الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب أَخْذِ الشَّارِبِ وَإعفاء اللحية
مونچھیں کٹوانے اور داڑھی بڑھانے کا بیان
حدیث نمبر: 8187
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحْفُوا الشَّوَارِبَ وَأَعْفُوا اللِّحَى
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مونچھیں اچھی طرح منڈواؤ اور داڑھیاں بڑھاؤ۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8187]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5893، ومسلم: 259، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4654 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4654»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8188
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خُذُوا مِنْ هَذَا وَدَعُوا هَذَا يَعْنِي شَارِبَهُ الْأَعْلَى يَأْخُذُ مِنْهُ يَعْنِي الْعَنْفَقَةَ
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے بال کاٹا کرو اور اس کو چھوڑدو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ اوپر والے ہونٹ کے بال کاٹے جائیں اور نچلے ہونٹ اور ٹھوڑی کے درمیان والے بال چھوڑ دیئے جائیں (کیونکہ وہ داڑھی کا حصہ ہوتے ہیں، ان بالوں کو داڑھی بچہ کہتے ہیں)۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8188]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، لضعف ثوير بن ابي فاخته، قال الدار قطني: متروك، أخرجه الطبراني في الكبير: 5326، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5326 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5326»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 8189
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ جُزُّوا وَفِي لَفْظٍ قُصُّوا الشَّوَارِبَ وَأَعْفُوا اللِّحَى
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مونچھیں کاٹو اور داڑھیاں بڑھاؤ۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8189]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 260، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8778 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8764»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8190
عَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَعْفُوا اللِّحَى وَخُذُوا الشَّوَارِبَ وَغَيِّرُوا شَيْبَكُمْ وَلَا تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ وَالنَّصَارَى
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: داڑھیاں بڑھاؤ، مونچھیں کٹاؤ اور اپنے سفید بالوں کو تبدیل کرو اور اس طرح یہودو نصاریٰ کی مشابہت اختیار نہ کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8190]
تخریج الحدیث: «صحيح، انظر لشطره الاول الحديثَ السابق، والشطر الثاني أخرجه الترمذي: 1752، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8672 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8657»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8191
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يَقُصُّونَ عَثَانِينَهُمْ وَيُوَفِّرُونَ سِبَالَهُمْ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُصُّوا سِبَالَكُمْ وَوَفِّرُوا عَثَانِينَكُمْ وَخَالِفُوا أَهْلَ الْكِتَابِ
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! اہل کتاب اپنی داڑھیاں کاٹتے ہیں اور مونچھیں بڑھاتے ہیں،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی مونچھیں کٹاؤ اور داڑھیاں بڑھاؤ اور اہل کتاب کی مخالفت کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8191]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير: 7924، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22283 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22639»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8192
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بِتُّ وَفِي رِوَايَةٍ ضِفْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَأَمَرَ بِجَنْبٍ فَشُوِيَ ثُمَّ أَخَذَ الشَّفْرَةَ فَجَعَلَ يَحُزُّ لِي بِهَا مِنْهُ فَجَاءَ بِلَالٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ فَأَلْقَى الشَّفْرَةَ وَقَالَ مَا لَهُ تَرِبَتْ يَدَاهُ قَالَ وَكَانَ شَارِبِي وَفِي فَقَصَّهُ لِي عَلَى سِوَاكٍ أَوْ قَالَ أَقُصُّهُ لَكَ عَلَى سِوَاكٍ
۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بطور مہمان ٹھہرا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بکری کے پہلو کے گوشت کے متعلق حکم دیا تو اسے بھونا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھری لی اور میرے لئے اس گوشت سے کاٹنے لگ گئے، اتنے میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز کی اطلاع دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھری وہیں رکھ دی اور فرمایا: بلال کے ہاتھ خاک آلود ہوں (ذرا اور ٹھہر جاتا تو کیا ہو جاتا) سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میری مونچھیں بڑھی ہوئی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نیچے مسواک رکھ کر انہیں کاٹ دیا، ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ان کو مسواک پر کاٹتا ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8192]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 188، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18236 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18425»
وضاحت: فوائد: … اس کاطریقہ یہ ہو گا کہ ہونٹ کے پاس بالوں کے نیچے مسواک رکھ کر قینچی سے بال کاٹ لیے جائیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
3. باب فَضْل الشَّبَبِ وَكَرَاهَةِ نَتْفِهِ
سفید بالوں کی فضیلت اور ان کو اکھاڑنے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 8193
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَنْتِفُوا الشَّيْبَ فَإِنَّهُ نُورُ الْمُسْلِمِ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَشِيبُ شَيْبَةً فِي الْإِسْلَامِ إِلَّا كُتِبَ لَهُ بِهَا حَسَنَةٌ وَرُفِعَ بِهَا دَرَجَةٌ أَوْ حُطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بڑھاپے کے سفید بالوں کو مت اکھاڑو، کیونکہ یہ مسلمان کا نور ہے، جو بھی مسلمان اسلام میں بوڑھا ہو جاتا ہے، تو اس کے لئے نیکی لکھی جاتی ہے اور اس کا درجہ بلند کر دیا جاتا ہے یا اس کا گناہ معاف کر دیا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8193]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 4202، وأخرجه مختصرا النسائي: 8/ 136، وابن ماجه: 3721، والترمذي: 2821، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6672 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6672»
وضاحت: فوائد: … سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَلشَّیْبُ نُوْرٌ فِیْ وَجْہِ الْمُسْلِمِ، فَمَنْ شَائَ فَلْیَنْتَفِ نُوْرَہٗ۔)) … سفید بال مسلمان کے چہرے کا نور ہیں، جو چاہتا ہے، وہ اپنا نور اکھاڑتا رہے۔ (شعب الایمان للبیہقی: ۲/۲۵۰/۲، صحیحہ: ۱۲۴۴)
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8194
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ وَمُحِيَتْ عَنْهُ بِهَا سَيِّئَةٌ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يُوَقِّرْ كَبِيرَنَا وَيَرْحَمْ صَغِيرَنَا
۔ (دوسری سند)اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں آخری الفاظ یوں ہیں: اور اس کے ذریعہ سے برائی مٹا دی جاتی ہے۔ نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ ہم میں سے نہیں ہے، جو ہمارے بزرگ کی تعظیم نہ کرے اور ہمارے چھوٹے پر رحم نہ کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8194]
تخریج الحدیث: «انظر للحديث الاول الحديثِ بالطريق الاول، والحديث الثاني صحيح، أخرجه الترمذي: 1920، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6937 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6937»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8195
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ شَيْبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوًا مِنْ عِشْرِينَ شَعْرَةً
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تقریباً بیس بال سفید تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8195]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابن ماجه: 3630، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5633 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5633»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8196
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمْ يَكُنْ فِي رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلِحْيَتِهِ عِشْرُونَ شَعْرَةً بَيْضَاءَ وَخَضَبَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ وَخَضَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالْحِنَّاءِ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر مبارک اور داڑھی مبارک میں بمشکل بیس بال سفید تھے۔ اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ مہندی اور کتم (ایک پودا جو سیاہ رنگ کے طور پر استعمال ہوتا ہے) ملا کر لگاتے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے صرف مہندی لگا کر بالوں کو رنگا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8196]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري:3550، ومسلم: 2341، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11965 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11987»
الحكم على الحديث: صحیح