الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
39. باب فضل إحسان العِشْرَةِ وَحُسْنِ الْخُلُقِ مَعَ الزوجة
بیوی کے ساتھ حسن معاشرت و حسن اخلاق سے پیش آنے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 7136
وَعَنْهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ وَيَجِيءُ صَوَاحِبِي فَيَلْعَبْنَ مَعِي فَإِذَا رَأَيْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ انْقَمَعْنَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُدْخِلُهُنَّ عَلَيَّ فَيَلْعَبْنَ مَعِي
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:میں اپنی گڑیوں کے ساتھ کھیلتی تھی اور میری سہیلیاں بھی آکر میرے ساتھ مل کر کھیلتی تھیں، جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھتیں تو چلی جاتیں، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود ان کو میرے پاس بھیجتے، پس وہ میرے پاس آ کر کھیلتی تھیں۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7136]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6130، ومسلم: 2440، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24298 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24802»
وضاحت: فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی نو برس میں شادی ہوئی تھی، انھوں نے کل دس سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت میں گزارے، چونکہ وہ نوعمر تھیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو عمر کے تقاضے پورے کرنے کا موقع دیتے تھے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6130
40. بَابُ الْقَسَم بَيْنَ الزَّوْجَاتِ وَمُدَّةِ إِقَامَةِ الزَّوْجِ عِنْدَ الْبِكْرِ وَالشَّيبِ
بیویوں کے درمیان تقسیم اور کنواری اور بیوہ بیوی کے پاس خاوند کے قیام کی مدت کا بیان
حدیث نمبر: 7137
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ الْبِكْرَ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی کسی کنواری عورت سے شادی کرے تو وہ اس کے پاس تین دن ٹھہرے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7137]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، حجاج بن ارطاة كثير الخطأ والتدليس، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6665 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6665»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 7138
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةَ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا وَكَانَتْ ثَيِّبًا
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو ان کے پاس تین دن ٹھہرے تھے، کیونکہ وہ بیوہ تھیں۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7138]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5213، 5214، ومسلم: 1461، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11952 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11974»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5213
حدیث نمبر: 7139
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا تَزَوَّجَهَا أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَقَالَ إِنَّهُ لَيْسَ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ هَوَانٌ وَإِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ سَبَّعْتُ لِنِسَائِي وَفِي لَفْظٍ قَالَ إِنَّ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ كَرَامَةً قَالَ الرَّاوِي فَأَقَامَ عِنْدَهَا إِلَى الْعَشِيِّ ثُمَّ قَالَ إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ سَبَّعْتُ لِسَائِرِ نِسَائِي وَإِنْ شِئْتِ قَسَمْتُ لَكِ قَالَتْ لَا بَلِ اقْسِمْ لِي
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب مجھ سے شادی کی تو میرے پاس تین دن تک ٹھہرے اور فرمایا: بیشک اس میں نہ تیرے اہل کی توہین ہے اور نہ تیری حق تلفی ہے،اگر تمہاری مرضی ہے تو میں سات دن پورے کر دیتا ہوں، لیکن پھرمیں اپنی دیگر بیویوں کے ہاں بھی سات سات دن رہوں گا۔ ایک روایت میں ہے: تیری وجہ سے تیرے اہل کی کرامت اور عزت ہے۔ ایک راوی نے کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شام تک ان کے پاس ٹھہرے اور فرمایا: اگر تم چاہتی ہو تو میں تمہارے پاس سات دن گزارتا ہوں، لیکن پھر اپنی دیگر بیویوں کے لئے بھی سات دن مقرر کروں گا اور اگر تم چاہتی ہو تو میں تیرے لیے تقسیم کر دیتا ہوں۔ انھوں نے کہا: نہیں، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے لیے تقسیم کر دیں۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7139]
تخریج الحدیث: «ھذا اسناد ضعيف لجھالة عبد العزيز بن بنت ام سلمة، لكن قوله اِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ وَاِنْ سَبَّعْتُ لَكِ سَبَّعْتُ لِسَائِرِ نِسَائِيْ صحيح لغيره، أخرجه ابويعلي: 6907، والطبراني في الكبير: 23/ 506، وابن حبان: 2949، والحاكم: 2/ 178، والبيھقي: 7/ 131، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26721 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27257»
وضاحت: فوائد: … سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیوہ تھیں، اس لیے ان کا حق تین دن بنتا تھا، اگر ان کو سات دن دیئے جاتے تو پھر باقی بیویوں کو بھی اتنے دن دینے پڑتے، صحیح مسلم کی روایت کے مطابق سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے تین دنوں کو ترجیح دی، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دوبارہ لوٹنا جلدی ہو، سات دنوں کی صورت میں تو لمبا انتظار کرنا پڑے گا۔
الحكم على الحديث:
ھذا اسناد ضعيف لجھالة عبد العزيز بن بنت ام سلمة
41. بَاب فِيمَا يَجِبُ فِيهِ التعديل بين الزَّوْجَاتِ وَمَا لَا يُحِبُّ
بیویوں کے درمیان واجبی اور غیر واجبی عدل کا بیان
حدیث نمبر: 7140
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ يَمِيلُ لِإِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَحَدُ شِقَّيْهِ سَاقِطٌ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کی دو بیویاں ہوں اور وہ ایک کی طرف زیادہ میلان رکھتا ہو تو وہ قیامت کے روز اس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو فالج زدہ ہوگا۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7140]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابن ماجه: 1969، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10090 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10092»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
حدیث نمبر: 7141
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ بَيْنَ نِسَائِهِ فَيَعْدِلُ وَيَقُولُ هَذِهِ قِسْمَتِي ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُمَّ هَذَا فِعْلِي فِيمَا أَمْلِكُ فَلَا تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِكُ وَلَا أَمْلِكُ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بیویوں کے درمیان عادلانہ تقسیم کرتے اور پھر فرماتے: یہ میری تقسیم ہے، اے اللہ! یہ میری تقسیم ہے اور یہ میرے بس میں ہے، لہذا مجھے اس تقسیم میں ملامت نہ کرنا، جس کا تو مالک ہے اور میں مالک نہیں ہوں۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7141]
تخریج الحدیث: «ضعيف، لكن قوله كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صلي الله عليه وآله وسلم يَقْسِمُ بَيْنَ نِسَائِةِ فَيَعْدِلُ صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 2143، والترمذي: 1140،و ابن ماجه: 1971، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25111 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25624»
وضاحت: فوائد: … کسی ایک بیوی کی طرف دلی میلان تو زیادہ ہو سکتا ہے، لیکن بظاہر ہر ایک کے ساتھ برابری کرنی چاہیے۔
عطاء کہتے ہیں: ہم سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے جنازہ کے موقع پر سرف مقام پر سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے، انھوں نے کہا: یہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا ہیں، جب ان کی میت کی چارپائی اٹھائو تو اسے زیادہ حرکت نہ دینا (بلکہ نرمی سے میت کو
اٹھانا، تاکہ ان کی کرامت متأثر نہ ہو)، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نو (۹) بیویاں تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان میں سے آٹھ کی باری مقرر کر رکھی تھی اور ایک کی نہیں کی تھی۔عطاء کہتے ہیں: جس کی باری مقرر نہیں کی تھی، وہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ فوائد: … جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی تو درج ذیل امہات المؤمنین زندہ تھیں:
عطاء کہتے ہیں: ہم سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے جنازہ کے موقع پر سرف مقام پر سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے، انھوں نے کہا: یہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا ہیں، جب ان کی میت کی چارپائی اٹھائو تو اسے زیادہ حرکت نہ دینا (بلکہ نرمی سے میت کو
اٹھانا، تاکہ ان کی کرامت متأثر نہ ہو)، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نو (۹) بیویاں تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان میں سے آٹھ کی باری مقرر کر رکھی تھی اور ایک کی نہیں کی تھی۔عطاء کہتے ہیں: جس کی باری مقرر نہیں کی تھی، وہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ فوائد: … جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی تو درج ذیل امہات المؤمنین زندہ تھیں:
الحكم على الحديث:
ضعيف
حدیث نمبر: 7142
عَنْ عَطَاءٍ قَالَ حَضَرْنَا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا جَنَازَةَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِسَرِفَ قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هَذِهِ مَيْمُونَةُ إِذَا رَفَعْتُمْ نَعْشَهَا فَلَا تُزَعْزِعُوهَا وَلَا تُزَلْزِلُوهَا فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَهُ تِسْعُ نِسْوَةٍ وَكَانَ يَقْسِمُ لِثَمَانٍ وَوَاحِدَةٌ لَمْ يَكُنْ يَقْسِمُ لَهَا قَالَ عَطَاءٌ الَّتِي لَمْ يَكُنْ يَقْسِمُ لَهَا صَفِيَّةُ
۔عطا کہتے ہیں: ہم سیدہ میمونہ عضی اللہ عنہا کے جنازے کے موقع پر سرف مقام پر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھے، انھوں نے کہا: یہ میمونہ رضی اللہ عنہا ہیں، جب ان کی میت کی چارپائی اٹھاؤ تو زیادہ حرکت نہ دینا (بلکہ نرمی سے میت کو اٹھانا، تاکہ ان کی کرامت متاثر نہ ہو)، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نو (9) بیویاں تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی باری مقرر کر رکھی تھی اور ایک کی نہیں کی تھی۔ عطا کہتے ہیں: جس کی باری مقرر نہیں کی تھی، وہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7142]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5067، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2044»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5067
حدیث نمبر: 7143
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ يَوْمٍ إِلَّا وَهُوَ يَطُوفُ عَلَيْنَا جَمِيعًا امْرَأَةً امْرَأَةً فَيَدْنُو وَيَلْمِسُ مِنْ غَيْرِ مَسِيسٍ حَتَّى يُفْضِيَ إِلَى الَّتِي هُوَ يَوْمُهَا فَيَبِيتُ عِنْدَهَا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر روز ایک ایک کر کے اپنی تمام بیویوں کے پاس تشریف لے جاتے تھے، پھر ہر ایک کے قریب ہوتے اور اس کو مسّ کرتے، البتہ جماع نہیں کرتے تھے، یہاں تک کہ اس بیوی کے پاس پہنچ جاتے تھے، جس کی باری ہوتی تھی، پھر اس کے پاس رات گزارتے تھے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7143]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابن ابي الزناد،و ھو عبد الرحمن، قد تفرد به، وھو ممن لا يحتمل تفرده، أخرجه ابوداود: 2135، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24764 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25274»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 7144
عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدُورُ عَلَى نِسَائِهِ فِي السَّاعَةِ الْوَاحِدَةِ مِنَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَهُنَّ إِحْدَى عَشْرَةَ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسٍ وَهَلْ كَانَ يُطِيقُ ذَلِكَ قَالَ كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّهُ أُعْطِيَ قُوَّةَ ثَلَاثِينَ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات اور دن میں ایک گھڑی میں اپنی تمام بیویوں سے جماع کر لیتے تھے، ان کی تعداد گیارہ تھی، قتادہ کہتے ہیں میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ میں اتنی قوت تھی؟ انھوں نے کہا: ہم یہ بات کیا کرتے تھے کہ آپ کو تیس آدمیوں کی قوت دی گئی ہے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7144]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 268، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14109 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14155»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 268
حدیث نمبر: 7145
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاشْتَدَّ وَجْعُهُ اسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي فَأَذِنَّ لَهُ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طبیعت بوجھل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکلیف شدت اختیار کر گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیویوں سے اجازت طلب کی کہ آپ بیماری کے دن میرے گھر میں گزارنا چاہتے ہیں، پس انھوں نے اجازت دے دی۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7145]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3099، 5714، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24858 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25370»
وضاحت: فوائد: … جس آدمی نے ایک سے زائد شادیاں کر رکھی ہوں، اس پر فرض ہے کہ وہ ان کے درمیان عدل کرے، ارشادِ باری تعالی ہے: {وَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰی فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَآئِ مَثْنٰی وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ ذٰلِکَ اَدْنٰٓی اَلَّا تَعُوْلُوْا} (النسائ:۳) اگر تمہیں ڈر ہو کہ یتیم لڑکیوں سے نکاح کر کے تم انصاف نہ رکھ سکو گے تو اور عورتوں میں سے جو بھی تمہیں اچھی لگیں تم ان سے نکاح کر لو، دو دو، تین تین، چار چار سے، لیکن اگر تمہیں برابری نہ کر سکنے کا خوف ہو تو ایک ہی کافی ہے یا تمہاری ملکیت کی لونڈی،یہ زیادہ قریب ہے کہ (ایسا کرنے سے ناانصافی اور) ایک طرف جھک پڑنے سے بچ جاؤ۔ زیادہ بیویوں میں انصاف کرنا اتنا اہم مرحلہ ہے کہ اللہ تعالی برابری نہ کرسکنے کے خوف کی وجہ سے ایک بیوییا لونڈی کا حکم دے رہے ہیں۔ کسی ایک بیوی کی طرف طبعی میلان زیادہ ہو سکتا ہے، لیکن اس سے عدل و انصاف کے تقاضے متأثر نہیں ہونے چاہئیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3099