🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. بَابُ مَا جَاءَ فِي نِكَاحَ الزَّانِي الْمَجْلُودِ لَا يُنْكَحُ
حد لگائے ہوئے زانی کا نکاح نہ کیا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7008
عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الزَّانِي الْمَجْلُودُ لَا يَنْكِحُ إِلَّا مِثْلَهُ
۔ سعید بن ابی سعید مقبری سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حد زدہ زانی نکاح نہیں کرتا، مگر اپنے جیسے سے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7008]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 2052، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8300 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8283»
وضاحت: فوائد: … ایک مفہوم تو واضح ہے کہ جیسے بدکردار مرد اپنے جیسی بدکردار سے ہی شادی کرتا ہے،یہی معاملہ بری خاتون کا ہے، اس کا مفہوم یہ ہوا کہ جس مرد کا زنا ظاہر ہو چکا ہو، کوئی پاکدامن خاتون اس سے شادی نہ کرے، اسی طرح جس عورت کی بدکاری فاش ہو چکی ہو، کوئی پاکدامن مرد اس سے نکاح نہ کرے۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ بدکار مردوں کو اپنے جیسی بدکار خواتین کی ہی تلاش ہوتی ہے، اسی طرح بری عورتوں کو برے مردوں سے ہی رغبت ہوتی ہے۔
ایک کہاوت ہے کہ نابینا لڑکے کے والدین اس کا رشتہ مانگنے کے لیے بچی کے گھر گئے اور اس کے والدین سے بات کی، انھوں نے کہا: ہماری بچی ہر اعتبار سے ٹھیک ہے، بس صرف چشم گل ہے، جوابا لڑکے والوں نے کہا: اس میں تو کوئی بات نہیں، کیونکہ ہمارا لڑکا بھی بالکل ہے۔ بات یہ ہے کہ جیسے چشم گل کے نصیبے میںبالکل آیا ہے، ایسے پاکدامن اور بدکار مردو زن کا مسئلہ ہے۔ (چشم گل سے مراد وہ بچی ہے، جو ایک آنکھ سے محروم ہو)۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7009
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ اسْتَأْذَنَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا أُمُّ مَهْزُولٍ كَانَتْ تُسَافِحُ وَتَشْتَرِطُ لَهُ أَنْ تُنْفِقَ عَلَيْهِ وَأَنَّهُ اسْتَأْذَنَ فِيهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ ذَكَرَ لَهُ أَمْرَهَا فَقَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ [النور: 3]
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک مسلمان نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ام مہزول نامی ایک عورت سے نکاح کے بارے میں اجازت طلب کی،یہ خاتون بدکاری کرتی تھی اور اس نے یہ شرط بھی لگائی تھی کہ وہ اس پر خرچ کرے گی، بہرحال اس مسلمان نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت طلب کی یا اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے اس کا معاملہ ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً اس آیت کی تلاوت کی: زانیہ خاتون سے نکاح نہیں کرتا، مگر زانی اور مشرک۔ (سورۂ نور: ۲) [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7009]
تخریج الحدیث: «حسن، أخرجه النسائي في ’’الكبري‘‘: 11359، والطبران في ’’الاوسط‘‘: 1819، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6480 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6480»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: أَنَّ مَرْثَدَ بْنَ أَبِی مَرْثَدٍ الْغَنَوِیَّ کَانَ یَحْمِلُ الْأُسَارَی بِمَکَّۃَ وَکَانَ بِمَکَّۃَ بَغِیٌّیُقَالُ لَہَا عَنَاقُ وَکَانَتْ صَدِیقَتَہُ۔ قَالَ جِئْتُ إِلَی النَّبِیِّV فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ! أَنْکِحُ عَنَاقَ، قَالَ فَسَکَتَ عَنِّی فَنَزَلَتْ {وَالزَّانِیَۃُ لَا یَنْکِحُہَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِکٌ} فَدَعَانِی فَقَرَأَہَا عَلَیَّ وَقَالَ: ((لَا تَنْکِحْہَا۔)) … سیدنا مرثدغنوی رضی اللہ عنہ مسلمان قیدیوں کو مکہ مکرمہ سے منتقل کرتے تھے، جبکہ مکہ میں عناق نامی ایک زانی خاتون تھی، (دورِ جاہلیت میں) وہ ان کی سہیلی بنی ہوئی تھی، سیدنا مرثد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں عناق سے شادی کر لوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے خاموش ہو گئے، پس یہ آیت نازل ہوئی: اور زانی خاتون، اس سے کوئی شادی نہیں کرتا، مگر زانی اور مشرک۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا،یہ آیتیں مجھے سنائیں اور فرمایا: تو اس سے شادی نہ کر۔(ابوداود: ۱۷۵۵، نسائی: ۳۲۲۸)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. بابُ مَا جَاءَ فِي تَزْوِيجِ مَنْ لَمْ تُوُلِدْ
بانجھ خاتون سے نکاح کرنے کا حکم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7010
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ مِقْسَمٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي سَارَةُ بِنْتُ مِقْسَمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ كَرْدَمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ وَأَنَا مَعَ أَبِي وَبِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دِرَّةٌ كَدِرَّةِ الْكُتَّابِ فَسَمِعْتُ الْأَعْرَابَ وَالنَّاسَ يَقُولُونَ الطَّبْطَبِيَّةَ فَدَنَا مِنْهُ أَبِي فَأَخَذَ بِقَدَمِهِ فَأَقَرَّ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فَمَا نَسِيتُ فِيمَا نَسِيتُ طُولَ إِصْبَعِ قَدَمِهِ السَّبَّابَةِ عَلَى سَائِرِ أَصَابِعِهِ قَالَتْ فَقَالَ لَهُ أَبِي إِنِّي شَهِدْتُ جَيْشَ عِثْرَانَ قَالَتْ فَعَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ الْجَيْشَ فَقَالَ طَارِقُ بْنُ الْمُرَقَّعِ مَنْ يُعْطِينِي رُمْحًا بِثَوَابِهِ قَالَ فَقُلْتُ وَمَا ثَوَابُهُ قَالَ أُزَوِّجُهُ أَوَّلَ بِنْتٍ تَكُونُ لِي قَالَ فَأَعْطَيْتُهُ رُمْحِي ثُمَّ تَرَكْتُهُ حَتَّى وُلِدَتْ لَهُ ابْنَةٌ وَبَلَغَتْ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ لَهُ جَهِّزْ لِي أَهْلِي فَقَالَ لَا وَاللَّهِ لَا أُجَهِّزُهَا حَتَّى تُحْدِثَ صَدَاقًا غَيْرَ ذَلِكَ فَحَلَفْتُ أَنْ لَا أَفْعَلَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقَدْرِ أَيِّ النِّسَاءِ هِيَ قُلْتُ قَدْ رَأَتِ الْقَتِيرَ قَالَ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَعْهَا عَنْكَ لَا خَيْرَ لَكَ فِيهَا قَالَ فَرَاعَنِي ذَلِكَ وَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَأْثَمُ وَلَا يَأْثَمُ صَاحِبُكَ
۔ سیدنا میمونہ بنت کردم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ مکہ میں اونٹنی پر سوار تھے اور میں اپنے باپ کے ساتھ تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں ایک کوڑا تھا، جیسے کتابت سکھانے والے کے ہاتھ میں ہوتا ہے،میں نے دیہاتیوں اور دیگر لوگوں کوسنا وہ کہہ رہے تھے: کوڑے کی آواز طب طب سے بچو (یعنی کوڑے سے بچو)، میرے باپ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوئے اور آپ کے قدم مبارک کو پکڑ لیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قدم برقرار رکھا،میں آپ کے پاؤں کی سبابہ انگلی کی لمبائی دیگر انگلیوں کے مقابلہ میں کبھی نہیں بھولوں گی، میرے باپ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: میں عشران کے لشکر میں حاضر تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس لشکر کو پہچان لیا، طارق بن مرقع نے کہا: کون ہے جو مجھے کپڑے کے عوض نیزہ دے گا، میں اسے اس کی جزا دوں گا۔ میں نے کہا:اس کی جزا کیا چیز ہو گی؟ اس نے کہا:میں اپنی پیدا ہونے والی سب سے پہلی بیٹی کی اس سے شادی کروں گا، میں نے اسے نیزہ دے دیا اور اس کے پاس ہی چھوڑے رکھا، یہاں تک کہ اس کے ہاں بیٹی ہوئی اور پھر وہ بالغ بھی ہوگئی، میں اس کے پاس گیااور اس سے کہا: میری اہلیہ کو میرے لئے تیار کرو، اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں اسے تیار نہیں کروں گا تاوقتیکہ تو اس نیزے کے علاوہ بھی اس کا کوئی مہر بتائے، میں نے قسم اٹھائی کہ میں ایسا نہیں کروں گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی عمر کتنی ہے؟ میں نے کہا: بڑھاپے کو پہنچ گئی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دو، اس میں خیر نہیں۔ اس بات نے مجھے گھبراہٹ میں ڈال دیا، میں نے اس کی طرف دیکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ تو قسم کی وجہ سے گنہگار ہوا اور نہ تیرا ساتھی ہوا۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7010]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة حال سارة بنت مقسم، أخرجه ابوداود: 3314، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27064 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27604»
وضاحت: فوائد: … سیدنامعقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جَاء َ رَجُلٌ إِلٰی رَسُولِ اللَّہِV فَقَالَ إِنِّی أَصَبْتُ امْرَأَۃً ذَاتَ حَسَبٍ وَمَنْصِبٍ إِلَّا أَنَّہَا لَا تَلِدُ، أَفَأَتَزَوَّجُہَا فَنَہَاہُ ثُمَّ أَتَاہُ الثَّانِیَۃَ فَنَہَاہُ ثُمَّ أَتَاہُ الثَّالِثَۃَ فَنَہَاہُ فَقَالَ: ((تَزَوَّجُوا الْوَلُودَ الْوَدُودَ فَإِنِّی مُکَاثِرٌ بِکُمْ۔)) … ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: مجھے ایک خاندانی اور مرتبے والی عورت ملی ہے، البتہ وہ ہے بانجھ، تو کیا میں اس سے شادی کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو منع فرمایا، پھر دوسری بار آگیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو روکا، جب وہ تیسری بار آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو منع کیا اور فرمایا: ایسی عورتوں سے شادی کرو، جو زیادہ بچے جننے والی اور خوب محبت کرنے والی ہوں، یقینا میں تمہاری کثرت کی وجہ سے فخر کروں گا۔ (ابوداود: ۲۰۵۰، نسائی: ۳۲۲۹)
نکاح کا مقصد صرف شہوت رانی نہیں، بلکہ اولاد ہے، البتہ ایک دوسرے کا سہارا بننے کے لیے نکاح جائز ہے، لیکنیہ عام طور پر بڑی عمر میں ہوتا ہے، نوجوان آدمی کو تندرست خاتون سے شادی کرنی چاہیے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. بَاب مَا يُذْكَرُ فِي رَدِ الْمَنْكُوحَةِ بِالْعَيْبِ
کسی عیب کی وجہ سے منکوحہ کو ردّ کر دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7011
عَنْ جَمِيلِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ صَحِبْتُ شَيْخًا مِنَ الْأَنْصَارِ ذَكَرَ أَنَّهُ كَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ يُقَالُ لَهُ كَعْبُ بْنُ زَيْدٍ أَوْ زَيْدُ بْنُ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَحَدَّثَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي غِفَارٍ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهَا وَضَعَ ثَوْبَهُ وَقَعَدَ عَلَى الْفِرَاشِ أَبْصَرَ بِكَشْحِهَا بَيَاضًا فَانْحَازَ عَنِ الْفِرَاشِ ثُمَّ قَالَ خُذِي عَلَيْكِ ثِيَابَكِ وَلَمْ يَأْخُذْ مِمَّا آتَاهَا شَيْئًا
۔ سیدنا کعب بن زیدیا زید بن کعب رضی اللہ عنہ، جن کو صحبت کا شرف بھی حاصل تھا، سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنی غفار کی ایک عورت سے نکاح کیا، جب اس کے پاس گئے،لباس اتارا اور بستر پر بیٹھے، تو اس کے پہلو میں سفیدی دیکھی، پس آپ بستر سے الگ ہو گئے اور اس سے فرمایا: تو اپنا لباس پہن لے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو جو کچھ دیا تھا، وہ اس سے واپس نہیں لیا۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7011]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف جميل بن زيد الطائي، ثم ان في اسناد حديثه ھذا اضطرابا، أخرجه البخاري في ’’التاريخ الكبير‘‘: 7/ 223، والطحاوي في ’’شرح مشكل الآثار‘‘: 646، والبيھقي: 7/ 256، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16032 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16128»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن کسی عیب کی وجہ سے خاوند کو طلاق دینے کا اختیار ہے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. بَابُ مَنْ أَسْلَمَ وَتَحْتَه أَخْتَانِ أَوْ أَكْثَرُ مِنْ أَرْبَعِ وَفِيهِ الْعَدَدُ الْمُبَاحُ لِلْحُرِ وَالْعَبْدِ وَمَا خُصَّ بِهِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
اس امر کا بیان کہ جو آدمی مسلمان ہو اور اس کے عقد میں دو بہنیںیا چار سے زائد بیویاں ہوں، نیز آزاد اور غلام کے لیے بیویوں کی جائز تعداد اور اس معاملے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاصے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7012
عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ غَيْلَانَ بْنَ سَلَمَةَ الثَّقَفِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَسْلَمَ وَتَحْتَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اخْتَرْ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب سیدنا غیلان بن سلمہ ثقفی دائرہ اسلام میں داخل ہوئے تو ان کے عقد میں دس بیویاں تھیں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ان میں سے چار پسند کر لو (اور باقی چھوڑ دو)۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7012]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بطرقه وشواهده، أخرجه ابن ماجه: 1953، والترمذي: 1128، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4609 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4609»
وضاحت: فوائد: … ترمذی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: اَسْلَمَ وَلَہٗعَشْرُنِسْوَۃٍ فِی الْجَاھِلِیَّۃٍ فَاَسْلَمْنَ مَعَہٗ۔ … جب وہ مسلمان ہوئے تو ان کی دس بیویاں تھیں، وہ بھی ان کے ساتھ مسلمان ہو گئیں۔ اس میں اس طرح کوئی پابندی نہیں ہے کہ وہ ان چار بیویوں کو اپنے عقد میں رکھے، جن سے پہلے نکاح کیا تھا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7013
عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدُورُ عَلَى نِسَائِهِ فِي السَّاعَةِ الْوَاحِدَةِ مِنَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَهُنَّ إِحْدَى عَشْرَةَ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسٍ وَهَلْ كَانَ يُطِيقُ ذَلِكَ قَالَ كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّهُ أُعْطِيَ قُوَّةَ ثَلَاثِينَ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات اور دن کی ایک گھڑی میں اپنی تمام بیویوں کے پاس جا کر (حق زوجیت ادا) کر لیتے تھے، اس وقت ان کی تعداد گیارہ تھی، میں نے سیدنا انس سے کہا: کیا آپ کو اتنی طاقت تھی، انہوں نے کہا: ہم آپس میں بیان کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تیس آدمیوں کی قوت عطا کی گئی ہے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7013]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 268، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14109 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14155»
وضاحت: فوائد: … ان گیارہ میں سے دو لونڈیاں تھیں، سیدہ ماریہ اور سیدہ ریحانہd۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7014
عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ عَلَى تِسْعِ نِسْوَةٍ فِي ضَحْوَةٍ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن میں نو بیویوں پر چکر لگاتے (جماع کرتے) تھے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7014]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 268، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14109 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13539»
وضاحت: فوائد: … حدیث نمبر (۷۱۴۲) کی شرح میں ان امہات المومنین کے نام پیش کیے گئے ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7015
عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ فَيْرُوزَ أَنَّ أَبَاهُ فَيْرُوزَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَدْرَكَهُ الْإِسْلَامُ وَتَحْتَهُ أُخْتَانِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ طَلِّقْ أَيَّتَهُمَا شِئْتَ
۔ ضحاک کہتے ہیں: میرے باپ فیروز نے جب اسلام قبول کیا تو ان کے نکاح میں دو بہنیں تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ان میں سے جس ایک کوچاہتا ہے، چھوڑ دے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7015]
تخریج الحدیث: «اسناده محتمل للتحسين، أخرجه ابوداود:2243، والترمذي: 1129، وابن ماجه: 1951، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18203»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7016
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَسْلَمْتُ وَعِنْدِي امْرَأَتَانِ أُخْتَانِ فَأَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُطَلِّقَ إِحْدَاهُمَا
۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں: جب میں اسلام لایا تو میری دو بیویاں تھیں اور وہ دونوں بہنیں تھیں،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں ان میں سے ایک کو طلاق سے دوں۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7016]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18205»
وضاحت: فوائد: … دو بہنوں کو ایک آدمی کے نکاح میں جمع نہیں کیا جا سکتا، جیسا کہ ارشادِ باری تعالی ہے: {وَأَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْأُخْتَیْنِ} … (اور تم پر حرام کیا گیا ہے کہ) تم دو بہنوں کو جمع کرو۔ (سورۂ نسائ: ۲۳)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ خاوند اپنی مرضی کے مطابق کسی ایک کو اختیار کر سکتا ہے، یہ شرط نہیں ہے کہ اس نے دو بہنوں میں سے جس سے پہلے نکاح کیا تھا، اس کو ہی اپنے عقد میں برقرار رکھے۔
امام ابو حنیفہiکا نظریہیہ ہے کہ دو بہنوں کی صورت میں اس بہن کو جدا کر دیا جائے گا، جس سے بعد میں نکاح ہوا تھا اور چار سے زائد بیویوں کی صورت میں ان بیویوں کو الگ کر دیا جائے گا، جن سے چار کی تعداد کی تکمیل کے بعد نکاح ہوا تھا۔
لیکن مذکورہ بالا روایات میںیہ قید اور شرط نہیں پائی جاتی، لہذا خاوند کو اختیار حاصل ہے، وہ جسے چاہے اپنے پاس رکھ سکتا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. بَاب مَا جَاءَ فِي الزَّوْجَيْنِ الْكَافِرِين يُسْلِمُ أَحَدُهُمَا قبل الآخر
ان کافر میاں بیوی کا بیان کہ جب ان میں سے ایک دوسرے سے پہلے مسلمان ہو جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7017
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ رَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ ابْنَتَهُ عَلَى زَوْجِهَا أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالنِّكَاحِ الْأَوَّلِ وَلَمْ يُحْدِثْ شَيْئًا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیٹی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو پہلے نکاح کے ساتھ ہی ان کے خاوند سیدنا ابو عاص بن ربیع کے سپرد کر دیا تھا اور کوئی نیا نکاح نہیں کیا تھا۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7017]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 2240، والترمذي: 1143، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1876 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1876»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں