الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
37. بَابُ حَقِّ الزَّوْجِ عَلَى الزَّوْجَةِ
بیوی پر خاوند کے حقوق کا بیان
حدیث نمبر: 7106
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَصْلُحُ لِبَشَرٍ أَنْ يَسْجُدَ لِبَشَرٍ وَلَوْ صَلَحَ لِبَشَرٍ أَنْ يَسْجُدَ لِبَشَرٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا مِنْ عِظَمِ حَقِّهِ عَلَيْهَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ كَانَ مِنْ قَدَمِهِ إِلَى مَفْرَقِ رَأْسِهِ قُرْحَةً تَنْبَجِسُ بِالْقَيْحِ وَالصَّدِيدِ ثُمَّ اسْتَقْبَلَتْهُ فَلَحَسَتْهُ مَا أَدَّتْ حَقَّهُ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی بشر کے لئے اجازت نہیں کہ وہ دوسرے بشر کو سجدہ کرے، اگر ایک انسان کا دوسرے انسان کو سجدہ کرنا مناسب ہوتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے، کیونکہ اس پر اس کے خاوند کا بہت بڑا حق ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر خاوند کو پاؤں سے لے کر سر کی مانگ تک پھوڑا نکل آئے اور اس سے لہو اور پیپ بہنا شروع ہو جائے اور اس کی بیوی آ کر اس کو چاٹنا شروع کر دے تو پھر بھی وہ اپنے خاوند کا حق ادا نہیں کر سکے گی۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7106]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره دون قوله: ’’وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهِ لَوْ كَانَ مِنْ قَدَمِهِ اِلٰي مَفْرِقِ رَأْسِهِ قُرْحَةً تَنْبَجِسُ بِالْقَيْحِ وَالصَّدِيْدِ ثُمَّ اسْتَقْبَلَتْهُ فَلَحَسَتْهُ مَا أَدَّتْ حَقَّهُ‘‘ وھذا الحرف تفرد به حسين المروذي عن خلف بن خليفة وخلف كان قد اختلط قبل موته، أخرجه البزار: 2454، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12614 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12641»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره دون قوله: ’’وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهِ لَوْ كَانَ مِنْ قَدَمِهِ اِلٰي مَفْرِقِ رَأْسِهِ قُرْحَةً تَنْبَجِسُ بِالْقَيْحِ وَالصَّدِيْدِ ثُمَّ اسْتَقْبَلَتْهُ فَلَحَسَتْهُ مَا أَدَّتْ حَقَّهُ‘‘ وھذا الحرف تفرد به حسين المروذي عن خلف بن خليفة وخلف كان قد اختلط قبل موته
حدیث نمبر: 7107
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمَ مُعَاذٌ الْيَمَنَ أَوْ قَالَ الشَّامَ فَرَأَى النَّصَارَى تَسْجُدُ لِبَطَارِقَتِهَا وَأَسَاقِفَتِهَا فَرَوَّى أَيْ فَكَّرَ فِي نَفْسِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ أَنْ يُعَظَّمَ فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُ النَّصَارَى تَسْجُدُ لِبَطَارِقَتِهَا وَأَسَاقِفَتِهَا فَرَوَّيْتُ فِي نَفْسِي أَنَّكَ أَحَقُّ أَنْ تُعَظَّمَ فَقَالَ لَوْ كُنْتُ آمُرُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا وَلَا تُؤَدِّي الْمَرْأَةُ حَقَّ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهَا كُلَّهُ حَتَّى تُؤَدِّيَ حَقَّ زَوْجِهَا عَلَيْهَا كُلَّهُ حَتَّى لَوْ سَأَلَهَا نَفْسَهَا وَهِيَ عَلَى ظَهْرِ قَتَبٍ لَأَعْطَتْهُ إِيَّاهُ
۔ سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنامعاذ رضی اللہ عنہ یمن یا شام میں آئے اور عیسائیوں کو دیکھا کہ وہ اپنے لیڈروں اور پادریوں کو سجدہ کرتے ہیں، انھوں نے اپنے دل میں سوچا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس تعظیم کے زیادہ مستحق ہیں، پھر جب وہ واپس آئے تو انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے عیسائیوں کو دیکھا ہے کہ وہ اپنے پادریوں اور لیڈروں کو سجدہ کرتے ہیں اور مجھے اپنے دل میں خیال آیا کہ آپ اس تعظیم کے زیادہ مستحق ہیں؟ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں نے کسی کو اللہ تعالی کے علاوہ کسی کے لئے سجدہ کرنے کا حکم دینا ہوتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے، بیوی اس وقت تک اللہ تعالی کے حقوق ادا نہیں کر سکتی، جب تک کہ وہ اپنے خاوند کے کما حقہ حقوق ادا نہ کرے، اگر خاوند عورت کو وظیفہ زوجیت کے لئے طلب کرے اور وہ (کسی سواری کے) پالان کے اوپر بیٹھی ہو تو اس عورت کو خاوند کا مطالبہ پورا کرنا پڑے گا۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7107]
تخریج الحدیث: «حديث جيّد، أخرجه ابن ماجه: 1853، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19403 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19623»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ بیوی کو ہر صورت میں خاوند کی اطاعت کا خیال رکھنا چاہیے، دورِ حاضر کی ناشکری خواتین کے لیے لمحۂ فکریہ ہے، جن کی نگاہ صرف اور صرف خاوند کے منفی پہلو پر پڑتی ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث جيّد
حدیث نمبر: 7108
عَنْ عَائِذِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ مُعَاذًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَدِمَ عَلَى الْيَمَنِ فَلَقِيَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَوْلَانَ مَعَهَا بَنُونَ لَهَا اثْنَا عَشَرَ فَتَرَكَتْ أَبَاهُمْ فِي بَيْتِهَا أَصْغَرُهُمُ الَّذِي قَدِ اجْتَمَعَتْ لِحْيَتُهُ فَقَامَتْ فَسَلَّمَتْ عَلَى مُعَاذٍ وَرَجُلَانِ مِنْ بَنِيهَا يُمْسِكَانِ بِضَبْعَيْهَا فَقَالَتْ مَنْ أَرْسَلَكَ أَيُّهَا الرَّجُلُ قَالَ لَهَا مُعَاذٌ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتِ الْمَرْأَةُ أَرْسَلَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنْتَ رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَفَلَا تُخْبِرُنِي يَا رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَ لَهَا مُعَاذٌ سَلِينِي عَمَّا شِئْتِ قَالَتْ حَدِّثْنِي مَا حَقُّ الْمَرْءِ عَلَى زَوْجَتِهِ قَالَ لَهَا مُعَاذٌ تَتَّقِي اللَّهَ مَا اسْتَطَاعَتْ وَتَسْمَعُ وَتُطِيعُ قَالَتْ أَقْسَمْتُ بِاللَّهِ عَلَيْكَ لَتُحَدِّثَنِّي مَا حَقُّ الرَّجُلِ عَلَى زَوْجَتِهِ قَالَ لَهَا مُعَاذٌ أَوَمَا رَضِيتِ أَنْ تَسْمَعِي وَتُطِيعِي وَتَتَّقِي اللَّهَ قَالَتْ بَلَى وَلَكِنْ حَدِّثْنِي مَا حَقُّ الْمَرْءِ عَلَى زَوْجَتِهِ فَإِنِّي تَرَكْتُ أَبَا هَؤُلَاءِ شَيْخًا كَبِيرًا فِي الْبَيْتِ فَقَالَ لَهَا مُعَاذٌ وَالَّذِي نَفْسُ مُعَاذٍ بِيَدَيْهِ لَوْ أَنَّكِ تَرْجِعِينَ إِذَا رَجَعْتِ إِلَيْهِ فَوَجَدْتِ الْجُذَامَ قَدْ خَرَقَ لَحْمَهُ وَخَرَقَ مَنْخِرَيْهِ فَوَجَدْتِ مَنْخِرَيْهِ يَسِيلَانِ قَيْحًا وَدَمًا ثُمَّ أَلْقَمْتِيهِمَا فَاكِ لَكَيْ مَا تَبْلُغِي حَقَّهُ مَا بَلَغْتِ ذَلِكَ أَبَدًا
۔ عائذ بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ یمن میں آئے، انہیں خولان قبیلہ کی ایک عورت ملی، اس کے ساتھ اس کے بارہ بیٹے بھی تھے، وہ ان کے باپ کو گھر میں چھوڑ آئی تھی، ان میں سے جو سب سے چھوٹا بیٹا تھا، وہ مکمل باریش تھا، وہ کھڑی ہوئی اوراس کے دو بیٹوں نے اسے تھام رکھا تھا، اس نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو سلام کہا اور کہا: اے آدمی! تجھے کس نے یہاں بھیجا ہے؟ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہاں بھیجا ہے۔اس نے کہا: کیا واقعی آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھیجا ہے،اچھا اگر آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قاصد ہیں مجھے کچھ بتاتے کیوں نہیں؟ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: جو ضرورت ہے پوچھو، اس نے کہا: مجھے بتاؤ کہ آدمی کا اپنی بیوی پر کیا حق ہے؟انھوں نے اسے بتایا کہ تم اللہ تعالیٰ سے مقدور بھر ڈرتی رہو اور سنو اور اطاعت کرو، اس نے کہا: میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی قسم دے کر کہتی ہوں، مجھے بتاؤ آدمی کا اپنی بیوی پر کیا حق ہے؟انھوں نے کہا: کیا تم اس پر راضی نہیں ہوئی کہ تم خاوند کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو؟ اس نے کہا: جی ضرور راضی ہوں، لیکن پھر بھی آپ مجھے بتائیں کہ آدمی کا اپنی بیوی پر کیا حق ہے؟ کیونکہ میں ان کے باپ کو گھر میں چھوڑ آئی ہوں، وہ بہت زیادہ بوڑھا ہو چکا ہے؟ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے دونوں ہاتھوں میں معاذ کی جان ہے! فرض کرو جب تم اس کے پاس لوٹ کر جاؤ اور اس کو اس حال میں پاؤ کہ کوڑھ نے اس کا گوشت چھلنی کردیا ہو اور اس کے دونوں نتھنے پھٹ چکے ہوں اور اس کے نتھنوں سے پیپ اور خون بہہ رہا ہوں اور تم اس کے دونوں نتھنوں کو منہ میں ڈال لو، تاکہ تم اس کا حق ادا کر دو، تو پھر بھی تم اس کا حق ادا نہیں کر سکو گی۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7108]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب، أخرجه الطبراني: 20/ 166، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22078 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22428»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 7109
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّتِ الْمَرْأَةُ خَمْسَهَا وَصَامَتْ شَهْرَهَا وَحَفِظَتْ فَرْجَهَا وَأَطَاعَتْ زَوْجَهَا قِيلَ لَهَا ادْخُلِي الْجَنَّةَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شِئْتِ
۔ سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب عورت پانچ نمازیں پڑھتی ہو، ماہ رمضان کے روزے رکھتی ہو، اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرتی ہو اور اپنے خاوند کی اطاعت کرتی ہو، تو اس سے کہا جائے گا کہ جنت میں جس دروازے سے چاہتی ہے، داخل ہو جا۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7109]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الطبراني في ’’الاوسط‘‘، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1661 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1661»
وضاحت: فوائد: … اسلام کئی فرائض، واجبات، مستحبّات، محرّمات اور مکروہات پر مشتمل ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث ِ مبارکہ میں صرف چار امور کا ذکر کیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ خواتین زیادہ تر ان چار امور میں راہِ اعتدال اختیار نہیں کرتیں۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
حدیث نمبر: 7110
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُؤْذِي امْرَأَةٌ زَوْجَهَا فِي الدُّنْيَا إِلَّا قَالَتْ زَوْجَتُهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ لَا تُؤْذِيهِ قَاتَلَكِ اللَّهُ فَإِنَّمَا هُوَ عِنْدَكِ دَخِيلٌ يُوشِكُ أَنْ يُفَارِقَكِ إِلَيْنَا
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب دنیا والی کوئی عورت اپنے خاوند کو تکلیف دیتی ہے تو جنت کی سفید سرخ رنگ والی موٹی موٹی آنکھوں والی عورتوں میں سے اس کی بیوی اس کو مخاطب ہو کر کہتی ہے: اللہ تعالیٰ تجھے ہلاک کرے، یہ تو تیرے پاس چند دن کا مہمان ہے، قریب ہے کہ یہ تجھ سے جدا ہو کر ہمارے پاس آ جائے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7110]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن ماجه: 2014، والترمذي: 1174، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22101 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22452»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 7111
عَنِ الْحُصَيْنِ بْنِ مِحْصَنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عَمَّةً لَهُ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ فَفَرَغَتْ مِنْ حَاجَتِهَا فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَذَاتُ زَوْجٍ أَنْتِ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ كَيْفَ أَنْتِ لَهُ قَالَتْ مَا آلُوهُ إِلَّا مَا عَجَزْتُ عَنْهُ قَالَ انْظُرِي أَيْنَ أَنْتِ مِنْهُ فَإِنَّمَا هُوَ جَنَّتُكِ وَنَارُكِ
۔ سیدنا حصین بن محصن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی پھوپھی کسی کام کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور جب وہ اپنے کام سے فارغ ہوگئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے کہا: کیا تم شادی شدہ ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم خاوند کے لئے کیسی ثابت ہو رہی ہو؟ اس نے کہا: میں اس کی خدمت میں کوئی کمی نہیں کرتی، مگر وہ کام جس سے میں عاجز آ جاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ذرا غور کرلینا کہ تو اس کے ساتھ کیسا معاملہ کرتی ہے، وہی تیری جنت ہے اور وہی تیری جہنم ہے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7111]
تخریج الحدیث: «اسناده محتمل للتحسين، أخرجه النسائي في الكبري: 8965، وابن ابي شيبة: 4/ 304، والبيھقي: 7/ 291، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27352 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19212»
وضاحت: فوائد: … یعنی بیوی کے جنت یا جہنم میں جانے کا بڑا سبب اس کا خاوند ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 7112
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَزَعَتْ ثِيَابَهَا فِي غَيْرِ بَيْتِ زَوْجِهَا هَتَكَتْ سِتْرَ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ رَبِّهَا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس عورت نے اپنے خاوند کے گھر کے علاوہ اپنا لباس اتار ا، اس نے اپنے اور اپنے رب کے درمیان والا پردہ چاک کر دیا۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7112]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه ابوداود: 4010، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24140 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24641»
وضاحت: فوائد: … خاتون کو غیر محرم کے سامنے اپنے جسم کے اعضاء کو ننگا نہیں کرنا چاہیے، وگرنہ وہ اللہ تعالی کی حدود سے خارج ہو جائے گی اور اللہ تعالی اس کی عزت کا ضامن نہیں رہے گا۔ دورِ حاضر میں عورت کو بڑے غلط رنگ میں استعمال کیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا نے اس معاملے میں بڑا ہی بد کردار پیش کیا ہے اور خواتین کو اس انداز میں پیش کیا ہے کہ مرد و زن، ہر ایک کی پاکدامنی داؤ پر لگ گئی ہے، ما سوائے اس کے جس پر اللہ تعالی خاص رحمت کر دے۔ اس میڈیا سے مسلم خواتین بری طرح متأثر ہوئی ہیں اور آج ان کے جسم کے بعض حصے ننگے نظر آ رہے ہوتے ہیں اور تنگ اور باریک لباس کی وجہ سے جسم کے باقی حصوں کی جسامت کا خوب اندازہ ہو رہا ہوتا ہے لیکن نافرمانی کے اس انداز کو کون سمجھے اور پھر وہ کیا کرے۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن
حدیث نمبر: 7113
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ إِحْدَى نِسَاءِ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ مَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي نِسْوَةٍ فَسَلَّمَ عَلَيْنَا وَقَالَ إِيَّاكُنَّ وَكُفْرَ الْمُنَعَّمِينَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا كُفْرُ الْمُنَعَّمِينَ قَالَ لَعَلَّ إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَطُولَ أَيْمَتُهَا بَيْنَ أَبَوَيْهَا وَتَعْنُسَ فَيَرْزُقَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ زَوْجَهَا وَيَرْزُقَهَا مِنْهُ مَالًا وَوَلَدًا فَتَغْضَبُ الْغَضْبَةَ فَتَقُولَ مَا رَأَيْتُ مِنْهُ يَوْمًا خَيْرًا قَطُّ وَفِي لَفْظٍ مَا رَأَيْتُ مِنْهُ خَيْرًا قَطُّ
۔ سیدہ اسما بنت یزید انصاریہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے اور ہم کچھ خواتین بیٹھی ہوئی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں سلام کہا اور پھر فرمایا: خوشحال لوگوں کی طرح ناشکر ی کرنے سے بچنا۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! خوشحال لوگوں کی ناشکری کیا ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ممکن ہے کہ تم عرصہ دراز تک اپنے والدین کے پاس بے شوہر کی زندگی گزارتی رہو، پھر اللہ تعالیٰ تمھیں خاوند عطا کرے اور (اس کے ذریعے) اولاد کی نعمت بھی دے، لیکن تم کسی دن غصے میں آکر (خاوند کو) یہ کہہ دو کہ میں نے تو تیرے پاس کوئی خیر و بھلائی دیکھی ہی نہیں۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7113]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه الترمذي: 2697، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27561 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28113»
الحكم على الحديث:
حديث حسن
حدیث نمبر: 7114
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ الْفَتْحِ لَا يَجُوزُ لِمَرْأَةٍ عَطِيَّةٌ إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا: کسی عورت کے لئے اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر عطیہ دینا حلال نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7114]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 3546، والنسائي: 6/ 278، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6727 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6727»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 7115
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَجُوزُ لِلْمَرْأَةِ أَمْرٌ فِي مَالِهَا إِذَا مَلَكَ زَوْجُهَا عِصْمَتَهَا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب عورت کی عصمت کا مالک اس کا خاوند بن جائے،تو عورت کے لیے اپنے مال میں تصرف کرنا جائز نہیں رہتا۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7115]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7058»
وضاحت: فوائد: … یہ ایک انتہائی اہم مسئلہ ہے کہ کوئی عورت اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر مال و دولت میں تصرّف نہیں کر سکتی۔ سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع والے سال اپنے خطبہ میں فرمایا: ((لَا تُنْفِقُ اِمْرَأَۃٌ شَیْئًا مِنْ بَیْتِزَوْجِہَا اِلاَّ بِاِذْنِ زَوْجِہَا۔)) قِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَلَا الطَّعَامَ؟ قَالَ: ((ذَالِکَ مِنْ اَفْضَلِ اَمْوَالِنَا۔)) (ترمذی، ابن ماجہ) … کوئی عورت اپنے خاوند کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر کوئی چیز خرچ نہ کرے۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کسی کو کھانابھی نہ دے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھانا تو ہمارے افضل (اور قیمتی) اموال میں سے ہے۔
سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَیْسَ لِلْمَرْأَۃِ أَںْ تَنْتَہِکَ شَیْئًا مِنْ مَالِہَا اِلَّا بِاِذْنِ زَوْجِہَا۔)) (طبرانی: ۲۲/ ۸۳/ ۲۰۶، صحیحہ: ۷۷۵) … عورت اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر اپنے مال میں سے کچھ بھی خرچ نہیں کر سکتی۔
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ رقمطراز ہیں: یہ حدیث اور اس مفہوم پر دلالت کرنے والی دوسری احادیث اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ عورت خاوند کی اجازت کے بغیر اپنے ذاتی مال میں بھی تصرف نہیں کر سکتی، اللہ تعالیٰ کے فرمان { اَلرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلَی النِّسَآئِ}کا بھییہی تقاضا ہے۔ لیکن اگر کوئی خاوند سچا مسلمان ہے، تو اسے یہ زیب نہیں دیتا کہ اس حکم شرعی کو بہانہ بنا کر اپنی بیوی پر جبر کرے اور ایسے مالی تصرف سے بھی روک دے، جس کا ان دونوں کو کوئی نقصان نہ ہوتا ہو۔
غور فرمائیں کہ یہ حکم اس حق سے ملتا جلتا ہے، جو بچی کے ولی کو اس کی شادی کے سلسلے میں حاصل ہوتا ہے کہ جس کی اجازت کے بغیر وہ نکاح نہیں کر سکتی، لیکن جب ولی اس کو نکاح سے روک لیتا ہے تو معاملہ انصاف کا طالب بن کر شرعی قاضی تک جا پہنچتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئیخاوند اپنی بیوی پر ظلم کرتا ہے اور اسے اس کے ذاتی مال میں شرعی تصرف کرنے سے بھی روک لیتا ہے، تو قاضی ان کے درمیان انصاف کی راہ ہموار کرے گا۔ معلوم ہوا کہ حکم میں اشکال نہیں ہے، بلکہ سوئے تصرف میں اشکال ہے۔ (صحیحہ: ۷۷۵)
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ مزید لکھتے ہیں: آپ کو علم ہونا چاہیے کہ بعض سلف نے اس حدیث پر عمل کیا ہے، جیساکہ امام طحاوی نے (شرح المعانی: ۲/ ۴۰۳) میں وضاحت کی ہے اور امام ابن حزم نے (المحلی: ۸/ ۳۱۰۔ ۳۱۱) میں سیدنا انس بن مالک، سیدنا ابوہریرہ، امام طاوس، امام حسن اور امام مجاہد کے نام ذکر کیے ہیں، مزید انھوں نے کہا: لیث بن سعد کا بھییہی قول ہے، وہ اس چیز کو جائز نہیں سمجھتے کہ بیوی خاوند کی اجازت کے بغیر مالی معاملات میں تصرف کرے، ہاں معمولی چیز کی گنجائش موجود ہے، جوصلہ رحمییا اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔
امام ابن حزم نے دوسرے علماء کے اقوال ذکر کیے اور ان کے دلائل کا مناقشہ بھی کیا، وہ خود اس بات کے قائل ہیں کہ بیوی اپنے ذاتی مال میں خاوند کی اجازت کے بغیر تصرف کر سکتی ہے۔ انھوں نے اپنے مسلک کے حق میں بعض احادیث ِ صحیحہ پیش کی ہیں، جیسے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبۂ عید میں عورتوں کو صدقہ کرنے کا حکم دیا، انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنی انگوٹھیاں اور کڑے وغیرہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈال دیے۔
میں (البانی) کہتا ہوں کہ ابن حزم کی بیان کردہ ان احادیث ِ مبارکہ میں ان کے مسلک کی کوئی دلیل نظر نہیں آتی، کیونکہیہ مخصوص واقعات پر مشتمل ہیں اور اس باب کی اور دوسری احادیث سے متعارض نہیں ہیں:
آپ خود سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث، جس میں عید کا ذکر ہے، پر غور کریں، اس میں یہ وضاحت موجود ہے کہ عورتوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے صدقہ کیا۔ اگر فرض کر لیا جائے کہ ان کو خاوندوں کی طرف سے صدقہ کرنے کی اجازت نہ تھی، بلکہ یہ کہا جائے کہ انھوں نے ان کو منع کر رکھا تھا، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مخصوص موقع پر ان کو براہِ راست حکم دیا، توانھوں نے اس حکم نبوی کی تعمیل کی۔ اب کیا کوئی عاقل یہ کہہ سکتا ہے کہ خاوندوں سے اجازت کی پابندی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم پر مقدم تھی۔ حقیقتیہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واقعی عورتوں کو ان کے خاوندوں کی اجازت کے بغیر صدقہ کرنے سے منع کیا، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی مناسبت کی وجہ سے ان کو صدقہ کرنے کا حکم صادر فرمائیں گے، تو اس حکم کو خاوندوں کی اجازت پر مقدم سمجھا جائے گا، حالانکہ کوئی ایسی دلیل بھی نہیں ہے کہ انھوں نے اپنی بیویوں کو منع کر رکھا تھا۔
حقیقتیہ ہے کہ امام ابن حزم نے جو مسلک اختیار کیا ہے، ممکن ہے کہ ان کی طرف سے یہ عذر پیش کیا جائے کہ ان کے نزدیک وہ احادیث درجۂ صحت کو نہ پہنچ سکیں، جن میں بیویوں کے صدقہ و خیرات کو خاوندوں کی اجازت کے ساتھ معلق کیا گیا ہے، وگرنہ امام صاحب ان کی فوراً تعمیل کرتے،کیونکہیہ ایک مخصوص اورزائد حکم پر مشتمل ہیں، جس سے ان کی بیان کردہ احادیث خالی ہیں۔
لیکن انھوں نے عمرو بن شعیب عن ابیہ … کی اس حدیث کو اس بنا پر معلول قرار دیا ہے کہ یہ صحیفہ منقطع ہے، جبکہ امام احمد سمیت جمہور علمائے حدیث کے نزدیک عمرو بن شعیب کا صحیفہ موصول ہے۔
پھر ابن حزم نے یہ کہا اگر یہ حدیث صحیح ثابت ہو جائے تو اسے منسوخ سمجھا جائے گا، اس کا جواب دیا جا چکا ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ جزئ، کل کو اور خاص، عام کو منسوخ کر دے؟
کافروں کی تہذیبوں کی موافقت کے خواہاں اور اسلام میں حقوقِ نسواں پر بحث کرنے والے نام نہاد مسلمان اس موضوع پر دلالت کرنے والی احادیث سے غافل اور جاہل ہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ علمی اعتبار سے ابن حزم کا مذہب ان کے نزدیک راجح ہے، وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ اسلام کی ہدایات کو مغربی کلچر کے قریب تر کر دیا جائے، اس کی ایک شقّ یہ ہے کہ عورت اپنے مال میں خود تصرف کرے۔
لیکن ان بیچاروں کو علم ہونا چاہیے کہ ان دلائل سے ان کو ذرہ برابر بھی فائدہ نہیں ہو گا، کیونکہ وہ تو عورت کو غیر کے مال میں بھی تصرف کرنے اور اسے اولیاء کی اجازت کے بغیر شادی کرنے اور اسے ہم راز اور یار بنانے کی بھی اجازت دیتے ہیں۔ ہمارے اللہ نے سچ فرمایا: {وَلَنْ تَرْضٰی عَنْکَ الْیَہُوْدُ وَلَا النَّصَارٰی حَتّٰی تَتَّبِعَ مِلَّتَہُمْ}(سورۂ بقرہ: ۱۲۰) … یہودی اور عیسائی اس وقت تک آپ سے ہر گز راضی نہیں ہوں گے، جب تک آپ ان کی ملت کی پیروی نہیں کریں گے۔ (صحیحہ: ۲۵۷۱)
قارئین کرام! یقینا آپ کو اور بالخصوص عورتوں کو اس حکم پر تعجب ہو رہا ہو گا کہ خاوند کی اجازت کے بغیر عورت اپنے مال میں بھی تصرف نہیں کر سکتی۔ اس تعجب کی وجہ ہمارا ماحول ہے، جہاں اکثر خواتین کو اپنے خاوندوں کے گھروں میں مجبور و مظلوم کی حیثیت سے زندگی گزارنا پڑتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں کو بہترین قرار دیا جو اپنی بیویوں کے حق میں بہتر ہوتے ہیں۔ خاوند حضرات کو چاہیے کہ وہ حکم نبوی کے مطابق اپنی بیویوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں، دوستانہ ماحول بنائیں، آپس میں خوش و خرم رہیں، ایک دوسرے کی خوشی غمی کو سمجھیںاور دونوں ایک دوسرے کے والدین اور دوسرے قرابت داروں کی قدر کریں۔ نیز خاوند حضرات کو چاہیے کہ وہ اپنی بیویوں کو کچھ تصرف کرنے کی اجازت دے دیں۔ ایسے ماحول میں ان احادیث پر عمل کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
عورت اپنے مال میں خاوند کی اجازت کے بغیر تصرف کرسکتی ہے یا نہیں۔ اس بارے حدیث۷۱۱۴ اور ۷۱۱۵ اپنے مفہوم کے اعتبار سے واضح ہے کہ عورت اپنے مال سے کوئی عطیہ وغیرہ دینا چاہتی ہے تو وہ اپنے خاوند سے اجازت لے، پھر یہ کام کرے۔ لیکن ایک حدیث اس بارے صریح ہے کہ خاوند کی اجازت کے بغیر عورت مال خرچ کرسکتی ہے۔ صحیح بخاری (۲۵۹۲) میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیوی میمونہ بنت حارث نے اپنی لونڈی آزاد کی اور آپ سے اس کی اجازت نہ لی، پھر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا کہ کیا آپ کو پتا ہے کہ میں نے اپنی لونڈی آزاد کر دی ہے؟ آپ نے فرمایا کیا (واقعۃً) تونے یہ کام کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا! ہاں آپ نے فرمایا اگر تو یہ لونڈی اپنے ماموئوں کو دے دینی تو اس سے تجھے اجر و ثواب زیادہ ملتا ہے۔
جب منع و نہی کے مقابلہ میں یہ حدیث صحیح صریح اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عورت اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر اپنا مال خرچ کرسکتی ہے تو اس حدیث کو جواز پر محمول کرنا چاہیے اور نہی کو نہی تنزیہی پر، اس طرح دونوں کی احادیث پر عمل ہو جائے گا امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث پر یہ باب قائم کیا ہے باب ہبۃ المرأۃ لغیر زوجہا وعتقہا اذا کان لہا زوج فہو جائز اذا کانت سفیھۃً اس بات کا بیان کہ عورت اپنے خاوند کے علاوہ کسی کو تحفہ دے سکتی ہے اور غلام وغیرہ آزاد کرسکتی ہے خواہ اس کا خاوند ہو، یہ جائز ہے جب وہ بے وقوف نہ ہو۔ خلاصہیہ ہے کہ بہتر ہے کہ عورت اپنے خاوند کی اجازت کے ساتھ مال خرچ کرے لیکن اگر وہ اس کے بغیر بھی مال میں تصرف کرتی ہے تو یہ جائز ہے۔ (عبداللہ رفیق)
سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَیْسَ لِلْمَرْأَۃِ أَںْ تَنْتَہِکَ شَیْئًا مِنْ مَالِہَا اِلَّا بِاِذْنِ زَوْجِہَا۔)) (طبرانی: ۲۲/ ۸۳/ ۲۰۶، صحیحہ: ۷۷۵) … عورت اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر اپنے مال میں سے کچھ بھی خرچ نہیں کر سکتی۔
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ رقمطراز ہیں: یہ حدیث اور اس مفہوم پر دلالت کرنے والی دوسری احادیث اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ عورت خاوند کی اجازت کے بغیر اپنے ذاتی مال میں بھی تصرف نہیں کر سکتی، اللہ تعالیٰ کے فرمان { اَلرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلَی النِّسَآئِ}کا بھییہی تقاضا ہے۔ لیکن اگر کوئی خاوند سچا مسلمان ہے، تو اسے یہ زیب نہیں دیتا کہ اس حکم شرعی کو بہانہ بنا کر اپنی بیوی پر جبر کرے اور ایسے مالی تصرف سے بھی روک دے، جس کا ان دونوں کو کوئی نقصان نہ ہوتا ہو۔
غور فرمائیں کہ یہ حکم اس حق سے ملتا جلتا ہے، جو بچی کے ولی کو اس کی شادی کے سلسلے میں حاصل ہوتا ہے کہ جس کی اجازت کے بغیر وہ نکاح نہیں کر سکتی، لیکن جب ولی اس کو نکاح سے روک لیتا ہے تو معاملہ انصاف کا طالب بن کر شرعی قاضی تک جا پہنچتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئیخاوند اپنی بیوی پر ظلم کرتا ہے اور اسے اس کے ذاتی مال میں شرعی تصرف کرنے سے بھی روک لیتا ہے، تو قاضی ان کے درمیان انصاف کی راہ ہموار کرے گا۔ معلوم ہوا کہ حکم میں اشکال نہیں ہے، بلکہ سوئے تصرف میں اشکال ہے۔ (صحیحہ: ۷۷۵)
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ مزید لکھتے ہیں: آپ کو علم ہونا چاہیے کہ بعض سلف نے اس حدیث پر عمل کیا ہے، جیساکہ امام طحاوی نے (شرح المعانی: ۲/ ۴۰۳) میں وضاحت کی ہے اور امام ابن حزم نے (المحلی: ۸/ ۳۱۰۔ ۳۱۱) میں سیدنا انس بن مالک، سیدنا ابوہریرہ، امام طاوس، امام حسن اور امام مجاہد کے نام ذکر کیے ہیں، مزید انھوں نے کہا: لیث بن سعد کا بھییہی قول ہے، وہ اس چیز کو جائز نہیں سمجھتے کہ بیوی خاوند کی اجازت کے بغیر مالی معاملات میں تصرف کرے، ہاں معمولی چیز کی گنجائش موجود ہے، جوصلہ رحمییا اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔
امام ابن حزم نے دوسرے علماء کے اقوال ذکر کیے اور ان کے دلائل کا مناقشہ بھی کیا، وہ خود اس بات کے قائل ہیں کہ بیوی اپنے ذاتی مال میں خاوند کی اجازت کے بغیر تصرف کر سکتی ہے۔ انھوں نے اپنے مسلک کے حق میں بعض احادیث ِ صحیحہ پیش کی ہیں، جیسے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبۂ عید میں عورتوں کو صدقہ کرنے کا حکم دیا، انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنی انگوٹھیاں اور کڑے وغیرہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈال دیے۔
میں (البانی) کہتا ہوں کہ ابن حزم کی بیان کردہ ان احادیث ِ مبارکہ میں ان کے مسلک کی کوئی دلیل نظر نہیں آتی، کیونکہیہ مخصوص واقعات پر مشتمل ہیں اور اس باب کی اور دوسری احادیث سے متعارض نہیں ہیں:
آپ خود سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث، جس میں عید کا ذکر ہے، پر غور کریں، اس میں یہ وضاحت موجود ہے کہ عورتوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے صدقہ کیا۔ اگر فرض کر لیا جائے کہ ان کو خاوندوں کی طرف سے صدقہ کرنے کی اجازت نہ تھی، بلکہ یہ کہا جائے کہ انھوں نے ان کو منع کر رکھا تھا، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مخصوص موقع پر ان کو براہِ راست حکم دیا، توانھوں نے اس حکم نبوی کی تعمیل کی۔ اب کیا کوئی عاقل یہ کہہ سکتا ہے کہ خاوندوں سے اجازت کی پابندی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم پر مقدم تھی۔ حقیقتیہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واقعی عورتوں کو ان کے خاوندوں کی اجازت کے بغیر صدقہ کرنے سے منع کیا، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی مناسبت کی وجہ سے ان کو صدقہ کرنے کا حکم صادر فرمائیں گے، تو اس حکم کو خاوندوں کی اجازت پر مقدم سمجھا جائے گا، حالانکہ کوئی ایسی دلیل بھی نہیں ہے کہ انھوں نے اپنی بیویوں کو منع کر رکھا تھا۔
حقیقتیہ ہے کہ امام ابن حزم نے جو مسلک اختیار کیا ہے، ممکن ہے کہ ان کی طرف سے یہ عذر پیش کیا جائے کہ ان کے نزدیک وہ احادیث درجۂ صحت کو نہ پہنچ سکیں، جن میں بیویوں کے صدقہ و خیرات کو خاوندوں کی اجازت کے ساتھ معلق کیا گیا ہے، وگرنہ امام صاحب ان کی فوراً تعمیل کرتے،کیونکہیہ ایک مخصوص اورزائد حکم پر مشتمل ہیں، جس سے ان کی بیان کردہ احادیث خالی ہیں۔
لیکن انھوں نے عمرو بن شعیب عن ابیہ … کی اس حدیث کو اس بنا پر معلول قرار دیا ہے کہ یہ صحیفہ منقطع ہے، جبکہ امام احمد سمیت جمہور علمائے حدیث کے نزدیک عمرو بن شعیب کا صحیفہ موصول ہے۔
پھر ابن حزم نے یہ کہا اگر یہ حدیث صحیح ثابت ہو جائے تو اسے منسوخ سمجھا جائے گا، اس کا جواب دیا جا چکا ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ جزئ، کل کو اور خاص، عام کو منسوخ کر دے؟
کافروں کی تہذیبوں کی موافقت کے خواہاں اور اسلام میں حقوقِ نسواں پر بحث کرنے والے نام نہاد مسلمان اس موضوع پر دلالت کرنے والی احادیث سے غافل اور جاہل ہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ علمی اعتبار سے ابن حزم کا مذہب ان کے نزدیک راجح ہے، وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ اسلام کی ہدایات کو مغربی کلچر کے قریب تر کر دیا جائے، اس کی ایک شقّ یہ ہے کہ عورت اپنے مال میں خود تصرف کرے۔
لیکن ان بیچاروں کو علم ہونا چاہیے کہ ان دلائل سے ان کو ذرہ برابر بھی فائدہ نہیں ہو گا، کیونکہ وہ تو عورت کو غیر کے مال میں بھی تصرف کرنے اور اسے اولیاء کی اجازت کے بغیر شادی کرنے اور اسے ہم راز اور یار بنانے کی بھی اجازت دیتے ہیں۔ ہمارے اللہ نے سچ فرمایا: {وَلَنْ تَرْضٰی عَنْکَ الْیَہُوْدُ وَلَا النَّصَارٰی حَتّٰی تَتَّبِعَ مِلَّتَہُمْ}(سورۂ بقرہ: ۱۲۰) … یہودی اور عیسائی اس وقت تک آپ سے ہر گز راضی نہیں ہوں گے، جب تک آپ ان کی ملت کی پیروی نہیں کریں گے۔ (صحیحہ: ۲۵۷۱)
قارئین کرام! یقینا آپ کو اور بالخصوص عورتوں کو اس حکم پر تعجب ہو رہا ہو گا کہ خاوند کی اجازت کے بغیر عورت اپنے مال میں بھی تصرف نہیں کر سکتی۔ اس تعجب کی وجہ ہمارا ماحول ہے، جہاں اکثر خواتین کو اپنے خاوندوں کے گھروں میں مجبور و مظلوم کی حیثیت سے زندگی گزارنا پڑتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں کو بہترین قرار دیا جو اپنی بیویوں کے حق میں بہتر ہوتے ہیں۔ خاوند حضرات کو چاہیے کہ وہ حکم نبوی کے مطابق اپنی بیویوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں، دوستانہ ماحول بنائیں، آپس میں خوش و خرم رہیں، ایک دوسرے کی خوشی غمی کو سمجھیںاور دونوں ایک دوسرے کے والدین اور دوسرے قرابت داروں کی قدر کریں۔ نیز خاوند حضرات کو چاہیے کہ وہ اپنی بیویوں کو کچھ تصرف کرنے کی اجازت دے دیں۔ ایسے ماحول میں ان احادیث پر عمل کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
عورت اپنے مال میں خاوند کی اجازت کے بغیر تصرف کرسکتی ہے یا نہیں۔ اس بارے حدیث۷۱۱۴ اور ۷۱۱۵ اپنے مفہوم کے اعتبار سے واضح ہے کہ عورت اپنے مال سے کوئی عطیہ وغیرہ دینا چاہتی ہے تو وہ اپنے خاوند سے اجازت لے، پھر یہ کام کرے۔ لیکن ایک حدیث اس بارے صریح ہے کہ خاوند کی اجازت کے بغیر عورت مال خرچ کرسکتی ہے۔ صحیح بخاری (۲۵۹۲) میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیوی میمونہ بنت حارث نے اپنی لونڈی آزاد کی اور آپ سے اس کی اجازت نہ لی، پھر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا کہ کیا آپ کو پتا ہے کہ میں نے اپنی لونڈی آزاد کر دی ہے؟ آپ نے فرمایا کیا (واقعۃً) تونے یہ کام کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا! ہاں آپ نے فرمایا اگر تو یہ لونڈی اپنے ماموئوں کو دے دینی تو اس سے تجھے اجر و ثواب زیادہ ملتا ہے۔
جب منع و نہی کے مقابلہ میں یہ حدیث صحیح صریح اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عورت اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر اپنا مال خرچ کرسکتی ہے تو اس حدیث کو جواز پر محمول کرنا چاہیے اور نہی کو نہی تنزیہی پر، اس طرح دونوں کی احادیث پر عمل ہو جائے گا امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث پر یہ باب قائم کیا ہے باب ہبۃ المرأۃ لغیر زوجہا وعتقہا اذا کان لہا زوج فہو جائز اذا کانت سفیھۃً اس بات کا بیان کہ عورت اپنے خاوند کے علاوہ کسی کو تحفہ دے سکتی ہے اور غلام وغیرہ آزاد کرسکتی ہے خواہ اس کا خاوند ہو، یہ جائز ہے جب وہ بے وقوف نہ ہو۔ خلاصہیہ ہے کہ بہتر ہے کہ عورت اپنے خاوند کی اجازت کے ساتھ مال خرچ کرے لیکن اگر وہ اس کے بغیر بھی مال میں تصرف کرتی ہے تو یہ جائز ہے۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7058