الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ أَحْسَنِ أَوْقَاتِ الرُّؤْيَا وَوَعِيدِ مَنْ كَذَبَ فِي الرُّؤْيَا مُتَعَمْدَا
خواب دیکھنے کے بہترین اوقات اور خواب کے بارے میں جان بوجھ کر¤جھوٹ بولنے والے کی وعید کا بیان
حدیث نمبر: 7828M
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي أُخْرَى يَرْفَعُهَا قَالَ مَنْ كَذَبَ فِي حُلْمِهِ كُلِّفَ عَقْدَ شَعِيرَةٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک دوسری روایت میں مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے جھوٹا خواب بتایا، اسے روز قیامت یہ تکلیف دی جائے گی کہ وہ جو کے دانے میں گرہ لگائے۔ [الفتح الربانی/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 7828M]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 568»
وضاحت: فوائد: … یعنی ایسا آدمی اس وقت تک مبتلائے عذاب رہے گا، جب تک جو کے دانے میں گرہ نہ لگا لے اور گرہ لگا نہیں سکے گا، اللہ تعالی کی پناہ۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 568
حدیث نمبر: 7829
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَذَبَ فِي الرُّؤْيَا مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو خواب میں جان بوجھ کر جھوٹ بولتا ہے، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم سے تیار کر لے۔ [الفتح الربانی/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 7829]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1089 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1089»
وضاحت: فوائد: … لوگ اپنی شہرت، ناموری اور نیک نامی کے لیے جھوٹے خوابوں کا سہارا لیتے ہیں، ان احادیث میں خلافِ حقیقت خواب بیان کرنے کو سب سے بڑا جھوٹ کہا گیا ہے اور اس کو عذاب کی وعیدبھی سنائی گئی ہے۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
5. بَابُ مَا جَاءَ فِي تَأْوِيلِ الرُّؤْيَا
خوابوں کی تعبیر کا بیان
حدیث نمبر: 7830
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ فِي الْمَنَامِ ظُلَّةً تَنْطِفُ بِالسَّمْنِ وَالْعَسَلِ فَأَرَى النَّاسَ يَتَكَفَّفُونَ مِنْهَا فَالْمُسْتَكْثِرُ وَالْمُسْتَقِلُّ وَإِذَا سَبَبٌ وَاصِلٌ مِنَ الْأَرْضِ إِلَى السَّمَاءِ فَأَرَاكَ أَخَذْتَ بِهِ فَعَلَوْتَ ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَعَلَا بِهِ ثُمَّ أَخَذَهُ رَجُلٌ آخَرُ فَعَلَا بِهِ ثُمَّ أَخَذَهُ رَجُلٌ فَانْقَطَعَ ثُمَّ وُصِلَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَاللَّهِ لَتَدَعُنِّي فَأَعْبُرَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اعْبُرْهَا قَالَ أَمَّا الظُّلَّةُ فَالْإِسْلَامُ وَأَمَّا الَّذِي يَنْطِفُ مِنَ الْعَسَلِ وَالسَّمْنِ فَالْقُرْآنُ حَلَاوَتُهُ تَنْطِفُ فَالْمُسْتَكْثِرُ مِنَ الْقُرْآنِ وَالْمُسْتَقِلُّ وَأَمَّا السَّبَبُ الْوَاصِلُ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ فَالْحَقُّ الَّذِي أَنْتَ عَلَيْهِ تَأْخُذُ بِهِ فَيُعْلِيكَ اللَّهُ ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ فَيَعْلُو بِهِ ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَيَعْلُو بِهِ ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ فَيَنْقَطِعُ بِهِ ثُمَّ يُوْصَلُ لَهُ فَيَعْلُو بِهِ فَأَخْبِرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ أَصَبْتُ أَمْ أَخْطَأْتُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَصَبْتَ بَعْضًا وَأَخْطَأْتَ بَعْضًا قَالَ فَوَاللَّهِ لَتُحَدِّثَنِّي بِالَّذِي أَخْطَأْتُ قَالَ لَا تُقْسِمْ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میں نے رات کو ایک خواب دیکھا، کیا دیکھتا ہوں کہ ایک سائباں ہے،اس سے گھی اور شہد ٹپک رہا تھا، میں نے دیکھا کہ لوگ اُس سے چُلو بھر رہے ہیں، کوئی زیادہ لے رہا ہے اور کوئی کم۔ادھر ایک رسی ہے، جو زمین سے آسمان تک پہنچ رہی ہے۔ میں نے آپ کودیکھا کہ آپ نے اس کو پکڑا اور اوپر چڑھ گئے، پھر ایک دوسرے آدمی نے اس کو پکڑا اور وہ بھی چڑھ گیا، پھرایک تیسرے آدمی نے پکڑا، اور وہ بھی اوپر چڑھ گیا، پھر ایک آدمی نے اس کو پکڑا لیکن وہ رسی ٹوٹ گئی،پھر اسے جوڑاگیا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ مجھے اجازت دیں میں اس کی تعبیر بیان کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (ٹھیک ہے) تم اس کی تعبیر بیان کرو۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: سائبان اسلام ہے اور اس سے ٹپکنے والے شہد اور گھی سے مراد قرآن کی مٹھاس ہے۔ پس کوئی قرآن کا زیادہ حصہ سیکھنے والا ہے اور کوئی کم اور جو آسمان سے زمین تک پہنچنے والی رسی ہے، وہ حق ہے، جس پر آپ قائم ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس کے ذریعے سربلند فرمائے گا۔ پھر اس کو ایک آدمی پکڑے گا، وہ بھی اس کے ساتھ بلندی پر فائزہوگا، پھر اس کو ایک دوسرا آدمی پکڑے گا وہ اس کے ساتھ بلند ہوگا،پھر اس کو تیسرا آدمی پکڑے گا، پس وہ ٹوٹ جائے گی۔ پھر اس کو جوڑا جائے گا، پھر وہ اس کے ساتھ بلند ہوگا۔ اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پرقربان ہوں، مجھے بتلائیے میری یہ بیان کردہ تعبیر صحیح ہے یا غلط؟نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بعض حصہ درست بیان کیا اور بعض میں غلطی کی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! آپ ضرور میری غلطی کو بیان کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر! قسم نہ اٹھاؤ۔ [الفتح الربانی/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 7830]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2113»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں دو امور قابل وضاحت ہیں:
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري
حدیث نمبر: 7831
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ بِيَدَيَّ قِطْعَةَ اسْتَبْرَقٍ وَلَا أُشِيرُ بِهَا إِلَى مَكَانٍ مِنَ الْجَنَّةِ إِلَّا طَارَتْ بِي إِلَيْهِ فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أَخَاكَ رَجُلٌ صَالِحٌ أَوْ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَجُلٌ صَالِحٌ
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے ہاتھ میں ریشم کا ٹکڑا ہے، جنت میں جس جگہ کی طرف اشارہ کرتا ہوں، وہ مجھے اڑا کر لے جاتا ہے، جب سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے یہ خواب بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (اس خواب کی تعبیر یہ ہوئی کہ) تمہارا بھائی عبداللہ نیک آدمی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 7831]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1156، 7015، ومسلم: 2478، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4494 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4494»
وضاحت: فوائد: … ۱۵ فروری ۲۰۱۴ ء کو میری اہلیہ محترمہ ام میمون وفات پا گئی تھیں، ان کی سہیلیوں نے ان کے بارے میں بڑے اچھے اچھے خواب دیکھے، میرے محترم والد نے رات ایک بجے ان کے بارے میں یہ خواب دیکھا کہ وہ ایسی گھوڑی پر سوار ہو کر گھر آئی ہیں، جو اڑ کر ہمارے گھر آئی ہے اورانھوں نے بہت اچھا اور خوبصورت لباس زیب ِ تن کیا ہوا تھا، آتے ہی والدہ محترمہ سے محو کلام ہو گئیں، ابو جی ملاقات کرنے کے لیے اٹھے، اتنے میں آنکھ کھل گئی، ابو جی نے اسی وقت ہماری والدہ کو بیدار کر کے یہ خواب سنا کر خوش کیا اور نماز فجر ادا کرنے کے بعد فوراً میرے سسر کے گھر گئے اور ان کو یہ خواب سنایا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1156
حدیث نمبر: 7832
عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ الرَّجُلُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى رُؤْيَا قَصَّهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَتَمَنَّيْتُ أَنْ أَرَى رُؤْيَا فَأَقُصَّهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَكُنْتُ غُلَامًا شَابًّا عَزَبًا فَكُنْتُ أَنَامُ فِي الْمَسْجِدِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَرَأَيْتُ فِي النَّوْمِ كَأَنَّ مَلَكَيْنِ أَخَذَانِي فَذَهَبَا بِي إِلَى النَّارِ فَإِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ كَطَيِّ الْبِئْرِ وَإِذَا لَهَا قَرْنَانِ وَإِذَا فِيهَا نَاسٌ قَدْ عَرَفْتُهُمْ فَجَعَلْتُ أَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ فَلَقِيَهُمَا مَلَكٌ آخَرُ فَقَالَ لِي لَنْ تُرَاعَ فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللَّهِ لَوْ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ قَالَ سَالِمٌ فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ لَا يَنَامُ مِنَ اللَّيْلِ إِلَّا قَلِيلًا
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات مبارکہ میں جب کوئی آدمی خواب دیکھتا تو وہ آتا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آکر وہ خواب بیان کرتا، میری بھی آرزو تھی کہ میں بھی کوئی خواب دیکھوں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بیان کروں، میں غیر شادی شدہ نوجوان تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں مسجد میں سویا کرتا تھا، میں نے خواب میں دیکھا کہ دو فرشتوں نے مجھے پکڑا ہے اور مجھے آگ کی جانب لے جارہے ہیں، وہاں ایک منڈیر تھی، جس طرح کنوئیں کی منڈیر ہوتی ہے اور اس کے دو ستون تھے، اس میں کچھ لوگ تھے، جنہیں میں پہچانتا تھا میں نے یہ دیکھ کر کہنا شروع کردیا: میں آگ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں، میں آگ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں، ان دو فرشتوں کو ایک اور فرشتہ ملا، اس نے مجھ سے کہا: عبداللہ آپ ہر گز نہ ڈریں، میں نے یہ خواب اپنی بہن سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو بیان کیا، انہوں نے اس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عبداللہ اچھا آدمی ہے، بس ایک بات ہے کہ اگر وہ رات کو قیام کرنا شروع کر دے (تو بہت اچھا ہو گا)۔ سالم کہتے ہیں: (یہ تعبیر سننے کے بعد) سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ رات کو کم ہی سویا کرتے تھے (یعنی رات کا زیادہ حصہ عبادت میں مصروف رہتے تھے)۔ [الفتح الربانی/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 7832]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1121، 1122، 3738، ومسلم: 2479، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6330 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6330»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1121
حدیث نمبر: 7833
عَنْ وَاهِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ لَكَأَنَّ فِي إِحْدَى إِصْبَعَيَّ سَمْنًا وَفِي الْأُخْرَى عَسَلًا فَأَنَا أَلْعَقُهُمَا فَلَمَّا أَصْبَحْتُ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ تَقْرَأُ الْكِتَابَيْنِ التَّوْرَاةَ وَالْفُرْقَانَ فَكَانَ يَقْرَؤُهُمَا
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا، جیسے سونے والا دیکھتا ہے گویا کہ میری دو انگلیوں میں سے ایک پر گھی لگا ہے اور دوسری پر شہد اور میں دونوں انگلیوں کو چاٹ رہا ہوں، جب صبح ہوئی تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس خواب کا ذکر کیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تعبیر بتائی کہ تم دو کتابیں تو رات اور قرآن مجید پڑھو گے۔ پس وہ یہ دونوں کتابیں پڑھتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 7833]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الطحاوي في شرح مشكل الآثار: 672، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7067 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7067»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 7834
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَأَيْتُ رُؤْيَا وَأَنَا أَكْتُبُ سُورَةَ ص قَالَ فَلَمَّا بَلَغْتُ السَّجْدَةَ رَأَيْتُ الدَّوَاةَ وَالْقَلَمَ وَكُلَّ شَيْءٍ بِحَضْرَتِي انْقَلَبَ سَاجِدًا قَالَ فَقَصَصْتُهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَزَلْ يَسْجُدُ بِهَا
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے خواب دیکھا کہ میں سورۂ ص لکھ رہا ہوں، جب میں سجدہ والی آیت پر پہنچا ہوں تو میں نے دیکھا کہ دوات، قلم اور میرے ارد گرد موجود ہر چیز نے سجدہ کیا، جب میں نے یہ خواب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کیا تو اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ اس سورت میں سجدۂ تلاوت کا اہتمام کیا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 7834]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، بكر بن عبد الله المزني لم يسمع من ابي سعيد الخدري، أخرجه الحاكم: 2/ 432، والبيھقي: 2/ 320، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11741 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11763»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
حدیث نمبر: 7835
عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَخُزَيْمَةُ الَّذِي جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَهَادَتَهُ شَهَادَةَ رَجُلَيْنِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي عُمَارَةُ بْنُ خُزَيْمَةَ عَنْ عَمِّهِ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ خُزَيْمَةَ بْنَ ثَابِتٍ رَأَى فِي النَّوْمِ أَنَّهُ يَسْجُدُ عَلَى جَبْهَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ فَاضْطَجَعَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَجَدَ عَلَى جَبْهَتِهِ
۔ عمارہ بن خزیمہ، یہ سیدنا خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ وہ تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جن کی شہادت کو دو افراد کی شہادت کے برابر قرار دیا تھا، تو عمارہ بن خزیمہ اپنے چچا، جو صحابی تھے، سے بیان کرتے ہیں کہ سیدنا خزیمہ بن ثائب انصاری رضی اللہ عنہ نے نیند میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی پر سجدہ کیا، جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس خواب کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لیٹ گئے اور سیدنا خزیمہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی پر سجدہ کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 7835]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، عامر بن صالح الزبيري متروك، وفيه الاختلاف الذي وقع فيه علي يونس بن يزيد وعلي الزھري، أخرجه النسائي في الكبري: 7630، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21885 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22230»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا
حدیث نمبر: 7836
عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ أَخْبَرَنِي عُمَارَةُ بْنُ خُزَيْمَةَ أَنَّ خُزَيْمَةَ رَأَى فِي الْمَنَامِ أَنَّهُ يَسْجُدُ عَلَى جَبْهَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَتَى خُزَيْمَةُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ قَالَ فَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ لَهُ صَدِّقْ رُؤْيَاكَ فَسَجَدَ عَلَى جَبْهَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ (دوسری سند) سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ نے خواب میں دیکھا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی مبارک پر سجدہ کررہے ہیں، پس وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی اطلاع دی،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لیٹ گئے اور ان سے فرمایا: اپنا خواب سچا کر لو۔ پس انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی پر سجدہ کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 7836]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، صالح بن ابي الاخضر ضعيف، وانظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22229»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 7837
عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَبَاهُ قَالَ رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنِّي أَسْجُدُ عَلَى جَبْهَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُ بِذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ الرُّوحَ لَيَلْقَى الرُّوحَ وَأَقْنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ هَكَذَا فَوَضَعَ جَبْهَتَهُ عَلَى جَبْهَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ سیدنا خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے خواب میں دیکھا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی پر سجدہ کررہا ہوں، جب میں نے یہ خواب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک روح روح کومل ہی جاتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر اوپر اٹھایا یہاں تک کہ سیدنا خزیمہ نے اپنی پیشانی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی پر رکھ دی۔ [الفتح الربانی/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 7837]
تخریج الحدیث: «ضعيف لاضطراب سنده ومتنه، أخرجه ابن ابي شيبة: 11/ 78، والطبراني: 3717، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21878 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22222»
الحكم على الحديث:
ضعيف لاضطراب سنده ومتنه