الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. بَابُ جَوَازِ التزويج عَلَى الْقَلِيلِ وَالكَثيرِ وَاسْتِحْبَابِ الْقَصْدِ فِيهِ
مہر کی قلیل اور کثیر مقدار پر شادی کرنے کے جواز اور معتدل چیز کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6927
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا كَمْ كَانَ صَدَاقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ صَدَاقُهُ لِأَزْوَاجِهِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً وَنَشًّا قَالَتْ أَتَدْرِي مَا النَّشُّ قُلْتُ لَا قَالَتْ نِصْفُ أُوقِيَّةٍ فَتِلْكَ خَمْسُ مِائَةِ دِرْهَمٍ فَهَذَا صَدَاقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ ابو سلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتنامہر دیتے تھے، انھوں نے کہا:آپ کی بیویوں کا مہر ساڑھے بارہ اوقیے تھا۔پھر انھوں نے کہا: تجھے نَشّ کا پتہ ہے؟ میں نے کہا: نہیں، انھوں نے کہا: اس سے مراد نصف اوقیہ ہے، یہ ساڑھے بارہ اوقیے کل پانچ سو درہم بنتے ہیں،یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں کا حق مہر تھا۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6927]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الشافعي في ’’مسنده‘‘: 2/ 5، والبيھقي في ’’معرفة السنن والآثار‘‘: 14232، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24626 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25133»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 6928
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ وَكَانَ أَتَى النَّجَاشِيَّ فَمَاتَ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ أُمَّ حَبِيبَةَ وَإِنَّهَا بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ زَوَّجَهَا إِيَّاهُ النَّجَاشِيُّ وَأَمْهَرَهَا أَرْبَعَةَ آلَافٍ ثُمَّ جَهَّزَهَا مِنْ عِنْدِهِ وَبَعَثَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَعَ شَرَحْبِيلَ بْنِ حَسَنَةَ وَجِهَازُهَا كُلُّهُ مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ وَلَمْ يُرْسِلْ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ وَكَانَ مُهُورُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ مِائَةِ دِرْهَمٍ
۔ سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا، عبیداللہ بن حجش کے عقد میں تھیں،جب وہ نجاشی کے پاس آیا تو وہاں فوت ہو گیا،بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہاسے شادی کرلی، جبکہ وہ ابھی تک حبشہ کی سرزمین میں تھیں، نجاشی نے وکیل بن کر ان کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شادی کی اور ان کا حق مہر چار ہزار درہم ادا کیا، پھر اس نے اپنے پا س سے سیدہ کو تیارکیا اور ان کو سیدنا شرحبیل بن حسنہ کے ہمراہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھیج دیا، ان کی ساری تیاری نجاشی کی طرف سے تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف کوئی چیز نہیں بھیجی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دیگر بیویوں کا مہر چار سو درہم تھا۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6928]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه ابوداود: 2107، والنسائي: 6/ 119، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27408 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27953»
وضاحت: فوائد: … حق مہر کی مقدار کیا ہونی چاہیے؟ اگلے باب کے آخر میں وضاحت کی گئی ہے۔
الحكم على الحديث:
صحيح
20. بَابُ مَنْ جَعَلَ الْعِلْقَ صَدَاقًا وَكَذَالِكَ تَعْلِيمُ بَعْضِ الْقُرْآن
آزادی کو اور قرآن مجید کے بعض حصے کی تعلیم کو مہر بنانے کا بیان
حدیث نمبر: 6929
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَعْتَقَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ صفیہ بنت حیی کو آزاد کیا او ر ان کی آزادی کوہی ان کا حق مہر مقرر کر دیا۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6929]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5086، ومسلم: ص 1045، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13506 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13540»
وضاحت: فوائد: … یہ رمضان ۷ ھ کا واقعہ ہے، یہ غزوہ بنو مصطلق میں قید ہو کر آئیں۔ حیییہودی کی بیٹی تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غلامی سے آزاد کر دیا اور اسی آزادی کو حق مہر قرار دیتے ہوئے ان سے نکاح کر لیا اور اس طرح سیدہ صفیہ ام المومنین بن گئیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5086
حدیث نمبر: 6930
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ وَهَبْتُ نَفْسِي لَكَ فَقَامَتْ قِيَامًا طَوِيلًا فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ زَوِّجْنِيهَا إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ تُصْدِقُهَا إِيَّاهُ فَقَالَ مَا عِنْدِي إِلَّا إِزَارِي هَذَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنْ أَعْطَيْتَهَا إِزَارَكَ جَلَسْتَ لَا إِزَارَ لَكَ فَالْتَمِسْ شَيْئًا فَقَالَ مَا أَجِدُ شَيْئًا فَقَالَ الْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ فَالْتَمَسَ فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ قَالَ نَعَمْ سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا لِسُوَرٍ يُسَمِّيهَا فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ زَوَّجْتُكُمَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ وَفِي لَفْظٍ فَقَدْ أَمْلَكْتُهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ قَالَ فَرَأَيْتُهُ يَمْضِي وَهِيَ تَتْبَعُهُ
۔ سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اپنے نفس کو آپ کے لیے ہبہ کرتی ہوں، پھر وہ کافی دیر تک کھڑی رہی، اتنے میں ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ کو اس کی ضرورت نہیں تو میرے ساتھ اس کی شادی کردیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تیرے پاس اس کو حق مہر دینے کے لئے کوئی چیز ہے؟ اس نے کہا: میرے پاس تو یہ تہہ بند ہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ تہہ بند تو اسے دے دے گا تو تو خود بغیر تہبند کے رہ جائے گا، جا کوئی اور چیز تلاش کر کے لا۔ اس نے کہا: میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تلاش تو کر، اگر چہ لوہے کی انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو۔ اس نے تلاش کی، مگر وہ کوئی چیز نہ پا سکا، بالآخرنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تجھے قرآن کا کوئی حصہ یاد ہے؟ اس نے کہا: جی فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں، اس نے ان سورتوں کے نام بھی لئے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: جو قرآن مجید تجھے یاد ہے، میں نے اس کے عوض تیری اس خاتون سے شادی کر دی ہے۔ ایک روایت میں ہے: قرآن مجید کا جو حصہ تجھے یاد ہے، میں نے اس کے عوض تجھے اس خاتون کا مالک بنا دیا ہے۔ پھر میں نے اس آدمی کو دیکھا، وہ جا رہا تھا اور اس کی بیوی اس کے پیچھے چل رہی تھی۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6930]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2310، 5135، ومسلم: 1425،وابوداود!: 2111، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22850 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23238»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2310
حدیث نمبر: 6931
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ رَجُلًا مِنْ صَحَابَتِهِ فَقَالَ أَيَ فُلَانُ هَلْ تَزَوَّجْتَ قَالَ لَا وَلَيْسَ عِنْدِي مَا أَتَزَوَّجُ بِهِ قَالَ أَلَيْسَ مَعَكَ {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} [الإخلاص 1] قَالَ بَلَى قَالَ رُبُعُ الْقُرْآنِ قَالَ أَلَيْسَ مَعَكَ {قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} [الكافرون 1] قَالَ بَلَى قَالَ رُبُعُ الْقُرْآنِ قَالَ أَلَيْسَ مَعَكَ {إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ} [الزلزلة 1] قَالَ بَلَى قَالَ رُبُعُ الْقُرْآنِ قَالَ أَلَيْسَ مَعَكَ {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ} [النصر 1] قَالَ بَلَى قَالَ رُبُعُ الْقُرْآنِ قَالَ أَلَيْسَ مَعَكَ آيَةُ الْكُرْسِيِّ {اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ} [البقرة 255] قَالَ بَلَى قَالَ رُبُعُ الْقُرْآنِ قَالَ تَزَوَّجْ تَزَوَّجْ تَزَوَّجْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ میں سے ایک آدمی سے سوال کیا: اے فلاں! کیا تو شادی شدہ ہے۔ اس نے کہا: جی نہیں، میرے پاس شادی کے لئے مالی گنجائش نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تجھے سورۂ اخلاص یاد ہے؟ اس نے کہا: جی کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک چوتھائی قرآن ہو گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تجھے سورۂ کافرون یاد ہے؟ اس نے کہا: جی بالکل، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک چوتھائی قرآن ہو گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تجھے سورہ زلزال یاد ہے؟ اس نے کہا: جی یاد ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک چوتھائی قرآن ہو گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تجھے سورۂ نصر یاد ہے؟ اس نے کہا: جی یاد ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک چوتھائی قرآن ہو گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تجھے آیۃ الکرسی یاد ہے؟ اس نے کہا: جی بالکل، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک چوتھائی قرآن ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر شادی کرلے، شادی کرلے، شادی کر لے۔ تین مرتبہ اس بات کو دوہرایا۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6931]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف سلمة بن وردان، أخرجه الترمذي: 2895، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13309 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13342»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالی ہے: {وَاِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّکَانَ زَوْجٍ وَّاٰتَیْتُمْ اِحْدٰھُنَّ قِنْطَارًا فَلاَ تَاْخُذُوْا مِنْہُ شَیْئًا} … ”اور اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی کرنا ہی چاہو اور ان میں کسی کو تم نے خزانہ کا خزانہ دے رکھا ہو تو بھی اس میں سے کچھ نہ لو۔“ (سورۂ نسائ: ۲۰) یہاں خزانہ سے مراد حق مہر ہے۔
مذکورہ بالا دو ابواب کی احادیث اور اس موضوع سے متعلقہ دیگر دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ مہر کی کم از کم اور زیادہ سے زیادہ کوئی مقدار متعین نہیں ہے۔ پانچ درہم، ایک تہبند اور لوہے کی انگوٹھی تک کا ذکر ہو چکا ہے، دراصل یہ عورت کا حق ہے اور وہ جس حق پر راضی ہو جائے، وہ اس کا مہر قرار پائے گا۔
احناف نے مہر کے لیے کم از کم دس درہم یا اس کے برابر قیمت کی چیز کی قید لگائی ہے اور یہ روایت بطورِ دلیل پیش کی ہے: ((لَا مَھْرَ اَقَلُّ مِنْ عَشْرَۃِ دَرَاھِمَ۔)) … ”دس درہموں سے کم کوئی مہر نہیں ہے۔“ (دارقطنی: ۳/ ۲۴۴، بیہقی: ۷/ ۱۳۳) لیکنیہ روایت ضعیف ہے، اس کی سند میں دو راویوں پر اعتراض ہے، ایک حجاج بن ارطاۃ جو مدلس ہے اور دوسرا مبشر بن عبید جو کہ متروک ہے، نیزاس کے مقابلے میں ایسی صحیح احادیث اوپر گزر چکی ہے، جو دس درہم سے کم مہر پر دلالت کرتی ہیں۔
البتہیہ قید ضرور ہے کہ مہر کے سلسلے میں غلوّ سے بچنا چاہیے۔
مذکورہ بالا دو ابواب کی احادیث اور اس موضوع سے متعلقہ دیگر دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ مہر کی کم از کم اور زیادہ سے زیادہ کوئی مقدار متعین نہیں ہے۔ پانچ درہم، ایک تہبند اور لوہے کی انگوٹھی تک کا ذکر ہو چکا ہے، دراصل یہ عورت کا حق ہے اور وہ جس حق پر راضی ہو جائے، وہ اس کا مہر قرار پائے گا۔
احناف نے مہر کے لیے کم از کم دس درہم یا اس کے برابر قیمت کی چیز کی قید لگائی ہے اور یہ روایت بطورِ دلیل پیش کی ہے: ((لَا مَھْرَ اَقَلُّ مِنْ عَشْرَۃِ دَرَاھِمَ۔)) … ”دس درہموں سے کم کوئی مہر نہیں ہے۔“ (دارقطنی: ۳/ ۲۴۴، بیہقی: ۷/ ۱۳۳) لیکنیہ روایت ضعیف ہے، اس کی سند میں دو راویوں پر اعتراض ہے، ایک حجاج بن ارطاۃ جو مدلس ہے اور دوسرا مبشر بن عبید جو کہ متروک ہے، نیزاس کے مقابلے میں ایسی صحیح احادیث اوپر گزر چکی ہے، جو دس درہم سے کم مہر پر دلالت کرتی ہیں۔
البتہیہ قید ضرور ہے کہ مہر کے سلسلے میں غلوّ سے بچنا چاہیے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف سلمة بن وردان
21. بَابُ مَنْ تَزَوَّجَ وَلَمْ يُسمَ صَدَاقًا ثُمَّ مَاتَ قَبْلَ الدُّخُولِ
اس شخص کا بیان جس نے مہر کے تقرر کے بغیر شادی کر لی اور پھر حق زوجیت ادا کرنے سے پہلے فوت ہو گیا
حدیث نمبر: 6932
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ أُتِيَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَمَاتَ عَنْهَا وَلَمْ يُفْرِضْ لَهَا وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا فَسُئِلَ عَنْهَا شَهْرًا فَلَمْ يَقُلْ فِيهَا شَيْئًا ثُمَّ سَأَلُوهُ فَقَالَ أَقُولُ فِيهَا بِرَأْيِي فَإِنْ يَكُ خَطَأً فَمِنِّي وَمِنَ الشَّيْطَانِ وَإِنْ يَكُ صَوَابًا فَمِنَ اللَّهِ وَلَهَا صَدَاقُ إِحْدَى نِسَائِهَا وَلَهَا الْمِيرَاثُ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَشْجَعَ فَقَالَ أَشْهَدُ لَقَضَيْتَ فِيهَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بِرْوَعَ ابْنَةِ وَاشِقٍ قَالَ فَقَالَ هَلُمَّ شَاهِدَيْكَ فَشَهِدَ لَهُ الْجَرَّاحُ وَأَبُو سِنَانٍ رَجُلَانِ مِنْ أَشْجَعَ
۔ سیدنا عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس یہ مسئلہ لایا گیا کہ ایک آدمی نے ایک عورت سے شادی کی اور وہ فوت ہوگیا، نہ اس نے حق مہر مقرر کیا تھا اور نہ حق زوجیت ادا کیا تھا، ایک ماہ تک ان سے یہ سوال کیا جاتا رہا، لیکن انھوں نے اس کا کوئی جواب نہ دیا، بعد ازاں جب انہوں نے سوال کیا، تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اب میں اپنی رائے سے فیصلہ کرتاہے، اگر وہ خطا ہوا تو وہ میری طرف سے اور شیطان کی طرف سے ہو گا اور اگر وہ درست ہوا تو وہ اللہ تعالی کی طرف سے ہوگا، اس عورت کو اس کی دوسری خواتین کی طرح حق مہر دیا جائے گا، اس کو میراث بھی ملے گی اور اس پر عدت بھی ہو گی۔ یہ فیصلہ سن کر بنو اشجع قبیلے کا ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے عبداللہ! تم نے جو فیصلہ دیا ہے، یہ بالکل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وہ فیصلہ ہے، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بروع بنت واشق کے بارے میں کیاتھا، عبد اللہ کہنے لگے: اس پر گواہ لاؤ، اشجع قبیلے کے ہی دو افراد جراح اور ابو سنان نے اس کے ساتھ گواہی دی۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6932]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابوداود: 2114، وابن ماجه: 1891، والنسائي: 6/ 122، والترمذي: 1145، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18460 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18651»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک ماہ تک اس مسئلہ پر غور کرتے رہے، اس میں اہل علم اور مفتی حضرات کے لیے بڑا اہم سبق ہے کہ ان کو نصوص میں غور و فکر کرنا چاہیے اور پیچیدہ مسائل میں فتوی دیتے وقت جلد بازی سے کام نہیں لیناچاہیے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
حدیث نمبر: 6933
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ عَلْقَمَةَ وَالْأَسْوَدِ قَالَا أَتَى قَوْمٌ عَبْدَ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالُوا مَا تَرَى فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَشْجَعَ قَالَ مَنْصُورٌ أَرَاهُ سَلَمَةَ بْنَ يَزِيدَ فَقَالَ فِي مِثْلِ هَذَا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ رَجُلٌ مِنَّا امْرَأَةً مِنْ بَنِي رُؤَاسٍ يُقَالُ لَهَا بِرْوَعُ بِنْتُ وَاشِقٍ فَخَرَجَ مَخْرَجًا فَدَخَلَ فِي بِئْرٍ فَأَسِنَ فَمَاتَ وَلَمْ يُفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَمَهْرِ نِسَائِهَا لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ وَلَهَا الْمِيرَاثُ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ
۔ (دوسری سند) علقمہ اور اسود کہتے ہیں: کچھ لوگ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہوں نے کہا: اس آدمی کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جس نے شادی کی، … پھر وہی حدیث ذکر کی …، البتہ اس میں ہے: اشجع قبیلے کا سلمہ بن یزید نامی ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی قسم کے مسئلے کو یوں حل کیا تھا، ہمارے ایک آدمی نے بنو رؤاس کی بروع بنت واشق نامی خاتون سے شادی تھی، پھر وہ باہر نکلا، ایک کنویں میں داخل ہوا، وہاں اس کو غشی کا دورہ پڑا اور وہ فوت ہو گیا، جبکہ اس نے اپنی بیوی کے لیے مہر کا تعین بھی ابھی تک نہیں کیا تھا، وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پاس آئے اور یہ مسئلہ دریافت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو اس خاتون کی دوسری رشتہ دار عورتوں کی طرح کا مہر دیا جائے گا، اس میں کوئی کمی بیشی نہیں ہو گی، نیز اس کو میراث بھی ملے گی اور اس پرعدت بھی ہو گی۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6933]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18652»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18652
حدیث نمبر: 6934
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ عَنْ عَلْقَمَةَ أَنَّ رَجُلًا تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَتُوُفِّيَ عَنْهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا وَلَمْ يُسَمِّ صَدَاقًا فَسُئِلَ عَنْهَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهَا صَدَاقُ إِحْدَى نِسَائِهَا وَلَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ فَقَامَ أَبُو سِنَانٍ الْأَشْجَعِيُّ فِي رَهْطٍ مِنْ أَشْجَعَ فَقَالُوا نَشْهَدُ لَقَدْ قَضَيْتَ فِيهَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ
۔ (تیسری سند)علقمہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے ایک عورت سے شادی کی اورحق زوجیت کے ادا کرنے اور مہر کا تعین کرنے سے پہلے فوت ہو گیا، جب سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا:اس خاتون کو مہر مثل دیا جائے گا، اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کی جائے گی، نیزیہ عورت عدت بھی گزارے گی، سیدناابو سنان اشجعی اپنے قبیلے کے ایک گروہ سمیت کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ تم نے وہی فیصلہ کیا ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بروع بنت واشق کے بارے میں کیا تھا۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6934]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18653»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18653
حدیث نمبر: 6935
وَمِنْ طَرِيقٍ رَابِعٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَفِيهِ فَقَالَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِهِ فِي بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ
۔ (چوتھی سند) مسروق کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے … پھر وہی حدیث ذکر کی … البتہ اس میں ہے: پس سیدنا معقل بن سنان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بروع بنت واشق کے بارے میں یہی فیصلہ کیا تھا۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6935]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18656»
وضاحت: فوائد: … مہر مقرر کرنے کے بغیر نکاح ہو سکتا ہے، مگر مہر کی نفی نہ کی جائے، اگر مہر کی نفی کی جائے گی تو نکاح باطل ہو گا، مہر کی نفی نہ ہو مگر مقرر نہ کیا گیا ہو تو بعد میں جس پر بھی اتفاق ہو جائے، وہی مہر ہو گا اور اگر اتفاق نہ ہو تو اس عورت کی ذاتی اور خاندانی حیثیت کو مد نظر رکھتے ہوئے مہر مقرر کیا جائے گا، مثلا: اس کی بہنوں یا پھوپھیوںیا اسی جیسی دوسری عورتوں کا عمومی مہر۔ اس کو مہرِ مثل کہا جاتا ہے۔ سنن ابو داود کی روایت میںیہ وضاحت بھی ہے کہ جب لوگوں نے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے اس فیصلے کے حق میںیہ شہادت دیتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ بروع رضی اللہ عنہا اور ان کے خاوند سیدنا ہلال بن مرہ اشجعی رضی اللہ عنہ کے بارے میںیہی فیصلہ کیا تھا تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ یہ بات سن کر بہت زیادہ خوش ہوئے کہ ان کا اجتہادی فیصلہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے موافق ہو گیا ہے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18656
22. بَابُ مَا جَاءَ فِي تَقْدِيم شَيْءٍ مِنَ الْمَهْرِ قَبْلَ الدخولِ وَالرُّحْصَةِ فِي تَرْكِهِ وَوَعِيدِ مَنْ سَمَّى صَدَاقًا وَلَمْ يُرِدْ أَدَانَه،
جماع سے پہلے مہر کی کچھ ادائیگی کردینے اور اس کو چھوڑ دینے کا بیان اور اس شخص کی وعید کا بیان کہ جس نے بظاہر مہر کا تعین تو کیا، لیکن اس کا ارادہ ادائیگی کا نہ تھا
حدیث نمبر: 6936
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَرَدْتُ أَنْ أَخْطُبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ابْنَتَهُ فَقُلْتُ مَا لِي مِنْ شَيْءٍ فَكَيْفَ ثُمَّ ذَكَرْتُ صِلَتَهُ وَعَائِدَتَهُ فَخَطَبْتُهَا إِلَيْهِ فَقَالَ هَلْ لَكَ مِنْ شَيْءٍ قُلْتُ لَا قَالَ فَأَيْنَ دِرْعُكَ الْحَطْمِيَّةُ الَّتِي أَعْطَيْتُكَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا قَالَ هِيَ عِنْدِي قَالَ فَأَعْطِهَا إِيَّاهُ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے ارادہ کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی کے بارے میں پیغام بھیجوں، لیکن پھر میں نے سوچا کہ میرے پاس تو کوئی مال نہیں ہے، سو میں کیا کروں، پھر مجھے یاد آیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو صلہ رحمی کرتے ہیں اور بار بار ہمارے گھر آتے جاتے رہتے ہیں، پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ پیغام بھیج دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرے پاس کوئی چیز ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ حطمی زرہ کہاں ہے، جو میں نے تجھے فلاں دن دی تھی؟ میں نے کہا: وہ میرے پاس ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہی فاطمہ کو دے دو۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6936]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه بنحوه النسائي: 6/ 129، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 603 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 603»
وضاحت: فوائد: … امام نسائی نے اس حدیث پر یہ باب قائم کیا ہے: ”نِحْلَۃُ الْخَلْوَۃِ“ (شب ِ زفاف کے موقع پر تحفہ دینے کا بیان)۔ امام نسائی کی تبویب سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مذکورہ زرہ کو مہر سے الگ سمجھ رہے ہیں اور اسے رخصتی اور خلوت کا خصوص تحفہ قرار دیتے ہیں، جبکہ بہت سے اہل علم کی رائے یہ ہے کہ یہ مہر ہی ہے، جو نکاح کی بجائے رخصتی کے موقع پر دیا گیا۔ واللہ اعلم
حطمی زرہ کی وجۂ تسمیہ کے بارے میں دو اقوال ہیں: (۱) یہ ”حطم“ کی طرف منسوب ہے، جس کا معنی توڑنا ہے، کیونکہیہ زرہ تلواروں کو توڑ دیتی تھی،یعنی جو تلوار اس پر لگتی، وہ ٹوٹ جاتی،یا (۲) یہ عبد القیس کے ایک قبیلے حطمہ بن محارب کی طرف منسوب ہے، کیونکہ وہ لوگیہ تلواریں بناتے تھے۔
حطمی زرہ کی وجۂ تسمیہ کے بارے میں دو اقوال ہیں: (۱) یہ ”حطم“ کی طرف منسوب ہے، جس کا معنی توڑنا ہے، کیونکہیہ زرہ تلواروں کو توڑ دیتی تھی،یعنی جو تلوار اس پر لگتی، وہ ٹوٹ جاتی،یا (۲) یہ عبد القیس کے ایک قبیلے حطمہ بن محارب کی طرف منسوب ہے، کیونکہ وہ لوگیہ تلواریں بناتے تھے۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره