الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ نُزُولِ السَّكِينَةِ وَالْمَلَائِكَةِ عَنْ قِرَائَةِ الْقُرْآن
قرآن مجید کی تلاوت پر سکینت اور فرشتوں کے نزول کا بیان
حدیث نمبر: 8376
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَرَأَ رَجُلٌ الْكَهْفَ وَفِي الدَّارِ دَابَّةٌ فَجَعَلَتْ تَنْفِرُ فَنَظَرَ فَإِذَا ضَبَابَةٌ أَوْ سَحَابَةٌ قَدْ غَشِيَتْهُ قَالَ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اقْرَأْ فُلَانُ فَإِنَّهَا السَّكِينَةُ تَنَزَّلَتْ عِنْدَ الْقُرْآنِ أَوْ تَنَزَّلَتْ لِلْقُرْآنِ
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے سورۂ کہف کی تلاوت کی، جس گھر میں وہ تلاوت کر رہا تھا، اس میں اس کی سواری بھی بندھی ہوئی تھی، وہ سواری بدکنا شروع ہو گئی، اس نے دیکھا کہ ایک بادل اس پر چھا رہا ہے، جب یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: او فلاں! تو پڑھتا رہتا، یہ سکینت تھی جو قرآن کے لیے نازل ہو رہی تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8376]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3614، ومسلم: 795، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18474 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18666»
وضاحت: فوائد: … امام نووی نے کہا: سکینت کے مختلف معانی بیان کیے گئے ہیں، راجح معنییہ ہے کہ یہ اللہ تعالی کی مخلوق ہے اور اس میں اطمینان اور رحمت پائی جاتی ہے اور اس کے ساتھ فرشتے بھی ہوتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3614
حدیث نمبر: 8377
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَيْنَمَا هُوَ لَيْلَةً يَقْرَأُ فِي مِرْبَدِهِ إِذْ جَالَتْ فَرَسُهُ فَقَرَأَ ثُمَّ جَالَتْ أُخْرَى فَقَرَأَ ثُمَّ جَالَتْ أَيْضًا فَقَالَ أُسَيْدٌ فَخَشِيتُ أَنْ تَطَأَ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَهُ فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَإِذَا مِثْلُ الظُّلَّةِ فَوْقَ رَأْسِي فِيهَا أَمْثَالُ السُّرُجِ عَرَجَتْ فِي الْجَوِّ حَتَّى مَا أَرَاهَا قَالَ فَغَدَوْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَيْنَمَا أَنَا الْبَارِحَةَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ أَقْرَأُ فِي مِرْبَدِي إِذْ جَالَتْ فَرَسِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اقْرَأْ ابْنَ حُضَيْرٍ قَالَ فَقَرَأْتُ ثُمَّ جَالَتْ أَيْضًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اقْرَأْ ابْنَ حُضَيْرٍ فَقَرَأْتُ ثُمَّ جَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اقْرَأْ ابْنَ حُضَيْرٍ قَالَ فَانْصَرَفْتُ وَكَانَ يَحْيَى قَرِيبًا مِنْهَا فَخَشِيتُ أَنْ تَطَأَهُ فَرَأَيْتُ مِثْلَ الظُّلَّةِ فِيهَا أَمْثَالُ السُّرُجِ عَرَجَتْ فِي الْجَوِّ حَتَّى مَا أَرَاهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ الْمَلَائِكَةُ كَانَتْ تَسْتَمِعُ لَكَ وَلَوْ قَرَأْتَ لَأَصْبَحَتْ رَآهَا النَّاسُ لَا تَسْتَتِرُ مِنْهُمْ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک رات سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اپنے باڑے میں قرآن مجید کی تلاوت کررہے تھے، اچانک ان کا گھوڑا بدکنے لگا، (وہ چپ ہو گئے)، پھر جب انہوں نے قراء ت شروع کی تو وہ بھر بدکنے لگا، بس جب بھی پڑھنے لگتے تو وہ بدکنے لگ جاتا، سیدنا اسید کہتے ہیں مجھے خدشہ لاحق ہوا کہ وہ میرے بیٹےیحییٰ کو کچل دے گا، پس میں بیٹے کو پکڑنے کے لیے کھڑا ہوا، میں نے دیکھا کہ میرے اوپر بادل کی مانند سائبان تھا، جس میں چراغ روشن تھے، جو فضا میں چڑھتا جا رہا تھا حتیٰ کہ وہ میری نظروں سے اوجھل ہوگیا، جب صبح ہوئی تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں گزشتہ رات کے آخر میں اپنے باڑے میں قرآن مجید پڑھ رہا تھا، اچانک میرا گھوڑا بدکنے لگا، پھر آگے ساری بات بتائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابن حضیر! تو پڑھتا رہتا۔ میں نے کہا: جی میں نے پڑھا، لیکن گھوڑا پھر بدکنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: اے ابن حضیر! تو پڑھتا رہتا۔ میں نے کہا: میں پڑھتا تو پھر گھوڑا بدکتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: اے ابن حضیر! تو پڑھتا رہتا۔ انھوں نے کہا: جی میں نے پڑھا، لیکن میرا بیٹایحییٰ قریب پڑا تھا، مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ گھوڑا اسے کچل دے، پھر میں نے سائبان کی مانند چیز دیکھی، جس میں چراغ جگمگا رہے ہیں اور وہ فضا میں بلند ہو رہی ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ فرشتے تھے، تمہاری تلاوت سن رہے تھے، اگر تم قراء ت صبح تک جاری رکھتے تو لوگ انہیں دیکھتے اور وہ ان سے چھپ نہ سکتے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8377]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 796، وعلقه البخاري: 5018 بصيغة الجزم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11766 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11788»
وضاحت: فوائد: … سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ بہت خوبصورت آواز میں قرآن مجید کی تلاوت کیا کرتے تھے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 796
8. بَابُ فَضْلِ قِرَائَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ذِكْرِ مَنْ حَفِظَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ مِنَ الصَّحَابَةِ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراء ت کی فضیلت کا بیان مکمل قرآن مجید حفظ کر لینے والے صحابۂ کرام کا بیان
حدیث نمبر: 8378
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بَشَّرَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا كَمَا أُنْزِلَ فَلْيَقْرَأْ عَلَى قِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں یہ خوشخبری سنائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو چاہتا ہے کہ قرآن مجید کو اس طرح ترو تازہ پڑھے، جس طرح وہ نازل ہوا ہے تو وہ ام عبد کے بیٹے (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) کی قراء ت کے مطابق پڑھے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8378]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 138، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 35 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 35»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن ۔ أخرجه ابن ماجه: 138
حدیث نمبر: 8379
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ قَالَ غَضًّا أَوْ رَطْبًا
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے، البتہ اس میں غَضًّا اَوْ رَطْبًا کے الفاظ ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8379]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه الترمذي: 169، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 36 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 36»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح ۔ أخرجه الترمذي: 169
حدیث نمبر: 8380
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَرِيضًا كَذَا قَالَ كَمَا أُنْزِلَ فَلْيَقْرَأْهُ عَلَى قِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو قرآن مجید کو اس طرح ترو تازہ پڑھنا چاہتا ہے جس طرح کہ وہ نازل ہوا تو اسے چاہیے کہ وہ ابن ام عبد یعنی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراء ت کے مطابق پڑھے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8380]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابويعلي: 6106، والبزار: 2682، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:)9754 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9753»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراء ت کو تروتازہ قرار دینے کی وجہ حدیث نمبر (۸۴۴۹)میں بیان کی گئی ہے۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره ۔ أخرجه ابويعلي: 6106
حدیث نمبر: 8381
عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَذُكِرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ إِنَّ ذَاكَ لَرَجُلٌ لَا أَزَالُ أُحِبُّهُ أَبَدًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ خُذُوا الْقُرْآنَ عَنْ أَرْبَعَةٍ عَنْ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ فَبَدَأَ بِهِ وَعَنْ مُعَاذٍ وَعَنْ سَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ قَالَ يَعْلَى أَحَدُ الرُّوَاةِ وَنَسِيتُ الرَّابِعَ
۔ مسروق رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں:میں سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا، وہاں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ذکر ہونے لگا، انھوں نے کہا: میں اس وقت سے اس آدمی سے محبت کرتا ہوں، جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ حدیث سنی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اِن چار افراد سے قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرو: ابن ام عبد، معاذ، مولائے ابی حذیفہ سالم۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب سے پہلے ابن ام عبد یعنی سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا۔ یعلیٰ راوی کہتے ہیں: میں چوتھے کا نام بھول گیا۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8381]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3760، ومسلم: 2464، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6523 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6523»
وضاحت: فوائد: … چوتھے صحابی سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ تھے، جیسا کہ اگلی حدیث سے ثابت ہو رہا ہے۔ کسی سے محبت کرنے کے لیے صحابۂ کرام کے معیار پر غور کریں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3760
حدیث نمبر: 8382
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ اسْتَقْرِئُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اِن چار افراد سے قرآن مجید سیکھو: عبداللہ بن مسعود، مولائے ابی حذیفہ سالم، معاذ بن جبل اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہم۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8382]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6767»
وضاحت: فوائد: … چار صحابۂ کرام کی بڑی منقبت کا بیان ہے کہ سب سے عظیم کلام کی تعلیم کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بیشمار ساتھیوں میں صرف چار کا نام پیش کیا۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6767
حدیث نمبر: 8383
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَمَعَ الْقُرْآنَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَةُ نَفَرٍ كُلُّهُمْ مِنَ الْأَنْصَارِ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَأَبُو زَيْدٍ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد ِ مبارک میں چار افراد نے مکمل قرآن مجید حفظ کیا تھا، یہ سارے کے سارے انصار میں سے تھے: ابی بن کعب، معاذ بن جبل، زید بن ثابت اور ابو زید۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8383]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5003، ومسلم: 2465، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13441 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13475»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو زید رضی اللہ عنہ، سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے چچائوں میں سے تھے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5003
9. بَابُ مَا يَسْتَحِبُّ أَنْ يَقُولَهُ الْقَارِئُ عِنْدَ ذِكْرِ آيَةِ عَذَابٍ أَوْ رَحْمَةٍ وَعِنْدَ خَتْمِ بَعْضِ السُّوَرِ
عذاب والی آیتیا رحمت والی آیت اور بعض سورتوں کی تکمیل کے وقت¤قاری کے لیے مستحب ذکر کا بیان
حدیث نمبر: 8384
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا مَرَّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ سَأَلَ وَإِذَا مَرَّ بِآيَةٍ فِيهَا عَذَابٌ تَعَوَّذَ وَإِذَا مَرَّ بِآيَةٍ فِيهَا تَنْزِيهٌ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ سَبَّحَ
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رحمت والی آیت کی تلاوت کرتے تو اللہ تعالیٰ سے اس کا سوال کرتے، جب عذاب کے ذکر پر مشتمل آیت کے پاس سے گزرتے تو پناہ مانگتے اور جب ایسی آیت سے گزرتے، جس میں اللہ تعالیٰ کی تقدیس بیان کی گئی ہوتی تواس کی تسبیح بیان کرتے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8384]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 772، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23261 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23650»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر توجہ کے ساتھ تلاوت کیا کرتے تھے کہ حسب ِ امکان آیات کے تقاضے بھی پورے کرتے جاتے۔ اس موضوع پر صرف یہی حدیث صحیح ہے کہ رحمت، عذاب اور تسبیح والی آیات پر مطلوبہ ذکر کرنا چاہیے، مقتدی کو چاہیے کہ وہ خاموش رہے اور امام کی قراء ت پر یہ دعائیں نہ کرے، کیونکہ قراء ت کے وقت مقتدی کے لیے خاموش رہنے کا عام حکم ہے، ما سوائے سورۂ فاتحہ کے، امام اور منفرد کو اس سنت پر عمل کرنا چاہیے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 772
حدیث نمبر: 8385
عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ سَمِعَهُ مِنْ شَيْخٍ فَقَالَ مَرَّةً سَمِعْتُهُ مِنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ أَعْرَابِيٍّ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَرَأَ وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا فَبَلَغَ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ فَلْيَقُلْ آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَنْ قَرَأَ وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ فَلْيَقُلْ بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنَ الشَّاهِدِينَ وَمَنْ قَرَأَ أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَى فَلْيَقُلْ بَلَى قَالَ إِسْمَاعِيلُ فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ هَلْ حَفِظَ وَكَانَ أَعْرَابِيًّا فَقَالَ يَا ابْنَ أَخِي أَظَنَنْتَ أَنِّي لَمْ أَحْفَظْهُ لَقَدْ حَجَجْتُ سِتِّينَ حَجَّةً مَا مِنْهَا سَنَةٌ إِلَّا أَعْرِفُ الْبَعِيرَ الَّذِي حَجَجْتُ عَلَيْهِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی سورۂ مرسلات پڑھے اور جب وہ اس آیت {فَبِأَ یِّ حَدِیثٍ بَعْدَہُ یُؤْمِنُونَ} پرپہنچے تو کہے: آمَنَّا بِاللّٰہِ (ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے ہیں)، جو آدمی سورۂ تین کی تلاوت کرے تو وہ آخر میں کہے: بَلٰی وَأَ نَا عَلٰی ذَلِکَ مِنْ الشَّاہِدِینَ (کیوں نہیں، اور میں اس پر گواہوں میں سے ہوں)، اور جو آدمی جب یہ آیت {أَ لَیْسَ ذٰلِکَ بِقَادِرٍ عَلَی أَ نْ یُحْیِیَ الْمَوْتٰی} پڑھے، تو وہ کہے: بَلٰی (کیوں نہیں)۔ اسماعیل راوی نے کہا: میں نے کوشش کی کہ پتہ چلاؤں اس اعرابی نے اسے اچھی طرح یاد بھی کیا ہے یا نہیں، اس نے آگے سے کہا: بھتیجے! تیرا کیا خیال ہے کہ میں نے اسے یاد نہیں کیا، میں نے ساٹھ حج کئے ہیں اور میں ہر سال والے اس اونٹ کو پہچان سکتا ہوں، جس پر میں نے حج کیا۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8385]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة الراوي عن ابي ھريرة۔ أخرجه ابوداود: 887، والترمذي: 3347، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7391 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7385»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة الراوي عن ابي ھريرة ۔ أخرجه ابوداود: 887