🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
34. بَابُ النَّهْي عَنْ إِثْنَانِ الْمَرْأَةِ فِي دُبُرِهَا وَجَوَازِ التَّحْبِيْبِ وَهُوَ اتْيَانُهَا مِنْ دُبُرِهَا فِي قُبُلِهَا
بیوی کو پیچھے سے استعمال کرنے کی ممانعت اور تجبیب کے جواز کا بیانیعنی پچھلی سمت سے عورت کی قبل میں جماع کرنے کے جواز کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7097
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَلْعُونٌ مَنْ أَتَى امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ آدمی ملعون ہے، جو اپنی بیوی کو پشت سے استعمال کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7097]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه ابوداود: 2162، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9733 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9731»

الحكم على الحديث:
حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7098
عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ لَا تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَدْبَارِهِنَّ
۔ سیدناخزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالی حق سے نہیں شرماتا، تم عورتوں کو پشت سے استعمال نہ کیا کرو (یعنی ان سے غیر فطری جماع نہ کیا کرو)۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7098]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه النسائي في ’’الكبري‘‘: 8990، والطحاوي في ’’شرح معاني الآثار‘: 3/ 44، والطبراني: 3739، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21865 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22209»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7099
- عَنْ هَمَّامٍ قَالَ: سُئِلَ قَتَادَةُ عَنِ الَّذِي يَأْتِي امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا؟ فَقَالَ قَتَادَةُ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِهِ أَنَّ النَّبِيَّ قَالَ: هِيَ اللُّوْطِيَّةُ الصُّغْرَى، قَالَ قَتَادَةُ: وَحَدَّثَنِي ابْنُ وَسَّاجِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: وَهَلْ يَفْعَلُ ذَالِكَ إِلَّا كَافِرٌ (مسند احمد: 6968)
۔ ہمام سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ امام قتادہ سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جو اپنی بیوی کو پشت سے استعمال کرتا ہے،انھوں نے کہا: ہمیں عمرو بن شعیب نے اپنے باپ سے اور انھوں نے اپنے دادے سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ چھوٹے درجے کی لواطت ہے۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ کام تو صرف کافر ہی کر سکتا ہے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7099]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه النسائي في ’’الكبري‘‘: 8997، والطيالسي: 2266، والبزار: 1455، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6968 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
وضاحت: فوائد: … بیویوں کی پشت کو استعمال کرنا حرام ہے، اس کو غیر فطری جماع کہتے ہیں، دراصل مسئلہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے جماع کے لیے بیوی کے جس عضو کو وجود دیا ہے، اسی کو ہی استعمال کرنا چاہیے، لٹانے کی صورت کوئی بھی ہو سکتی ہے۔ نیز دیکھیں حدیث نمبر (۷۱۱۷)۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
35. باب
میاں بیوی کے حقوق اور اچھی صحبت کا بیان
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: Q7100]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
36. بَابٌ جَامِعٌ لِحُقُوقِ الزَّوْجَيْنِ
میاں بیوی کے حقوق کے بارے میں جامع بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7100
عَنْ أَبِي حُرَّةَ الرَّقَاشِيِّ عَنْ عَمِّهِ قَالَ كُنْتُ آخِذًا بِزِمَامِ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي أَوْسَطِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا وَفِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَاتَّقُوا اللَّهَ فِي النِّسَاءِ فَإِنَّهُنَّ عِنْدَكُمْ عَوَانٌ لَا يَمْلِكْنَ لِأَنْفُسِهِنَّ شَيْئًا وَإِنَّ لَهُنَّ عَلَيْكُمْ وَلَكُمْ عَلَيْهِنَّ حَقَّانِ لَا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ أَحَدًا غَيْرَكُمْ وَلَا يَأْذَنَّ فِي بُيُوتِكُمْ لِأَحَدٍ تَكْرَهُونَهُ فَإِنْ خِفْتُمْ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ قَالَ حُمَيْدٌ قُلْتُ لِلْحَسَنِ مَا الْمُبَرِّحُ قَالَ الْمُؤَثِّرُ وَلَهُنَّ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَإِنَّمَا أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانَةِ اللَّهِ وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
۔ ابو حرہ رقاشی اپنے چچا سیدنا حذیم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی کی لگام پکڑی ہوئی تھی،یہ ایام تشریق کے درمیان والے دن کی بات ہے، … پھر راوی نے طویل حدیث بیان کی، …۔ اس میں تھا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! عورتوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈر جاؤ، اللہ تعالیٰ نے انہیں تمہارے ماتحت کر دیا ہے، یہ اپنی جانوں پر بھی اختیار نہیں رکھتیں، ان عورتوں کے تمہارے اوپر اور تمہارے ان پر دو حق ہیں،تمہارا حق یہ ہے کہ وہ تمہارے بستروں پر کسی اور کو نہ آنے دیں اور تمہارے گھروں میں اس شخص کو آنے کی اجازت نہ دیں، جس کو تم ناپسند کرتے ہو، اگر تم کو ان کی شرارت کا ڈر ہو تو انہیں نصیحت کرو اور ان سے بستر الگ کر لو،اور ان کو مارو، لیکن وہ مارنا واضح نہ ہو۔ حمید راوی کہتے ہیں: میں نے امام حسن سے کہا: مُبَرّح سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: جسم میں نشان چھوڑنے والی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید فرمایا: تمہاری ذمہ داری یہ ہے کہ تم معروف طریقے سے ان کے رزق اور لباس کا بندوبست کرو، تم نے ان کو اللہ تعالی کی امانت کے ساتھ لیا ہے اور اللہ تعالی کے کلمے کے ساتھ ان کی شرم گاہوں کو حلال کیا ہے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7100]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره مقطعا، وھذا اسناد ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، أخرجه ابوداود: 2145، والترمذي: 1163، 3087، وابن ماجه: 1851، لكنھم اقتصروا علي بعض ھذا الحديث، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20695 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20971»
وضاحت: فوائد: … مار کا واضح نہ ہونا، اس سے مراد یہ ہے کہ عورت کو ایسی سخت سزا نہ دی جائے، جو اس کے لیے بہت مشقت کا باعث بنے، جیسے اس کی ہڈی ٹوٹ جائے یا زخم ہو جائے، بس کمر وغیرہ پر تھپڑ وغیرہ لگا لیا جائے۔ بہرحال بہترین لوگ وہی ہوں گے جو حسن اخلاق کے ذریعے اپنی بیویوں کے معاملات کو سنوار لیتے ہوں۔
میاں بیوی دونوں کو مصلحت اور حکمت کی راہ کو نہیں چھوڑنا چاہیے اور آپس میں ایک دوسرے کی بغاوت کرنے سے بچنا چاہیے، ہر معاملے کو نرمی سے سلجھا لینے کی اور ایک دوسرے کی اصلاح کرنے کی ہر ممکنہ کوشش کی جائے۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره مقطعا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
37. بَابُ حَقِّ الزَّوْجِ عَلَى الزَّوْجَةِ
بیوی پر خاوند کے حقوق کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7101
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَصُومُ الْمَرْأَةُ وَبَعْلُهَا شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ وَلَا تَأْذَنُ فِي بَيْتِهِ وَهُوَ شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ وَمَا أَنْفَقَتْ مِنْ كَسْبِهِ مِنْ غَيْرِ أَمْرِهِ فَإِنَّ نِصْفَ أَجْرِهِ لَهُ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب خاوند موجود ہو تو اس کی بیوی اس کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ نہ رکھے اور خاوند کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر گھر میں کسی کو آنے کی اجازت نہ دے اور عورت اپنے خاوند کی کمائی سے اس کے حکم کے بغیر جو کچھ خرچ کرے گی، اس کو آدھا اجر ملے گا۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7101]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2066، 5192، 5360، ومسلم: 1026، وابوداود!: 1687، 2458، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8188 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8173»
وضاحت: فوائد: … اس سے مراد نفلی روزہ ہے، لیکن اگر حکم کی غرض و غایت کو دیکھا جائے تو فرضی روزوں کی قضا کا بھییہی حکم ہو گا، یعنی رمضان کے روزوں کی قضا کے بارے میں بھی خاتون کو اپنے خاوند سے مشورہ کر لینا چاہیے۔
اس خرچ سے مراد وہ چیز ہے، جس کا عام طور پر صدقہ دے دیا جاتا ہو، مثلا پانچ دس روپے، لپ بھر آٹا یا گندم اور روٹی سالن وغیرہ، قیمتی چیز کو خاوند کی اجازت کے بغیر خرچ نہیں کیا جا سکتا،نیز گھر کے حالات کو دیکھ کر قیمتی چیز کا اندازہ لگایا
جائے گا اور اگر خاوند وضاحت کے ساتھ معمولی چیز کو صدقہ کرنے سے بھی منع کر دے تو بیوی کو کوئی اختیار نہیںرہے گا۔
نفلی روزہ عظیم عبادت ہے، اس کا بڑا اجر وثواب ہے، لیکن خاوند کے حق کو اس پر مقدم رکھا گیا ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2066
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7102
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ فَأَبَتْ عَلَيْهِ فَبَاتَ وَهُوَ غَضْبَانُ وَفِي لَفْظٍ وَهُوَ عَلَيْهَا سَاخِطٌ لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی اپنی بیوی کو بستر پر بلائے اور وہ انکار کر دے اوروہ اس پر غصہ کی حالت میں رات گزارے تو صبح تک فرشتے ایسی خاتون پر لعنت کریں گے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7102]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3237، 5193، ومسلم: 1436، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10225 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10230»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3237
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7103
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا بَاتَتِ الْمَرْأَةُ هَاجِرَةً فِرَاشَ زَوْجِهَا بَاتَتْ تَلْعَنُهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تَرْجِعَ
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب عورت اس حال میں رات گزارے کہ اس نے اپنے خاوند کا بستر چھوڑ رکھا ہو تو فرشتے اس پر لعنت کرتے رہیں گے، یہاں تک کہ وہ اس کے بستر کی طرف لوٹ آئے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7103]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7465»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7465
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7104
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ فَجَاءَ بَعِيرٌ فَسَجَدَ لَهُ فَقَالَ أَصْحَابُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَسْجُدُ لَكَ الْبَهَائِمُ وَالشَّجَرُ فَنَحْنُ أَحَقُّ أَنْ نَسْجُدَ لَكَ فَقَالَ اعْبُدُوا رَبَّكُمْ وَأَكْرِمُوا أَخَاكُمْ وَلَوْ كُنْتُ آمُرُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا وَلَوْ أَمَرَهَا أَنْ تَنْقُلَ مِنْ جَبَلٍ أَصْفَرَ إِلَى جَبَلٍ أَسْوَدَ وَمِنْ جَبَلٍ أَسْوَدَ إِلَى جَبَلٍ أَبْيَضَ كَانَ يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تَفْعَلَهُ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مہاجرین اور انصار کے ایک گروہ میں تشریف فرما تھے، ایک اونٹ آیا اور آپ کے سامنے سجدہ ریز ہوگیا،یہ منظر دیکھ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر جانور اور درخت آپ کو سجدہ کرتے ہیں تو ہم آپ کو سجدہ کرنے کے زیادہ حقدار ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے رب کی عبادت کرو اور اپنے بھائی یعنی اپنے نبی کی عزت کرو، اگر میں نے کسی انسان کو دوسرے انسان کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دینا ہوتا تو میں بیوی کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے، خاوند کا بیوی پر اتنا حق ہے کہ اگر وہ حکم دے کہ اس کی بیوی زرد پہاڑ سے سیاہ پہاڑ کی طرف اور سیاہ پہاڑ سے سفید پہاڑ کی طرف پتھروں کو منتقل کرے، تو اس کے شایان شان یہی بات ہو گی کہ وہ ایسا ہی کر گزرے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7104]
تخریج الحدیث: «ھذا اسناد ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان الا قوله ’’وَلَوْ كُنْتُ آمُرُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا‘‘، فانه جيد لغيره، أخرجه ابن ماجه: 1852، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24471 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24975»
وضاحت: فوائد: … حدیث کے آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ اگر خاوند اپنی بیوی کو یہ حکم دے کہ وہ ایک پہاڑ سے دوسرے پہاڑ تک پتھر یا ایک ٹیلے سے دوسرے ٹیلے تک ریت منتقل کرے تو اس کو ایسے ہی کرنا چاہیے، مراد یہ ہے کہ بیوی کو اپنے خاوند کی حد درجہ اطاعت کرنی چاہیے۔

الحكم على الحديث:
ھذا اسناد ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان الا قوله ’’وَلَوْ كُنْتُ آمُرُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا‘‘
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7105
عَنْ أَبِي ظِبْيَانَ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ لَمَّا رَجَعَ مِنَ الْيَمَنِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُ رِجَالًا بِالْيَمَنِ يَسْجُدُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ أَفَلَا نَسْجُدُ لَكَ قَالَ لَوْ كُنْتُ آمُرُ بَشَرًا يَسْجُدُ لِبَشَرٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب میں یمن سے واپس آیا تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے یمن میں دیکھا ہے کہ وہاں لوگ ایک دوسرے کو سجدہ کرتے ہیں، تو کیا ہم بھی آپ کو سجدہ نہ کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں نے بشر کو بشر کے لئے سجدہ کی اجازت دینا ہوتی تو میں بیوی کو حکم دیتا کہ وہ خاوند کو سجدہ کرے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7105]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابن ابي شيبة: 4/ 305، والطبراني: 20/ 373، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21986 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22335»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں