الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. بَابُ مَا جَاءَ فِي إِجَابَةِ دَعْوَةِ الْخِتَانِ وَغَيْرِهِ وحُكْمِ مَنْ دَعَا سِئَةٌ فَتَبِعَهُمْ وَاحِدٌ
ختنہ وغیرہ کے موقع کی دعوت کو قبول کرنے کا بیان اور اس چیز کا حکم کہ چھ افراد کو دعوت دی اور ایک آدمی ان کے ساتھ ویسے ہی چل پڑا
حدیث نمبر: 7057
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو شُعَيْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ لَهُ غُلَامٌ لَحَّامٌ فَقَالَ لَهُ اجْعَلْ لَنَا طَعَامًا لَعَلِّي أَدْعُو رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَادِسَ سِتَّةٍ فَدَعَاهُمْ فَاتَّبَعَهُمْ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ هَذَا قَدِ اتَّبَعَنَا أَفَتَأْذَنُ لَهُ قَالَ نَعَمْ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابو شعیب نامی ایک انصاری آدمی تھا، اس کا ایک غلام قصاب تھا، اس نے اس سے کہا:ہمارے لیے کھانا تیار کر، ممکن ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دعوت دوں، چھ افراد کا کھانا ہونا چاہیے، پھر اس آدمی نے ان لوگوں کو دعوت دی، ایک اور آدمی بھی آپ کے پیچھے چل پڑا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس داعی سے فرمایا: یہ آدمی بھی ہمارے پیچھے آ گیا ہے، کیا تو اس کو اجازت دے گا؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7057]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2036، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14801 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14861»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں عام ایک دعوت کا ذکر ہے، معلوم ہوا کہ اجازت کے بغیر دعوت میں شرکت نہیں کرنی چاہیے اور اگر اجازت لینے کی صورت میں داعی انکار کر دے تو اس میں کسی کو کوئی چیز محسوس نہیں کرنی چاہیے، دیکھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایک آدمی کے لیے میزبانسے اجازت لے رہے ہیں۔ کسی مسلمان کو کسی وقت بھی دعوت دی جا سکتی ہے، یہ باعث ِ اجرو ثواب عمل ہے، لیکن اب مختلف مناسبتوں سے مسلمانوں میں دعوتوں کی جو روٹین چل پڑی ہے، مثلا: ختنہ، منگنی، مہندی، ابٹن، بارات اور کسی دنیوی کامیابی کے موقع پر پر تکلف کھانے تیار کرنا، خواتین کا خوب میک اپ کر کے اپنی نمائش کرنے کے لیے آنا اور پھر ماحول سے اس قدر متأثر ہونا کہ ہر آدمی کا اپنے حق میں ضروری سمجھنا کہ وہ اس موقع پر کوئی نہ کوئی تحفہ یا نقدی لے کر جائے، پھر میزبان لوگوں کا ان تحائف اور نقدیوں کا ریکارڈ تیار کرنا اور پروگرام کی تکمیل کے بعد یہ جائزہ لینا کہ کون کیا دے کر گیا ہے، اگر کسی نے کم قیمت چیز دی ہے یا بالکل نہیں دی تو اس کے بارے میں سوچنا کہ ہم نے تو اس کی فلاں خوشی کے موقع پر اس کے ساتھ یہ سلوک کیا تھا، لیکن اس نے تو کسی چیز کا لحاظ نہیں رکھا، اس مجلس میں وہ شخص عظیم القدر قرار پائے گا، جس کا تحفہ بہت قیمتی ہو گا یا جو نقدی زیادہ دے گا۔
اگر اسلام کے مزاج اور دعوتوں کے مقاصد کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو یہ پروگرام تکلف، کراہت اور حرج سے خالی نہیں ہے، ان تقریبات نے غریب بلکہ درمیانی آمدنی والے لوگوں کو ناکوں چنے چبوا دیئے ہیں، لوگ مذہبی رہنماؤں کو باقاعدہ یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ اللہ کے واسطے ان رسموں کو ختم کرو، کوئی مقروض ہو رہا ہے، کسی گھر کا میزانیہ خراب ہو رہا ہے، کوئی بھیک مانگ رہا ہے اور اتنی مذہبی جرأت کسی میں نہیں ہے کہ وہ ایسے پروگرام کا اہتمام نہ کرے یا وہ اس میں شریک نہ ہو، اسلام سادگی والا دین ہے، یہ تکلف سے دور رہنے کیدعوت دیتا ہے، البتہ دلی محبتوں کو ابھارتا ہے اور پر خلوص طریقے سے دعوت دینے کی ترغیب دلاتا ہے، جبکہ اس میں کوئی تکلف نہ ہو۔
پرتکلف لمبے چوڑے ولیمے اور فوتگی کے موقع پر کھانوں کا اہتمام بھی انتہائی محل نظر ہے۔
یہاںیہ نقطہ بیان کر دینا بھی مناسب ہے کہ جن بزرگوں نے ان تقریبات کی بنیاد رکھی، ان کا مقصد باہمی محبت کو فروغ دینا اور ناراضگیوں کو ختم کرنا تھا اور وہ عملی طور پر ایسا کرتے تھے، جبکہ دعوتوں میں سادگی کو برقرار رکھا جاتا تھا، غریب اپنی حیثیت کے مطابق اس پروگرام میں شرکت کرتا تھا اور اگر کسی کی حیثیت اجازت نہ دیتی تو وہ چپ چاپ سے اپنا فریضہ سرانجام دے لیتا تھا اور اب کیا ہے؟ مال و دولت کا اظہار ہے، فخر و مباہات کا ذریعہ ہے، صرف شان و شوکت کا اظہار کرنے کے لیے لاکھوں روپے ٹنیٹ سروس والوں کو بطورِ ٹھیکہ دیئےجاتے ہیں اور مہنگے اور خوبصورت میرج ہال کرائے پر لیے جاتے ہیں، اب مقابلہ بازی ہے، اگر وہ اپنے بیٹے کی شادی پر ایسا پروگرام کرتا ہے تو ہم کیوں نہیں کر سکتے، اُدھر خواتین کے بناؤ سنگھار کے ذریعے بے غیرتی کا اظہار ہے، لیڈیز ہال میں ویٹروں، مووی میکروں اور شرارتی لڑکوں کو اس طرح پھرنے کی اجازت ہوتی ہے کہ لگتا ہے وہ معصوم اور نابالغ بچے ہیں، بڑے بڑے غیرت مند گھرانے اپنی بچیوں کو بیوٹی پارلروں سے رنگ و روغن کروا کر بدکردار نگاہوں کے سامنے بٹھا دیتے ہیں اور مووی میکر تو یوں کہتے ہوئے بھی سنائی دیتا ہے کہ ”میڈم ذرا ایسے ہو کر بیٹھنا، ذرا سامنے دیکھنا، تھوڑا سا گردن کو اس طرف کرنا، دلہن کے سامنے سے سارے لوگ ہٹ جائیں“، جبکہ دوسرے ہال میں اسی بچی کا والد اور بھائی شریعت کے ٹھیکیدار بنتے ہوئے نظر آ رہے ہوتے ہیں۔ یہ انجام ہے ظاہر پرستی کا اور محبت سے خالی دلوں کا۔
حیرانی کی بات یہ ہے کہ ان تقریبات پر بے تحاشا خرچ کرنے والوں سے جب یہ کہا جاتا ہے کہ فلاں آدمی تمہارا محتاج رشتہ دار ہے اور بڑی مشکل سے زندگی گزار رہا ہے، تو تب تو اس کے ہاتھ بند ہو جاتے ہیں اور وہ عذر خواہی کے لیے چرب لسانی شروع کر دیتا ہے، بلکہ غریب رشتہ داروں سے تعلق توڑنے کی کوشش کی جاتی ہے، یہ کیا تضاد بیانی ہے، بھائی! کل بارات پر تو بارہ سو افراد کے پر تکلف کھانے کا اہتمام کرنا تیرے لیے آسان تھا اور آج ایک گھر کی کفالت تیرے لیے دشوار ثابت ہو رہی ہے، کیوں؟یہ تیری ایمانی کیفیت بدل رہی ہے یا تیرے رجحانات بدل گئے ہیں؟ ہم اس قسم کی سینکڑوں مثالیں عملی طور پر قارئین کو دکھا سکتے ہیں، کروڑ پتی لوگوں کے قریبی رشتہ دار مساجد کے ائمہ و خطباء سے یہ درخواست کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ وہ لوگوں سے ان کا کچھ تعاون کروا دیں، لیکن ان کا نام نہ لیا جائے۔
ہمارے عظیم رہبر و رہنما محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی ولیمے پر گھی اور کھجور کا حلوہ کھلا رہے ہیں، کسی بیوی کے ولیمے پر دو مدّ جو کھلا رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے بڑا ولیمہیہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے لیے ایک بکری ذبح کی تھی، ایک صحابی اپنے ولیمے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کو بھگوئی ہوئی کھجور کا پانییعنی نبیذ پلا رہا ہے، لیکن جب صدقہ کرنے کی باری آتی ہے تو یہی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سونا تقسیم کرتے ہوئے اور ایک ایک قریشی کو ایک ایک سو اونٹ دیتے ہوئے نظر آتے ہیں، صحابۂ کرام کے صدقے کی مثالیں بھی اظہر من الشمس ہیں، محتاج کو اس قدر دیا جاتا تھا کہ اس کی ضرورت پوری ہو جاتی تھی، لیکنیہ اس دور کی صفات ہیں، جس کے لوگوں میں دلی اور پر خلوص محبت ہو، جو نمود و نمائش اور فخرو مباہات سے دور رہنے والے ہوں، جن کی تقریبات کا مقصد اللہ تعالی کو راضٰی کرنا ہو اور جن کا اللہ تعالی اور اس کے رسول سے گہرا تعلق ہو۔
قارئین کرام! یقین مانیں کہ جب لوگوں کو اس قسم کی دعوتیں ملتی ہیں تو وہ پریشان ہو جاتے ہیں کہ وہ اس پروگرام میں شرکت کرنے کے لیے اخراجات کا بندوبست کیسے کریں، کئی دعوتوں کے لیے دور دور کا سفر کرنا پڑتا ہے، ہر دعوت میں کوئی نہ کوئی تحفہ اور نقدی دینی پڑتی ہے اور سپیشل ملبوسات زیب ِ تن کر کے جانا پڑتا ہے، یہ ذاتی مشاہدے کی باتیں ہیں۔
ہمارا نظریہیہ ہے کہ سادگی کو ترجیح دی جائے، روح اسلام کو سمجھا جائے اور جس تقریب کا عہد ِ نبوی میںاہتمام نہیں کیا گیا، اس سے باز رہا جائے اور اگر کوئی مالدار ہے تو وہ اس مال کو اللہ تعالی کی امانت سمجھے اور اسلام کی تعلیمات کے مطابق خرچ کرے، سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ بھی مالدار تھے۔
اگر اسلام کے مزاج اور دعوتوں کے مقاصد کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو یہ پروگرام تکلف، کراہت اور حرج سے خالی نہیں ہے، ان تقریبات نے غریب بلکہ درمیانی آمدنی والے لوگوں کو ناکوں چنے چبوا دیئے ہیں، لوگ مذہبی رہنماؤں کو باقاعدہ یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ اللہ کے واسطے ان رسموں کو ختم کرو، کوئی مقروض ہو رہا ہے، کسی گھر کا میزانیہ خراب ہو رہا ہے، کوئی بھیک مانگ رہا ہے اور اتنی مذہبی جرأت کسی میں نہیں ہے کہ وہ ایسے پروگرام کا اہتمام نہ کرے یا وہ اس میں شریک نہ ہو، اسلام سادگی والا دین ہے، یہ تکلف سے دور رہنے کیدعوت دیتا ہے، البتہ دلی محبتوں کو ابھارتا ہے اور پر خلوص طریقے سے دعوت دینے کی ترغیب دلاتا ہے، جبکہ اس میں کوئی تکلف نہ ہو۔
پرتکلف لمبے چوڑے ولیمے اور فوتگی کے موقع پر کھانوں کا اہتمام بھی انتہائی محل نظر ہے۔
یہاںیہ نقطہ بیان کر دینا بھی مناسب ہے کہ جن بزرگوں نے ان تقریبات کی بنیاد رکھی، ان کا مقصد باہمی محبت کو فروغ دینا اور ناراضگیوں کو ختم کرنا تھا اور وہ عملی طور پر ایسا کرتے تھے، جبکہ دعوتوں میں سادگی کو برقرار رکھا جاتا تھا، غریب اپنی حیثیت کے مطابق اس پروگرام میں شرکت کرتا تھا اور اگر کسی کی حیثیت اجازت نہ دیتی تو وہ چپ چاپ سے اپنا فریضہ سرانجام دے لیتا تھا اور اب کیا ہے؟ مال و دولت کا اظہار ہے، فخر و مباہات کا ذریعہ ہے، صرف شان و شوکت کا اظہار کرنے کے لیے لاکھوں روپے ٹنیٹ سروس والوں کو بطورِ ٹھیکہ دیئےجاتے ہیں اور مہنگے اور خوبصورت میرج ہال کرائے پر لیے جاتے ہیں، اب مقابلہ بازی ہے، اگر وہ اپنے بیٹے کی شادی پر ایسا پروگرام کرتا ہے تو ہم کیوں نہیں کر سکتے، اُدھر خواتین کے بناؤ سنگھار کے ذریعے بے غیرتی کا اظہار ہے، لیڈیز ہال میں ویٹروں، مووی میکروں اور شرارتی لڑکوں کو اس طرح پھرنے کی اجازت ہوتی ہے کہ لگتا ہے وہ معصوم اور نابالغ بچے ہیں، بڑے بڑے غیرت مند گھرانے اپنی بچیوں کو بیوٹی پارلروں سے رنگ و روغن کروا کر بدکردار نگاہوں کے سامنے بٹھا دیتے ہیں اور مووی میکر تو یوں کہتے ہوئے بھی سنائی دیتا ہے کہ ”میڈم ذرا ایسے ہو کر بیٹھنا، ذرا سامنے دیکھنا، تھوڑا سا گردن کو اس طرف کرنا، دلہن کے سامنے سے سارے لوگ ہٹ جائیں“، جبکہ دوسرے ہال میں اسی بچی کا والد اور بھائی شریعت کے ٹھیکیدار بنتے ہوئے نظر آ رہے ہوتے ہیں۔ یہ انجام ہے ظاہر پرستی کا اور محبت سے خالی دلوں کا۔
حیرانی کی بات یہ ہے کہ ان تقریبات پر بے تحاشا خرچ کرنے والوں سے جب یہ کہا جاتا ہے کہ فلاں آدمی تمہارا محتاج رشتہ دار ہے اور بڑی مشکل سے زندگی گزار رہا ہے، تو تب تو اس کے ہاتھ بند ہو جاتے ہیں اور وہ عذر خواہی کے لیے چرب لسانی شروع کر دیتا ہے، بلکہ غریب رشتہ داروں سے تعلق توڑنے کی کوشش کی جاتی ہے، یہ کیا تضاد بیانی ہے، بھائی! کل بارات پر تو بارہ سو افراد کے پر تکلف کھانے کا اہتمام کرنا تیرے لیے آسان تھا اور آج ایک گھر کی کفالت تیرے لیے دشوار ثابت ہو رہی ہے، کیوں؟یہ تیری ایمانی کیفیت بدل رہی ہے یا تیرے رجحانات بدل گئے ہیں؟ ہم اس قسم کی سینکڑوں مثالیں عملی طور پر قارئین کو دکھا سکتے ہیں، کروڑ پتی لوگوں کے قریبی رشتہ دار مساجد کے ائمہ و خطباء سے یہ درخواست کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ وہ لوگوں سے ان کا کچھ تعاون کروا دیں، لیکن ان کا نام نہ لیا جائے۔
ہمارے عظیم رہبر و رہنما محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی ولیمے پر گھی اور کھجور کا حلوہ کھلا رہے ہیں، کسی بیوی کے ولیمے پر دو مدّ جو کھلا رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے بڑا ولیمہیہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے لیے ایک بکری ذبح کی تھی، ایک صحابی اپنے ولیمے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کو بھگوئی ہوئی کھجور کا پانییعنی نبیذ پلا رہا ہے، لیکن جب صدقہ کرنے کی باری آتی ہے تو یہی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سونا تقسیم کرتے ہوئے اور ایک ایک قریشی کو ایک ایک سو اونٹ دیتے ہوئے نظر آتے ہیں، صحابۂ کرام کے صدقے کی مثالیں بھی اظہر من الشمس ہیں، محتاج کو اس قدر دیا جاتا تھا کہ اس کی ضرورت پوری ہو جاتی تھی، لیکنیہ اس دور کی صفات ہیں، جس کے لوگوں میں دلی اور پر خلوص محبت ہو، جو نمود و نمائش اور فخرو مباہات سے دور رہنے والے ہوں، جن کی تقریبات کا مقصد اللہ تعالی کو راضٰی کرنا ہو اور جن کا اللہ تعالی اور اس کے رسول سے گہرا تعلق ہو۔
قارئین کرام! یقین مانیں کہ جب لوگوں کو اس قسم کی دعوتیں ملتی ہیں تو وہ پریشان ہو جاتے ہیں کہ وہ اس پروگرام میں شرکت کرنے کے لیے اخراجات کا بندوبست کیسے کریں، کئی دعوتوں کے لیے دور دور کا سفر کرنا پڑتا ہے، ہر دعوت میں کوئی نہ کوئی تحفہ اور نقدی دینی پڑتی ہے اور سپیشل ملبوسات زیب ِ تن کر کے جانا پڑتا ہے، یہ ذاتی مشاہدے کی باتیں ہیں۔
ہمارا نظریہیہ ہے کہ سادگی کو ترجیح دی جائے، روح اسلام کو سمجھا جائے اور جس تقریب کا عہد ِ نبوی میںاہتمام نہیں کیا گیا، اس سے باز رہا جائے اور اگر کوئی مالدار ہے تو وہ اس مال کو اللہ تعالی کی امانت سمجھے اور اسلام کی تعلیمات کے مطابق خرچ کرے، سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ بھی مالدار تھے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2036
26. باب اعلانِ النِّكَاحِ وَاللَّهْوِ فِيهِ وَالضَّرْبِ بِالدُّتِ
نکاح کے اعلان اور اس میں کھیل کود اور دف بجانے کے حکم کا بیان
حدیث نمبر: 7058
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَعْلِنُوا النِّكَاحَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نکاح کا اعلان کیا کرو۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7058]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه البزار: 2214، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 325، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16130 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16229»
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
حدیث نمبر: 7059
عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ عَنْ جَدِّهِ أَبِي حَسَنٍ الْمَازِنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ نِكَاحَ السِّرِّ حَتَّى يُضْرَبَ بِدُفٍّ وَيُقَالَ أَتَيْنَاكُمْ أَتَيْنَاكُمْ فَحَيُّونَا نُحَيِّيكُمْ
۔ سیدنا ابو الحسن مازنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پوشیدہ نکاح کو ناپسند کرتے تھے، آپ چاہتے تھے کہ دف بجائی جائے اور یہ کہاجائے: ہم تمہارے پاس آئے،ہم تمہارے پاس آئے، تم ہمیں سلام کہو، ہم تمہیں سلام کہتے ہیں۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7059]
تخریج الحدیث: «اسناده مظلم، حسين بن عبد الله بن ضميرة من رجال ’’التعجيل‘‘، وقد كذبه مالك، وقال احمد: لا يساوي شيئا متروك الحديث، وقال ابو حاتم الرازي: متروك الحديث كذاب، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16712 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16832»
الحكم على الحديث:
اسناده مظلم
حدیث نمبر: 7060
عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ عَنْ جَدِّهِ أَبِي حَسَنٍ الْمَازِنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ نِكَاحَ السِّرِّ حَتَّى يُضْرَبَ بِدُفٍّ وَيُقَالَ أَتَيْنَاكُمْ أَتَيْنَاكُمْ فَحَيُّونَا نُحَيِّيكُمْ
۔ سیدنا ابو الحسن مازنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پوشیدہ نکاح کو ناپسند کرتے تھے، آپ چاہتے تھے کہ دف بجائی جائے اور یہ کہاجائے: ہم تمہارے پاس آئے،ہم تمہارے پاس آئے، تم ہمیں سلام کہو، ہم تمہیں سلام کہتے ہیں۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7060]
تخریج الحدیث: «اسناده مظلم، حسين بن عبد الله بن ضميرة من رجال ’’التعجيل‘‘، وقد كذبه مالك، وقال احمد: لا يساوي شيئا متروك الحديث، وقال ابو حاتم الرازي: متروك الحديث كذاب، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16712 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16832»
الحكم على الحديث:
اسناده مظلم
حدیث نمبر: 7061
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ أَوْ عُمَيْرَةَ قَالَ حَدَّثَنِي زَوْجُ ابْنَةِ أَبِي لَهَبٍ قَالَ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ تَزَوَّجْتُ ابْنَةَ أَبِي لَهَبٍ فَقَالَ هَلْ مِنْ لَهْوٍ
۔ عبد اللہ بن عمیریا عمیرہ کہتے ہیں: ابو لہب کے داماد نے مجھے بیان کرتے ہوئے کہا: جب میں نے ابو لہب کی بیٹی سے شادی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس آئے اور فرمایا: تھوڑے بہت شغل کا اہتمام نہیں کیا تم لوگوں نے؟ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7061]
تخریج الحدیث: «مرفوعه صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف لجھالة معبد بن قيس وشيخِه عبد الله بن عمير او عميرة، أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 24/ 659، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16626 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16743»
الحكم على الحديث:
مرفوعه صحيح لغيره
حدیث نمبر: 7062
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ فِي حِجْرِي جَارِيَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَزَوَّجْتُهَا قَالَتْ فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عُرْسِهَا فَلَمْ يَسْمَعْ لَعِبًا فَقَالَ يَا عَائِشَةُ إِنَّ هَذَا الْحَيَّ مِنَ الْأَنْصَارِ يُحِبُّونَ كَذَا وَكَذَا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میری پرورش میں انصار کی ایک لڑکی تھی، میں نے اس کی شادی کی اور اس موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی شغل نہ سنا تو فرمایا: اے عائشہ! انصاریوں کا یہ قبیلہ تو شغل وغیرہ کو بڑا پسند کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7062]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابن حبان: 5875، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26313 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26844»
وضاحت: فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک عورت کی ایک انصاری آدمی کے ساتھ شادی کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((یَاعَائِشَۃُ! مَاکَانَ مَعَکُمْ لَھْوٌ؟ اَنَّ الْاَنْصَارِیَّیُعْجِبُھُمُ اللَّھْوُ۔)) … ”’اے عائشہ! تمہارے پاس کوئی شغل وغیرہ نہیں تھا، کیونکہ انصاری لوگ شغل وغیرہکو بڑا پسند کرتے ہیں۔“ (صحیح بخاری: ۵۱۶۲)
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 7063
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِعَائِشَةَ أَهْدَيْتُمُ الْجَارِيَةَ إِلَى بَيْتِهَا قَالَتْ نَعَمْ قَالَ فَهَلَّا بَعَثْتُمْ مَعَهَا مَنْ يُغَنِّيهِمْ يَقُولُ أَتَيْنَاكُمْ أَتَيْنَاكُمْ فَحَيُّونَا نُحَيِّيكُمْ فَإِنَّ الْأَنْصَارَ قَوْمٌ فِيهِمْ غَزَلٌ
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: کیا تم نے بچی کو اس کے گھر کی طرف رخصت کر دیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس کے ساتھ ایسے لوگوں کو کیوں نہیں بھیجا، جو گا کر اس طرح کہتے: ہم تمہارے پاس آئے ہیں، ہم تمہارے پاس آئے ہیں، پس تم ہم کو سلام کہو، ہم تم کو سلام کہتے ہیں، کیونکہ انصاری ایسے لوگ ہیں جو اس قسم کی غزل کو پسند کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7063]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابن ماجه: 1900، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15209 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15279»
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
حدیث نمبر: 7064
عَنْ أَبِي بَلْجٍ قَالَ قُلْتُ لِمُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ الْجُمَحِيِّ إِنِّي قَدْ تَزَوَّجْتُ امْرَأَتَيْنِ لَمْ يُضْرَبْ عَلَيَّ بِدُفٍّ قَالَ بِئْسَمَا صَنَعْتَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ فَصْلَ مَا بَيْنَ الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ الصَّوْتُ يَعْنِي الضَّرْبَ بِالدُّفِّ وَفِي رِوَايَةٍ فَصْلُ مَا بَيْنَ الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ الدُّفُّ وَالصَّوْتُ فِي النِّكَاحِ
۔ ابو بلج کہتے ہیں: میں نے محمد بن حاطب جمحی سے کہا: میں نے دو عورتوں سے شادی کی ہے اور میرے لئے کوئی دف نہیں بجائی گئی، انہوں نے کہا: تو نے برا کیا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حلال اور حرام کے درمیان فرق آواز ہے۔ یعنی دف بجانا،ایک روایت میں ہے: حلال اور حرام کے درمیان فرق کرنے والی چیز دف بجانا اور آواز نکالنا ہے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7064]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه النسائي: 6/ 127، والترمذي: 1088، وابن ماجه: 1896، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:18280 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18469»
وضاحت: فوائد: … ہماری شریعت میں نکاح کے موقع پر ولی اور دولہا دلہن کی رضامندی کے بعد کم از کم دو گواہوں کی شرط لگائی گئی ہے، باقی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس حدیث میں جو چیز بیان کر رہے ہیں،یہ استحبابی امور ہیں،یعنی بہتر یہ ہے کہ شادی کے موقع پر تھوڑا بہت شغل لگ جائے، دف بجایا جائے اور جائز کلام گا کر پڑ لیا جائے، تاکہ دور دور تک نکاح کی خبر بھی پہنچ جائے اور لوگ بھی خوش ہو جائیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 7065
عَنْ خَالِدِ بْنِ ذَكْوَانَ قَالَ حَدَّثَنِي الرُّبَيِّعُ بِنْتُ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ بْنِ مُعَوِّذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عُرْسِي فَقَعَدَ فِي مَوْضِعِ فِرَاشِي هَذَا وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ تَضْرِبَانِ بِالدُّفِّ وَتَنْدُبَانِ آبَائِي الَّذِينَ قُتِلُوا يَوْمَ بَدْرٍ فَقَالَتَا فِيمَا تَقُولَانِ وَفِينَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا يَكُونُ فِي الْيَوْمِ وَفِي غَدٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَّا هَذَا فَلَا تَقُولَا
۔ سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں:نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری شادی کے موقع پر میرے پاس تشریف لائے اور میرے بستر پر یہاں بیٹھ گئے، میرے پاس دو بچیاں تھیں، جو دف بجارہی تھیں اور بدر میں شہید ہونے والے میرے آباء کے اوصاف بیان کررہی تھیں، انہوں نے بیچ میں اس طرح بھی کہہ دیا: اور ہم میں ایک ایسا نبی ہے جو کل کی بات بھی جانتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس طرح یہ نہ کہو۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7065]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4001، 5147، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27021 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27561»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث ِ مبارکہ کے مطابق شادی کے موقع پر کوئی شغل وغیرہ لگ جانا چاہیے، مثلا دف بجا کر یا گاہ کر جائز کلام پڑھنا یا جائز کھیل کود کا اہتمام کرنا۔
لیکنیہ ضروری ہے کہ شغل اور لطف اندوزی کی آڑ میں شرعی حدود کو پامال نہ کیا جائے، مثلا: مرد وزن کا اختلاط اور بے پردگی، ایسا کلام پڑھنا جو بے حیائی اور فحاشی پر مشتمل ہو، موسیقی بجانا، بینڈ باجے کا اہتمام کرنا
لیکنیہ ضروری ہے کہ شغل اور لطف اندوزی کی آڑ میں شرعی حدود کو پامال نہ کیا جائے، مثلا: مرد وزن کا اختلاط اور بے پردگی، ایسا کلام پڑھنا جو بے حیائی اور فحاشی پر مشتمل ہو، موسیقی بجانا، بینڈ باجے کا اہتمام کرنا
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4001
27. باب الأوقاتِ الَّتِي يُسْتَحَبُّ فِيهَا البَنَاءُ
ان اوقات کا بیان جن میں رخصتی مستحب ہے
حدیث نمبر: 7066
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي شَوَّالٍ وَبَنَى بِي فِي شَوَّالٍ فَأَيُّ نِسَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَحْظَى عِنْدَهُ مِنِّي وَكَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَسْتَحِبُّ أَنْ تُدْخِلَ نِسَاءَهَا فِي شَوَّالٍ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شوال میں مجھ سے نکاح کیا اور شوال میں ہی میری رخصتی ہوئی،بتلاؤ تو سہی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کون سی بیوی مجھ سے زیادہ مقبول اور شرف والی تھی۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7066]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1423، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25716 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26235»
وضاحت: فوائد: … سیدہ عائشہ کی رخصتی شوال میں ہوئی تھی، وہ اس سنت کا لحاظ کر کے کوشش کرتی تھیں کہ خواتین کو شوال میں ہی رخصت کیا جائے، ان کا مقصد یہ نہیں تھا کہ اس مہینے کی میاں بیوی کے حق میں کوئی برکت ہوتی ہے۔
دورِ جاہلیت میں لوگ شوال کے مہینے کو اس کے معنی کی وجہ سے منحوس قرار دیتے تھے اور اس میں شادی و تعمیر وغیرہ کو مناسب خیال نہ کرتے تھے، حالانکہ یہ صرف توہّم ہے، اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے، مہینے کا نام اس کے دنوں پر کوئی اثر نہیں کرتا، اسلام ایسے توہّمات کے خلاف ہے اور ان کی بنا پر معمولات میں رکاوٹ کو بد عقیدگی سمجھتا ہے۔ افسوس! آج کل مسلمان محرم کے بارے میں بھی ایسے ہی تصورات رکھنے لگ گئے ہیں۔
دورِ جاہلیت میں لوگ شوال کے مہینے کو اس کے معنی کی وجہ سے منحوس قرار دیتے تھے اور اس میں شادی و تعمیر وغیرہ کو مناسب خیال نہ کرتے تھے، حالانکہ یہ صرف توہّم ہے، اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے، مہینے کا نام اس کے دنوں پر کوئی اثر نہیں کرتا، اسلام ایسے توہّمات کے خلاف ہے اور ان کی بنا پر معمولات میں رکاوٹ کو بد عقیدگی سمجھتا ہے۔ افسوس! آج کل مسلمان محرم کے بارے میں بھی ایسے ہی تصورات رکھنے لگ گئے ہیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1423