الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ مَا جَاءَ فِي تَأْوِيلِ الرُّؤْيَا
خوابوں کی تعبیر کا بیان
حدیث نمبر: 7838
عَنْ عَمَّارَةَ بْنِ عُثْمَانَ أَنَّ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ رَأَى فِي مَنَامِهِ أَنَّهُ يُقَبِّلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ فَنَاوَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَبَّلَ جَبْهَتَهُ
۔ سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے خواب میں دیکھا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بوسہ لے رہے ہیں، پس وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس چیز کی خبر دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو پکڑا اور انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی پر بوسہ دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 7838]
تخریج الحدیث: «ضعيف لاضطراب اسناده ومتنه، وانظر الحديث السابق، أخرجه عبد الرزاق: 2394، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21863 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22207»
الحكم على الحديث:
ضعيف لاضطراب اسناده ومتنه
حدیث نمبر: 7839
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تُعْجِبُهُ الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ فَرُبَّمَا قَالَ هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمْ رُؤْيَا فَإِذَا رَأَى الرَّجُلُ رُؤْيَا سَأَلَ عَنْهُ فَإِنْ كَانَ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ كَانَ أَعْجَبَ لِرُؤْيَاهُ إِلَيْهِ قَالَ فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُ كَأَنِّي دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ بِهَا وَجْبَةً ارْتَجَّتْ لَهَا الْجَنَّةُ فَنَظَرْتُ فَإِذَا قَدْ جِيءَ بِفُلَانِ بْنِ فُلَانٍ وَفُلَانِ بْنِ فُلَانٍ حَتَّى عَدَّتِ اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا وَقَدْ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً قَبْلَ ذَلِكَ قَالَتْ فَجِيءَ بِهِمْ عَلَيْهِمْ ثِيَابٌ طُلْسٌ تَشْخَبُ أَوْدَاجُهُمْ قَالَ فَقِيلَ اذْهَبُوا بِهِمْ إِلَى نَهْرِ الْبَيْدَخِ أَوْ قَالَ إِلَى نَهْرِ الْبَيْدَجِ قَالَ فَغُمِسُوا فِيهِ فَخَرَجُوا مِنْهُ وُجُوهُهُمْ كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ قَالَ ثُمَّ أَتَوْا بِكَرَاسِيَّ مِنْ ذَهَبٍ فَقَعَدُوا عَلَيْهَا وَأُتِيَ بِصَحْفَةٍ أَوْ كَلِمَةٍ نَحْوِهَا فِيهَا بُسْرَةٌ فَأَكَلُوا مِنْهَا فَمَا يُقَلِّبُونَهَا لِشِقٍّ إِلَّا أَكَلُوا مِنْ فَاكِهَةٍ مَا أَرَادُوا وَأَكَلْتُ مَعَهُمْ قَالَ فَجَاءَ الْبَشِيرُ مِنْ تِلْكَ السَّرِيَّةِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَ مِنْ أَمْرِنَا كَذَا وَكَذَا وَأُصِيبَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ حَتَّى عَدَّ الِاثْنَيْ عَشَرَ الَّذِينَ عَدَّتْهُمُ الْمَرْأَةُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ بِالْمَرْأَةِ فَجَاءَتْ قَالَ قُصِّي عَلَى هَذَا رُؤْيَاكِ فَقَصَّتْ قَالَ هُوَ كَمَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اچھے خواب بہت بھلے لگتے تھے، بعض اوقات آپ خود سوال کرتے تھے کہ تم میں سے کسی نے خواب دیکھا ہے؟ اور جب کسی آدمی نے دیکھا ہوتا وہ اس کے متعلق خود پوچھ لیتا تھا، اگر کوئی نقصان دہ نہ ہوتا تو وہ اس خواب کی وجہ سے آپ کی نظر میں زیادہ پسندیدہ ہو جاتا ایک عورت آئی اور کہا:اے اللہ کے رسول! گویا کہ میں جنت میں داخل ہوئی ہوں اور وہاں میں نے کسی چیز کے گرنے کی آواز سنی ہے، جس سے جنت لرز اٹھی ہے میں نے دیکھا تو اچانک فلاں کا بیٹا فلاں اور فلاں کا بیٹا فلاں، یہاں تک کہ اس نے بارہ آدمی شمار کئے، اس سے پہلے حقیقی طور پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دستہ بھیجا تھا، عورت خواب بتاتی ہے کہ انہیں لایا گیا ان پر میلے کچیلے کپڑے دئیے گئے تھے، ان کی رگوں سے خون بہہ رہا تھا، ان کے متعلق کہا گیا کہ انہیں نہر بیدخ یا نہر بیدج میں لے جاؤ، انہوں نے اس میں غوطہ لگایا وہ اس سے باہر آئے ان کے چہرے اس طرح چمک رہے ہیں، جیسا کہ چودہویں کا چاند ہے، پھر سونے کی کرسیاں لائی گئیں، وہ ان پر بیٹھ گئے اور ایک پیالہ لایا گیا، جس میں ڈوکا کھجوریں تھیں، انہوں نے اس میں سے کھایا، وہ کسی بھی پہلو میں اسے پلتے ہیں تو پھل ہی پھل کھاتے تھے، میں بھی ان کے ساتھ کھاتی ہوں، اتنی دیر میں حقیقی طور پر اس دستہ کے متعلق اطلاع دینے والا آیا اس نے ساری تفصیلات بیان کیں اور بتایا کہ فلاں، فلاں، فلاں حتیٰ کہ بارہ آدمی شمار کئے، وہ سب شہید ہو گئے ہیں، یہ اتنی ہی تعداد تھی جتنی اس عورت نے بیان کی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس عورت کو میرے پاس لے آؤ۔ آپ نے اس سے فرمایا: اسے اپنا خواب سناؤ۔ اس عورت نے اسی طرح بیان کیا جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے بیان کیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 7839]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابويعلي: 3289، وابن حبان: 6054، والنسائي في الكبري: 7622، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12385 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12412»
وضاحت: فوائد: … یہ خواب سچ تھا اور حقیقت کے عین مطابق تھا، اس خواب کی روشنی میں سابقہ ان احادیث کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے، جن میں نیک خواب کو نبوت کا جزو قرار دیا گیا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
6. باب لا يُخْبَرُ بِتَلَعَبِ الشَّيْطَانِ بِهِ فِي الْمَنَامِ
نیند میں شیطان کے کھیلنے کی اطلاع نہ دینے کا بیان
حدیث نمبر: 7840
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُ الْبَارِحَةَ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنَّ عُنُقِي ضُرِبَتْ فَسَقَطَ رَأْسِي فَاتَّبَعْتُهُ فَأَخَذْتُهُ فَأَعَدْتُهُ مَكَانَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَعِبَ الشَّيْطَانُ بِأَحَدِكُمْ فَلَا يُحَدِّثَنَّ بِهِ النَّاسَ
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میری گردن مار دی گئی ہے اور میرا سر گر پڑا، میں اس کے پیچھے جاتا ہوں، اسے پکڑ کر پھر اس کی جگہ پر لگادیتا ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی ایک کے ساتھ شیطان کھیل کرے تو ہر گز لوگوں کو نہ بتائے۔ [الفتح الربانی/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 7840]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2268، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14383 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14436»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2268
حدیث نمبر: 7841
۔عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّی رَأَیْتُ رَأْسِی ضُرِبَ فَرَأَیْتُہُ یَتَدَہْدَہُ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: ( (یَطْرُقُ أَحَدَکُمُ الشَّیْطَانُ فَیَتَہَوَّلُ لَہُ ثُمَّ یَغْدُو یُخْبِرُ النَّاسَ۔) )
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میرا سر مار دیا گیا ہے، پھر میں نے اس کو دیکھا کہ وہ لڑھکتا گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا پڑے اور پھر فرمایا: تم میں سے ایک کے پاس شیطان آتا ہے اور اسے ہولناکی میں مبتلا کر دیتا ہے اور پھر وہ صبح کو لوگوں کو بتا رہا ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 7841]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابن ماجه: 3911، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8763 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ آدمی جن خوابوں کو برا اور شیطانی سمجھتا ہے، ان کو لوگوں کے سامنے بیان نہ کرے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے خیال کو دفع کرنے کا جو طریقہ بتلایا، اس پر عمل کرے اور ان کے شرّ سے اللہ تعالی کی پناہ طلب کرے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
حدیث نمبر: 7842
۔حَدَّثَنَا أَبُو إِسْرَائِیلَ الْجُشَمِیُّ عَنْ شَیْخٍ لَہُمْ یُقَالُ لَہُ جَعْدَۃُ أَنَّ النَّبِیَّ صلى الله عليه وآله وسلم رَأٰی لِرَجُلٍ رُؤْیَا قَالَ فَبَعَثَ إِلَیْہِ فَجَائَ فَجَعَلَ یَقُصُّہَا عَلَیْہِ وَکَانَ الرَّجُلُ عَظِیمَ الْبَطْنِ قَالَ فَجَعَلَ یَقُولُ بِأُصْبُعِہِ فِی بَطْنِہِ ( (لَوْ کَانَ ہَذَا فِی غَیْرِ ہَذَا لَکَانَ خَیْرًا لَکَ۔) )
۔ ابو اسرائیل جشمی اپنے قبیلے کے جعدہ نامی بزرگ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو خواب میں دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف پیغام بھیجا، جب وہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ خواب اس کے سامنے بیان کیا، وہ آدمی بڑے پیٹ والا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی انگلی اس کے پیٹ میں لگا کر فرمانے لگے: اگر یہ اس پیٹ کی جگہ کے علاوہ دوسری چیزوں میں بڑا ہوتا تو اس کے لئے بہتر تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 7842]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو اسرائيل الجشمي في عداد المجھولين، أخرجه القصة الاولي الطبراني في الكبير: 2185، والحاكم: 4/ 121، والقصة الثانية النسائي في الكبري: 10903، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18984 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کے آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ اگر پیٹ کے بجائے دوسرے اعضا میں یہ بڑا پن ہوتا، جیسے بازو یا سر وغیرہ، پیٹ بڑا ہونے کی بجائے اس کی ذہانت اور عقل زیادہ ہوتی تو یہ بہتر ہوتا، پیٹ کے بڑا ہونے میں تو کوئی خوبی نہیں ہے، بلکہ یہ تو قابل مذمت چیز ہے، کئی بیماریوں کا سبب بنتا ہے، طبیعت میں کاہلی اور سستی آ جاتی ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 7843
۔عَنْ جَعْدَۃَ مَوْلٰی اَبِیْ اِسْرَائِیْلَ قَالَ: رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَرَجُلٌ یَقُصُّ عَلَیْہِ رُؤْیَا، وَذَکَرَ سِمَنَہُ وَعِظَمَہُ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ( (لَوْ کَانَ ہٰذَا فِی غَیْرِ ہٰذَا کَانَ خَیْرًا لَکَ۔) )
۔ مولائے ابو اسرائیل سیدنا جعدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا، جبکہ ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر خواب بیان کررہا تھا، اس نے اپنے موٹاپے اور بڑے پیٹ کا ذکر کیا،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: اگر تیرا یہ بڑا ہونا دوسرے اعضاء (یا صلاحیت) میں ہوتا تو بہتر تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 7843]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق (7844) انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق (7844) انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية:0
حدیث نمبر: 7844
۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ صلى الله عليه وآله وسلم وَرَاٰی رَجُلًا سَمِیْنًا فَجَعَلَ النَّبِیُّ صلى الله عليه وآله وسلم یُوْمِی اِلٰی بَطْنِہٖ بِیَدِہٖ وَیَقُوْلُ: ( (لَوْ کَانَ ھٰذَا فِیْ غَیْرِ ھٰذَا الَمْکَانِ لَکَانَ خَیْرًا لَکَ۔) )
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک موٹے آدمی کو دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے پیٹ کی جانب اشارہ کیا اورفرمایا: اگر یہ بڑا پن کسی دوسرے (عضو یا عقلی صلاحیت وغیرہ) میں ہوتا تو بہتر تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 7844]
وضاحت: فوائد: … یہ روایات ضعیف ہے، بہرحال بسیار خوری کی وجہ سے پیٹ کا بڑا ہونا قابل مذمت ہے۔
7. بَابُ رُؤْيَا النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خوابوں کا بیان
حدیث نمبر: 7845
۔قَالَ عُبَیْدُ اللّٰہِ سَأَلْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَبَّاسٍ عَنْ رُؤْیَا رَسُولِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم الَّتِی ذَکَرَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ذَکَرَ لِی رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: ( (بَیْنَمَا أَنَا نَائِمٌ رَأَیْتُ أَنَّہُ وُضِعَ فِی یَدَیَّ سِوَارَانِ مِنْ ذَہَبٍ فَفَظِعْتُہُمَا فَکَرِہْتُہُمَا وَأُذِنَ لِی فَنَفَخْتُہُمَا فَطَارَا فَأَوَّلْتُہُ کَذَّابَیْنِ یَخْرُجَانِ۔) ) قَالَ عُبَیْدُ اللّٰہِ أَحَدُہُمَا الْعَنْسِیُّ الَّذِی قَتَلَہُ فَیْرُوزُ بِالْیَمَنِ وَالْآخَرُ مُسَیْلِمَۃُ۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خواب بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا کہ میں نے ایک خواب دیکھا کہ میرے ہاتھوں میں دو کنگن سونے کے رکھ دئیے گئے ہیں، میں ان کی وجہ سے گھبرا گیا اور میں نے انہیں ناپسند کیا، مجھے اجازت ملی کہ میں ان پر پھونک ماروں، پس جب میں نے ان پر پھونک ماری تو وہ اڑ گئے، میں نے اس کی یہ تعبیر کی ہے کہ یہ نمودار ہونے والے دو جھوٹے نبی ہوں گے۔ عبیداللہ کہتے ہیں: ایک ان میں سے اسود عنسی ہے، جسے فیروز نے یمن میں قتل کیا اور دوسرا مسیلمہ کذاب ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 7845]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4379، 7033، وأما قول ابن عباس فيه: ذُكر لي فقد جاء من غير ھذا الطريق ان الذي حدثه بذالك وھو ابو ھريرة فقد أخرجه البخاري: 3621، 4374، ومسلم: 2274، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2373 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
وضاحت: فوائد: … پھونک مارنے سے مراد ان جھوٹے مدعیان نبوت کی ہلاکت تھی۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4379
حدیث نمبر: 7846
۔عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ( (بَیْنَمَا أَنَا نَائِمٌ أُوتِیتُ بِخَزَائِنِ الْأَرْضِ فَوُضِعَ فِی یَدَیَّ سِوَارَانِ مِنْ ذَہَبٍ فَکَبُرَا عَلَیَّ وَأَہَمَّانِی فَأُوحِیَ إِلَیَّ أَنْ انْفُخْہُمَا فَنَفَخْتُہُمَا فَذَہَبَا فَأَوَّلْتُہُمَا الْکَذَّابَیْنِ اللَّذَیْنِ أَنَا بَیْنَہُمَا صَاحِبُ صَنْعَائَ وَصَاحِبُ الْیَمَامَۃِ۔) )
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک دفعہ میں سویا ہوا تھا کہ مجھے زمین کے خزانے دئیے گئے ہیں اور میرے ہاتھوں میں سونے کے دو کنگن رکھ دئیے گئے، جو مجھ پہ بڑے گراں گزرے اور انہوں نے مجھے بہت غمگین کیا، میری طرف وحی کی گئی کہ آپ ان پر پھونک مار دیں، پس جب میں نے ان پر پھونک ماری تو وہ اڑ گئے، میں نے اس کی تاویل یہ کی کہ اس سے مراد وہ دو کذاب ہیں کہ میں جن کے درمیان ہوں، ایک صنعاء والا یعنی اسود عنسی ہے اور دوسرا صاحب ِ یمامہ یعنی مسیلمہ کذاب۔ [الفتح الربانی/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 7846]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4375، 7037، ومسلم: 2274، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8249 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
وضاحت: فوائد: … زمین کے خزانوں سے مراد قیصر و کسری کی سلطنتیں اور مال و دولت کے خزانے ہیں، یہ خزانے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کو مل گئے تھے اور صنعاء اور یمامہ میں دو جھوٹوں نے نبوت کا دعوی بھی کیا تھا، لیکن ہلاکت ان کا مقدر بنی۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4375
حدیث نمبر: 7847
۔عَنْ أَبِيْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ
۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی طرح بیان کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 7847]