🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. بَابُ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْء مِنْ أَجْزَاءِ النَّبُوَّةِ
اس امر کا بیان کہ مومن کا خواب نبوت کے اجزاء میں سے ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7819
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ {لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا} قَالَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يُبَشَّرُهَا الْمُؤْمِنُ هِيَ جُزْءٌ مِنْ تِسْعَةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ فَمَنْ رَأَى ذَلِكَ فَلْيُخْبِرْ بِهَا وَمَنْ رَأَى سِوَى ذَلِكَ فَإِنَّمَا هُوَ مِنَ الشَّيْطَانِ لِيُحْزِنَهُ فَلْيَنْفُثْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا وَلْيَسْكُتْ وَلَا يُخْبِرْ بِهَا أَحَدًا
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے فرمان {لَہُمُ الْبُشْرٰی فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا} … (ان کے لیے دنیوی زندگی میں خوشخبری ہے) اس خوشخبری سے مراد اچھا خواب ہے، جس میں مومن کو خوشخبری دی جاتی ہے، یہ نبوت کا انچاسواں حصہ ہے، جو ایسا خواب دیکھے، وہ دوسرے کو بتائے اور اگر اس کے علاوہ کوئی اور قسم کا خواب ہو، (جو اچھا نہ ہو) تو وہ شیطان کی طرف سے ہے، جو اسے پریشان کرتا ہے، وہ کسی کو اس کی خبر نہ دے اور تین مرتبہ بائیں طرف تھوکے اور خاموش ہو جائے اور کسی کو نہ بتلائے۔ [الفتح الربانی/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 7819]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه البيھقي في الشعب: 4764، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7044 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7044»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7820
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا خواب نبوت کا سترھواں حصہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 7820]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني: 11727، والبزار: 2123، وابويعلي: 2598، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2894 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2894»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7821
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ فَمَنْ رَأَى خَيْرًا فَلْيَحْمَدِ اللَّهَ عَلَيْهِ وَلْيَذْكُرْهُ وَمَنْ رَأَى غَيْرَ ذَلِكَ فَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ رُؤْيَاهُ وَلَا يَذْكُرْهَا فَإِنَّهَا لَا تَضُرُّهُ
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا خواب نبوت کا سترواں حصہ ہے، جو خواب میں بھلائی دیکھے تو وہ اس پر اللہ تعالیٰ کی تعریف کرے اور اس خواب کو بیان کرے اور جو آدمی بھلائی والے خواب کے علاوہ کوئی اور خواب دیکھے تو وہ اپنے خواب کے شرّ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرے اور کسی کے سامنے اس کا ذکر نہ کرے، پس یہ اسے نقصان نہیں دے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 7821]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرج الشطر الاول منه مسلم: 2265، والشطر الثاني الطبراني في الاوسط: 2159، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6215 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6215»
وضاحت: فوائد: … مسلمان کا خواب نبوت کا چھیالیسواں یا سترھواں حصہ ہے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ انْوَاعِ الرُّؤْيَا وَمَا يَفْعَلُ مَنْ رَأَى مَا يَكْرَهُ
خوابوں کی اقسام اور اس چیز کا بیان کہ مکروہ خواب دیکھنے والا کیا کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7822
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي آخِرِ الزَّمَانِ لَا تَكَادُ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ تَكْذِبُ وَأَصْدَقُكُمْ رُؤْيَا أَصْدَقُكُمْ حَدِيثًا وَالرُّؤْيَا ثَلَاثَةٌ الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ بُشْرَى مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالرُّؤْيَا يُحَدِّثُ بِهَا الرَّجُلُ نَفْسَهُ وَالرُّؤْيَا تَحْزِينٌ مِنَ الشَّيْطَانِ فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ رُؤْيَا يَكْرَهُهَا فَلَا يُحَدِّثْ بِهَا أَحَدًا وَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُعْجِبُنِي الْقَيْدُ وَأَكْرَهُ الْغُلَّ الْقَيْدُ ثَبَاتٌ فِي الدِّينِ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آخری زمانے میں مؤمن کا خواب جھوٹا نہ ہوگا اور تم میں سب سے زیادہ سچا اس کا خواب ہے، جو زیادہ سچ بولنے والا ہوگا۔خواب کی تین اقسام ہیں: اچھا خواب، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خوشخبری ہے، وہ خواب جو آدمی کے دلی خیالات ہوتے ہیں، غمگین کرنے والا خواب، یہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے، جب تم میں سے کوئی ایک ایسے خواب کو دیکھے جو ناپسند کرتا ہے، تو وہ کسی سے بیان نہ کرے اور کھڑا ہو اور نماز پڑھے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے خواب میں بیڑی دیکھنا پسند ہے اور طوق دیکھنا ناپسند ہے، کیونکہ بیڑی دین میں مضبوطی کی علامت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مؤمن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 7822]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2263، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7642 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7630»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں خواب کی تین اقسام بیان کی گئیں ہیں:

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2263
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7823
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ الرُّؤْيَا يُحِبُّهَا فَإِنَّمَا هِيَ مِنَ اللَّهِ فَلْيَحْمَدِ اللَّهَ عَلَيْهَا وَلْيُحَدِّثْ بِهَا فَإِذَا رَأَى غَيْرَ ذَلِكَ مِمَّا يَكْرَهُ فَإِنَّمَا هِيَ مِنَ الشَّيْطَانِ فَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا وَلَا يَذْكُرْهَا لِأَحَدٍ فَإِنَّهَا لَا تَضُرُّهُ
۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی خواب دیکھے، اگر وہ پسندیدہ ہو تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، وہ اس پر اس کی تعریف کرے اور اسے بیان بھی کرسکتا ہے اور جب اس کے علاوہ کوئی ایسا خواب دیکھے جو اسے ناپسند ہے تو یہ شیطان کی طرف سے ہے، اس کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگے اور اسے کسی کے سامنے بیان نہ کرے، یہ اسے کوئی نقصان نہیں دے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 7823]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6985، 7045، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11054 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11069»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6985
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7824
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ الرُّؤْيَا يَكْرَهُهَا فَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا وَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ ثَلَاثًا وَلْيَتَحَوَّلْ عَنْ جَنْبِهِ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی وہ خواب دیکھے، جسے وہ ناپسند کرتا ہو تو وہ تین بار اپنی بائیں جانب تھوکے اور تین بار شیطان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرے (یعنی اَعُوْذُ بّاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ پڑھے) اور جس پہلو کے بل لیٹا ہوا ہو، وہ پہلو بدل لے۔ [الفتح الربانی/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 7824]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2262، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14780 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14840»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2262
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7825
عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ أَرَى الرُّؤْيَا أُعْرَى مِنْهَا غَيْرَ أَنِّي لَا أُزَمَّلُ (وَفِي رِوَايَةٍ إِنْ كُنْتُ لَأَرَى الرُّؤْيَا تُمَرِّضُنِي) حَتَّى لَقِيتُ أَبَا قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَحَدَّثَنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الرُّؤْيَا مِنَ اللَّهِ وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ فَمَنْ رَأَى رُؤْيَا يَكْرَهُهَا فَلَا يُخْبِرْ بِهَا وَلْيَتْفُلْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا وَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا فَإِنَّهَا لَا تَضُرُّهُ قَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً أُخْرَى فَإِنَّهُ لَنْ يَرَى شَيْئًا يَكْرَهُهُ (وَفِي رِوَايَةٍ وَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يُحِبُّ فَلَا يُحَدِّثْ بِهَا إِلَّا مَنْ يُحِبُّ)
۔ سیدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایسے خواب دیکھا کرتا تھا کہ جن کے ڈر سے مجھے بخار ہوجاتا تھا اور میں چادر تک نہیں اوڑھ سکتا تھا، (ایک روایت میں ہے: میں ایسے خواب دیکھتا، جو مجھے بیمار کر دیتے تھے) ایک دن میں سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے اس چیز کا ذکر کیا، انہو ں نے مجھے یہ حدیث بیان کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا خواب اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے اور گندے خواب شیطان کی طرف سے ہیں، جب تم میں سے کوئی ایسا خواب دیکھے جو اسے ناپسند ہو تو اس کی کسی کو خبر نہ دے اور بائیں جانب تین مرتبہ تھوکے اور اس کے شرّ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرے، (اس کو ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ) یہ خواب اس کو کوئی نقصان نہیں دے گا۔ سفیان راوی نے ایک بار اس طرح روایت بیان کی: وہ کوئی ناپسندیدہ چیز نہیں دیکھے گا۔ ایک روایت میں ہے: جب تم میں سے کوئی پسندیدہ خواب دیکھے تو وہ صرف اس کے سامنے بیان کرے جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 7825]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7005، ومسلم: 2261، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22525 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22892»
وضاحت: فوائد: … برے خواب کے شرّ سے پناہ مانگنے کے لیے یہ جملہ کہا جا سکتا ہے: اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شَرٍّ ھٰذَہِ الرُّؤْیَا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 7005
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ أَحْسَنِ أَوْقَاتِ الرُّؤْيَا وَوَعِيدِ مَنْ كَذَبَ فِي الرُّؤْيَا مُتَعَمْدَا
خواب دیکھنے کے بہترین اوقات اور خواب کے بارے میں جان بوجھ کر¤جھوٹ بولنے والے کی وعید کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7826
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَصْدَقُ الرُّؤْيَا بِالْأَسْحَارِ
۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے زیادہ سچا خواب وہ ہے، جو سحریوں کے وقت آتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 7826]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف دراج بن سمعان في روايته عن ابي الھيثم، أخرجه الترمذي: 2274، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11240 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11260»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف دراج بن سمعان في روايته عن ابي الھيثم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7827
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مِنْ أَفْرَى الْفِرَى أَنْ يُرِيَ عَيْنَيْهِ فِي الْمَنَامِ مَا لَمْ تَرَيَا
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے بڑا جھوٹ یہ ہے کہ آدمی اپنی آنکھوں کو نیند میں وہ کچھ دکھائے، جو انہوں نے دیکھا نہ ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 7827]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7043، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5711 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5711»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ وہ جھوٹے خواب بیان کرتا ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 7043
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7828
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَذَبَ عَلَى عَيْنَيْهِ كُلِّفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَقْدًا بَيْنَ طَرَفَيْ شَعِيرَةٍ
۔ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اپنی آنکھوں پر جھوٹ بولتا ہے، روز قیامت اسے یہ تکلیف دی جائے گی کہ وہ جو کے دانے کے دو کناروں میں گرہ لگائے۔ [الفتح الربانی/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 7828]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الترمذي: 2281، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1070 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1070»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں