🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. بَابُ الشَّرُوطِ فِي النِّكَاحَ وَمَا نَهَى عَنْهُ مِنْهَا
نکاح کی شرائط اور ممنوعہ شرطوں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6918
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُلُّ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَهُوَ مَرْدُودٌ وَإِنِ اشْتَرَطُوا مِائَةَ مَرَّةٍ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر شرط جو کتاب اللہ میں نہیں ہے، وہ مردود ہے، اگرچہ لوگ ایسی سو شرطیں لگا لیں۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6918]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2561، ومسلم: 1504، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25504 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26019»
وضاحت: فوائد: … کتاب اللہ میں نہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ شرط کتاب و سنت کے مخالف ہو، یعنی اس شرط کی وجہ سے وہ چیز ممنوع نہ قرار پاتی ہو، جو شریعت میں جائز ہو یا وہ چیز جائز نہ قرار پاتی ہو، جس کو شریعت نے حرام قرار دیا ہو۔ مثال کے طور نکاح کے وقت عورت کے اولیاء کی طرف سے یہ شرط لگانا کہ اگر خاوند نے اس خاتون کو طلاق دی تو ساتھ اتنی رقم ادا کرنا پڑے گییا ماہانہ اتنا خرچ دینا پڑے گا، یہ شرط حرام ہے، کیونکہ شریعت خاوند کو طلاق دینے کا جو حق دیا ہے، اس شرط کے ذریعے اس پر پابندی لگائی جا رہی ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2561
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. باب
مہر کے ابواب
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: Q6919]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. بَابُ جَوَازِ التزويج عَلَى الْقَلِيلِ وَالكَثيرِ وَاسْتِحْبَابِ الْقَصْدِ فِيهِ
مہر کی قلیل اور کثیر مقدار پر شادی کرنے کے جواز اور معتدل چیز کے مستحب ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6919
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ صَدَاقُنَا إِذَا كَانَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةَ أَوَاقٍ وَطَبَّقَ بِيَدَيْهِ وَذَلِكَ أَرْبَعُ مِائَةٍ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے اندر موجود تھے تو ہمارا حق مہر دس اوقیہ ہوتا تھا،پھر انہوں نے اپنی انگلیوں میں تطبیق دی اور کہا: یہ کل چار سو درہم بن جاتے ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6919]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه النسائي: 6/ 117، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8807 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8793»
وضاحت: فوائد: … دس کے عدد کی وضاحت کرنے کے لیے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے اشارہ کیا۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6920
عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَزَوَّجَ عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ فَكَانَ الْحَكَمُ يَأْخُذُ بِهِ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ایک نواۃ کے وزن کے برابر سونے پر شادی کی،حکم اسی کو لیتے تھے۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6920]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3937، 5072، ومسلم: 1427، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13962 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14007»
وضاحت: فوائد: … مشہور قول اور اکثر اہل علم کی رائے کے مطابق ”نواۃ“ سے مراد سونے کا وہ سکہ ہے، جس کی قیمت پانچ درہم چاندی تھی، اس رائے کی تائید سنن بیہقی کی روایت کے ان الفاظ سے ہوتی ہے: ”وَزْنِ نَوَاۃٍ مِنْ ذَھَبٍ قُوِّمَتْ خَمْسَۃَ دَرَاھِمَ۔“ … نواۃ کے وزن کے برابر سونے کے عوض، جس کی قیمت پانچ درہم تھی۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3937
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6921
عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَثَرَ صُفْرَةٍ فَقَالَ مَا هَذَا قَالَ إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ پر زردی کا نشان دیکھا اور پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے ایک عورت سے نواۃ کے وزن کے برابر سونے پر شادی کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تجھ پر برکت نازل کرے، ولیمہ کر، اگرچہ ایک بکری کا ہی ہو۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6921]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5155، 6386، ومسلم: 1427، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13370 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13403»
وضاحت: فوائد: … امام نووی نے کہا: صحیح بات یہ ہے کہ یہ زعفران وغیرہ کا زرد رنگ دلہن کی خوشبو ہے اور اسی سے یہ رنگ سیدنا عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کو لگ گیا تھا، نہ کہ انھوں نے بارادہ یہ کام کیا تھا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو زعفران سے منع فرمایا ہے، اسی طرح مردوں کو خلوق خوشبو سے بھی منع کیا گیا ہے، کیونکہ وہ بھی عورتوں کی خوشبو ہے۔
نسائی (۳۳۷۵)کی روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رنگ کے بارے میں ان الفاظ میں سوال کیا: ”مَھْیَمْ؟“ (یہ کیسے)۔ اور آگے سے سیدنا عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کا جواب دینا کہ انھوں نے ایک انصاری خاتون سے شادی کی ہے۔
ان الفاظ سے یہ اندازہ ہو رہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سوال کرنے کی وجہ یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو اس رنگ سے منع کر رکھا تھا اور سیدنا عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کے جواب سے پتہ چلتا ہے کہ ان کو اپنی بیوی سے یہ رنگ لگ گیا تھا۔
اس لیے اس حدیث سے مردوں کے لیے اس رنگ دار خوشبو کے جواز کا استدلال کشیدنہیں کرنا چاہیے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5155
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6922
عَنْ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِيهِ فِي امْرَأَةٍ فَقَالَ كَمْ أَمْهَرْتَهَا قَالَ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ فَقَالَ لَوْ كُنْتُمْ تَغْرِفُونَ مِنْ بَطْحَانَ مَا زِدْتُمْ
۔ سیدنا ابو حدرد اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور ایک عورت کے بارے میں پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے اس کا کتنا حق مہر مقرر کیا ہے؟ انھوں نے کہا: دو سو درہم، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم مدینہ کی بطحان وادی سے چلوؤں سے چاندی بھرو تو پھر بھی اس مقدار سے زیادہ نہ کرو۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6922]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، محمد بن ابراهيم التيمي لم يسمع من ابي حدرد، أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 22/ 882، والطيالسي: 1300، وابن ابي شيبة: 4/ 189، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15706 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15797»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6923
عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ أَلَا لَا تُغْلُوا صُدُقَ النِّسَاءِ فَإِنَّهَا لَوْ كَانَتْ مَكْرُمَةً فِي الدُّنْيَا أَوْ تَقْوَى فِي الْآخِرَةِ لَكَانَ أَوْلَاكُمْ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا أَنْكَحَ شَيْئًا مِنْ بَنَاتِهِ وَلَا نِسَائِهِ فَوْقَ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً وَأُخْرَى تَقُولُونَهَا فِي مَغَازِيكُمْ قُتِلَ فُلَانٌ شَهِيدًا مَاتَ فُلَانٌ شَهِيدًا وَلَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ قَدْ أَوْقَرَ عَجُزَ دَابَّتِهِ أَوْ دَفَّ رَاحِلَتَهُ ذَهَبًا وَفِضَّةً يَبْتَغِي التِّجَارَةَ فَلَا تَقُولُوا ذَاكُمْ وَلَكِنْ قُولُوا كَمَا قَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ
۔ ابو العجفاء سلمی کہتے ہیں:سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: عورتوں کے مہر میں غلوّ نہ کرو، کیونکہ اگر یہ چیز دنیا میں کوئی عزت اور آخرت میں تقویٰ کا باعث ہوتی تو تم میں اس کے سب سے زیادہ مستحق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو اپنی بیٹیوں اور بیویوں کا نکاح بارہ اوقیوں سے زیادہ میں نہیں کیا، ایک اور بات بھی ہے، تم اپنے غزووں کے بارے میں کہتے ہو کہ فلاں شہید ہو گیا ہے، فلاں نے شہادت پائی ہے، اس میں بھی احتیاط برتو، ہو سکتا ہے اس نے اپنے جانور کی پشت یا اس کے پالان کا کنارہ سونے اور چاندی کی طلب میں اور تجارت میں بوجھل کیا ہو، اس لئے اس طرح نہ کہا کرو کہ فلاں شہید ہو گیا، بلکہ اس طرح کہا کرو جس طرح محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے کہ جو اللہ کے راستے میں شہید ہو گیا، وہ جنتی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6923]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 2106، والنسائي: 6/ 117، وابن ماجه: 1887، والترمذي: 1114م، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 285 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 285»
وضاحت: فوائد: … بارہ اوقیے، چارسو اسی درہم بنتے ہیں۔ ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو چار ہزار درہم بطور حق مہر دیا گیا تھا، لیکن وہ نجاشی نے دیا تھا، نہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ حدیث نمبر (۶۹۲۷) میں سیدہ عائشہ نے ساڑھے بارہ اوقیے مہر بیان کیا ہے، ممکن ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کسر کا ذکر نہ کیا ہے۔
امہات المؤمنین کے حق مہر کے بارے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ان اقوال کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثر بیویوں پر محمول کیا جائے گا، کیونکہ سیدہ خدیجہ، سیدہ جویریہ اور سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہن کا حق مہر بارہ اوقیے نہیں تھا۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قول کے آخری حصے کا مفہوم یہ ہے کہ ممکن ہے کہ ایک آدمی بظاہر جہادی قافلے کے ساتھ جا رہا ہے، لیکن اس کا ارادہ تجارت کا ہو اور اس نے باقاعدہ اپنی سواریوں پر اسی نیت سے کچھ سامان بھی لادا ہوا ہو، اس لیے ہر ایک کو فوراً شہید کہہ دینے میں احتیاط برتنی چاہیے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6924
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي فَزَارَةَ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى نَعْلَيْنِ فَأَجَازَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نِكَاحَهُ
۔ سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو فزارہ کے ایک آدمی نے ایک عورت سے شادی کی اور جوتوں کا ایک جوڑا مہر میں دیا، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے نکاح کو جائز قرار دیا۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6924]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله العمري، أخرجه ابن ماجه: 1888، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15676 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15764»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله العمري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6925
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مِنْ يُمْنِ الْمَرْأَةِ تَيْسِيرُ خِطْبَتِهَا وَتَيْسِيرُ صَدَاقِهَا وَتَيْسِيرُ رَحِمِهَا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورت کی برکت میں سے یہ (بھی) ہے کہ اس کی منگنی آسان ہو، اس کا مہر آسان ہو اور اس کا رحم آسانی والا ہو۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6925]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه البزار: 1417، والطبراني في ’’الاوسط‘‘: 3637، والبيھقي: 7/ 235، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24479 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24983»
وضاحت: فوائد: … حدیث نمبر (۶۸۵۲) میں اس حدیث کی وضاحت ہو چکی ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6926
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا أَعْطَى امْرَأَةً صَدَاقًا مِلْءَ يَدَيْهِ طَعَامًا كَانَتْ لَهُ حَلَالًا
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی آدمی خاتون کو لپ بھر اناج بطور حق مہر ادا کردے، تو وہ اس کے لئے حلال ہو جائے گی۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6926]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف صالح بن مسلم، أخرجه ابوداود: 2110، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14824 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14884»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف صالح بن مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں