🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. بَابُ النَّهْي عَنِ الْجَمْعِ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّيْهَا وَنَحْوِهَا مِنَ الْمَحَارِمِ
عورت اور اس کی پھوپھی کو اور اس قسم کی محرم خواتین کو ایک نکاح میںجمع کرنے سے ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6946
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَالْعَمَّةُ عَلَى بِنْتِ أَخِيهَا وَالْمَرْأَةُ عَلَى خَالَتِهَا وَالْخَالَةُ عَلَى بِنْتِ أُخْتِهَا لَا تُنْكَحُ الْكُبْرَى عَلَى الصُّغْرَى وَلَا الصُّغْرَى عَلَى الْكُبْرَى
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ پھوپھی پر اس کی بھتیجی سے، بھتیجی پر اس کی پھوپھی سے، خالہ پر اس کی بھانجی سے اور بھانجی پر اس کی خالہ سے نکاح کیا جائے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے بھی منع فرمایا کہ چھوٹی پر بڑی سے اور بڑی پر چھوٹی سے شادی کی جائے۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6946]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابوداود: 2065، والترمذي: 1126، والنسائي: 6/ 98، وعلقه البخاري باثر الحديث (5108)، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9500 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9496»
وضاحت: فوائد: … بڑی سے مراد خالہ یا پھوپھی ہے اور چھوٹی سے مراد بھانجییا بھتیجی ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6947
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَلَا عَلَى خَالَتِهَا
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس عورت سے شادی نہ کی جائے، جس کی پھوپھی اور خالہ پہلے سے موجود ہوں۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6947]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه البزار: 888، وابويعلي: 360، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 577 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 577»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6948
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6948]
تخریج الحدیث: «صحيح،أخرجه الطبراني، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6770 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6770»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6949
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى فَذَكَرَ خِصَالًا نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا مِنْهَا أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا وَبَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ امور سے منع کیا، پھر انھوں نے ان امور کو شمار کیا، ان میں سے ایک چیزیہ تھی: لڑکی اور اس کی خالہ اور لڑکی اور اس کی پھوپھی کو ایک نکاح میں جمع کرنا۔ یعنی یہ ان امور میں سے تھا، جن سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع کیا تھا۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6949]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابويعلي: 1268، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11637 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11660»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6950
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَلَا عَلَى خَالَتِهَا وَلَا الْمَرْأَةُ عَلَى ابْنَةِ أَخِيهَا وَلَا عَلَى ابْنَةِ أُخْتِهَا
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھوپھی پر اس کی بھتیجی سے، خالہ پر اس کی بھانجی سے، بھتیجی پر اس کی پھوپھی سے اور بھانجی پر اس کی خالہ سے نکاح نہ کیا جائے۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6950]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5108، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14633 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14687»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5108
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6951
عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ يَجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَبَيْنَ خَالَةِ أَبِيهَا وَالْمَرْأَةِ وَخَالَةِ أُمِّهَا وَبَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّةِ أَبِيهَا وَالْمَرْأَةِ وَعَمَّةِ أُمِّهَا، فَقَالَ: قَالَ قَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا وَبَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا، فَنَرَى خَالَةَ أُمِّهَا بِتِلْكَ الْمَنْزِلَةِ وَإِنْ كَانَ مِنَ الرِّضَاعِ يَكُونُ مِنْ ذَلِكَ بِتِلْكَ الْمَنْزِلَةِ.
۔ ابن شہاب سے مروی ہے کہ ان سے ایک آدمی کے متعلق سوال کیا گیا جو اپنے نکاح میں ایک عورت اور اس کے باپ کی خالہ یا اس کی ماں کی خالہ کو جمع کرتا ہے اور عورت اور اس کے باپ کی پھوپھی یا اس کی ماں کی پھوپھی کو جمع کرتا ہے۔ انھوں نے جواباً کہا: قبیصہ بن ذؤیب نے بیان کیا کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ ایک نکاح میں عورت اور اس کی خالہ کو اور عورت اور اس کی پھوپھی کوجمع کیا جائے۔ ہمارا خیال ہے کہ عورت کی ماں کی خالہ اس کی اپنی خالہ کے قائم مقام ہے اور اگر اس طرح کا رضاعی رشتہ ہو تو اس کا بھی یہی حکم ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6951]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه المرفوع منه محمد بن نصر في ’’السنة‘‘: 272، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9834 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9833»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6952
عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: جَاءَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَلْ لَكَ فِي أُخْتِي؟ قَالَ: ( (فَأَصْنَعُ بِهَا مَاذَا؟) ) قَالَتْ: تَزَوَّجْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (وَتُحِبِّينَ ذَلِكَ؟) ) فَقَالَتْ: نَعَمْ، لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ وَأَحَقُّ مَنْ شَرِكَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي) ) قَالَتْ: فَوَاللَّهِ! لَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَخْطُبُ دُرَّةَ ابْنَةَ أُمِّ سَلَمَةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَوْ كَانَتْ تَحِلُّ لِي لَمَا تَزَوَّجْتُهَا، قَدْ أَرْضَعَتْنِي وَأَبَاهَا ثُوَيْبَةُ مَوْلَاةُ بَنِي هَاشِمٍ فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ أَخَوَاتِكُنَّ وَلَا بَنَاتِكُنَّ) ) .
۔ سیدنا ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا آئیں اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کو میری بہن کی رغبت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اس کو کیا کروں؟انھوں نے کہا: آپ اس سے شادی کرلیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم یہ پسند کرتی ہو؟ انھوں نے کہا: جی ہاں اورپہلے کون سی اکیلی ہوں، اور میری بہن سب سے زیادہ حقدار ہے کہ وہ اس خیر وبھلائی میں میرے ساتھ شریک ہو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ میرے لئے حلال نہیں۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے تو یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ آپ نے درہ بنت ام سلمہ کو منگنی کا پیغام بھیجا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ میرے لیے حلال ہوتی تو پھر بھی میں اس سے شادی نہ کر سکتا، کیونکہ بنو ہاشم کی لونڈی ثویبہ نے مجھے اور اس کے باپ کو دودھ پلایا ہے، پس اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو مجھ پر پیش نہ کرو۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6952]
تخریج الحدیث: «صحيح من حديث ام حبيبة بنت ابي سفيان كما في البخاري ومسلم، أخرجه ابوداود: 2056، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26493 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27026»

الحكم على الحديث:
صحيح من حديث ام حبيبة بنت ابي سفيان كما في البخاري ومسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6953
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَقِيتُ خَالِي وَمَعَهُ الرَّايَةُ فَقُلْتُ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ مِنْ بَعْدِهِ أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ أَوْ أَقْتُلَهُ وَآخُذَ مَالَهُ.
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں اپنے ماموں کو اس حال میں ملا کہ ان کے پاس ایک جھنڈا تھا، میں نے کہا: آپ کہاں جا رہے ہیں: انھوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک ایسے آدمی کی طرف بھیجا ہے، جس نے اپنے باپ کی وفات کے بعد اس کی بیوی سے نکاح کر لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اس لئے بھیجا کہ میں اس کی گردن اڑا دو، یا اس کو قتل کر دوں اور اس کا مال لوٹ لاؤں۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6953]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، وانظر الاروائ: 8/ 33، أخرجه ابوداود: 4456، والنسائي: 6/ 109، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18557 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18756»
وضاحت: فوائد: … کون کون سی خواتین کو ایک آدمی کے نکاح میں جمع نہیں کیا جا سکتا، دو بہنوںکا ذکر قرآن مجید میں ہے، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: {وَأَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْأُخْتَیْنِ} … ”(اور تم پر حرام کیا گیا ہے کہ) تم دو بہنوں کو لیکن اس باب کی احادیث سے پتہ چلا کہ خالہ اور اس کی بھانجی اور پھوپھی اور اس کی بھتیجی کو بھی ایک نکاح میں جمع نہیں کیا جا سکتا، رضاعی رشتوں کا بھی اسی طرح لحاظ رکھا جائے گا۔
اس بحث سے ثابت ہوا کہ احادیث ِ مبارکہ بنفس نفیس حجت ہیں، ان کو قرآن مجید کے مفہوم پر پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، غور کریں کہ اللہ تعالی نے دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرنے سے منع کر کے فرمایا: {وَأُحِلَّ لَکْمْ مَّا وَرَائَ ذٰلِکُمْ} … ”اور ان عورتوں کے سوا اور عورتیں تمہارے لیے حلال کی گئیں ہیں۔“ (سورۂ نسائ: ۲۴)
لیکن احادیث ِ مبارکہ نے خالہ اور بھانجی،پھوپھی اور بھتیجی اور رضاعی رشتوں کا اضافہ کر دیا،
شارح ابوداود علامہ شرف الحق عظیم آبادی نے کہا: خارجیوں اور شیعوں کے بعض گروہوں نے {وَأُحِلَّ لَکْمْ مَّا وَرَائَ ذٰلِکُمْ} سے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ بھتیجی اور پھوپھی اور خالہ اور بھانجی کو ایک نکاح میں جمع کرنا درست ہے، لیکن جمہور اہل علم نے اِن احادیث سے حجت پکڑی اور اِن کی روشنی میں قرآن مجید کے عموم کی تخصیص کر دی اور ان دو رشتوں کو ایک نکاح میں جمع کرنے سے منع کر دیا، راجح بات جمہور اصولیوں کی ہی ہے کہ خبر و احد کے ذریعے قرآن مجید کے عموم کی تخصیص کی جا سکتی ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی طرف نازل ہونے والے کلام کی وضاحت کرنے والے ہیں۔ (عون المعبود: ۱/ ۹۷۰)

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
27. بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ
کسی شخص کا اپنے باپ کی بیوی سے شادی کرلینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6954
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَقِيتُ خَالِي، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ الْمُتَقَدِّمَ وَفِي آخِرِهِ: قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: مَا حَدَّثَ أَبِي عَنْ أَبِي مَرْيَمَ عَبْدِ الْغَفَّارِ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ لِعِلَّتِهِ.
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اپنے ماموں کو ملا، … پھر اوپر والی حدیث بیان کی، … البتہ اس کے آخر میں ہے، ابو عبد الرحمن نے کہا: میرے باپ نے ابو مریم عبد الغفار سے صرف یہ حدیث بیان کی ہے، کیونکہ اس میں علت موجود ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6954]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، وانظر الاروائ: 8/ 33، أخرجه ابوداود: 4456، والنسائي: 6/ 109، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18557 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18811»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6955
حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ قَالَ: ثَنَا مُطَرِّفٌ عَنْ أَبِي الْجَهْمِ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنِّي لَأَطُوفُ عَلَى إِبِلٍ ضَلَّتْ لِي فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَنَا أَجُولُ فِي أَبْيَاتٍ فَإِذَا أَنَا بِرَكْبٍ وَفَوَارِسَ إِذْ جَاءُوا فَطَافُوا بِفِنَائِي فَاسْتَخْرَجُوا رَجُلًا فَمَا سَأَلُوهُ وَلَا كَلَّمُوهُ حَتَّى ضَرَبُوا عُنُقَهُ، فَلَمَّا ذَهَبُوا سَأَلْتُ عَنْهُ فَقَالُوا: عَرَّسَ بِامْرَأَةِ أَبِيهِ.
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہدمبارک میں میرے اونٹ گم ہو گئے، پس میں مختلف گھروں میں چکر لگا رہا تھا، اچانک میں نے ایک قافلہ اور گھوڑ سوار دیکھے، وہ آگے بڑھے اور میرے صحن میں گھومے، انھوں نے ایک آدمی کو نکالنے کا مطالبہ کیا، پھر نہ انھوں نے اس سے کوئی سوال کیا اور نہ اس سے کوئی بات کی،یہاں تک کہ اس کی گردن اڑا دی، جب وہ چلے گئے تو میں نے اس کے بارے میں پوچھا، لوگوں نے بتایا کہ اس نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کر لیا تھا۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6955]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، وانظر المصدر المذكور في الحديث رقم: 6954 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18809»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں