الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّشَائُمِ وَهُوَ الْمُعَبَرُ عَنْهُ بِالْطِيرَةِ
نحوست کا بیان، جس کو بدشگونی کہا جاتا ہے
حدیث نمبر: 7770
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتَ أَشْيَاءَ كُنَّا نَفْعَلُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ كُنَّا نَتَطَيَّرُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ شَيْءٌ تَجِدُهُ فِي نَفْسِكَ فَلَا يَصُدَّنَّكَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنَّا نَأْتِي الْكُهَّانَ قَالَ فَلَا تَأْتُوا الْكُهَّانَ
۔ سیدنا معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں ان چیزوں کے متعلق بتائیں جو ہم جاہلیت میں کیا کرتے تھے، مثلا ہم بد شگونی لیا کرتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک ایسی چیز ہے، جس کو تم دل میں محسوس کرو گے، لیکن یہ تمہارے لئے رکاوٹ نہیں بننی چاہیے۔ میں نے کہا: ایک چیز یہ بھی تھی کہ ہم کاہنوں اور نجومیوں کے پاس جاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کاہنوں کے پاس نہ جایا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7770]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 537، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15663 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15748»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 537
حدیث نمبر: 7771
عَنْ أُمِّ كُرْزٍ الْكَعْبِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلَى مَكِنَاتِهَا
۔ سیدہ ام کرزکعبیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: پرندوں کو ان کے گھونسلوں میں ہی ٹھہرنے دیا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7771]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه ابوداود: 2835، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27139 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27680»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 7772
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الطِّيَرَةُ شِرْكٌ وَمَا مِنَّا إِلَّا وَلَكِنَّ اللَّهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بدشگونی شرک ہے اور ہم میں سے ہر ایک کو یہ وہم لاحق ہوسکتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ اس کو توکل کے ذریعے دور کر دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7772]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 3910، وابن ماجه: 3538، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3687 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3687»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 7773
عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَبَرِحَ ظَبْيٌ فَمَالَ فِي شِقِّهِ فَاحْتَضَنْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَطَيَّرْتَ قَالَ إِنَّمَا الطِّيَرَةُ مَا أَمْضَاكَ أَوْ رَدَّكَ
۔ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک دن باہر نکلا تو اچانک ایک ہرن نمودار ہوا اور وہ بائیں جانب مائل ہوا، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چمٹ کرکہنے لگا: اے اللہ کے رسول!آپ نے براشگون لیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بدشگونی وہ ہے، جو کام کرنے پر آمادہ کرے یا واپس لوٹا دے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7773]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابن علاثة، قال البخاري: في حديثه نظر، وقال ابو حاتم: يكتب حديثه ولا يحتج به، ثم ھو لم يدرك الفضل بن عباس، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1824 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1824»
وضاحت: فوائد: … جب کوئی چیز بائیں سے دائیں طرف کو جاتی تو عرب اس سے نیک شگون لیتے تھے، لیکن اگر کوئی چیز دائیں سے بائیں سمت کو چلی جاتی تو وہ اس سے برا شگون لیتے تھے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
24. بَابُ إِنْ يَكُ مِنَ السُّومِ شَيْءٌ حَقٌّ فَفِي الْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ وَالدَّارِ
اگر برے شگون اور نحوست کا کوئی وجود ہوتا تو وہ عورت، گھوڑے اور گھر میں ہوتا
حدیث نمبر: 7774
عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا هَامَّةَ وَلَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ إِنْ يَكُنْ فَفِي الْمَرْأَةِ وَالدَّابَّةِ وَالدَّارِ
۔ سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ الو کی نحوست ہے، نہ بیماری متعدی ہے اور نہ بدشگونی ہے، اگر نحوست ہوتی تو وہ عورت، جانور اور گھر میں ہوتی۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7774]
تخریج الحدیث: «اسناده جيّد، أخرجه ابوداود: 3921، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1502 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1502»
الحكم على الحديث:
اسناده جيّد
حدیث نمبر: 7775
عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الشُّؤْمُ فِي ثَلَاثٍ الْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ وَالدَّارِ قَالَ سُفْيَانُ إِنَّمَا نَحْفَظُهُ عَنْ سَالِمٍ يَعْنِي الشُّؤْمَ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بدشگونی تین چیزوں میں ہے: گھوڑے، عورت اور گھر میں۔ سفیان کہتے ہیں: بدشگونی کا لفظ ہم نے صرف سالم سے محفوظ کیا ہے، دوسرے راویوں سے نہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7775]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2858، ومسلم: 2225، وانظر الحديثين الآتيين، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4544 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4544»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2858
حدیث نمبر: 7776
عَنْ عَمْرِو بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنْ يَكُ مِنَ الشُّؤْمِ شَيْءٌ حَقٌّ فَفِي الْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ وَالدَّارِ
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر بدشگونی کسی چیز میں ثابت ہوتی تو وہ عورت، گھوڑے اور گھر میں ہوتی۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7776]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5094، ومسلم: 2225، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5575 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5575»
وضاحت: فوائد: … علامہ البانی رحمتہ اللہ علیہ قمطراز ہیں: اس حدیث کا مفہوم یہ ہوا کہ کسی چیز میں نحوست، بے برکتی اور بد شگونی نہیں ہوتی، کیونکہ اس کا معنی یہ ہے کہ اگر کسی چیز میں یہ نحوست ہوتی تو ان تین چیزوں میں ضرور ہوتی، لیکن وہ تو سرے سے کسی چیز میں نہیں پائی جاتی ہے۔ بعض روایات کو یوں بیان کیا گیا ہے کہ تین چیزوں میں نحوست ہے یا بے برکتی تو صرف تین چیزوں میں ہے۔ در اصل یہ بعض راویوں کا اختصار او رتصرف ہے۔ (صحیحہ: ۴۴۲)
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5094
حدیث نمبر: 7777
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَالشُّؤْمُ فِي ثَلَاثَةٍ فِي الْمَرْأَةِ وَالدَّارِ وَالدَّابَّةِ
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ بیماری متعدی ہے، نہ کوئی شگون برا ہے، بس بدشگونی تو تین چیزوں میں ہے: عورت، گھر اور جانور۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7777]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5753، ومسلم: 2225، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6405 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6405»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5753
حدیث نمبر: 7778
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنْ كَانَ فَفِي الْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ وَفِي الْمَسْكَنِ يَعْنِي الشُّؤْمَ
۔ سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر بدشگونی ہوتی تو وہ گھوڑے، عورت اور رہائشگاہ میں ہوتی۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7778]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري 2859، 5095، ومسلم: 2226، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22836 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23224»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري 2859
حدیث نمبر: 7779
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنْ كَانَ شَيْءٌ فَفِي الرَّبْعِ وَالْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی بدشگونی نام کی کوئی چیز ہوتی تو وہ گھر، گھوڑے اور عورت میں ہوتی۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7779]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2227، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14574 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14628»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2227