الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. بَابُ مَا جَاءَ فِي حَقِيقَةِ الطَّاعُوْنِ وَمَعْنَاهُ وَ شَهَادَةِ مَنْ مَاتَ بِهِ وَلَمْ يَفِرُّ مِنْهُ
طاعون کی حقیقت، اس کے مفہوم، اس کی وجہ سے مرنے والے کی شہادت اور اس سے فرار اختیار نہ کرنے والے کا بیان
حدیث نمبر: 7799
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فِي الطَّاعُونِ فِي آخِرِ خُطْبَةٍ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ إِنَّ هَذَا رِجْسٌ مِثْلُ السَّيْلِ مَنْ يَنْكُبْهُ أَخْطَأَهُ وَمِثْلُ النَّارِ مَنْ يَنْكُبْهَا أَخْطَأَتْهُ وَمَنْ أَقَامَ أَحْرَقَتْهُ وَآذَتْهُ فَقَالَ شُرَحْبِيلُ بْنُ حَسَنَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّ هَذَا رَحْمَةُ رَبِّكُمْ وَدَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ وَقَبْضُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ
۔ (تیسری سند) سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے طاعون کے بارے میں خطبہ کے آخر میں کچھ بیان کیا اور کہا: یہ سیلاب کی مانند ایک عذاب ہے، جو اس کی زد میں بچ جائے گا، یہ اس سے درگزر کرے گا اور یہ آگ کی مانند ہے، جو اس سے دور رہے گا، یہ اس سے تجاوز کرجائے گا اور جو اس میں ٹھہرا رہے گا، یہ اسے خاکستر بنادے گا، اذیت میں مبتلا کردے گا، سیدنا شرجیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ تمہارے نبی کی دعا اور رحمت ہے اور اس کے ذریعہ نیکوکار لوگ فوت ہوتے رہے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7799]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17908»
وضاحت: فوائد: … اس باب میں اس چیز کا بیان ہے کہ طاعون ایک موذی اور مہلک بیماری ہے، لیکن اللہ تعالی نے اس بیماری کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے لیے باعث ِ رحمت و شہادت قرار دیا ہے، اگلے دو ابواب میں اس بیماری کے احکام بیان کیے گئے ہیں۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17908
28. بَابُ النَّهْي عَنِ الْأَقْدَامِ عَلَى أَرْضِ بِهَا الطَّاعُونُ وَ عَنِ الْخُرُوجِ مِنْ أَرْضِ فِرَارًا مِنْهُ
طاعون زدہ زمین میں داخل ہونے کی اور وہاں موجود لوگوں کا فرار ہوتے ہوئے¤وہاں سے نکل جانے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 7800
عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ ذُكِرَ الطَّاعُونُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رِجْزٌ أُصِيبَ بِهِ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوهَا وَإِذَا كَانَ بِهَا وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس طاعون کا ذکر کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ عذاب تھا، جو تم سے پہلے لوگوں کو پہنچایا گیا، جب یہ کسی علاقے میں واقع ہو تو اس میں داخل نہ ہوا کرو اور جب تم کسی زمین میں موجود ہو تو یہ طاعون پڑ جائے تو وہاں سے باہر نہ جاؤ۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7800]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الطيالسي: 204، وابويعلي: 800، والطبران في الكبير: 330، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1527 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1527»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 7801
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَرَجَ إِلَى الشَّامِ فَلَمَّا جَاءَ سَرْغَ بَلَغَهُ أَنَّ الْوَبَاءَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ فَأَخْبَرَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ فَرَجَعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مِنْ سَرْغَ (وَفِي لَفْظٍ فَحَمِدَ اللَّهَ عُمَرُ ثُمَّ انْصَرَفَ)
۔ سیدنا عبداللہ بن عامر بن ربیعہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شام کی جانب گئے، جب سرغ مقام تک پہنچے تو آپ کو اطلاع ملی کہ شام میں طاعون کی وباء پڑ چکی ہے، سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے وہاں بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم سنو کہ کسی زمین میں طاعون پڑچکا ہے تو اس میں نہ جاؤاور جب تم ایسے علاقے میں موجود ہو، یہاں طاعون پڑ چکا ہو تو پھر راہ فرار اختیار کرتے ہوئے اس سے باہر مت نکلو۔ پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سرغ مقام سے ہی لوٹ گئے، ایک روایت میں ہے: اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور واپس لوٹ گئے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7801]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5730، ومسلم: 2219، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1682 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1682»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5730
حدیث نمبر: 7802
عَنْ عِكْرِمَةَ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَوْ عَنْ عَمِّهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ إِذَا وَقَعَ الطَّاعُونُ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا وَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ وَلَسْتُمْ بِهَا فَلَا تَقْرَبُوهَا
۔ عکرمہ بن خالد مخزومی اپنے باپ سے یا اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں اور وہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی زمین میں جب طاعون واقع ہو اور تم وہاں موجود ہو تو اس سے باہر نہ جاؤ اور جب طاعون ایسے علاقے میں پڑ جائے، جس میں تم پہلے سے موجود نہ ہو تو اس علاقے میں نہ گھسو۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7802]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17595 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17738»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 7803
عَنْ فَرْوَةَ بْنِ مُسَيْكٍ الْمُرَادِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَرْضًا عِنْدَنَا يُقَالُ لَهَا أَرْضُ أَبْيَنَ هِيَ أَرْضُ رِفْقَتِنَا وَمِيرَتِنَا وَإِنَّهَا وَبِئَةٌ أَوْ قَالَ إِنَّ بِهَا وَبَاءً شَدِيدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَعْهَا عَنْكَ فَإِنَّ مِنَ الْقَرَفِ التَّلَفَ
۔ سیدنا فروہ بن مسیک مرادی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہماری ایک زمین ہے،اس کو ابین کہتے ہیں، یہ زرخیز علاقہ ہے اور ہمارا غلہ وغیرہ بھی اسی سے حاصل ہوتا ہے، لیکن وہ وباء والی ہے اور وہاں سخت وبا پڑتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دو، کیونکہ وبا کے قریب ہونا ہلاکت ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7803]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام الرجل الذي سمع فروة بن مسيك، ولجھالة يحييي بن عبد الله بن بحير، أخرجه ابوداود: 3923، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15742 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15834»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت ضعیف ہے، بہرحال اگر کسی علاقے میں سکونت اختیار کرنا فضیلت والا عمل نہ ہو، جبکہ اس میں ایسی وبائیں پائی جاتی ہوں، جو واقعی بندے کے جسم پر اثر کرتی ہوں تو اس علاقے کو چھوڑ دینا چاہیے، ایسے علاقے میں رہنے کی وجہ سے آدمی توہم پرستی میں بھی مبتلا ہو جاتا ہے اور ایسی بیماریوں کو اپنی زمین اور علاقے کی طرف منسوب کرنے لگتا ہے، نہ کہ اللہ تعالی کی طرف۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لابھام الرجل الذي سمع فروة بن مسيك
29. بَابُ إِثْمِ الْفَارُ مِنَ الطَّاعُونِ وَثَوَابِ الصَّابِرِ فِيهِ
طاعون سے بھاگ جانے والے کے گناہ اور اس میں صبر کرنے والے کے ثواب کا بیان
حدیث نمبر: 7804
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْفَارُّ مِنَ الطَّاعُونِ كَالْفَارِّ مِنَ الزَّحْفِ وَالصَّابِرُ فِيهِ كَالصَّابِرِ فِي الزَّحْفِ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: طاعون سے بھاگنے والے کو اتنا گناہ ہوتا ہے، جتنا جنگ سے بھاگنے والے کو ہوتا ہے اور طاعون میں صبر کرنے والا میدان جنگ میں صبر کرنے والے کی مانند اجر پاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7804]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه البزار: 3038، والطبران في الاوسط: 3217، وعبد بن حميد: 1118، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14478 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14532»
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
حدیث نمبر: 7805
عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ قَيْسٍ الْعَدَوِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْفَارُّ مِنَ الطَّاعُونِ كَالْفَارِّ مِنَ الزَّحْفِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: طاعون سے بھاگنے والا میدان جنگ سے بھاگنے والے کی مانند مجرم ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7805]
تخریج الحدیث: «حديث جيّد، أخرجه ابويعلي: 4408، والطبراني في الاوسط: 1203، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24527 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25032»
الحكم على الحديث:
حديث جيّد
حدیث نمبر: 7806
عَنْ مُعَاذَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَدَوِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَفْنَى أُمَّتِي إِلَّا بِالطَّعْنِ وَالطَّاعُونِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الطَّعْنُ قَدْ عَرَفْنَاهُ فَمَا الطَّاعُونُ قَالَ غُدَّةٌ كَغُدَّةِ الْبَعِيرِ الْمُقِيمُ بِهَا كَالشَّهِيدِ وَالْفَارُّ مِنْهَا كَالْفَارِّ مِنَ الزَّحْفِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت طعنہ زنی اور طاعون سے فنا ہوگی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! طعنہ زنی کو تو ہم جانتے ہیں، طاعون سے کیامراد ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: طاعون میں انسان کی گردن میں اونٹ کی گلٹی کی مانند گلٹی نکلتی ہے، جو آدمی اس طاعون میں ٹھہرا رہا، وہ شہید کی مانند ہے اور جو اس سے بھاگ گیا، وہ میدان جنگ سے بھاگنے والے کی مانند ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7806]
تخریج الحدیث: «اسناده جيّد، أخرجه البزار: 3041، والطبراني في الاوسط: 5527، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25118 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25631»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے ثابت ہوا کہ طاعون جس جگہ پر بپا ہو وہاں ہی صبر کرکے رہیں تو شہید کا ثواب ہے۔ اگر وہاں سے بھاگ جائیں تو اتنا گناہ ہے جتنا میدان جنگ سے بھاگ جانے والے کا ہے، جبکہ میدان جنگ سے بھاگ جانا کبیرہ گناہ ہے، اس لیے طاعون زدہ علاقے سے فرار اختیار کرنا بھی کبیرہ گناہ ہو گا۔
الحكم على الحديث:
اسناده جيّد
30. بَابُ مَا جَاءَ فِي مَوْتِ الْفُجَاةِ
اچانک موت کا بیان
حدیث نمبر: 7807
عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَوْتُ الْفَجْأَةِ أَخْذَةُ أَسَفٍ وَحَدَّثَ بِهِ مَرَّةً عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ سیدنا عبید بن خالد رضی اللہ عنہ، جو صحابۂ کرام میں سے تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ناگہانی موت غضب الٰہی کی گرفت ہے۔ وہ بعض اوقات اس حدیث کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7807]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البيھقي في السنن: 3/ 378، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15496 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15577»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 7808
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ مَوْتِ الْفَجْأَةِ فَقَالَ رَاحَةٌ لِلْمُؤْمِنِ وَأَخْذَةُ أَسَفٍ لِفَاجِرٍ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اچانک موت کے بارے میں دریافت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایسی موت مؤمن کے لئے تو باعث ِ راحت ہے اور فاجر کے لئے غضب الٰہی کا سبب ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7808]
تخریج الحدیث: «اسناده واهٍ، عبيد الله بن الوليد الوصافي متروك، وعبد الله بن عبيد الله بن عمير لم يسمع من عائشة، أخرجه البيھقي: 3/ 379، والطبراني في الاوسط: 3153، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25042 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25556»
وضاحت: فوائد: … چونکہ مؤمن ایسے طرز حیات اختیار کر کے رکھتا ہے کہ وہ ہر وقت موت کے لیے تیار ہوتا ہے، اس لیے اچانک موت اس کے باعث ِ رحمت ٹھہرتی ہے کہ صحت و تندرستی کی حالت میں اعمال خیر میں مصروف تھا کہ اللہ تعالی نے اپنے پاس بلا لیا، امام غزالی رحمہ اللہ نے کہا: جس نے موت کی تیاری کررکھی تھی اس کے لئے یہ موت تخفیف کا باعث ہے اور جو تیار نہ تھا اس کے لئے بوجھ ہے۔ (احیاء اعلوم) امام نووی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: اچانک موت اللہ سے ڈرنے والوں کے لئے تخفیف ہے۔ (تہذیب)
الحكم على الحديث:
اسناده واهٍ