🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. بَابُ رُؤْيَا النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خوابوں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7858
۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ( (اُرَانِی فِی الْمَنَامِ عِنْدَ الْکَعْبَۃِ، فَرَأَیْتُ رَجُلًا آدَمَ کَأَحْسَنِ مَا تَرٰی مِنَ الرِّجَالِ، لَہُ لِمَّۃٌ قَدْ رُجِّلَتْ وَلِمَّتُہُ تَقْطُرُ مَائً، وَاضِعًا یَدَہُ عَلٰی عَوَاتِقِ رَجُلَیْنِ یَطُوفُ بِالْبَیْتِ رَجِلَ الشَّعْرِ، فَقُلْتُ: مَنْ ہٰذَا؟ فَقَالُوْا: الْمَسِیحُ ابْنُ مَرْیَمَ، ثُمَّ رَأَیْتُ رَجُلًا جَعْدًا قَطَطًا أَعْوَرَ عَیْنِ الْیُمْنٰی، کَأَنَّ عَیْنَہُ عِنَبَۃٌ طَافِیَۃٌ کَأَشْبَہِ مَنْ رَأَیْتُ مِنِ النَّاسِ بِابْنِ قَطَنٍ، وَاضِعًا یَدَیْہِ عَلٰی عَوَاتِقِ رَجُلَیْنِ یَطُوفُ بِالْبَیْتِ، فَقُلْتُ: مَنْ ہٰذَا؟ فَقَالُوْا: ہٰذَا الْمَسِیحُ الدَّجَّالُ۔) )
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں کعبہ کے پاس ہوں، میں نے ایک گندمی رنگ کا بہت زیادہ حسین، جو ایک آدمی ہوسکتا ہے، دیکھا، اس کے بال کانوں تک تھے، کنگھی کی ہوئی تھی اور اس کے بالوں سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، دو آدمیوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے وہ بیت اللہ کا طواف کررہا تھا اور اس کے بال لہردار تھے، میں نے کہا: یہ آدمی کون ہے؟ انہوں نے کہا: یہ مسیح ابن مریم علیہ السلام ہیں، پھر میں نے ایک اور آدمی دیکھا، اس کے بال سخت گھنگھریالے تھے، دائیں آنکھ سے کانا تھا، اس کی آنکھ ابھرے ہوئے انگور کی مانند تھی، یوں سمجھیں کہ لوگوں میں اس کی مشابہت ابن قطن سے پڑتی تھی، یہ بھی دو آدمیوں کے کندھے پر ہاتھ رکھے ہوئے تھا اور بیت اللہ کا طواف کررہا تھا، میں نے کہا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: یہ مسیح دجال ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 7858]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5902، 6999، ومسلم: 169، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6099 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
وضاحت: فوائد: … یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مختلف خواب تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی تعبیر بھی بیان کر دی ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5902
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. باب رُؤْيَتِهِ لَهُ لِرَبِّهِ عَزَّوَجَلَّ فِي الرُّؤْيَا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خواب میں اللہ تعالی کو دیکھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7859
۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ النَّبِیَّ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: ( (اَتَانِیْ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ اللَّیْلَۃَ فِیْ اَحْسَنِ صُوْرَۃٍ اَحْسِبُہُ یَعْنِیْ فِی النَّوْمِ فَقَال: یَا مُحَمَّدُ! ھَلْ تَدْرِیْ فِیمَ یَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلٰی؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: فَوَضَعَ یَدَہُ بَیْنَ کَتِفَیَّ حَتّٰی وَجَدْتُ بَرْدَہَا بَیْنَ ثَدْیَیَّ أَوْ قَالَ نَحْرِی فَعَلِمْتُ مَا فِی السَّمٰوَاتِ وَمَا فِی الْأَرْضِ ثُمَّ قَالَ یَا مُحَمَّدُ ہَلْ تَدْرِی فِیمَ یَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلٰی قَالَ قُلْتُ نَعَمْ یَخْتَصِمُونَ فِی الْکَفَّارَاتِ وَالدَّرَجَاتِ قَالَ وَمَا الْکَفَّارَاتُ وَالدَّرَجَاتُ قَالَ الْمَکْثُ فِی الْمَسَاجِدِ وَالْمَشْیُ عَلَی الْأَقْدَامِ إِلَی الْجَمَاعَاتِ وَإِبْلَاغُ الْوُضُوء ِ فِی الْمَکَارِہِ وَمَنْ فَعَلَ ذٰلِکَ عَاشَ بِخَیْرٍ وَمَاتَ بِخَیْرٍ وَکَانَ مِنْ خَطِیئَتِہِ کَیَوْمِ وَلَدَتْہُ أُمُّہُ وَقُلْ یَا مُحَمَّدُ إِذَا صَلَّیْتَ اللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ الْخَیْرَاتِ وَتَرْکَ الْمُنْکَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاکِینِ وَإِذَا أَرَدْتَ بِعِبَادِکَ فِتْنَۃً أَنْ تَقْبِضَنِی إِلَیْکَ غَیْرَ مَفْتُونٍ قَالَ وَالدَّرَجَاتُ بَذْلُ الطَّعَامِ وَإِفْشَائُ السَّلَامِ وَالصَّلَاۃُ بِاللَّیْلِ وَالنَّاسُ نِیَامٌ۔) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرا پروردگار انتہائی خوبصورت شکل میں میرے خواب میں میرے پاس آیا، میرا خیال ہے کہ یہ نیند کا واقعہ ہے، اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے محمد! آپ جانتے ہیں یہ مقرب فرشتے کس چیز میں بحث کرتے ہیں؟ میں نے کہا: جی نہیں، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے کندھوں کے درمیان میری کمر پر رکھایہاں تک کہ میں نے اپنی چھاتی میں اس کی ٹھنڈک محسوس کی، مجھے زمین اور آسمانوں کی ہر چیز کا علم ہو گیا، پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے محمد! کیا آپ جانتے ہیں مقرب فرشتے کس چیز میں بحث کرتے ہیں؟ میں نے کہا: جی وہ کفاروں اور درجات میں کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کفارے اور درجات کیا کیا ہیں؟ میں نے کہا: کفارات یہ ہیں: مساجد میں ٹھہرنا، جماعتوں کے لیے قدموں پر چل کر جانا، تنگی کے باوجود وضو پورا کرنا، جس نے یہ اعمال کیے، وہ زندہ بھی خیر سے رہا اور اس کی موت بھی خیر پر آئی اور وہ اپنی خطاؤں سے اس طرح پاک ہو جاتا ہے، جیسے اس کی ماں نے اسے آج جنم دیا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور اے محمد! جب آپ نماز ادا کرلیں تو یہ دعا پڑھا کرو: اللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ الْخَیْرَاتِ وَتَرْکَ الْمُنْکَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاکِینِ وَإِذَا أَرَدْتَ بِعِبَادِکَ فِتْنَۃً أَنْ تَقْبِضَنِی إِلَیْکَ غَیْرَ مَفْتُونٍ (اے اللہ! میں تجھ سے نیکیوں کو کرنے، برائیوں کو چھوڑنے اور مسکینوں کی محبت کا سوال کرتا ہوں، اور جب تو اپنے بندوں سے فتنہ کا ارادہ کرے تو مجھے فتنے میں مبتلا کیے بغیر فوت کر دینا۔) اوردرجات یہ ہیں: کھانا کھلانا، سلام کہنا اور رات جب لوگ سوئے ہوئے ہوں تو نماز پڑھنا۔ [الفتح الربانی/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 7859]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه الترمذي: 3233، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3484 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے ربّ کو دیکھنے کا یہ واقعہ خواب میں پیش آیا، جیسا کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((… فَنَعِسْتُ فِی صَلَاتِیْ حَتَّی اسْتَثْقَلْتُ، فَإِذَا اَنَا بِرَبِّیْ فِیْ اَحْسَنِ صُوْرَۃٍ۔)) … پس میں نماز میں اونگھنے لگ گیا، یہاں تک کہ میں بوجھل ہو گیا، پس اچانک میں اپنے رب کے ساتھ تھا اور اللہ تعالی انتہائی خوبصورت شکل میں تھے۔ (ترمذی) اور اس حدیث کے شروع میں بھی نیند کا ذکر ہے۔

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ مَنْ رَآنِي فِي النَّوْمِ فَقَدْ رَآنِي
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کا بیان کہ جس نے مجھے نیند میں دیکھا، اس نے مجھے ہی دیکھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7860
۔حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَوْفُ بْنُ أَبِی جَمِیلَۃَ عَنْ یَزِیدَ الْفَارِسِیِّ قَالَ رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی النَّوْمِ زَمَنَ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ وَکَانَ یَزِیدُ یَکْتُبُ الْمَصَاحِفَ قَالَ فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنِّی رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی النَّوْمِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَإِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ کَانَ یَقُولُ: ( (إِنَّ الشَّیْطَانَ لَا یَسْتَطِیعُ أَنْ یَتَشَبَّہَ بِی فَمَنْ رَآنِی فِی النَّوْمِ فَقَدْ رَآنِی۔) ) فَہَلْ تَسْتَطِیعُ أَنْ تَنْعَتَ لَنَا ہٰذَا الرَّجُلَ الَّذِی رَأَیْتَ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ رَأَیْتُ رَجُلًا بَیْنَ الرَّجُلَیْنِ جِسْمُہُ وَلَحْمُہُ أَسْمَرُ إِلَی الْبَیَاضِ حَسَنُ الْمَضْحَکِ أَکْحَلُ الْعَیْنَیْنِ جَمِیلُ دَوَائِرِ الْوَجْہِ قَدْ مَلَأَتْ لِحْیَتُہُ مِنْ ہٰذِہِ إِلٰی ہٰذِہِ حَتّٰی کَادَتْ تَمْلَأُ نَحْرَہُ قَالَ عَوْفٌ لَا أَدْرِی مَا کَانَ مَعَ ہٰذَا مِنَ النَّعْتِ قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَوْ رَأَیْتَہُ فِی الْیَقَظَۃِ مَا اسْتَطَعْتَ أَنْ تَنْعَتَہُ فَوْقَ ہٰذَا۔
۔ یزید فارسی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں دیکھا، یہ اس وقت کی بات ہے، جب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہماابھی تک زندہ تھے اور یزید مصحف لکھا کرتے تھے، میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہماسے کہا کہ میں نے خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے، انھوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شیطان میں یہ طاقت نہیں کہ وہ میری صورت اختیار کرسکے، جس نے مجھے خواب میں دیکھا، اس نے مجھے ہی دیکھا۔ پھر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا ایسا ممکن ہے کہ تم اس آدمی کا حلیہ بیان کرسکو جو تم نے دیکھا ہے؟ یزید کہتے ہیں: میں نے کہا: جی ہاں، میں نے درمیانے قد کا آدمی دیکھا ہے، اس کا گوشت اور چمڑا سفیدی مائل گندمی رنگ ہے، حسین انداز میں مسکراتے ہیں، آنکھیں سرمگین ہیں، آپ کا چہرہ اور دھاریاں نہایت حسین و جمیل گولائی والا ہے اور داڑھی سینے کو بھرے ہوئے ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمانے کہا: اگر تم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حالت بیداری میں دیکھ لیتے تو اس سے بہتر بیان نہ کرسکتے،(یعنی بالکل حلیہ ٹھیک بتایا ہے)۔ [الفتح الربانی/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 7860]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، يزيد الفارسي في عداد المجھولين، أخرجه الترمذي في الشمائل: 392، وابن ابي شيبة: 11/ 56، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3410 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7861
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي وَفِي لَفْظٍ فَقَدْ رَأَى الْحَقَّ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَمَثَّلُ بِي وَفِي رِوَايَةٍ لَا يَتَشَبَّهُ بِي وَفِي رِوَايَةٍ لَا يَتَخَيَّلُ بِي فَإِنَّ رُؤْيَا الْعَبْدِ الْمُؤْمِنِ الصَّادِقَةَ الصَّالِحَةَ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مجھے خواب میں دیکھا، تحقیق اس نے حق دیکھا، کیونکہ شیطان میری تمثیل اختیار نہیں کر سکتا، ایک روایت میں ہے: وہ میری مشابہت اختیار نہیں کرسکتا، ایک روایت میں ہے: وہ میری یکسانیت اختیار کر کے میری صورت ذہن میں نہیں ڈال سکتا، پس بیشک مؤمن بندے کا نیک اور سچا خواب نبوت کا سترھواں حصہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 7861]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه ابن ماجه: 3901، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7168 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7168»

الحكم على الحديث:
اسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7862
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَمَثَّلُ بِي قَالَ عَاصِمٌ قَالَ أَبِي فَحَدَّثَنِيهِ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَأَخْبَرْتُهُ أَنِّي قَدْ رَأَيْتُهُ قَالَ رَأَيْتَهُ قُلْتُ إِي وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُهُ قَالَ فَذَكَرْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنِّي وَاللَّهِ قَدْ ذَكَرْتُهُ وَنَعَتُّهُ فِي مِشْيَتِهِ قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّهُ كَانَ يُشْبِهُهُ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مجھے خواب میں دیکھا، اس نے مجھے ہی دیکھا، شیطان میری صورت اختیار نہیں کر سکتا۔ عاصم کہتے ہیں: میرے باپ نے مجھے بیان کیا کہ انھوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہماکو بتایا کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں دیکھا ہے، انہوں نے کہا: پھر تم نے واقعی آپ کو ہی دیکھا ہے، میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے، پھر میں نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی شکل کا ذکر کیا کہ (وہ ہستی سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی شکل کی لگ رہی تھی)، اللہ کی قسم! میں نے ان کا ذکر کیا اور ان کے چلنے کا انداز بیان کیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمانے کہا:یہ صورت تو واقعی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشابہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 7862]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه الترمذي في الشمائل: 391، والحاكم: 4/ 393، واسحاق بن راھويه: 261، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8508 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8489»

الحكم على الحديث:
اسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7863
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِثْلُ الْمَرْفُوعِ مِنْهُ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اس قسم کی مرفوع حدیث مروی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 7863]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6994، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13849 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13885»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6994
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7864
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَسَيَرَانِي فِي الْيَقَظَةِ أَوْ فَكَأَنَّمَا رَآنِي فِي الْيَقَظَةِ لَا يَتَمَثَّلُ الشَّيْطَانُ بِي فَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ قَالَ أَبُو قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ رَآنِي فَقَدْ رَأَى الْحَقَّ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مجھے خواب میں دیکھا، وہ عنقریب مجھے بیداری میں بھی دیکھے گا، یا فرمایا:گویا کہ اس نے مجھے بیداری میں دیکھا ہے، شیطان میری صورت اختیار نہیں کرسکتا۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مجھے دیکھا اس نے حقیقت میں مجھے ہی دیکھا۔ [الفتح الربانی/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 7864]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6993، ومسلم: 2266، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22606 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22978»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6993
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7865
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَتَمَثَّلَ بِمِثْلِي
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے خواب میں مجھے دیکھا، اس نے مجھے ہی دیکھا، شیطان کے لائق نہیں کہ وہ میری صورت اختیار کرسکے۔ [الفتح الربانی/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 7865]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه الدارمي: 2/ 123، والطبراني في الكبير: 10510، وفي الاوسط: 1256، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3559 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3559»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7866
عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي
۔ ابومالک اشجعی اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے خواب میں مجھے دیکھا اس نے مجھے ہی دیکھا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 7866]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الترمذي: في الشمائل: 389، وابن ابي شيبة: 11/ 55، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27208 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27750»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7867
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي فِي الْيَقَظَةِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَمَثَّلُ عَلَى صُورَتِي
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مجھے خواب میں دیکھا گویا کہ اس نے مجھے بیداری میں دیکھا ہے، پس بیشک شیطان میری صورت اختیار نہیں کرسکتا۔ [الفتح الربانی/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 7867]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 110، 6197، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3798 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3798»
وضاحت: فوائد: … بیداری میں دیکھنے سے مراد صحت ِ رؤیت ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 110
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں