الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. بَابُ ذَكَاةِ الْمُتَرَدِّيَّةِ وَالنَّافِرِةِ وَالْجَنِيْنِ فِي بَطْنِ أُمِّهِ
گر نے والے، بدک جانے والے اور ماں کے پیٹ میں موجود بچے کا بیان
حدیث نمبر: 7617
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَنِينِ يَكُونُ فِي بَطْنِ النَّاقَةِ أَوِ الْبَقَرَةِ أَوِ الشَّاةِ فَقَالَ كُلُوهُ إِنْ شِئْتُمْ فَإِنَّ ذَكَاتَهُ ذَكَاةُ أُمِّهِ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ جو اونٹنی گائے یا بکری کے پیٹ میں بچہ ہے، جوذبح کرنے کے بعد پیٹ سے نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی ماں کو ذبح کر نا ہی اس کو ذبح کرنا ہے، اگر مرضی ہو تو کھا لو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيد و الذبائح/حدیث: 7617]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بطرقه وشواھده، أخرجه ابوداود: 2827، والترمذي: 1476، وابن ماجه: 3199، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11260 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11280»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7618
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَكَاةُ الْجَنِينِ ذَكَاةُ أُمِّهِ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پیٹ کے بچے کے لیے اس کی ماں کا ذبح کرنا ہی کافی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيد و الذبائح/حدیث: 7618]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11363»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اگر حاملہ جانور کو ذبح کیا جائے اور اس کے پیٹ سے بچہ نکل آئے، جو مرا ہوا ہو، تو وہ حلال ہی ہو گا، اگر وہ زندہ ہو تو اس کو الگ سے ذبح کیا جائے گا۔
الحكم على الحديث: صحیح
12. بَابُ فِي إِنَّ مَا أُبَيْنَ مِنْ حَى فَهُوَ مَيْتَةٌ، وَمَا لا يَجُوزُ أَكْلُهُ مِنَ الدَّبَائِحِ
زندہ جانور سے علیحدہ کئے ہوئے حصے کے مردار ہو نے اور ان ذبیحوں کا بیان، جن کو کھانا جائز نہیں ہے
حدیث نمبر: 7619
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُؤْكَلُ الشَّرِيطَةُ فَإِنَّهَا ذَبِيحَةُ الشَّيْطَانِ
۔ سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شریطہ نہ کھاؤ، کیونکہ یہ شیطان کا ذبیحہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيد و الذبائح/حدیث: 7619]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عمرو بن عبد الله ليس بالقوي، أحاديثه لا يتابعه الثقات عليھا، أخرجه ابوداود: 2826، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2618 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2618»
وضاحت: فوائد: … شریطہ وہ جانور ہے جس کی رگیں نہیں کاٹتے اور نہ ہی مکمل طور پر ذبح کرتے ہیں، بلکہ حلق میں معمولی کاٹتے اور جانور کو چھوڑ دیتے ہیں، جو تڑپتے تڑپتے مر جاتا ہے، یہ ظالمانہ عمل چونکہ شیطان نے بتایا تھا اور اس نے اس کو خوش نما بنا رکھا تھا، اس لیے اسے شیطان کا ذبیحہ قرار دیا گیا ہے، اس کی ایک صورت یہ بھی تھی کہ ابھی جانور زندہ ہوتا تو اس کی کھال اتار دیتے تھے اور رگیں نہ کاٹتے تھے اور وہ اسی طرح مر جاتا۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 7620
عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَبِهَا نَاسٌ يَعْمِدُونَ إِلَى أَلْيَاتِ الْغَنَمِ وَأَسْنِمَةِ الْإِبِلِ فَيَجُبُّونَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا قُطِعَ مِنَ الْبَهِيمَةِ وَهِيَ حَيَّةٌ فَهِيَ مَيْتَةٌ
۔ سیدنا ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہاں کچھ لوگ تھے، جو بکریوں کے سرین اور اونٹوں کی کوہانیں کاٹ کر (کھا لیتے)،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو زندہ جانور سے گوشت کاٹ لیا جائے، وہ گوشت مردار ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيد و الذبائح/حدیث: 7620]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه ابوداود: 2858، والترمذي باثر الحديث: 1480، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21904 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22249»
وضاحت: فوائد: … اس سے جانور کو انتہائی اذیت ہوتی ہے، شریعت نے بھی کاٹے ہوئے ایسے حصے کو حرام قرار دیا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح