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا، جبکہ بعض احادیث ِ صحیحہ میں اس امر کی وضاحت بھی کر دی گئی ہے کہ اس عورت نے چوری کی تھی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چوری کی وجہ سے ہاتھ کاٹا تھا، اس حدیث کو اختصار پر محمول کیا جائے گا۔
الحكم على الحديث: صحیح