الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. الْعَدْوَى وَالطَّيَرَةُ وَالْفَأَلُ وَالطَّاعُونُ وَمَوْتُ الْفَحْأَة¤ بابُ مَا جَاءَ فِي نَفِي الْعَدْوَى
بیماری کا متعدی ہونا، بدشگونی لینا، اچھی فال لینا، طاعون اور اچانک موت¤بیماری کے متعدی ہونے کی نفی کا بیان
حدیث نمبر: 7760
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا طِيَرَةَ وَلَا عَدْوَى وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَأْخُذُ الشَّاةَ الْجَرْبَاءَ فَنَطْرَحُهَا فِي الْغَنَمِ فَتَجْرَبُ قَالَ فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ بدشگونی ہے، نہ کوئی بیماری متعدی ہے، نہ الو کی نحوست ہے اور نہ صفر کی کوئی حقیقت ہے۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب ہم ایک خارش زدہ بکری کو دوسری بکریوں میں ڈال دیتے ہیں تو وہ دوسری بھی خارش زدہ ہوجاتی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا یہ بتاؤ کہ پہلی بکری کو بیماری کہاں سے متعدی ہو کر لگی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7760]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابويعلي: 2333، وابن حبان: 6117، والطبراني: 11764، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3032 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3032»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 7761
عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ أُخْتِ نَمِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ وَلَا هَامَّةَ
۔ سیدنا نمر رضی اللہ عنہ کے بھانجے سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ کوئی بیماری متعدی ہے، نہ صفر ہے اور نہ الو کی نحوست ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7761]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2220، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15727 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15818»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی احادیث سے معلوم ہوا کہ کوئی بیماری متعدی نہیں ہے، جبکہ درج ذیل باب کی احادیث سے یہ ثابت ہے کہ بیماری متعدی ہو سکتی ہے، جمع و تطبیق کی صورتیں آنے والے باب کے آخر میں پیش کی جائیں گی۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2220
22. بَابُ مَا جَاءَ فِي ثُبُوتِهَا
متعدی بیماری کے ثبوت کا بیان
حدیث نمبر: 7762
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يُورَدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیمار آدمی کو صحت مند آدمی کے پاس داخل نہ کیا جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7762]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5770، 5771، ومسلم: 2221، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9263 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9252»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5770
حدیث نمبر: 7763
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تُدِيمُوا إِلَى الْمَجْذُومِينَ النَّظَرَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جذام زدہ مریضوں پر زیادہ دیر تک نظر نہ ڈالا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7763]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه ابن ماجه: 3543، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2075 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2075»
وضاحت: فوائد: … جذام سے مراد کوڑھ ہے، یہ ایسی بیماری ہے، جس میں اعضائے جسم الگ ہو کر گرنے لگتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 7764
عَنْ حُسَيْنٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُدِيمُوا النَّظَرَ إِلَى الْمُجَذَّمِينَ وَإِذَا كَلَّمْتُمُوهُمْ فَلْيَكُنْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ قِيدَ رُمْحٍ
۔ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جذام زدہ مریضوں پر زیادہ دیر تک نظر نہ ڈالو اور جب تم ان سے کلام کرو تو تمہارے اور ان کے درمیان ایک نیزے کے برابر فاصلہ ہونا چاہئے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7764]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، فرج بن فضالة ضعّفه غير واحد، وقد وقع فيه اضطراب، انظر الحديث السابق، أخرجه الطبراني: 2897، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 581 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 581»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا پہلا حصہ سابق حدیث کی بنا پر صحیح ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 7765
عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مَجْذُومٌ مِنْ ثَقِيفٍ لِيُبَايِعَهُ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ ائْتِهِ فَأَخْبِرْهُ أَنِّي قَدْ بَايَعْتُهُ فَلْيَرْجِعْ
۔ سیدنا شرید بن سوید ثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بنو ثقیف میں سے ایک کوڑھ زدہ آدمی آیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیعت کرے، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور عرض کی کہ ایک جذام زدہ آدمی آپ کی بیعت کرنا چاہتا ہے، آپ نے فرمایا: تم اس کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ میں نے اس کی بیعت قبول کرلی ہے، وہ وہیں سے واپس چلا جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7765]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2231، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19468 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19697»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ جب لوگ اس سے گھن محسوس کریں گے تو اس کو خواہ مخواہ تکلیف ہو گی، اس لیے اس کو راستے سے ہی واپس کر دیا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2231
حدیث نمبر: 7766
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِرَّ مِنَ الْمَجْذُومِ فِرَارَكَ مِنَ الْأَسَدِ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوڑھ کے مریض سے اس طرح فرار اختیار کرو جیسے تم شیر سے بھاگتے ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7766]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 320، والبخاري في التاريخ الكبير: 1/ 139، و علقه في صحيحه: 5707، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9722 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9720»
وضاحت: فوائد: … مذکورہ بالا دو ابواب کی احادیث میں بیماری کے متعدی ہونے کی نفی بھی کی گئی ہے اور اسے ثابت بھی کیا گیا ہے، ان احادیث میں جمع وتطبیق کی صورت درج ذیل ہے:
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
23. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّشَائُمِ وَهُوَ الْمُعَبَرُ عَنْهُ بِالْطِيرَةِ
نحوست کا بیان، جس کو بدشگونی کہا جاتا ہے
حدیث نمبر: 7767
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ سَأَلْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الطِّيَرَةِ فَانْتَهَرَنِي وَقَالَ مَنْ حَدَّثَكَ فَكَرِهْتُ أَنْ أُحَدِّثَهُ مَنْ حَدَّثَنِي قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا هَامَةَ إِنْ تَكُنِ الطِّيَرَةُ فِي شَيْءٍ فَفِي الْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ وَالدَّارِ وَإِذَا سَمِعْتُمْ بِالطَّاعُونِ بِأَرْضٍ فَلَا تَهْبِطُوا وَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَفِرُّوا مِنْهُ
۔ سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے بدشگونی کے متعلق پوچھا، لیکن انہوں نے مجھے ڈانٹ دیا اور کہا: تجھے کس نے یہ بات بتائی ہے؟ میں نے یہ بتانا پسند نہ کیا کہ مجھے کس نے بتائی تھی،پھر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ کوئی بیماری متعدی ہے، نہ بدشگونی اور نہ الوکی نحوست ہے، اگر کسی چیز میں بدشگونی ہوتی تو وہ گھوڑے، عورت اور گھر میں ہوتی، جب تم سنو کہ کسی زمین میں طاعون ہے تو تم وہاں مت جاؤ اور جب تم ایسی زمین میں موجود ہو، جس میں طاعون آ گیا ہو تو پھر وہاں سے باہر نہ جاؤ۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7767]
تخریج الحدیث: «اسناده جيّد، أخرجه الطحاوي: 4/ 305، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1554 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1554»
الحكم على الحديث:
اسناده جيّد
حدیث نمبر: 7768
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ رَدَّتْهُ الطِّيَرَةُ مِنْ حَاجَةٍ فَقَدْ أَشْرَكَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كَفَّارَةُ ذَلِكَ قَالَ أَنْ يَقُولَ أَحَدُهُمْ اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُكَ وَلَا طَيْرَ إِلَّا طَيْرُكَ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کو بدشگونی نے کسی کام سے روک دیا، اس نے شرک کیا۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کا کفارہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کہنا اس کا کفارہ ہے: اے اللہ! نہیں ہے کوئی بھلائی ما سوائے تیری بھلائی کے اور نہیں ہے کوئی شگون، ما سوائے تیرے شگون کے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7768]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7045 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7045»
الحكم على الحديث:
حديث حسن
حدیث نمبر: 7769
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الطِّيَرَةِ وَالْعَدْوَى شَيْئًا قَالَ جَابِرٌ سَمِعْتُهُ يَقُولُ كُلُّ عَبْدٍ طَائِرُهُ فِي عُنُقِهِ
۔ ابو زبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بدشگونی اور بیماری کے متعدی ہونے کے بارے میں کچھ فرمایا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ہر آدمی کا شگون اس کی گردن میں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7769]
تخریج الحدیث: «صحيح، قال الالباني، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14765 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14824»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا ایک سیاق یہ ہے:
الحكم على الحديث:
صحيح