الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. بَابُ مَا يُصْنَعُ إِذَا اجْتَمَعَ الدَّاعِيَانِ وَحُكْمِ الْإِجَابِةِ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي وَالثَّالِثِ
جب دو داعی جمع ہو جائیں تو کیا کیا جائے، نیز دوسرے اور تیسرے دن کی دعوت قبول کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 7047
عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ اجْتَمَعَ الدَّاعِيَانِ فَأَجِبْ أَقْرَبَهُمَا بَابًا فَإِنَّ أَقْرَبَهُمَا بَابًا أَقْرَبَهُمَا جِوَارًا فَإِذَا سَبَقَ أَحَدُهُمَا فَأَجِبِ الَّذِي سَبَقَ
۔ حمید بن عبد الرحمن، ایک صحابی رسول سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب دو دعوت دینے والے اکٹھے آجائیں، تو ان میں سے جو زیادہ قریبی دروازے والا ہو، اس کی دعوت قبول کرو، کیونکہ زیادہ قریبی دروازے والا زیادہ قریبی پڑوسی ہے، اور اگر ان میں سے ایک پہلے پہنچ جائے تو پہلے آ جانے والی کی دعوت قبول کر۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7047]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 3756، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23466 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23860»
وضاحت: فوائد: … قریبی داعی کو ترجیح دی جائے۔
اگر دو اکٹھے دعوت دیں تو قریبی کو ترجیح دی جائے اور اگر کوئی پہلے آجائے تو پھر اس کی دعوت قبول کی جائے خواہ وہ دور کا کیوں نہ ہو۔ (عبداللہ رفیق)
اگر دو اکٹھے دعوت دیں تو قریبی کو ترجیح دی جائے اور اگر کوئی پہلے آجائے تو پھر اس کی دعوت قبول کی جائے خواہ وہ دور کا کیوں نہ ہو۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 7048
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ثَنَا هَمَّامٌ ثَنَا قَتَادَةُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ الثَّقَفِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَجُلٍ أَعْوَرَ مِنْ ثَقِيفٍ قَالَ قَتَادَةُ وَكَانَ يُقَالُ لَهُ مَعْرُوفٌ إِنْ لَمْ يَكُنْ اسْمُهُ زُهَيْرَ بْنَ عُثْمَانَ فَلَا أَدْرِي مَا اسْمُهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَلِيمَةُ أَوَّلِ يَوْمٍ حَقٌّ وَالثَّانِي مَعْرُوفٌ وَالْيَوْمِ الثَّالِثِ سُمْعَةٌ وَرِيَاءٌ
۔ بنو ثقیف کا ایک کانا آدمی تھا، امام قتادہ کہتے ہیں: اس کو معروف کہا جاتا ہے اور اگر اس کا نام زہیر بن عثمان نہیں تھا تو میں نہیں جانتا کہ پھر اس کا نام کیا تھا، بہرحال اس آدمی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پہلے دن کاولیمہ حق ہے، دوسرے دن کا معروف رواج ہے اور تیسرے دن کا ولیمہ شہرت اور نمود ونمائش ہے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7048]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة عبد الله بن عثمان الثقفي، وزھير بن عثمان مختلف في صحبته، أخرجه ابوداود: 3745، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20325 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20591»
وضاحت: فوائد: … معروف سے مراد وہ طریقہ ہے، جو لوگوں کے ہاں رواج پا چکا ہے۔
یہ روایت تو ضعیف ہے، بہرحال دعوتوں کا سلسلہ تکلف اور ریاکاری سے پاک ہونا چاہیے اور ان پر مذہبی رنگ
غالب ہونا چاہیے۔
یہ روایت تو ضعیف ہے، بہرحال دعوتوں کا سلسلہ تکلف اور ریاکاری سے پاک ہونا چاہیے اور ان پر مذہبی رنگ
غالب ہونا چاہیے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة عبد الله بن عثمان الثقفي
23. بَابُ مَنْ دُعِيَ فَرَأَى مُنْكَرًا فَلْيُنْكِرْهُ وَإِلَّا فَلْيَرْجِعْ
اس امر کا بیان کہ جس شخص کو دعوت دی جائے، اگر وہ برائی دیکھے تو اس کو روکے، وگرنہ لوٹ جائے
حدیث نمبر: 7049
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ
۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو تم میں سے برائی کو دیکھے، اسے ہاتھ سے تبدیل کرے، اگر اسے اتنی طاقت نہ ہو تو وہ زبان سے تبدیل کرے اور اگر اس میں اتنی قوت بھی نہ ہوتو وہ دل سے اس کوبرا جانے اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7049]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 49، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11514 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11534»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 49
حدیث نمبر: 7050
عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَقْعُدَنَّ عَلَى مَائِدَةٍ يُدَارُ عَلَيْهَا بِالْخَمْرِ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَدْخُلِ الْحَمَّامَ إِلَّا بِإِزَارٍ وَمَنْ كَانَتْ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا تَدْخُلِ الْحَمَّامَ
۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انھوں نے کہا: لوگو! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جوشخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ اس دستر خوان پر ہر گز نہ بیٹھے جس پر شراب کے جام کی گردش ہو، جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ تہبند کے بغیر حمام میں داخل نہ ہو اور جو خاتون اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو، وہ سرے سے حمام میں داخل نہ ہو۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7050]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه البيھقي: 7/ 266، وابويعلي: 251، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 125 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 125»
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
حدیث نمبر: 7051
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَقْعُدْ عَلَى مَائِدَةٍ يُشْرَبُ عَلَيْهَا الْخَمْرُ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ اس دستر خوان پر نہ بیٹھے جس پر شراب نوشی کی جاتی ہو۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7051]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الترمذي: 2801، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14651 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14705»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے مراد یہ نہیں کہ صرف شراب نوشی کی صورت میں نہیں بیٹھنا چاہیے، بلکہ اصل مدّعا اللہ تعالی اور اس کے رسول کی نافرمانی ہے، جہاں نافرمانی ہو رہی ہو، اس کو روکا جائے، نہیں تو اس مجلس کو ترک کر دیا جائے۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
24. بَابُ مَا جَاءَ فِي يَثار التمر ونحوه والنهبة في الوليمة
ولیمہ میں کھجوروں وغیرہ کو بکھیرنے اور پھر ان کو لوٹنے کا بیان
حدیث نمبر: 7052
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنِ النُّهْبَةِ وَالْخُلْسَةِ
۔ سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوٹ مار کرنے اور مال اچکنے سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7052]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابن ابي شيبة: 7/ 59، والطبراني: 5265، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21685 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22027»
وضاحت: فوائد: … ”اَلنُّہْبَۃ“ (لوٹ مار، ڈاکہ): آدمی کا لوگوں کے سامنے اور زبر دستی کسی سے کوئی ایسی چیز چھین لینا، جو قیمت والی ہو۔
”اَلْخُلْسَۃ“ (اچکنا): کسی کی غفلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جلدی اور چالاکی سے کوئی چیز اٹھا لینا۔
”اَلْخُلْسَۃ“ (اچکنا): کسی کی غفلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جلدی اور چالاکی سے کوئی چیز اٹھا لینا۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
حدیث نمبر: 7053
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنِ انْتَهَبَ نُهْبَةً فَلَيْسَ مِنَّا
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:جس نے لوٹ مار کی،وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7053]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15254 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15325»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 7054
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ النُّهْبَةِ وَالْمُثْلَةِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن یزید انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوٹ مار سے اور مُثلہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7054]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2474، 5516، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18742 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18949»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2474
حدیث نمبر: 7055
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ النُّهْبَةِ وَمَنِ انْتَهَبَ فَلَيْسَ مِنَّا
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوٹ مار کرنے سے منع کیا اور فرمایا: جس نے لوٹ مار کی وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7055]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابن ابي شيبة: 7/ 57، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12422 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12449»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث میں جس لوٹ مار سے روکا گیا ہے، وہ تو معروف ہے اور باب کی پہلی حدیث کے فوائد میں اس کی وضاحت کر دی گئی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ پرمسرت تقریبات اور دعوتوں پر جو مٹھائی اور نقدی ہوا میں بکھیر دی جاتی ہے، پھر بالخصوص غریب بچے اور لوگ اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں، اس چیز کا کیا حکم ہو گا۔
اس موضوع سے متعلقہ خاص احادیث ضعیف ہیں، البتہ امام مالک اور امام شافعی سمیت بعض اہل علم نے اس کو مکروہ قرار دیا ہے اور امام ابو حنیفہ شادی کے موقع پر اس کے جواز کے قائل ہیں۔
معلوم ایسے ہوتا ہے کہ اسلامی تہذیب و تمدن کا تقاضا یہ ہے کہ کھانے کی کوئی چیز اس طرح نہ بکھیری جائے، اس میں رزق کی بے حرمتی ہے اور اٹھانے والے بچوں اور لوگوں کی ذلت ہے، بہتر یہ ہے کہ خوشی کے موقع پر کوئی چیز تقسیم کر دی جائے اور اگر نقدی دینی ہو تو غریب بچوں اور مستحق افراد میں تقسیم کر دی جائے۔
اس موضوع سے متعلقہ خاص احادیث ضعیف ہیں، البتہ امام مالک اور امام شافعی سمیت بعض اہل علم نے اس کو مکروہ قرار دیا ہے اور امام ابو حنیفہ شادی کے موقع پر اس کے جواز کے قائل ہیں۔
معلوم ایسے ہوتا ہے کہ اسلامی تہذیب و تمدن کا تقاضا یہ ہے کہ کھانے کی کوئی چیز اس طرح نہ بکھیری جائے، اس میں رزق کی بے حرمتی ہے اور اٹھانے والے بچوں اور لوگوں کی ذلت ہے، بہتر یہ ہے کہ خوشی کے موقع پر کوئی چیز تقسیم کر دی جائے اور اگر نقدی دینی ہو تو غریب بچوں اور مستحق افراد میں تقسیم کر دی جائے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
25. بَابُ مَا جَاءَ فِي إِجَابَةِ دَعْوَةِ الْخِتَانِ وَغَيْرِهِ وحُكْمِ مَنْ دَعَا سِئَةٌ فَتَبِعَهُمْ وَاحِدٌ
ختنہ وغیرہ کے موقع کی دعوت کو قبول کرنے کا بیان اور اس چیز کا حکم کہ چھ افراد کو دعوت دی اور ایک آدمی ان کے ساتھ ویسے ہی چل پڑا
حدیث نمبر: 7056
عَنِ الْحَسَنِ قَالَ دُعِيَ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى خِتَانٍ فَأَبَى أَنْ يُجِيبَ فَقِيلَ لَهُ فَقَالَ إِنَّا كُنَّا لَا نَأْتِي الْخِتَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَا نُدْعَى لَهُ
۔ حسن بصری سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان بن ابی عاص رضی اللہ عنہ کو ختنہ کے موقع پر دعوت میں بلایا گیا، انہوں نے اس دعوت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا، جب ان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد ِ مبارک میں ختنے کے موقع پر دعوت میں نہ جایا کرتے تھے اور نہ ہمیں بلایا جاتا تھا۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7056]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، محمد بن اسحاق مدلس وقد عنعن، وسماع الحسن البصري من عثمان مختلف فيه، أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 8382، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17908 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18068»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف