🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. بَابُ اعْتِبَارِ الْحَرَرُ وَمَا جَاءَ فِي الْمُخْتَلِسِ وَالْمُتَهَبِ وَالْخَائِنِ وَجَاحِدِ الْعَارِيَةِ وَمَا لَا قَطعَ فِيهِ
چوری میں محفوظ جگہ کا اعتبار کرنے کا بیان اور لوٹنے والے، ڈاکہ ڈالنے والے، خیانت کرنے والے اور عاریہ کا انکار کرنے والے کا بیان اور ان چیزوں کی وضاحت جن میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6762
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَرَقَ غُلَامٌ لِنُعْمَانَ الْأَنْصَارِيِّ نَخْلًا صِغَارًا فَرُفِعَ إِلَى مَرْوَانَ فَأَرَادَ أَنْ يَقْطَعَهُ فَقَالَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يُقْطَعُ فِي الثَّمَرِ وَلَا فِي الْكَثَرِ قَالَ قُلْتُ لِيَحْيَى مَا الْكَثَرُ قَالَ الْجُمَّارُ
۔ محمد بن یحییٰ بن حبان بیان کرتے ہیں کہ سیدنا نعمان انصاری رضی اللہ عنہ کے ایک غلام نے چھوٹی چھوٹی کھجوریں چوری کر لیں،جب اس کا معاملہ مروان کی عدالت میں پیش کیا گیا تو اس نے اس چور کا ہاتھ کاٹنے کا ارادہ کیا، لیکن سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھل اور کھجور کے درخت کے گوند کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ میں نے یحییٰ سے کہا: کَثَر سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: جُمَّار (کھجور کے درخت کا گوند)۔ [الفتح الربانی/أبواب حد السرقة/حدیث: 6762]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه النسائي في ’’الكبري‘‘: 7452، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15814 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15907»
وضاحت: فوائد: … اس کی وجہ یہ ہے کہ باغ حفاظت کی جگہ نہیں ہے، اس باب کی پہلی حدیث میں باغ کا مسئلہ بیان کیا گیا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ الْقَطْعِ بِالْإِقْرَارِ وَهَلْ يَكْتَفِي فِيهِ بِالْمَرَّةِ وَتَلْقِينِ الْحَدِ وَحَسَمِ الْيَدِ بَعْدَ قَطْعِهَا
چور کے اقرار پر ہاتھ کاٹنے، حد کے بارے میں تلقین کرنے اور کاٹنے کے بعد ہاتھ کو داغنے کا بیان، نیز اس چیز کا بیان کہ کیا ایک مرتبہ چوری کا اعتراف کافی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6763
عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلِصٍّ فَاعْتَرَفَ وَلَمْ يُوجَدْ مَعَهُ مَتَاعٌ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا إِخَالُكَ سَرَقْتَ قَالَ بَلَى مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اقْطَعُوهُ ثُمَّ جِيئُوا بِهِ قَالَ فَقَطَعُوهُ ثُمَّ جَاءُوا بِهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُلْ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ قَالَ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ
۔ سیدنا ابو امیہ مخزومی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا، اس نے چوری کا اعتراف تو کیا، لیکن اس کے پاس سامان نہیں تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: میرا خیال ہے تو نے چوری نہیں کی۔ اس نے کہا: کیوں نہیں، میں نے چوری کی ہے،دو یا تین مرتبہ ایسے ہی کہا گیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کا ہاتھ کاٹ دو اور پھر اس کو میرے پاس لے آؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تو کہہ: أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَأَتُوْبُ إِلَیْہِ (میں اللہ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتاہوں)۔ اس نے کہا: أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَأَتُوْبُ إِلَیْہِ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! تو اس کی توبہ قبول فرما۔ [الفتح الربانی/أبواب حد السرقة/حدیث: 6763]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 4380، وابن ماجه: 2597، والنسائي: 8/ 67، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22508 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22875»
وضاحت: فوائد: … چوری میں ایک سے زائد اعتراف کروانا ضروری ہے یا نہیں، ہم حدیث نمبر (۶۶۹۲)کی شرح میں اس مسئلہ کی وضاحت کر چکے ہیں۔ بیہقی اور دارقطنی کی روایتیوں ہے: ((اِقْطَعُوْا ثُمَّ احْسِمُوْہُ۔)) … اس کا ہاتھ کاٹ دو اور پھر اس کو داغ دو۔ لیکنیہ روایت ضعیفہے، (دیکھیں: ارواء الغلیل: ۸/ ۱۲۰)
داغنے کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ خون رک جائے۔
اگرچہ حدود کفارہ ہیں، لیکن اس موقع پر توبہ و استغفار کا حکم دینے کی وجہ یہ ہے کہ مجرم کے اندر یہ تصور مضبوط ہو جانا چاہئے کہ اس کے ساتھ جو کچھ کیا گیا ہے، وہ اس کے اپنے جرم کے بدلے میں ہے، لہذا وہ استغفار اور ندامت کا اظہار کرے، نیز اس عمل سے اس کے اندر حوصلہ بھی پیدا ہو گا اور ذلت اور پریشانی کے اثرات کم ہو جائیں گے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بابُ هَلْ يُقْطَعُ العَبْدُ إِذَا سَرَقَ مِنْ. ا سَرَقَ مِنْ سَيِّدِهِ؟ وَمَا حُكْمُ الْعَبْدِ الْآبِقِ إِذَا سَرَقَ
جب غلام، آقا کی چوری کرے تو کیا اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا، نیز بھاگے ہوئے غلام کا حکم کیا ہے، جب وہ چوری کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6764
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَرَقَ الْعَبْدُ فَبِيعُوهُ وَلَوْ بِنَشٍّ يَعْنِي بِنِصْفِ أُوقِيَّةٍ
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب غلام چوری کرے تو اسے فروخت کر دو، اگرچہ نصف اوقیہ کے عوض بیچنا پڑے۔ [الفتح الربانی/أبواب حد السرقة/حدیث: 6764]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عمر بن ابي سلمة ضعيف فيمايتفرد به، أخرجه ابوداود: 4412، والنسائي: 8/ 91، وابن ماجه: 2589، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8451 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8432»
وضاحت: فوائد: … ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6765
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَبَقَ الْعَبْدُ وَقَالَ مَرَّةً إِذَا سَرَقَ فَبِيعُوهُ وَلَوْ بِنَشٍّ وَالنَّشُّ نِصْفُ الْأُوقِيَّةِ
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب غلام بھاگ جائے، راوی نے ایک بار یہ الفاظ کہے: جب غلام چوری کرے تو اسے فروخت کر دے، اگرچہ بیس درہم کے عوض فروخت کرنا پڑے۔ [الفتح الربانی/أبواب حد السرقة/حدیث: 6765]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9018»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث تو ضعیف ہے، البتہ درج ذیل حدیث ملاحظہ کریں:
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک لونڈی نے زنا کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اس پر حد قائم کروں، لیکن جب میں اس کے پاس آیا تو اس کو اس حال میں پایا کہ ابھی اس کا نفاس کا خون خشک نہیں ہوا تھا، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آ گیااور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صورتحال پر مطلع کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا جَفَّتْ مِنْ دَمِہَا فَأَقِمْ عَلَیْہَا الْحَدَّ، أَقِیْمُوْا الْحُدُوْدَ عَلٰی مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ۔ …)) جب اس کا خون خشک ہو جائے تو پھر اس کو حد لگانا،اپنے غلاموں پر بھی حدیں قائم کیا کرو۔ دیکھیں: حدیث نمبر (۶۷۲۱)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غلاموں اور لونڈیوں پر حدود نافذ کی جائیں گی، جب تک ان کو مستثنی کرنے والی کوئی واضح نص نہ آ جائے۔
امام مالک، امام شافعی اور عام اہل علم کییہی رائے ہے کہ چوری کی حدّ غلام اور لونڈی پر نافذ کی جائے گی۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بابُ أَي الْيَدَيْنِ تُقْطَعُ أَولَا فِي السَّرِقَةِ وَمَوْضِعِ الْقَطْعِ وَتَعْلِيقِ يَدِ السَّارِقِ فِي عُنُقِهِ، وَمَا يُفْعَلُ فِيمَنْ تَكَرَّرَتْ مِنْهُ السَّرِقَةُ وَقَوْلِ الْمُفْسِرِينَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: «وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا»
ان امور کا بیان کہ چوری میں پہلے کون سا ہاتھ کاٹا جائے، کاٹنے کا جگہ، ہاتھ کاٹ کر چور کی گردن میں لٹکانا، بار بار چوری کرنے والے کی سزا اور اس آیت کے بارے میںمفسرین کے اقوال: ’’اور چوری کرنے والا مرد اور عورت،پس ان دونوں کے ہاتھ کاٹ دو‘‘
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6766
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ قَالَ سَمِعْتُ حَجَّاجًا يَذْكُرُ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ لِفَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَرَأَيْتَ تَعْلِيقَ يَدِ السَّارِقِ فِي الْعُنُقِ أَمِنَ السُّنَّةِ قَالَ نَعَمْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِسَارِقٍ فَأَمَرَ بِهِ فَقُطِعَتْ يَدُهُ ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَعُلِّقَتْ فِي عُنُقِهِ قَالَ حَجَّاجٌ وَكَانَ فَضَالَةُ مِمَّنْ بَايَعَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ قُلْتُ لِيَحْيَى بْنِ مَعِينٍ سَمِعْتَ مِنْ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيِّ شَيْئًا قَالَ أَيُّ شَيْءٍ كَانَ عِنْدَهُ قُلْتُ حَدِيثُ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ فِي تَعْلِيقِ الْيَدِ فَقَالَ لَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ عَنْهُ
۔ عبد الرحمن بن محیریز سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا چور کا ہاتھ کاٹنے کے بعد اس کی گردن میں لٹکانا سنت ہے، اس بارے میں تیرا کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، پس اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا اور وہ ہاتھ اس کی گردن میں لٹکا دیا گیا۔ حجاج کہتے ہیں: سیدنا فضالہ رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں سے ہیں، جنہوں نے حدیبیہ کے مقام پر درخت کے نیچے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی تھی۔ ابو عبد الرحمن عبد اللہ بن احمد کہتے ہیں: میں نے یحییٰ بن معین سے کہا: کیا آپ نے عمر بن علی مقدمی سے کچھ سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ان کے پاس کیا تھا جو میں سنتا؟ میں نے کہا: سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ والی وہ حدیث، جس میں چور کا ہاتھ کاٹ کر اس کی گردن میں لٹکانے کا ذکر ہے، انہوں نے کہا: نہیں، البتہ عفان نے ہمیں ان سے بیان کیا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب حد السرقة/حدیث: 6766]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، حجاج بن ارطاة ليس بذاك القوي، وھو مدلس وقد عنعنه، أخرجه ابوداود: 4411، والترمذي: 1447، والنسائي: 8/ 92، وابن ماجه: 2587، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23946 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24444»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث ضعیف ہے اور کوئی ایسی صحیح حدیث نہیں ہے، جو اس بات پر دلالت کرے کہ چور کا کٹا ہوا ہاتھ اس کی گردن میں لٹکا دیا جائے۔ واللہ اعلم بالصواب
سیدنا حارث بن حاطب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اِنَّ رَسُولَ اللّٰہِV أُتِیَ بِلِصٍّ فَقَالَ: ((اقْتُلُوہُ))
فَقَالُوا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّمَا سَرَقَ، فَقَالَ: ((اُقْتُلُوہُ)) قَالُوا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّمَا سَرَقَ، قَالَ: ((اِقْطَعُوا یَدَہُ)) قَالَ ثُمَّ سَرَقَ فَقُطِعَتْ رِجْلُہُ ثُمَّ سَرَقَ عَلَی عَہْدِ أَبِی بَکْرٍ رضی اللہ عنہ حَتّٰی قُطِعَتْ قَوَائِمُہُ کُلُّہَا ثُمَّ سَرَقَ أَیْضًا الْخَامِسَۃَ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ رضی اللہ عنہ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِV أَعْلَمَ بِہٰذَا حِینَ قَالَ ((اُقْتُلُوہُ)) ثُمَّ دَفَعَہُ إِلَی فِتْیَۃٍ مِنْ قُرَیْشٍ لِیَقْتُلُوہُ مِنْہُمْ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الزُّبَیْرِ وَکَانَ یُحِبُّ الْإِمَارَۃَ فَقَالَ أَمِّرُونِی عَلَیْکُمْ فَأَمَّرُوہُ عَلَیْہِمْ، فَکَانَ إِذَا ضَرَبَ ضَرَبُوہُ حَتّٰی قَتَلُوہُ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو قتل کردو۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے تو چوری کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: اس کو قتل کر دو۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے چوری کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اس کا ہاتھ کاٹ دو۔ اس نے پھر چوری کی تو اس کا پاؤں کاٹ دیا گیا، پھر اس نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں چوریاں کیں،یہاں تک کہ اس کے تمام ہاتھ پاؤں کو کاٹ دیا گیا، پھر جب اس نے پانچویں بار چوری کی تو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو قتل کرنے کی بات کی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو زیادہ جاننے والے تھے، پھر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس چور کو قریشی نوجوانوں کے سپرد کیا، تاکہ وہ اس کو قتل کر دیں، ان میں سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بھی تھے، جو کہ امارت کو پسند کرتے تھے، اس لیے انھوں نے ان نوجوانوں سے کہا: تم اس معاملے میں مجھے اپنا امیر بناؤ، پس انھوں نے اس کو امیر بنایا، پس جب وہ ضرب لگاتا تو تب دوسرے نوجوان ضرب لگاتے، یہاں تک کہ انھوں نے اس کو قتل کر دیا۔ (نسائی:۴۹۸۰)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان اس کو قتل کر دو سے آپ کا مقصود یہ نہ تھا کہ اس کو واقعی قتل کر دیا جائے، بلکہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی تھی کہ اس کا انجام کار قتل ہو گا، جو اس کے حق میں پوری ہوئی،یہ بھی ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعۂ وحی بتا دیا گیا ہو کہ یہ شخص باز نہیں آئے گا اور بالآخر اسے قتل کرنا پڑے گا۔صحابۂ کرام e نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل میں تردد اس لیے کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود چور کی سزا ہاتھ کاٹنا بتائی تھی،یہ بھی ممکن ہے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اندازِ گفتگو سے یہ اندازہ لگا رہے ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصود قتل نہیں ہے۔ پہلی چوری پر چور کا دایاں ہاتھ کاٹا جائے گا، اس کے بعد جمہور اہل علم کے نزدیک دوسری چوری پر بایاں پاؤں، تیسری چوری پر بایاں ہاتھ اور چوتھی چوری پر دایاں پاؤں کاٹ دیا جائے گا، اگروہ پانچویں بار چوری کرے تو اس کے بارے میں دو آراء ہیں، ایک کہ اس کو قتل کر دیا جائے گا، جیسا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیا اور دوسری کہ اس کو جیل میں ڈال دیا جائے گا۔ واللہ اعلم بالصواب! چور کا ہاتھ اس کی کلائی سے کاٹا جائے گا۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. بَابُ حَدِ الْقَطْعِ وَغَيْرِهِ هَلْ يُسْتَوْفِي فِي دَارِ الْحَرْبِ أم لا؟
ہاتھ کاٹنے وغیرہ کی حد کا بیان، نیز کیا دار الحرب میں پوری سزا دی جائے گییا نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6767
عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ عَلَى الْمِنْبَرِ بِرُودَسَ حِينَ جَلَدَ الرَّجُلَيْنِ اللَّذَيْنِ سَرَقَا غَنَائِمَ النَّاسِ فَقَالَ إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي مِنْ قَطْعِهِمَا إِلَّا أَنِّي سَمِعْتُ بُسْرَ بْنَ أَرْطَاةَ وَجَدَ رَجُلًا سَرَقَ فِي الْغَزْوِ يُقَالُ لَهُ مَصْدَرٌ فَجَلَدَهُ وَلَمْ يَقْطَعْ يَدَهُ وَقَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقَطْعِ فِي الْغَزْوِ
۔ جنادہ بن ابی امیہ نے روڈس جزیرہ میں ان دو آدمیوں پر حد لگائی، جنہوں نے مال غنیمت سے چوری کی تھی اور پھر منبر پر چڑھ کر کہا:میں نے ان کے ہاتھ اس لئے نہیں کاٹے، کیونکہ میں نے سیدنا بسر بن ارطاۃ رضی اللہ عنہ سے سنا، انھوں نے مصدر نامی ایک آدمی کو اس حال میں پایا کہ اس نے غزوہ کے دوران چوری کی تھی، تو انہوں نے اسے کوڑے مارے، ہاتھ نہیں کاٹا،نیز انھوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں غزوہ کے دوران ہاتھ کاٹنے سے منع کیاہے۔ [الفتح الربانی/أبواب حد السرقة/حدیث: 6767]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه الترمذي: 1450، ورواه ابوداود مختصرا: 4408، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:17626 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17776»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6768
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ كُنْتُ عِنْدَ بُسْرِ بْنِ أَرْطَاةَ فَأُتِيَ بِمَصْدَرٍ قَدْ سَرَقَ بُخْتِيَّةً فَقَالَ لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا عَنِ الْقَطْعِ فِي الْغَزْوِ لَقَطَعْتُكَ فَجَلَدَ ثُمَّ خَلَّى سَبِيلَهُ
۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں: میں سیدنا بسر بن ارطاۃ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، مصدرکو ان کے پاس لایا گیا، اس نے ایک بختی اونٹ کی چوری کی تھی، سیدنا بسر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غزوے میں ہاتھ کاٹنے سے منع کرتے ہوئے نہ سنا ہوتا تو میں نے تیرا ہاتھ کاٹ دینا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب حد السرقة/حدیث: 6768]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17777»
وضاحت: فوائد: … سنن نسائی (۴۹۸۲) کی روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَا تُقْطَعُ الْاَیْدِیْ فِیْ السَّفَرِ۔)) … سفر میں چور کے ہاتھ نہ کاٹے جائیں۔ لیکن سفر سے مراد جنگ کا سفر ہے، جیسا کہ اس باب کی حدیث سے معلوم ہو رہا ہے، جنگ کے سفر میں بڑا مقصود دشمن کی شکست ہے، اس لیے اسی پر توجہ دی جائے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ ایسے موقع پر ہاتھ نہ کاٹنے کی وجہ یہ ہو کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ شخص مشتعل ہو کر دشمنوں کے علاقے میں بھاگ جائے اور ان کے ساتھ مل کر مرتدّ ہو جائے۔ لیکن اس حکم کا یہ مطلب نہیں ہے کہ حد بالکل ساقط کر دی جائے، بلکہ جب سفر سے واپسی ہو گی تو حد لگائی جائے گی، کیونکہ شریعت کی مقررہ حدود ساقط نہیں ہو سکتیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6769
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ جَاهِدُوا النَّاسَ فِي اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْقَرِيبَ وَالْبَعِيدَ وَلَا تُبَالُوا فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ وَأَقِيمُوا حُدُودَ اللَّهِ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی خاطرقریب اور دور والوں سے جہاد کرو اور اللہ تعالیٰ کے لیے کسی ملامت کرنیوالے کی ملامت کی پرواہ نہ کرو اور حضر وسفر میں اللہ تعالیٰ کی حدیں قائم کرو۔ [الفتح الربانی/أبواب حد السرقة/حدیث: 6769]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه ابن ماجه: 2850، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22699 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23075»
وضاحت: فوائد: … مسافر اللہ تعالی کی حدود سے مستثنی نہیں ہے، البتہ اس باب کی پہلی حدیث سے معلوم ہوا کہ سفرِ جنگ میں حد کے نفاذ میں تاخیر کی رخصت دی جائے گی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
«12