🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. بَابُ مَا جَاءَ فِي تَقْدِيم شَيْءٍ مِنَ الْمَهْرِ قَبْلَ الدخولِ وَالرُّحْصَةِ فِي تَرْكِهِ وَوَعِيدِ مَنْ سَمَّى صَدَاقًا وَلَمْ يُرِدْ أَدَانَه،
جماع سے پہلے مہر کی کچھ ادائیگی کردینے اور اس کو چھوڑ دینے کا بیان اور اس شخص کی وعید کا بیان کہ جس نے بظاہر مہر کا تعین تو کیا، لیکن اس کا ارادہ ادائیگی کا نہ تھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6937
عَنْ صُهَيْبِ بْنِ سِنَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا رَجُلٍ أَصْدَقَ امْرَأَةً صَدَاقًا وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا يُرِيدُ أَدَاءَهُ إِلَيْهَا فَغَرَّهَا بِاللَّهِ وَاسْتَحَلَّ فَرْجَهَا بِالْبَاطِلِ لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ يَلْقَاهُ وَهُوَ سَارِقٌ
۔ سیدنا صہیب بن سنان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے عورت کے لیے حق مہر مقرر کیا اور اللہ تعالی یہ جانتا ہو کہ وہ اس کو ادا کرنے کا ارادہ ہی نہیں رکھتا، اس طرح وہ اللہ کے نام پر عورت کو دھوکا دیتا ہے اور اس کی شرم گاہ کو باطل طریقے سے حلال کر لیتا ہے، یہ آدمی جس دن اللہ تعالی سے ملاقات کرے گا، اس دن وہ چور شمار ہوگا۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6937]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه بنحوه النسائي: 6/ 129، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 603 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19140»
وضاحت: فوائد: … امام البانی نے ابن ماجہ کی حدیث کو صحیح قرار دیا ہے، لیکن اس کے الفاظ یہ ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أَیُّمَا رَجُلٍ یَدِینُ دَیْنًا وَہُوَ مُجْمِعٌ أَنْ لَا یُوَفِّیَہُ إِیَّاہُ لَقِیَ اللَّہَ سَارِقًا۔)) … ”جس آدمی نے قرض لیا، جبکہ اس کا عزمیہ ہو کہ وہ اس کو ادا نہیں کرے گا تو وہ اللہ تعالی کو چور کی حیثیت سے ملے گا۔“
مہر کے بغیر نکاح باطل ہوتا ہے، اس کی ادائیگی نہ کرنے کی نیت رکھنے والا آدمی بڑے خسارے میں ہو گا۔

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. باب حُكْمِ هَدَايَا الزَّوْجِ لِلْمَرْأَةِ وَأَوْلِيَائِهَا
خاوند کا بیوی اور اس کے اولیاء کو تحفے دینے کا حکم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6938
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ عَلَى صَدَاقٍ أَوْ حِبَاءٍ أَوْ عِدَةٍ قَبْلَ عِصْمَةِ النِّكَاحِ فَهُوَ لَهَا وَمَا كَانَ بَعْدَ عِصْمَةِ النِّكَاحِ فَهُوَ لِمَنْ أُعْطِيَهُ وَأَحَقُّ مَا يُكْرَمُ عَلَيْهِ الرَّجُلُ ابْنَتُهُ وَأُخْتُهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس عورت نے حق مہر یا تحفہ یا وعدہ پر نکاح کیا ہے، تو جو چیز نکاح کے عقد سے پہلے ہوگی، وہ اس عورت کی ہی ہو گی،جو نکاح کے بعد ہوگی، وہ اسی کے لئے ہو گی، جس کے لیے دی جائے گی،یہ بیٹی اور بہن ہی ہیں کہ جن کی وجہ سے آدمی عزت کا سب سے زیادہ مستحق قرار پاتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6938]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه ابوداود: 2129، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6709 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6709»
وضاحت: فوائد: … وعدہ سے مراد یہ ہے کہ بننے والا خاوند جو چیزیں دینے کا وعدہ کرے۔
اس حدیث ِ مبارکہ کے پہلے حصے کا مفہوم یہ ہے کہ ولییا وکیل کو نکاح سے پہلے جو کچھ دیا جائے گا، وہ دراصل اس کی بچی کا ہو گا اور نکاح کے بعد جو چیز جس کو دی جائے گی، وہ اسی کی ہو گی۔
حدیث مبارکہ کے آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ لوگوں کو اپنے سالے اور داماد کی عزت کرنی چاہیے۔

الحكم على الحديث:
حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6939
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا اسْتُحِلَّ بِهِ فَرْجُ الْمَرْأَةِ مِنْ مَهْرٍ أَوْ عِدَةٍ فَهُوَ لَهَا وَمَا أُكْرِمَ بِهِ أَبُوهَا أَوْ أَخُوهَا أَوْ وَلِيُّهَا بَعْدَ عَقْدِ النِّكَاحِ فَهُوَ لَهُ وَأَحَقُّ مَا أُكْرِمَ بِهِ الرَّجُلُ ابْنَتُهُ وَأُخْتُهُ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس حق مہر یا وعدہ کے ذریعہ عورت کی شرمگاہ حلال کی گئی ہے، وہ اسی عورت کے لئے ہے اور نکاح کے عقد کے بعد اس کے باپ یا بھائی یا ولی کو اعزازی طور پر جو چیز دی جائے، وہ اسی کی ہو گی،یہ بیٹی اور بہن ہی ہیں کہ جن کی وجہ سے آدمی عزت کا سب سے حقدار قرار پاتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6939]
تخریج الحدیث: «حسن من حديث عبد الله بن عمرو بن العاص، أخرجه عبد الرزاق: 10743، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24909 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25422»

الحكم على الحديث:
حسن من حديث عبد الله بن عمرو بن العاص
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْجِهَازِ
جہیز کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6940
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ فِي خَمِيلٍ وَقِرْبَةٍ وَوِسَادَةِ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفُ الْإِذْخَرِ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جہیز میں یہ اشیاء دی تھیں: ایک چادر، ایک مشک اور چمڑے کا ایک تکیہ، جس کی بھرائی اذخر گھاس کے پتوں سے کی گئی تھی۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6940]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه النسائي: 6/ 135، وابن ماجه: 4152، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 643 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 643»

الحكم على الحديث:
اسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6941
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) مِثْلَهُ وَفِيهِ وَوِسَادَةُ أَدَمٍ حَشْوُهَا إِذْخَرٌ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ لِيفٌ
۔ (دوسری سند) اسی کی مانند ہے، البتہ اس میں ہے:ایک چمڑے کا تکیہ تھا، جس کی بھرائی اذخر گھاس سے کی گئی تھی، ابو سعید نے کہا: اذخر گھاس کے پتوں سے کی گئی تھی۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6941]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 715»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 715
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6942
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا زَوَّجَهُ فَاطِمَةَ بَعَثَ مَعَهَا بِخَمِيلَةٍ وَوِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ وَرَحَيَيْنِ وَسِقَاءٍ وَجَرَّتَيْنِ
۔ (تیسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو یہ سامان دیا: ایک چادر، چمڑے کا ایک تکیہ، جس میں پتے بھرے گئے تھے،دو چکیاں، ایک مشک اور دو گھڑے۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6942]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 819»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جہیز میں حاجت و ضرورت کے مطابق کچھ چیزیں دی جا سکتی ہیں، لیکن اس میں تکلّف اور وسعت اختیارکرنا ہر لحاظ سے انتہائی ناپسندیدہ ہے، جیسا کہ دورِ حاضر میں ہو رہا ہے، امیر لوگ اس سلسلے میں فخر و مباہات میں پڑے ہوئے ہیں،غریب لوگ انتہائی پریشانی میں بھیک مانگ کر بچی کی شادی کی تیاری کر رہے ہیں اور درمیانی قسم کے لوگ مقروض ہو کر اپنی زندگیوں کا سکون غارت کر رہے ہیں۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ((فِرَاشٌ لِلرَّجُلِ وَفِرَاشٌ لِامْرَأَتِہِ وَالثَّالِثُ لِلضَّیْفِ وَالرَّابِعُ لِلشَّیْطَانِ۔)) … ”ایک بستر مرد کے لیے ہوتا ہے، ایک اس کی بیوی کے لیے، تیسرا مہمان کے لیے اور چوتھا شیطان کے لیے ہوتا ہے۔“ (صحیح مسلم: ۳۸۸۶)
امام نووی نے کہا: علمائے اسلام کا نظر یہ ہے کہ ان احادیث کامفہوم یہ ہے کہ جب لوگ اس سلسلے حاجت اور ضرورت سے بڑھ کر کام کریں گے تو وہ مباہات،تکبر اور دنیوی زینت کے لیے ہو گا اور اس قسم کی چیزمذموم ہوتی ہے، جس کو شیطان کی طرف منسوب کیا جاتا ہے، کیونکہ وہی اس سے راضی ہوتا ہے، لوگوں کو اس قسم کے وسوسے ڈالتا ہے اور ان کو ان کی کاروائیاں خوبصورت بنا کر دکھاتا ہے۔ قارئین کرام! ذہن نشین کر لیں کہ دورِ حاضر کے پر تکلف جہیز، پر اہتمام باراتیں اور رسمیں اور بڑے بڑے ولیمے ایسی ایسی صورتیں اختیار کر چکے ہیں کہ ان کا مقصد نمود و نمائش اور فخر و مباہات کے علاوہ کچھ نہیں ہے اور ان امور کی بنیاد سنت ِ رسول نہیں ہے، انتہائی کنجوس اور بخیل لوگوں کو ان موقعوں پر کھلے دل سے خرچ کرتے ہوئے پایا گیا ہے، بھلا کیوں؟ کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ ایک آدمی نے اپنے ولیمہ پر پندرہ سو افراد کو دعوت دی اور مٹن اور چکن سمیت تین قسم کی ڈشیں تیار کروائیں اور تین چار دن شادی کا یہ سلسلہ جاری رہا، اس آدمی نے اپنے ایک انتہائی غریب اور معذور رشتہ دار سے پچیس ہزار روپے کا قرض لینا تھا، جونہی وہ شادی سے فارغ ہوا تو اس نے اس رشتہ دار کے گھر پہنچ کر اپنے قرض کا مطالبہ شروع کر دیا، اس بیچارے نے ضرورت کی گندم بیچ کر اور کچھ رقم ادھار پر لے کر اس کا قرض اتارا۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر باراتوں اور ولیموں پر لاکھوں روپے لٹانا سنت ہے تو کسی محتاج رشتہ دار کو چند ہزار روپے معاف کیوں نہیں کیے جا سکتے یا اس کو چند ماہ کی مزید رخصت کیوں نہیں دی جاتی؟ کون سمجھے روحِ اسلام کو اور پھر کہاں سے لائے جواب؟ یہی معاملہ جہیز کا ہے، ایسی بے غیرتی رقص کناں ہے کہ لڑکے کی طرف سے باقاعدہ جہیز کا مطالبہ کیا جاتا ہے اور اس طرح وہ شریعت کی نگاہ میں مذموم بھکاری بنتا ہے۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 819
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. باب
نکاح کے موانع کا بیان
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: Q6943]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. بَابُ النَّهْي عَنِ الْجَمْعِ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّيْهَا وَنَحْوِهَا مِنَ الْمَحَارِمِ
عورت اور اس کی پھوپھی کو اور اس قسم کی محرم خواتین کو ایک نکاح میںجمع کرنے سے ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6943
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا حِينَمَا تَزَوَّجَهَا أَمَا إِنِّي لَا أَنْقُصُكِ مِمَّا أَعْطَيْتُ أَخَوَاتِكِ رَحَيَيْنِ وَجَرَّةً وَمِرْفَقَةً مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب ان سے شادی کی تو ان سے فرمایا: میں نے جو کچھ تیری بہنوں کو دیا ہے، تیرے لیے اس سے کمی نہیں کروں گا، دو چکیاں ہیں، ایک گھڑا ہے اور چمڑے کا ایک گدا ہے، جس میں پتے بھرے گئے تھے۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6943]
تخریج الحدیث: «ھذا اسناد ضعيف لجھالة ابن عمر بن ابي سلمة، أخرجه ابن حبان: 2949، والحاكم: 2/ 178، وابويعلي: 6907، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26529 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27064»
وضاحت: فوائد: … بہنوں سے مراد اسلامی بہنیں ہیں،یعنی اسلامی رشتے کے اعتبار سے امہات المؤمنین آپس میں بہنیں تھیں۔

الحكم على الحديث:
ھذا اسناد ضعيف لجھالة ابن عمر بن ابي سلمة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6944
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُجْمَعَ ب_disconnectَيْنَ الْعَمَّةِ وَالْخَالَةِ وَبَيْنَ الْعَمَّتَيْنِ وَالْخَالَتَيْنِ
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ بھتیجی اور پھوپھی اور بھانجی اور خالہ کو ایک نکاح میں جمع کیا جائے۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6944]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، خصيف بن عبد الرحمن سييء الحفظ، أخرجه ابوداود: 2067، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1878 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1878»
وضاحت: فوائد: … ”وَبَیْنَ الْعَمَّتَیْنِ وَالْخَالَتَیْنِ“ کے ذریعے پچھلے جملے کے مضمون کو دوہرایا گیا، تغلیباً پھوپھی اور بھتیجی کو ”عَمَّتَیْن“ اور خالہ اور بھانجی کو ”خَالَتَیْن“ کہا گیا۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6945
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا أَوْ خَالَتِهَا
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے منع فرمایا ہے کہ کسی عورت سے اس کی پھوپھی یا خالہ کی موجودگی میں شادی کی جائے۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6945]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه الترمذي: 1125، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3530 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3530»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں