🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْوَعِيدِ الشَّدِيدِ لِمَنْ نَسِيَ الْقُرْآنَ أوْ بَعْضَهُ بَعْدَ حِفْظِهِ أَوْ نَرَى بِقَرَاء تِهِ أَوْ نَاكُلَ بِه أَولَمْ يَعْمَلْ بِمَا فِيهِ
حفظ کر لینے کے بعد مکمل قرآن مجید کو یا بعض حصے کو بھلانے والے، یا اپنی قراء ت کی وجہ سے ریاکاری کرنے والا، یا اس کے ذریعے کھانے والا، یا اس پر عمل نہ کرنے والے کے لیے سخت وعید کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8396
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَامَ تَبُوكَ خَطَبَ النَّاسَ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى نَخْلَةٍ فَقَالَ وَإِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ رَجُلًا فَاجِرًا جَرِيئًا يَقْرَأُ كِتَابَ اللَّهِ وَلَا يَدْعُو إِلَى شَيْءٍ مِنْهُ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تبوک والے سال لوگوں سے خطاب کیا اور فرمایا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کھجور کے درخت کے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں بدترین وہ آدمی ہے جو فاجر ہو اور جرات مند ہو، جو اللہ تعالیٰ کی کتاب کی تلاوت کرتا ہے، لیکن وہ اس کی کسی چیز کی طرف دعوت نہ دیتا ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8396]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه النسائي: 6/11، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11549 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11570»
وضاحت: فوائد: … ایسے ہی ہوا، جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،۶۰؁ھکےبعدشرّوفساداورقتلوغارتگری بڑھ گئی اور مسلمانوں میں اختلاف زیادہ ہو گیا۔ رجب ۶۰؁ھکےاوائلمیں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے وفات پائی، اسی دن یزید برسرِ اقتدار آ گیا تھا۔ قرآن مجید کے تعلیم و تعلّم سے متعلقہ افراد کو چاہیے کہ وہ بار بار اپنے عزائم کا جائزہ لیں۔

الحكم على الحديث:
حديث حسن ۔ أخرجه النسائي: 6/11
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8397
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَرَّ بِرَجُلٍ وَهُوَ يَقْرَأُ عَلَى قَوْمٍ فَلَمَّا فَرَغَ سَأَلَ فَقَالَ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَلْيَسْأَلِ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِهِ فَإِنَّهُ سَيَجِيءُ قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ يَسْأَلُونَ النَّاسَ بِهِ
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ ایک آدمی کے پاس سے گزرے، وہ لوگوں پر قرآن مجید پڑھ رہا تھا، جب وہ فارغ ہوا تو اس نے لوگوں سے سوال کیا، انھوں نے یہ صورتحال دیکھ کر کہا: اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ، بیشک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو قرآن مجید پڑھے، وہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے سوال کرے، پس عنقریب ایسے لوگ آئیں گے، جو قرآن مجید تو پڑھیں گے، لیکن لوگوں سے اس کے ذریعے سوال کریں گے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8397]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه الترمذي: 2917، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:19944 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20186»
وضاحت: فوائد: … وَلَا یَدْعُوْ کی بجائے سنن نسائی اور مستدرک حاکم کی روایات کے الفاظ یہ ہیں: لَا یَرْعَوِیْ اور اس لحاظ سے مطلب یہ ہے کہ وہ اس قرآن مجید کی روکی ہوئی چیز سے رکتا نہیں ہے۔ بعض لوگوں کو شرعی علوم کا مطالعہ کرنے کا بڑا شوق ہوتا ہے اور وہ اس شوق کو پورا کرنے کے لیے مختلف تفاسیر قرآن اور شروح احادیث کا مطالعہ بھی کرتے ہیں، لیکن ان میں عمل کی کوئی رغبت پیدا نہیں ہوتی، ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ قرآن و حدیث کا مطالعہ کرنے کا صرف یہ مقصد ہونا چاہیے کہ ان پر عمل کیا جائے۔ ان کی طرف لوگوں کو بلایا جائے تاکہ وہ بھی عمل کریں۔

الحكم على الحديث:
حسن لغيره ۔ أخرجه الترمذي: 2917
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8398
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اقْرَءُوا الْقُرْآنَ وَلَا تَأْكُلُوا بِهِ وَلَا تَسْتَكْثِرُوا بِهِ وَلَا تَجُفُّوا عَنْهُ وَلَا تَغْلُوا فِيهِ
۔ سیدنا عبد الرحمن بن شبل انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن مجید پڑھا کرو، نہ اس کو کھانے کا ذریعہ بناؤ، نہ اس کے ذریعے مالِ کثیر جمع کرو، نہ اس کے معاملے میں سنگدل ہو جاؤ اور نہ اس میں غلوّ اور تشدد کرو۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8398]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الطبراني في الاوسط: 2595، والبزار: 2320، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15620»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کے معنی و مفہوم کو سمجھنے کے لیے ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۶۱۴۱)والا اور اس کی احادیث کی شرح۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح ۔ أخرجه الطبراني في الاوسط : 2595
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8399
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرُ مُنَافِقِي أُمَّتِي قُرَّاؤُهَا
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے اکثر منافق قراء ہوں گے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8399]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 17/ 841، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17367 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17501»
وضاحت: فوائد: … غلوّ میں نہ پڑو: الفاظ اور معنی کے اعتبار سے اس سے تجاوز نہ کرو، یعنی نہ اس کی قراء ت میں زیادہ مشقت کرو اور نہ اس کی باطل تاویلیں کرو۔ سنگدل نہ ہو جاؤ: اس کی تلاوت سے دور نہ ہو جاؤ۔ ان دو جملوں کا مفہوم یہ ہے کہ قرآن مجید کے حقوق کو سمجھو، اس کے معاملے میں افراط و تفریط سے بچو اور میانہ روی اختیار کرو۔

الحكم على الحديث:
حسن لغيره ۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 17/ 841
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8400
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
۔سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8400]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 13/ 228، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6633 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6633»
وضاحت: فوائد: … ہم ذاتی مشاہدے کی بات کرنا چاہیں گے کہ زیادہ تر قاری حضرات مقاصد ِ قرآن، احکامِ قرآن اور روحِ قرآن سے غافل ہوتے ہیں، تشریحاتِ نبویہ اور اسلامی آداب سے محروم ہوتے ہیں، صرف اس بنا پر لمبے لمبے سانسوں اور خوش الحانی کی مشق کرتے ہیں کہ لوگ ان کی تلاوت سن کر بلّے بلّے اور عش عش کر اٹھیں۔
قارئین کرام! اگر آپ اتفاق نہ کریں تو ہمارا سوال یہ ہو گا کہ ایک قاری تلاوت کر رہا ہے، سات آٹھ آیات پر مشتمل سورت ایک سانس میں تلاوت کرنا چاہی، سانس لمبا کرنے کی وجہ سے چہرہ سرخ ہو چکا ہے، اپنے مقصودِتک پہنچنے کے لیے کبھی ٹانگ کو حرکت دیتا ہے، کبھی سر ہلاتا ہے، پیشانی کو ہاتھوں سے دبایا ہوا ہے، منہ کا عجیب ڈیزائن بن چکا ہے، آیات کے معانی سے بالکل غافل ہے، سامعین داد دینے کے لیے دونوں ہاتھ بلند کر چکے ہیں۔ کس نے یہ تکلف کرنے پر مجبور کیا؟ کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اندازِ تلاوت کافی نہیں ہے؟
کئی قراء کرام سے واسطہ پڑا، شعبہ حفظ کے کامیاب استاد ہوتے ہیں، لیکن نمازوں تک سے غافل اور اخلاقی جرائم میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں۔ سچ فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ اکثر قاریوں میں نفاق ہوتا ہے، بظاہر قرآن مجید کے ساتھ اپنے تعلق کا بڑا اظہار کرتے ہیں، لیکن حقیقت میںنزولِ قرآن کے مقصد سے غافل ہوتے ہیں۔
بہرحال نیک سیرت اور حسن کردار والے قاری حضرات موجود ہیں، اللہ تعالی ان کی تعداد میں اضافہ فرمائے۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ علم، فقاہت فی الدین اور عمل پر توجہ دینی چاہیے۔ خطبا کو چاہیے کہ وہ لوگوں کو علم و عمل اور اصلاح و تقوی کی بھی تعلیم دیں، جو شریعت کا اصل مقصود ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔

الحكم على الحديث:
صحيح ۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 13/ 228
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. باب
قرآن مجید اور اوراد کی تحزیب کرنے اور مصاحف میں اس کی تالیف کرنے¤جمع کرنے اور اس کو لکھنے کے ابواب
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: Q8401]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. بَابُ تَحْزِيبِ الْقُرْآنِ وَأَوْرَادِهِ
قرآن اور اوراد کے حزب مقرر کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8401
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ جَدِّهِ أَوْسِ بْنِ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ فِي الْوَفْدِ الَّذِينَ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَسْلَمُوا مِنْ ثَقِيفٍ مِنْ بَنِي مَالِكٍ أَنْزَلَنَا فِي قُبَّةٍ لَهُ فَكَانَ يَخْتَلِفُ إِلَيْنَا بَيْنَ بُيُوتِهِ وَبَيْنَ الْمَسْجِدِ فَإِذَا صَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ انْصَرَفَ إِلَيْنَا وَلَا نَبْرَحُ حَتَّى يُحَدِّثَنَا وَيَشْتَكِيَ قُرَيْشًا وَيَشْتَكِيَ أَهْلَ مَكَّةَ ثُمَّ يَقُولُ لَا سَوَاءَ كُنَّا بِمَكَّةَ مُسْتَذَلِّينَ وَمُسْتَضْعَفِينَ فَلَمَّا خَرَجْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ كَانَتْ سِجَالُ الْحَرْبِ عَلَيْنَا وَلَنَا فَمَكَثَ عَنَّا لَيْلَةً لَمْ يَأْتِنَا حَتَّى طَالَ ذَلِكَ عَلَيْنَا بَعْدَ الْعِشَاءِ قَالَ قُلْنَا مَا أَمْكَثَكَ عَنَّا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ طَرَأَ عَلَيَّ حِزْبٌ مِنَ الْقُرْآنِ فَأَرَدْتُ أَنْ لَا أَخْرُجَ حَتَّى أَقْضِيَهُ قَالَ فَسَأَلْنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَصْبَحْنَا قَالَ قُلْنَا كَيْفَ تُحَزِّبُونَ الْقُرْآنَ قَالُوا نُحَزِّبُهُ ثَلَاثَ سُوَرٍ وَخَمْسَ سُوَرٍ وَسَبْعَ سُوَرٍ وَتِسْعَ سُوَرٍ وَإِحْدَى عَشْرَةَ سُورَةً وَثَلَاثَ عَشْرَةَ سُورَةً وَحِزْبَ الْمُفَصَّلِ مِنْ قَافْ حَتَّى يُخْتَمَ
۔ سیدنا اوس بن حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں اس وفد میں موجود تھا، جو ثقیف میں سے بنو مالک قبیلہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اسلام قبول کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک خیمہ میں اتارا، جب آپ اپنے گھرسے مسجد کی طرف آتے جاتے تو ہمارے پاس سے گزرتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز عشاء سے فارغ ہوتے تو ہمارے پاس تشریف لاتے اور کافی دیر تک ہم سے باتیں کرتے، قریش اور اہل مکہ کی شکایات کا ذکر کرتے اور فرماتے: اب برابری نہیں رہی، وقت تبدیل ہو گیا ہے، مکہ میں ہم رل گئے تھے اور ناتواں تھے اور جب ہمیں مکہ سے مدینہ منورہ کی جانب نکال دیا گیا تو جنگ کا ڈول ہمارے خلاف بھی بھرا گیا اور ہمارے حق میں بھی بھرا گیا (یعنی مقابلہ برابر رہا)۔ ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف نہ لائے، عشاء کے بعد کافی دیر ہو گئی، پھر جب تشریف لائے تو ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کے لئے ہمارے پاس نہ آنے کی کیا وجہ تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرا قرآن کا حزب (رہ گیا تھا)، بس وہ مجھ پر غالب آگیا اور میں نے بھی ارادہ کیا کہ اس کی تکمیل کے بغیر نہیں نکلوں گا۔ جب صبح ہوئی تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ سے پوچھا: تم قرآن مجید کے کیسے حصے مقرر کرتے ہو اور اجزاء بناتے ہو؟ انھوں نے کہا: ہم اس طرح قرآن مجید کے حصے مقرر کرتے ہیں: تین سورتیں، پانچ سورتیں، سات سورتیں، نو سورتیں، گیارہ سورتیں، تیرہ سورتیں اور سورۂ قاف سے آخر تک کا مفصل حصہ، اس طرح قرآن مجید کی تکمیل ہو جاتی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8401]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن عبد الرحمن الطائفي، وعثمانُ بن عبد الله الثقفي، قال ابن حجر: مقبول۔ أخرجه ابوداود: 1393، وابن ماجه: 1345، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19021 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19230»
وضاحت: فوائد: … سات حزب مقرر کرنے سے مراد یہ ہے کہ صحابۂ کرام سات دنوں میں قرآن مجید کی تلاوت مکمل کر لیتے تھے، ان سات احزاب کی تفصیلیہ ہے:
تین سورتیں:سورۂ بقرہ سے سورۂ نساء تک
پانچ سورتیں:سورۂ مائدہ سے سورۂ توبہ تک
سات سورتیں:سورۂ یونس سے سورۂ نحل تک
نو سورتیں:سورۂ اسراء سے سورۂ فرقان تک
گیارہ سورتیں:سورۂ شعراء سے سورۂ یس تک
تیرہ سورتیں: سورۂ صافات سے سورۂ حجرات تک
اس کے بعد سورۂ ق سے قرآن کے آخر تک کا حصہ مفصل کہتا ہے۔
قرآن مجید کی سات منزلوںکا تعین اسی ترتیب سے کیا گیا ہے، سات دنوں میں قرآن مجید کی تکمیل کے لیےیہ اچھی اور معتدل ترتیب ہے، مہینے میں ختم کرنے کے لیے قرآن مجید کے تیس پارے بنائے گئے ہیں، تلاوت کرنے والا اس سے کم یا زیادہ کی مقدار کا تعین بھی کر سکتا ہے، بہرحال کم از کم چالیس دنوںمیں ایک بار قرآن مجید کی تکمیل ہو جانی چاہیے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے لیے سب سے پہلے چالیس دنوں کا تعین کیا تھا۔ یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن تلاوت اور اذکارو اوراد کی مقدار کا تعین کیا جا سکتاہے، جیسا کہ اگلے باب کی حدیث سے معلوم ہوتاہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن عبد الرحمن الطائفي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. بَابُ مَنْ فَاتَهُ شَيْءٌ مِنْ وِرْدِهِ مَتَى يَقْضِيهِ
جس سے وظیفہ رہ جائے اس کی قضا کب دے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8402
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْإِمَامِ أَحْمَدَ وَقَدْ بَلَغَ بِهِ أَبِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ فَاتَهُ شَيْءٌ مِنْ وِرْدِهِ أَوْ قَالَ مِنْ جُزْئِهِ فَقَرَأَهُ مَا بَيْنَ صَلَاةِ الْفَجْرِ إِلَى الظُّهْرِ فَكَأَنَّمَا قَرَأَهُ مِنْ لَيْلَةٍ
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’جس کا پابندی سے پڑھے جانے والا وظیفہ (رات کو) رہ جائے، لیکن اگر وہ اس کو نمازِ فجر اور نمازِ ظہر کے درمیان ادا کر لے تو وہ ایسے ہی ہو گا، جیسے رات کو پڑھا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8402]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 747، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 377 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 377»
وضاحت: فوائد: … اگر کسی آدمی نے نماز کے علاوہ رات کو ذکر و تلاوت کی کوئی صورت معین کر رکھی ہو اور وہ عذر کی وجہ سے رہ جائے تو اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے وہ نمازِ فجر اور نمازِ ظہر کے درمیان اس کی ادائیگی کر سکتا ہے، تاکہ اس کا تسلسل برقرار رہے، لیکن اگر عذر کی وجہ سے تہجد کی نماز رہ جائے تو اس کی قضا کا وقت طلوع آفتاب کے بعد شروع ہو گا، نہ کہ نمازِ فجر کے بعد، دونوں اعمال کا آخری وقت زوال ہی ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 747
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. بَابُ كِتَابَةِ الْقُرْآنِ فِي الْاكْتَافِ وَالنَّخَافِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ ﷺ
عہد ِ نبوی میں کندھوں کی ہڈیوں اور سفید پتھروں پر قرآن مجید کی کتابت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8403
عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنِّي قَاعِدٌ إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمಸೀيومًا إِذْ أُوحِيَ إِلَيْهِ قَالَ وَغَشِيَتْهُ السَّكِينَةُ وَوَقَعَ فَخِذُهُ عَلَى فَخِذِي حِينَ غَشِيَتْهُ السَّكِينَةُ قَالَ زَيْدٌ فَلَا وَاللَّهِ مَا وَجَدْتُ شَيْئًا قَطُّ أَثْقَلَ مِنْ فَخِذِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ فَقَالَ اكْتُبْ يَا زَيْدُ فَأَخَذْتُ كَتِفًا فَقَالَ اكْتُبْ لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ [سورة النساء: ٩٥] الْآيَةَ كُلَّهَا إِلَى قَوْلِهِ أَجْرًا عَظِيمًا فَكَتَبْتُ ذَلِكَ فِي كَتِفٍ فَقَامَ حِينَ سَمِعَهَا ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ وَكَانَ رَجُلًا أَعْمَى فَقَامَ حِينَ سَمِعَ فَضِيلَةَ الْمُجَاهِدِينَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَكَيْفَ بِمَنْ لَا يَسْتَطِيعُ الْجِهَادَ مِمَّنْ هُوَ أَعْمَى وَأَشْبَاهِ ذَلِكَ قَالَ زَيْدٌ فَوَاللَّهِ مَا مَضَى كَلَامُهُ أَوْ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ قَضَى كَلَامَهُ غَشِيَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ السَّكِينَةُ فَوَقَعَتْ فَخِذُهُ عَلَى فَخِذِي فَوَجَدْتُ مِنْ ثِقَلِهَا كَمَا وَجَدْتُ فِي الْمَرَّةِ الْأُولَى ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ فَقَالَ اقْرَأْ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ قَالَ زَيْدٌ فَأَلْحَقْتُهَا فَوَاللَّهِ لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُلْحَقِهَا عِنْدَ صَدْعٍ كَانَ فِي الْكَتِفِ
۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں بیٹھا تھا، اچانک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہونے لگی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پرسکون طاری ہو گیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ران، میری ران پر تھی، اللہ کی قسم! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ران سے زیادہ بھاری چیز میں نے کبھی محسوس نہیں کی تھی، پھر جب یہ کیفیت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دور ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے زید! لکھو۔ میں نے شانے کی ہڈی لی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ آیت لکھو {لَا یَسْتَوِی الْقَاعِدُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُجَاہِدُونَ … أَ جْرًا عَظِیمًا} جب سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے یہ آیت سنی جو کہ نابینا آدمی تھے اور انھوں نے سنا کہ اس آیت میں تو مجاہدوں کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے، اس لیے انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جو جہاد کی طاقت نہیں رکھتا اس کا کیا ہو گا، مثلاً نابینا وغیرہ؟ سیدنا زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! ابھی تک سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے اپنی بات ختم ہی کی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہوتے ہوئے جو سکون چھا جاتا تھا، وہ چھا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ران میری ران پرتھی، میں نے اس سے اتنا ہی بوجھ محسوس کیا، جس طرح میں نے اس سے پہلے وحی کی حالت میں محسوس کیا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وحی کی کیفیت دور ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ آیت پڑھو۔ جب میں نے اس آیت کی تلاوت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے ساتھ لکھو: {غَیْرُ أُولِی الضَّرَرِ}۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے یہ حصہ اس آیت کے ساتھ ملا دیا، گویا کہ اب بھی میں شانے میں اس آیت والی جگہ پر پھٹن کا نشان دیکھ رہا ہوں۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8403]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 2507، 3975، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21664 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22004»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالی ہے: {لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَالْمُجٰہِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ فَضَّلَ اللّٰہُ الْمُجٰہِدِیْنَ بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ عَلَی الْقٰعِدِیْنَ دَرَجَۃً وَکُلًّا وَّعَدَ اللّٰہُ الْحُسْنٰی وَفَضَّلَ اللّٰہُ الْمُجٰہِدِیْنَ عَلَی الْقٰعِدِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًا۔} … 95-4 ایمان والوں میں سے بیٹھ رہنے والے، جو کسی تکلیف والے نہیں اور اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد کرنے والے برابر نہیں ہیں، اللہ نے اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر درجے میں فضیلت دی ہے اور ہر ایک سے اللہ نے بھلائی کا وعدہ کیا ہے اور اللہ نے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر بہت بڑے اجر کی فضیلت عطا فرمائی ہے۔ (سورۂ نسائ: ۹۵) جو آیت پہلے نازل ہوئی، اس میں مطلق طور پر مجاہدین کی فضیلت بیان کی گئی، پھر سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے سوال پر جو حصہ نازل ہوا، اس میں معذور لوگوں کو مستثنی قرار دیا۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح ۔ أخرجه ابوداود: 2507
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8404
عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شُمَاسَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نُؤَلِّفُ الْقُرْآنَ مِنَ الرِّقَاعِ إِذْ قَالَ طُوبَى لِلشَّامِ قِيلَ وَلِمَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنَّ مَلَائِكَةَ الرَّحْمَةِ بَاسِطَةٌ أَجْنِحَتَهَا عَلَيْهِ
۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے کپڑے کے ٹکڑوں میں قرآن مجید کی تالیف کر رہے تھے، اچانک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شام کے علاقہ کے لئے خوشخبری ہو۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رحمت کے فرشتوں نے اس پر اپنے پر پھیلائے ہوئے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8404]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الترمذي: 3954، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21607 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21943»
وضاحت: فوائد: … کاغذ کی قلت کی وجہ سے کپڑے پر قرآن مجید لکھا گیا۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن ۔ أخرجه الترمذي: 3954
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں