الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
37. بَابُ حَقِّ الزَّوْجِ عَلَى الزَّوْجَةِ
بیوی پر خاوند کے حقوق کا بیان
حدیث نمبر: 7116
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةُ صَفْوَانَ بْنِ الْمُعَطَّلِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ عِنْدَهُ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ زَوْجِي صَفْوَانَ بْنَ الْمُعَطَّلِ يَضْرِبُنِي إِذَا صَلَّيْتُ وَيُفَطِّرُنِي إِذَا صُمْتُ وَلَا يُصَلِّي صَلَاةَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ قَالَ وَصَفْوَانُ عِنْدَهُ قَالَ فَسَأَلَهُ عَمَّا قَالَتْ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَّا قَوْلُهَا يَضْرِبُنِي إِذَا صَلَّيْتُ فَإِنَّهَا تَقْرَأُ بِسُورَتَيْنِ فَقَدْ نَهَيْتُهَا عَنْهُمَا قَالَ فَقَالَ لَوْ كَانَتْ سُورَةٌ وَاحِدَةٌ لَكَفَتِ النَّاسَ وَأَمَّا قَوْلُهَا يُفَطِّرُنِي فَإِنَّهَا تَصُومُ وَأَنَا رَجُلٌ شَابٌّ فَلَا أَصْبِرُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ لَا تَصُومَنَّ امْرَأَةٌ إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا قَالَ وَأَمَّا قَوْلُهَا بِأَنِّي لَا أُصَلِّي حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَإِنَّا أَهْلُ بَيْتٍ قَدْ عُرِفَ لَنَا ذَاكَ لَا نَكَادُ نَسْتَيْقِظُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ قَالَ فَإِذَا اسْتَيْقَظْتَ فَصَلِّ وَفِي رِوَايَةٍ وَأَمَّا قَوْلُهَا إِنِّي لَا أُصَلِّي حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَإِنِّي ثَقِيلُ الرَّأْسِ وَأَنَا مِنْ أَهْلِ بَيْتٍ يُعْرَفُونَ بِذَاكَ بِثِقَلِ الرُّؤُوسِ قَالَ فَإِذَا قُمْتَ فَصَلِّ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ کی بیوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے شوہر سیدنا صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ کی صورتحال یہ ہے کہ جب میں نماز پڑھتی ہوں تو وہ مجھے مارتا ہے، جب میں روزہ رکھتی ہوں تو میرا روزہ افطار کروا دیتا ہے اور وہ طلوع آفتاب کے بعد نمازِ فجر ادا کرتا ہے، اس وقت سیدنا صفوان بھی وہاں موجود تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے ان کی بیوی کے اعتراضات کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کا یہ کہنا کہ جب وہ نماز پڑھتی ہے تو میں اس کو مارتا ہوں، تو بات یہ ہے کہ یہ دو طویل سورتیں پڑھتی ہے، جبکہ میں نے اس کو ان سے منع کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر ایک سورت بھی پڑھ لی جائے تو وہ لوگوں کے لئے کافی ہے۔ اس نے پھر کہا: اس کا یہ کہنا کہ جب وہ روزہ رکھتی ہے تو میں اس کو افطار کروا دیتا ہوں، اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نوجوان آدمی ہوں اور میں خود پر قابو نہیں رکھ سکتا، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دن فرمایا تھا کہ کوئی عورت اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر ہر گز (نفلی) روزہ نہ رکھے۔ ا ور اس کا یہ کہنا کہ میں نماز فجر طلوع آفتاب کے بعد پڑھتا ہوں، تو گزارش یہ ہے کہ ہم اس قبیلے کے لوگ ہیں کہ ہم سورج طلوع ہونے سے پہلے بیدار ہی نہیں ہو سکتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو بیدار ہو اسی وقت نماز پڑھ لیا کرو۔ ایک روایت میں ہے: سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا: پس بیشک میرا سر بوجھل رہتا ہے اور ہمارا سارا کنبہ ہی ایسا ہے کہ ہمارے بارے میں یہ معروف ہے کہ ہمارے سر بوجھل رہتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو بیدار ہو تو اسی وقت نماز پڑھ لیا کرو۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7116]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 2459، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11759 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11781»
وضاحت: فوائد: … دو طویل سورتوں سے مراد یہ ہے کہ اس کے خاوند نے اپنی بیوی کو لمبا قیام کرنے سے منع کیا ہوا تھا۔ معلوم ہوا کہ خاوند کی خدمت کو لمبے قیام اور نفل نماز پر ترجیح دی جائے۔
بہرحال ان روایات کا یہ مفہوم بھی نہیں ہے کہ بیوی عبادات، ذکرو تلاوت سے کلی طور پر غافل ہو جائے، جب وہ فکر کرے گی تو خاوند کی خدمت کے ساتھ ساتھ اس کو موقع ملتا رہے گا اور خاوند کو بھی چاہیے کہ وہ بھی اپنی بیوی کا ہر لحاظ سے پاس و لحاظ رکھے، آخر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس جوڑے کے لیے خاص دعا کی ہے، جو رات کو اٹھ کر اکٹھا قیام کرتا ہے۔
خاوند کی فرمانبردار ی کرنا بیوی پر فرض ہے، کسی کو سجدہ کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کے سامنے انتہائی عاجزی و انکساری اور اطاعت و فرمانبرداری کا اظہار کیا جائے۔ اگر یہ انداز اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کے لیے جائز ہوتا تو وہ صرف بیوی ہوتی جو اپنے خاوند کے سامنے اطاعت کا اظہار کرتی۔
بیویوں کو شاکر اور صابر ہونا چاہیے، ہر وقت طعن کرنے اور خاوند کے منفی پہلوؤں پر کڑی نگاہ رکھنے سے بچنا چاہیے، امہات المؤمنین اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹیوں کی مثالیں ان کے لیے اسوۂ حسنہ ہیں، دنیا صرف یہی نہیں کہ کھانے پینے اور لباس میں اعلی معیار اختیار کر لیا جائے، خاوند کی اطاعت اللہ تعالی اور اس کے رسول کا حکم ہے، اس لیے ہر ممکنہ حد تک ان کی اقتداء کی جائے۔
اچھی بیوی کی صفات پر مشتمل ایک اور حدیث ِ مبارکہ درج ذیل ہے:
سیدنا انس، سیدنا ابن عباس اور سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِنِسَائِکُمْ فِی الْجَنَّۃِ؟ کُلُّ وَدُوْدٍ وَلُوْدٍ إِذَا غُضِبَتْ أَوْ أُسِیَ إِلَیْھَا أَوْ غَضِبَ زَوْجُھَا قَالَتْ: ھٰذِہٖیَدِی فِییَدِکَ لَا أَکْتَحِلُ بِغَمْضٍ حَتّٰی تَرْضٰی۔)) … اب کیا میں تمھیں جنت میں داخل ہونے والی عورتوں کی خبر نہ دوں؟ ہر محبت کرنے والی اور زیادہ بچے جنم دینے والی خاتون، کہ جب اس پر غصے کیا جاتا ہے یا اس کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا ہے یا اس کا خاوند اس پر غصے ہوتا ہے تو وہ (اپنے خاوند سے) کہتی ہے: یہ میرا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں ہے، میں اس وقت تک نہیں سوؤں گی، جب تک تم مجھ سے راضی نہیں ہو جاتے۔
(معجم کبیر، معجم اوسط، معجم صغیر، شعب الایمان، صحیحہ: ۳۳۸۰)
بہرحال ان روایات کا یہ مفہوم بھی نہیں ہے کہ بیوی عبادات، ذکرو تلاوت سے کلی طور پر غافل ہو جائے، جب وہ فکر کرے گی تو خاوند کی خدمت کے ساتھ ساتھ اس کو موقع ملتا رہے گا اور خاوند کو بھی چاہیے کہ وہ بھی اپنی بیوی کا ہر لحاظ سے پاس و لحاظ رکھے، آخر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس جوڑے کے لیے خاص دعا کی ہے، جو رات کو اٹھ کر اکٹھا قیام کرتا ہے۔
خاوند کی فرمانبردار ی کرنا بیوی پر فرض ہے، کسی کو سجدہ کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کے سامنے انتہائی عاجزی و انکساری اور اطاعت و فرمانبرداری کا اظہار کیا جائے۔ اگر یہ انداز اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کے لیے جائز ہوتا تو وہ صرف بیوی ہوتی جو اپنے خاوند کے سامنے اطاعت کا اظہار کرتی۔
بیویوں کو شاکر اور صابر ہونا چاہیے، ہر وقت طعن کرنے اور خاوند کے منفی پہلوؤں پر کڑی نگاہ رکھنے سے بچنا چاہیے، امہات المؤمنین اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹیوں کی مثالیں ان کے لیے اسوۂ حسنہ ہیں، دنیا صرف یہی نہیں کہ کھانے پینے اور لباس میں اعلی معیار اختیار کر لیا جائے، خاوند کی اطاعت اللہ تعالی اور اس کے رسول کا حکم ہے، اس لیے ہر ممکنہ حد تک ان کی اقتداء کی جائے۔
اچھی بیوی کی صفات پر مشتمل ایک اور حدیث ِ مبارکہ درج ذیل ہے:
سیدنا انس، سیدنا ابن عباس اور سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِنِسَائِکُمْ فِی الْجَنَّۃِ؟ کُلُّ وَدُوْدٍ وَلُوْدٍ إِذَا غُضِبَتْ أَوْ أُسِیَ إِلَیْھَا أَوْ غَضِبَ زَوْجُھَا قَالَتْ: ھٰذِہٖیَدِی فِییَدِکَ لَا أَکْتَحِلُ بِغَمْضٍ حَتّٰی تَرْضٰی۔)) … اب کیا میں تمھیں جنت میں داخل ہونے والی عورتوں کی خبر نہ دوں؟ ہر محبت کرنے والی اور زیادہ بچے جنم دینے والی خاتون، کہ جب اس پر غصے کیا جاتا ہے یا اس کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا ہے یا اس کا خاوند اس پر غصے ہوتا ہے تو وہ (اپنے خاوند سے) کہتی ہے: یہ میرا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں ہے، میں اس وقت تک نہیں سوؤں گی، جب تک تم مجھ سے راضی نہیں ہو جاتے۔
(معجم کبیر، معجم اوسط، معجم صغیر، شعب الایمان، صحیحہ: ۳۳۸۰)
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
38. بَابُ حَقِّ الزَّوْجَةِ عَلَى الزَّوْجِ
خاوند پر بیوی کے حقوق کا بیان
حدیث نمبر: 7117
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ نِسَاؤُنَا مَا نَأْتِي مِنْهَا وَمَا نَذَرُ قَالَ حَرْثُكَ ائْتِ حَرْثَكَ أَنَّى شِئْتَ غَيْرَ أَنْ لَا تَضْرِبِ الْوَجْهَ وَلَا تُقَبِّحْ وَلَا تَهْجُرْ إِلَّا فِي الْبَيْتِ وَأَطْعِمْ إِذَا طَعِمْتَ وَاكْسُ إِذَا اكْتَسَيْتَ كَيْفَ وَقَدْ أَفْضَى بَعْضُكُمْ إِلَى بَعْضٍ إِلَّا بِمَا حَلَّ عَلَيْهَا
۔ بہزبن حکیم اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ ہماری بیویاں ہیں، ان کے ساتھ ہمارا کون معاملہ کرنا درست ہے اور کونسا درست نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہاری کھیتی ہے، جیسے چاہو اپنی کھیتی میں آؤ، البتہ نہ اس کو چہرے پر مارو، نہ اس سے مکروہ باتیں کرو، (ناراضگی کی وجہ سے) اس کو صرف گھر میں چھوڑنا ہے، جب خود کھاؤ تو اس کو بھی کھلاؤ اور جب خود پہنو تو اس کو بھی پہناؤ، اب تم یہ حقوق کیسے ادا نہیں کرو گے، جبکہ تم ایک دوسرے سے جماع کر چکے ہو، الا یہ کہ کوئی ایسی صورت پیدا ہو جائے، جس میں بیوی کو سزا دی جا سکتی ہو (یا اس کے حق میں کمی کی جا سکتی ہو)۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7117]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الترمذي: 2192، 2424، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20030 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20283»
وضاحت: فوائد: … یہ تمہاری کھیتی ہے، جیسے چاہو اپنی کھیتی میں آئو اس سے مراد عورت کو لٹانے کی کیفیت ہے، وگرنہ جماع کے لیے وہی مقام استعمال کیا جائے جو اللہ تعالی نے اس مقصد کے لیے پیدا کیا ہے، پہلے یہ وضاحت کی جا چکی ہے کہ بیوی کو پشت سے استعمال کرنا حرام ہے، البتہ پچھلی طرف سے حق زوجیت ادا کیا جا سکتا ہے۔
اس سے مکروہ باتیں نہ کرو جیسے اللہ تعالی تجھے بدصورت کرے، تیرا برا بنائے، تجھے خیر و بھلائی سے دور کرے۔
اس سے مکروہ باتیں نہ کرو جیسے اللہ تعالی تجھے بدصورت کرے، تیرا برا بنائے، تجھے خیر و بھلائی سے دور کرے۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 7118
عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَأَلَهُ رَجُلٌ مَا حَقُّ الْمَرْأَةِ عَلَى الزَّوْجِ قَالَ تُطْعِمُهَا إِذَا طَعِمْتَ وَتَكْسُوهَا إِذَا اكْتَسَيْتَ وَلَا تَضْرِبِ الْوَجْهَ وَلَا تُقَبِّحْ وَلَا تَهْجُرْ إِلَّا فِي الْبَيْتِ
۔ سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ بیوی کا اپنے خاوند پر کیا حق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو کھائے تو اسے بھی کھلائے، جب تو پہنے تو اسے بھی پہنائے، اس کو چہرے پر نہ مار، اس سے مکروہ بات نہ کر، اور (ناراضگی کی صورت میں) اس کو نہ چھوڑ مگر اپنے گھر میں ہی۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7118]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن ماجه: 1850، والترمذي: 2192، 2424، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20013 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20262»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 7119
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ النِّسَاءَ فَوَعَظَ فِيهِنَّ وَقَالَ عَلَامَ يَضْرِبُ وَفِي لَفْظٍ يَجْلِدُ أَحَدُكُمُ امْرَأَتَهُ زَادَ فِي رِوَايَةٍ ضَرْبَ الْعَبْدِ وَلَعَلَّهُ أَنْ يُضَاجِعَهَا مِنْ آخِرِ النَّهَارِ أَوْ آخِرِ اللَّيْلِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنا آپ عورتوں کے حقوق کے بارے مردوں کو نصیحت کر رہے تھے، بیچ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی اپنی بیوی کو اس طرح کیوں مارتا ہے، جیسے غلام کو مارا جاتا ہے، پھر ممکن ہے کہ دن کے آخر میں یا رات کے آخر میں اس کو ہم بستری بھی کرنی ہو۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7119]
تخریج الحدیث: «أخرجه مطولا ومختصرا البخاري: 3377، 4942، 5204، 6042، ومسلم: 2855، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16221 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16322»
وضاحت: فوائد: … ایسا افراط و تفریط والا معاملہ نہیں ہونا چاہیے کہ پہلے بیوی کی خوب پٹائی کر دی جائے اور پھر رات کو اس سے ہم بستری بھی کی جائے۔ اگر کسی جرم کی وجہ سے بیوی کو سزا دینا پڑ ہی جائے تو ایسا معمولی طریقہ اختیار کیا جائے کہ بعد میں ہم بستری کے وقت تعجب نہ ہو۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مطولا ومختصرا البخاري: 3377
حدیث نمبر: 7120
عَنْ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي امْرَأَةً فَذَكَرَ مِنْ طُولِ لِسَانِهَا وَإِيذَائِهَا فَقَالَ طَلِّقْهَا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا ذَاتُ صُحْبَةٍ وَوَلَدٍ قَالَ فَأَمْسِكْهَا وَأْمُرْهَا فَإِنْ يَكُ فِيهَا خَيْرٌ فَسَتَفْعَلْ وَلَا تَضْرِبْ ظَعِينَتَكَ ضَرْبَكَ أَمَتَكَ
۔ سیدنا لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری ایک بیوی ہے، وہ بڑی زبان دراز ہے اور مجھے اذیت دیتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے طلاق دے دو،اس نے کہا: میرا اس کے ساتھ پرانا ساتھ ہے اور اس سے میری اولادبھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر اسے روک لو اور اسے بھلائی کی تلقین کرتے رہو، اگر اس میں بھلائی قبول کرنے کی صلاحیت ہوئی تو وہ قبول کر لے گی، بہرحال تونے اپنی بیوی کو اس طرح نہیں مارنا، جیسے لونڈی کو مارا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7120]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 142، 3973، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16384 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16497»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 7121
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَفْرَكُ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً إِنْ كَرِهَ مِنْهَا خُلُقًا رَضِيَ مِنْهَا آخَرَ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی ایماندار خاوند اپنی ایمانداری بیوی سے بغض وعداوت نہیں رکھتا، کیونکہ اگر وہ اپنی بیوی کی ایک عادت ناپسند کرتا ہے تو کسی دوسری صفت کی وجہ سے راضی اور خوش ہو جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7121]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1469، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8363 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8345»
وضاحت: فوائد: … مومن کی شان یہ ہے کہ وہ اپنی بیوی سے ایسا کلی بغض نہیں رکھتا جو اس کو طلاق دینے پر مجبور کر دے، بلکہ اس کو چاہیے کہ جہاں وہ اس کے برے پہلو پر نظر رکھتا ہے، وہاں اس کی اچھائیوں کو بھی نظر انداز نہ کرے، ممکن ہے کہ خاتون کا اچھا پہلو اس کے قابل اعتراض پہلو پر غالب ہو اور اس طرح میاں بیوی اچھی زندگی گزار سکیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1469
حدیث نمبر: 7122
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّجُ حَقَّ الضَّعِيفَيْنِ الْيَتِيمِ وَالْمَرْأَةِ
۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں دو کمزوروں یعنی عورت اور یتیم کے حق کو ممنوع اور حرام قرار دیتا ہوں۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7122]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه ابن ماجه: 3678، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9666 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9664»
وضاحت: فوائد: … ویسے تو ہر مسلمان کے حقوق ادا کرنا ضروری ہیں، بہرحال یتیم اور عورت جیسے بے آسرا افراد کے حقوق کی ادائیگی میں زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ قابل غور بات ہے کہ بیوی کو ضعیف کہا گیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ بیشک اس کا تعلق امیر گھرانے سے ہو گا، لیکن شادی کے بعد وہ خاوند کے رحم و کرم پر ہوتی ہے، اگر وہی بد اخلاق ہو تو زندگی اجیرن بن جاتی ہے اور بیوی کے والدین اور بھائیوں کی محبت اور دولت کی وجہ سے اس کی بے سکونی میں کمی نہیں آتی۔ ایسی بیچاری خاتون کو نہ طلاق لینے میں فائدہ نظر آتا ہے اور نہ نکاح میں سکون ملتا ہے۔ ہم نے کئی عورتوں کو دیکھا کہ وہ اپنے خاوندوں کے غریب ہونے کی وجہ سے بچوں کا خرچہ بھی اپنے والدین سے لاتی ہیں، لیکن اس کے باوجود ان کے خاوند کا رویہ کسی ظالم و جابر سے کم نہیں ہوتا۔ کیا ایسی بناتِ آدم کا یہی قصور ہے کہ انھوں نے نکاح کے وقت ان ناعاقبت اندیشوں کو اپنا خاوند تسلیم کر لیا تھا؟ کیا ہے کوئی ترس کھانے والا؟
الحكم على الحديث:
اسناده قوي
حدیث نمبر: 7123
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَطْرُقَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ بَعْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ
۔ سیدناسعدبن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسافر آدمی کو نمازِ عشاء کے بعداپنے اہل کے پاس آنے سے منع کیا ہے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7123]
تخریج الحدیث: «حديث حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1513 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1513»
وضاحت: فوائد: … اس حکم کا تعلق زیادہ دیر گھر سے باہر رہنے والے مسافر کے ساتھ ہے، جیساکہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا أَطَالَ أَحَدُکُمْ الْغَیْبَۃَ فَـلَا یَطْرُقْ أَہْلَہُ لَیْلًا۔)) … جب کوئی آدمی زیادہ عرصہ باہر رہے تو وہ رات کو اپنے گھر واپس نہ آئے۔ (صحیح بخاری: ۳۸۴۳، صحیح مسلم: ۳۵۵۸)
میاں بیوی کے مابین تعلقات کا خوشگوار ہونا مطلوبِ شریعت ہے، اس مقصد کی تکمیل کے لیے شریعت نے عورت کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ خاوند کے لیے زینت و آرائش اختیار کرے۔ اس حدیث کا مقصد نفرت اور سوئے ظن کا باعث بننے والے اسباب کو ختم کرنا ہے۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک غزوے سے مدینہ واپس پہنچ کر جب اپنے گھروں کو جانے لگے توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ذرا ٹھہر جاؤ، تاکہ تمہاری بیویاں پراگندہ بالوں میں کنگی کر لیں اور فاضل بالوں کی صفائی کر لیں۔ (بخاری، مسلم)
اس حدیث میں میاں بیوی کے مابین مودت و محبت پیدا کرنے کی رغبت دلائی گئی ہے، قابل غور بات یہ ہے کہ میاں بیوی کا کوئی وصف یا بات ایک دوسرے سے مخفی نہیں ہوتی، لیکن اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات کو آنے سے منع کیا تاکہ کوئی نفرت والا معاملہ پیش نہ آ سکے، ممکن ہے کہ بیوی اچھی حالت میں نہ ہو یا اس کے گھر میں کوئی ایسا فرد آیا
ہوا ہو، جس کی آمد خاوند کو ناگوار گزرے، لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ برا ہو گا، لیکن اس معاملے میں خاوند کی ترجیحات کو مد نظر رکھا جائے گا۔ سیدنا عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں رات کو اپنی بیوی کے گھر گیا، میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک عورت اس کی کنگھی کر رہی تھی، لیکن میں نے سمجھا کہ یہ کوئی مرد ہے، سو میں نے اس کی طرف تلوار کو سیدھا کیا، لیکن اتنے میں اس کا عورت ہونا واضح ہو گیا، جب یہ ماجرا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مردوں کو اس سے منع کر دیا کہ وہ رات کو اپنی بیویوں کے پاس آئیں۔ (صحیح ابی عوانہ، بحوالہ فتح الباری: ۹/ ۴۲۶) اگر اس باب کی تمام احادیث اور ان کے مقاصد کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آج کے دور میں فون کے ذریعے مطلع کر کے رات کو آیا جا سکتا ہے، ہاں اس سلسلے میں عورت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے خاوند کا مزاج سمجھے۔
آج کل بیویاں اپنے گھروں میں سادہ ملبوسات پر اکتفا کرتی ہیں اور صفائی کا بھی کوئی خاص خیال نہیں رکھتیں، لیکن جب وہ دوسرے رشتہ داروں کے پاس جانے یا گھر سے باہر کسی دوسری مجلس میں جانے لگتی ہیں، تو حسن و جمال کے جو انداز اختیار کئے جاتے ہیں، ان کے سامنے دلہن بھی شرما جاتی ہے۔ ایسا کرنا مقصودِ شریعت نہیں ہے۔
میاں بیوی کے مابین تعلقات کا خوشگوار ہونا مطلوبِ شریعت ہے، اس مقصد کی تکمیل کے لیے شریعت نے عورت کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ خاوند کے لیے زینت و آرائش اختیار کرے۔ اس حدیث کا مقصد نفرت اور سوئے ظن کا باعث بننے والے اسباب کو ختم کرنا ہے۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک غزوے سے مدینہ واپس پہنچ کر جب اپنے گھروں کو جانے لگے توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ذرا ٹھہر جاؤ، تاکہ تمہاری بیویاں پراگندہ بالوں میں کنگی کر لیں اور فاضل بالوں کی صفائی کر لیں۔ (بخاری، مسلم)
اس حدیث میں میاں بیوی کے مابین مودت و محبت پیدا کرنے کی رغبت دلائی گئی ہے، قابل غور بات یہ ہے کہ میاں بیوی کا کوئی وصف یا بات ایک دوسرے سے مخفی نہیں ہوتی، لیکن اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات کو آنے سے منع کیا تاکہ کوئی نفرت والا معاملہ پیش نہ آ سکے، ممکن ہے کہ بیوی اچھی حالت میں نہ ہو یا اس کے گھر میں کوئی ایسا فرد آیا
ہوا ہو، جس کی آمد خاوند کو ناگوار گزرے، لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ برا ہو گا، لیکن اس معاملے میں خاوند کی ترجیحات کو مد نظر رکھا جائے گا۔ سیدنا عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں رات کو اپنی بیوی کے گھر گیا، میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک عورت اس کی کنگھی کر رہی تھی، لیکن میں نے سمجھا کہ یہ کوئی مرد ہے، سو میں نے اس کی طرف تلوار کو سیدھا کیا، لیکن اتنے میں اس کا عورت ہونا واضح ہو گیا، جب یہ ماجرا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مردوں کو اس سے منع کر دیا کہ وہ رات کو اپنی بیویوں کے پاس آئیں۔ (صحیح ابی عوانہ، بحوالہ فتح الباری: ۹/ ۴۲۶) اگر اس باب کی تمام احادیث اور ان کے مقاصد کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آج کے دور میں فون کے ذریعے مطلع کر کے رات کو آیا جا سکتا ہے، ہاں اس سلسلے میں عورت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے خاوند کا مزاج سمجھے۔
آج کل بیویاں اپنے گھروں میں سادہ ملبوسات پر اکتفا کرتی ہیں اور صفائی کا بھی کوئی خاص خیال نہیں رکھتیں، لیکن جب وہ دوسرے رشتہ داروں کے پاس جانے یا گھر سے باہر کسی دوسری مجلس میں جانے لگتی ہیں، تو حسن و جمال کے جو انداز اختیار کئے جاتے ہیں، ان کے سامنے دلہن بھی شرما جاتی ہے۔ ایسا کرنا مقصودِ شریعت نہیں ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن لغيره
حدیث نمبر: 7124
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلَتْ عَلَيَّ خُوَيْلَةُ بِنْتُ حَكِيمِ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ الْأَوْقَصِ السُّلَمِيَّةُ وَكَانَتْ تَحْتَ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ قَالَتْ فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَذَاذَةَ هَيْئَتِهَا فَقَالَ لِي يَا عَائِشَةُ مَا أَبَذَّ هَيْئَةَ خُوَيْلَةَ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ امْرَأَةٌ لَا زَوْجَ لَهَا يَصُومُ النَّهَارَ وَيَقُومُ اللَّيْلَ فَهِيَ كَمَنْ لَا زَوْجَ لَهَا فَتَرَكَتْ نَفْسَهَا وَأَضَاعَتْهَا قَالَتْ فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ فَجَاءَ فَقَالَ يَا عُثْمَانُ أَرَغْبَةٌ عَنْ سُنَّتِي قَالَ لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَكِنْ سُنَّتَكَ أَطْلُبُ وَقَالَ فَإِنِّي أَنَامُ وَأُصَلِّي وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ وَأُنْكِحُ النِّسَاءَ فَاتَّقِ اللَّهَ يَا عُثْمَانُ فَإِنَّ لِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّ لِضَيْفِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّ لِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا فَصُمْ وَأَفْطِرْ وَصَلِّ وَنَمْ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:سیدہ خویلہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا میرے پاس آئی،یہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی بیوی تھی، جب رسول اللہ نے اس کی حالت کی پراگندگی دیکھی تو مجھ سے فرمایا: عائشہ! خویلہ کی حالت تو بڑی پراگندہ ہے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بس یوں سمجھیں کہ اس خاتون کا خاوند کوئی نہیں ہے، کیونکہ وہ دن کو روزہ رکھتا ہے اور رات کو قیام کرتا ہے، اس لیے خویلہ اس خاتون کی طرح ہے کہ جس کا خاوند نہیں ہوتا ہے، اس لیے اس نے اپنے نفس کی طرف کوئی توجہ نہیں کی اور اس کو ضائع کر دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا، پس وہ آگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے عثمان! کیا میری سنت سے بے رغبتی کررہے ہو؟ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! نہیں، اے اللہ کے رسول! میں تو آپ کی سنت کو طلب کرنے والا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ ہے تو میں سوتا بھی ہوں اور نماز بھی پڑھتا ہوں اور روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں، میں نے عورتوں سے شادی بھی کر رکھی ہے، اے عثمان! اللہ سے ڈرو، تم پر تیری بیوی کا حق ہے، تم پر تیرے مہمان کا حق ہے اور تجھ پر تیرے نفس کا حق ہے، اس لیے روزے بھی رکھا کر اور ان کو ترک بھی کیا کر اور نماز بھی پڑھا کر اور سویا بھی کرو۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7124]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 1369، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26308 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26839»
وضاحت: فوائد: … تم پر تیری بیوی کا حق ہے اس سے مراد یہ ہے کہ بیوی کو باقاعدہ ٹائم دیا جائے اور اس کے جسم اور زندگی کے تقاضوں کو سمجھ کر ان کو پورا کیا جائے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: { وَعَاشِرُوْہُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ}(سورۂ نسائ: ۱۹) … اپنی بیویوں کے ساتھ حسنِ معاشرت اختیار کرو۔
عورت سب سے زیادہ خاوند کے حسنِ اخلاق کی محتاج ہے، مختلف احادیث میں اس کی بہت زیادہ تلقین کی گئی ہے، علاوہ ازیں عورت کے کھانے پینے، لباس اور رہائش کے اخراجات کا ذمہ دار خاوند ہے۔
اسلام ہی واحد مذہب ہے کہ جس نے بیوی کے ساتھ سب سے زیادہ حسن سلوک کرنے کا سبق دیا ہے، اس کی وجہ بالکل واضح ہے کہ شادی اور بالخصوص اولاد ہو جانے کے بعد عورت کا واحد سہارا اس کا خاوند ہو تا ہے، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ وہ شادی کے بعد اپنے والدین، بھائیوں اور دوسرے رشتہ داروں کے گھر جچتی ہی نہیں۔ اس لیے خاوند حضرات کو چاہیے کہ وہ اپنی رفیقۂ حیات کی بے بسی کا خیال رکھیں اور اس کی خدمت کو شرف انسانیت سمجھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے ہاں ماجور ٹھہریں۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: { وَعَاشِرُوْہُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ}(سورۂ نسائ: ۱۹) … اپنی بیویوں کے ساتھ حسنِ معاشرت اختیار کرو۔
عورت سب سے زیادہ خاوند کے حسنِ اخلاق کی محتاج ہے، مختلف احادیث میں اس کی بہت زیادہ تلقین کی گئی ہے، علاوہ ازیں عورت کے کھانے پینے، لباس اور رہائش کے اخراجات کا ذمہ دار خاوند ہے۔
اسلام ہی واحد مذہب ہے کہ جس نے بیوی کے ساتھ سب سے زیادہ حسن سلوک کرنے کا سبق دیا ہے، اس کی وجہ بالکل واضح ہے کہ شادی اور بالخصوص اولاد ہو جانے کے بعد عورت کا واحد سہارا اس کا خاوند ہو تا ہے، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ وہ شادی کے بعد اپنے والدین، بھائیوں اور دوسرے رشتہ داروں کے گھر جچتی ہی نہیں۔ اس لیے خاوند حضرات کو چاہیے کہ وہ اپنی رفیقۂ حیات کی بے بسی کا خیال رکھیں اور اس کی خدمت کو شرف انسانیت سمجھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے ہاں ماجور ٹھہریں۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
39. باب فضل إحسان العِشْرَةِ وَحُسْنِ الْخُلُقِ مَعَ الزوجة
بیوی کے ساتھ حسن معاشرت و حسن اخلاق سے پیش آنے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 7125
عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا سَقَى امْرَأَتَهُ مِنَ الْمَاءِ أُجِرَ قَالَ فَأَتَيْتُهَا فَسَقَيْتُهَا وَحَدَّثْتُهَا بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بیشک آدمی کے لیے اپنی بیوی کو پانی پلانے میں اجر ہے۔ تو میں اپنی بیوی کے پاس گیا اور اس کو پانی پلایا اور پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہوئی حدیث اس کو بیان کی۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7125]
تخریج الحدیث: «صحيح بالشواهد، أخرجه الطبراني في الكبير: 18/ 646، والبخاري في التاريخ الكبير: 3/ 178، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17155 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17287»
الحكم على الحديث:
صحيح بالشواهد