الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. بَابُ النَّهْي عَنْهُ وَكَرَاهِيَهِ
عزل کا بیان اور اس کے بارے میں منقول روایات عزل کے منہی عنہ اور مکروہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 7077
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْعَزْلِ عَنِ الْحُرَّةِ إِلَّا بِإِذْنِهَا
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آزاد عورت سے عزل کرنے سے منع فرمایا، الایہ کہ وہ اجازت دے دے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7077]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبد الله بن لھيعة سييء الحفظ، أخرجه ابن ماجه: 1928، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 212 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 212»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 7078
عَنْ جُدَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ الْأَسَدِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَسُئِلَ عَنِ الْعَزْلِ فَقَالَ هُوَ الْوَأْدُ الْخَفِيُّ
۔ سیدنا جدامہ بنت وہب اسدیہ رضی اللہ عنہا، جو کہ پہلی مہاجر خواتین میں سے تھیں، سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے غزل کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ مخفی انداز میں زندہ درگور کرنا ہے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7078]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27036 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27576»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالی نے جس نطفے کو بچے کی تخلیق کے لیے تیار کیا، اس مقصد کے پورا نہ ہونے کی کوشش کرنا اور نطفے کو ضائع کر دینا، گویامخفی انداز میں زندہ درگور کرنا ہے۔ یہ حدیث جواز والی احادیث کے مقابلے میں عزل کی ممانعت پر دلالت نہیں کرتی، کیونکہ اعلانیہ طور پر بچوں کو زندہ درگور کرنا حرام ہے، اس سے یہ تو لازم نہیں آتا کہ مذکورہ بالا خفیہ طریقے سے بھی ایسا کرنا ممنوع ہے، جبکہ اگلے باب میںجواز کے دلائل موجود ہیں۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 7079
عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ الشَّامِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا صِرْمَةَ الْمَازِنِيَّ وَأَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولَانِ أَصَبْنَا سَبَايَا فِي غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَهِيَ الْغَزْوَةُ الَّتِي أَصَابَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جُوَيْرِيَةَ وَكَانَ مِنَّا مَنْ يُرِيدُ أَنْ يَتَّخِذَ أَهْلًا وَمِنَّا مَنْ يُرِيدُ أَنْ يَسْتَمْتِعَ وَيَبِيعَ فَتَرَاجَعْنَا فِي الْعَزْلِ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَعْزِلُوا فَإِنَّ اللَّهَ قَدَّرَ مَا هُوَ خَالِقٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
۔ سیدنا ابو صرمہ مازنی اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے غزوہ نبی مصطلق میں قیدی حاصل کیے،یہ وہی غزوہ ہے، جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کو حاصل کیا تھا، ہم میں سے بعض افراداہل (بیوی) بنانا چاہتے تھے اور بعض کا ارادہ تھا کہ وہ لونڈیوں سے ہم بستری کر کے ان کو فروخت کر دیں، اس لیے ہم نے غزل کے بارے میں تکرار کیا اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس چیز کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم عزل نہ کرو تو تم پر کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالی نے قیامت تک جو کچھ پیدا کرنا ہے، اس نے اس کا اندازہ کر لیا ہے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7079]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح،أخرجه النسائي في ’’الكبري‘‘: 9089، والبيھقي: 10/ 347، وابن ابي شيبة: 4/ 222، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11602 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11624»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 7080
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ ذُكِرَ ذَلِكَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ وَمَا ذَاكُمْ قَالُوا الرَّجُلُ تَكُونُ الْمَرْأَةُ تُرْضِعُ فَيُصِيبُ مِنْهَا وَيَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ مِنْهُ وَالرَّجُلُ تَكُونُ لَهُ الْجَارِيَةُ فَيُصِيبُ مِنْهَا وَيَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ مِنْهُ فَقَالَ فَلَا عَلَيْكُمْ أَنْ تَفْعَلُوا ذَاكُمْ فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ فَحَدَّثْتُ بِهِ الْحَسَنَ فَقَالَ فَلَا عَلَيْكُمْ لَكَأَنَّ هَذَا زِجْرٌ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس عزل کا ذکر کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ ہے کیا؟ لوگوں نے کہا: ایک آدمی کی بیوی ہے، وہ بچے کو دودھ پلاتی ہے اس لیے وہ پسند نہیں کرتا کہ وہ حاملہ ہو، اسی طرح ایک آدمی کی لونڈی ہے، وہ اس سے ہم بستری تو کرتا ہے، لیکن اس کا حاملہ ہونا پسند نہیں کرتا، سو وہ عزل کرنا چاہتے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر تم یہ کرو تو تم پر کوئی حرج نہیں ہے، یہ تو تقدیر کا مسئلہ ہے۔ ابن عون کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث سیدنا حسن سے بیان کی تو انہوں نے کہا فَلَا عَلَیْکُمْ کا مقصد عزل سے ڈانٹنا ہے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7080]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1438، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11078 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11094»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1438
حدیث نمبر: 7081
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَزْلِ أَنْتَ تَخْلُقُهُ أَنْتَ تَرْزُقُهُ أَقِرَّهُ قَرَارَهُ فَإِنَّمَا ذَلِكَ الْقَدَرُ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عزل کے بارے میں فرمایا: کیا تو اس کو پیدا کرتا ہے؟ کیا تو اس کو رزق دیتا ہے؟ اس کو اس کی جگہ پر ٹھہرنے دے (یعنی عزل نہ کر) کیونکہ ان سب امور کا تعلق قضا وقدرسے ہے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7081]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، الحسن البصري لم يسمع من ابي سعيد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11503 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11523»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی احادیث سے عزل کے مکروہ ہونے کا اشارہ ملتا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
31. بَابُ فِي الرَّحْصَةِ فِي الْعَزْلِ
عزل کی رخصت کا بیان
حدیث نمبر: 7082
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنَّا نَعْزِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالْقُرْآنُ يَنْزِلُ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں عزل کرتے تھے اور قرآن پاک نازل ہورہا ہوتا تھا۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7082]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1440، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14318 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14369»
وضاحت: فوائد: … اس کے باوجود ہمیں عزل سے منع نہیں کیا گیا، اگر عزل حرام ہوتا تو یقینا منع کر دیا جاتا۔
صحیح مسلم کی ایک روایت کے درج ذیل الفاظ مذکورہ بالا حدیث سے زیادہ واضح ہیں:
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کُنَّا نَعْزِلُ عَلٰی عَہْدِ رَسُولِ اللّٰہِV فَبَلَغَ ذَلِکَ نَبِیَّ اللّٰہِV فَلَمْ یَنْہَنَا۔ … ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عزل کرتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس چیز کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع نہیں کیا۔
صحیح مسلم کی ایک روایت کے درج ذیل الفاظ مذکورہ بالا حدیث سے زیادہ واضح ہیں:
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کُنَّا نَعْزِلُ عَلٰی عَہْدِ رَسُولِ اللّٰہِV فَبَلَغَ ذَلِکَ نَبِیَّ اللّٰہِV فَلَمْ یَنْہَنَا۔ … ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عزل کرتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس چیز کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع نہیں کیا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1440
حدیث نمبر: 7083
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ لِي جَارِيَةً وَهِيَ خَادِمُنَا وَسَانِيَتُنَا أَطُوفُ عَلَيْهَا وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ قَالَ اعْزِلْ عَنْهَا إِنْ شِئْتَ فَإِنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا قَالَ فَلَبِثَ الرَّجُلُ ثُمَّ أَتَاهُ فَقَالَ إِنَّ الْجَارِيَةَ قَدْ حَمَلَتْ فَقَالَ قَدْ أَخْبَرْتُكَ أَنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میری ایک لونڈی ہے، وہ ہماری خادمہ بھی ہے اور پانی بھی لاتی ہے، میں اس سے ہم بستری تو کرتا ہوں، مگر میں اس کاحاملہ ہونا ناپسند کرتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو اس سے عزل کرنا چاہتا ہے تو کرلے، مگر جو اس کے مقدر میں ہے، وہ آکر رہے گا۔ وہ آدمی کچھ عرصہ کے بعد آیا اور اس نے کہا: وہ لونڈی تو حاملہ ہو گئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تجھے کہہ دیا تھا کہ جو اس کے مقدر میں ہے، وہ آ کر رہے گا۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7083]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1439، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14346 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14398»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1439
حدیث نمبر: 7084
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَصَبْنَا سَبْيًا فِي يَوْمِ حُنَيْنٍ فَكُنَّا نَلْتَمِسُ فِدَاءَهُنَّ فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَزْلِ فَقَالَ اصْنَعُوا مَا بَدَا لَكُمْ فَمَا قَضَى اللَّهُ فَهُوَ كَائِنٌ فَلَيْسَ مِنْ كُلِّ الْمَاءِ يَكُونُ الْوَلَدُ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے حنین کے دن لونڈیاں حاصل کیں، ہم ان کے عوض مال چاہتے تھے، اس لیے ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عزل کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تک مناسب سمجھو کر لو، لیکن اللہ تعالی نے جو فیصلہ کر دیا ہے، وہ ہو کررہے گا، سارے مادۂ منویہ سے تو اولاد نہیں ہوتی، (وہ تو ایک قطرے سے ہو جاتی ہے)۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7084]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1438، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11438 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11458»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1438
حدیث نمبر: 7085
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِي أَمَةً وَأَنَا أَعْزِلُ عَنْهَا وَأَنِّي أَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ وَإِنَّ الْيَهُودَ تَزْعَمُ أَنَّهَا الْمَوْؤُودَةُ الصُّغْرَى قَالَ كَذَبَتْ يَهُودُ إِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَخْلُقَهُ لَمْ تَسْتَطِعْ أَنْ تَرُدَّهُ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: میری ایک لونڈی ہے، میں چاہتا ہوں کہ وہ حاملہ نہ ہو، اس لیے میں اس سے عزل کرتا ہوں اور ان یہودیوں کا خیال ہے کہ یہ چھوٹا زندہ درگور کرنا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہودی جھوٹ بولتے ہیں، جب اللہ تعالیٰ کسی چیز کے پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو تو اسے روکنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7085]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح،أخرجه ابوداود: 2171، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11502 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11522»
وضاحت: فوائد: … حدیث نمبر (۷۰۷۸)کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود عزل کو مخفی انداز میں زندہ درگور کرنا قرار دیا، جبکہ اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہودیوں کے اسی خیال کی تردید کر رہے ہیں۔
حافظ ابن قیم نے جمع و تطبیق کییہ صورت بیان کی ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کے جس خیال کی تردید کی ہے، اس سے مراد ان کا یہ نظریہ ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ عزل کی صورت میں حمل کا کوئی تصور نہیں کیا جا سکتا اور وہ اس کو قطعِ نسل کے قائم مقام سمجھتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس نظریے کو باطل قرار دیا اور واضح کیا کہ اگر اللہ تعالی چاہے تو عزل کے باوجود حمل کا امکان ہو سکتا ہے، جب اللہ تعالی اس کی تخلیق کو نہیں چاہے گا تو یہ فی الحقیقت زندہ درگور کرنا نہیں ہو گا اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو مخفی انداز میں زندہ درگور کرنا اس لیے قرار دیا کہ آدمی حمل سے بچنے کے لیے عزل کرتا ہے، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے اس ارادے کو زندہ درگور کرنے کے قائم مقام قرار دیا۔
حافظ ابن قیم نے جمع و تطبیق کییہ صورت بیان کی ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کے جس خیال کی تردید کی ہے، اس سے مراد ان کا یہ نظریہ ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ عزل کی صورت میں حمل کا کوئی تصور نہیں کیا جا سکتا اور وہ اس کو قطعِ نسل کے قائم مقام سمجھتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس نظریے کو باطل قرار دیا اور واضح کیا کہ اگر اللہ تعالی چاہے تو عزل کے باوجود حمل کا امکان ہو سکتا ہے، جب اللہ تعالی اس کی تخلیق کو نہیں چاہے گا تو یہ فی الحقیقت زندہ درگور کرنا نہیں ہو گا اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو مخفی انداز میں زندہ درگور کرنا اس لیے قرار دیا کہ آدمی حمل سے بچنے کے لیے عزل کرتا ہے، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے اس ارادے کو زندہ درگور کرنے کے قائم مقام قرار دیا۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 7086
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَسَأَلَ عَنِ الْعَزْلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَنَّ الْمَاءَ الَّذِي يَكُونُ مِنْهُ الْوَلَدُ أَهْرَقْتَهُ عَلَى صَخْرَةٍ لَأَخْرَجَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهَا أَوْ لَخَرَجَ مِنْهَا وَلَدٌ الشَّكُّ مِنْهُ وَلَيَخْلُقَنَّ اللَّهُ نَفْسًا هُوَ خَالِقُهَا
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور عزل کے متعلق دریافت کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس مادۂ منویہ سے اولاد ہونی ہو، اگر تو اس کو کسی چٹان پر بہا دے تو اللہ تعالی اس سے اولاد پیدا کر دے گا، اللہ تعالی جس نفس کو پیدا کرنے والا ہے، وہ اس کو ضرور ضرور پیدا کر دے گا۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7086]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابوعمرو مبارك الخياط في عداد المجھولين، وقد ثبت الحديث موقوفا عن ابن مسعود، أخرجه البزار: 2163، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12420 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12447»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی روایات سے معلوم ہوا کہ عزل جائز ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ نظریہیہ ہونا چاہیے کہ اللہ تعالی کی طرف سے پھر بھی حمل کا حکم ہو سکتا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف