الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ مَا جَاءَ فِي تَرْتِيلِ الْقِرَاءَةِ وَقِرَاءَةِ النَّبِي ﷺ
قرآن پاک ٹھہر ٹھہر کر (ترتیل سے) پڑھا جائے
حدیث نمبر: 8367
عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّ بَعْضَ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَعْلَمُهَا إِلَّا حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا سُئِلَتْ عَنْ قِرَاءَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّكُمْ لَا تُطِيقُونَهَا قَالَتْ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ تَعْنِي التَّرْتِيلَ
۔ ابن ابی ملیکہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کسی بیوی سے سوال کیا گیا، میرا خیال تو یہی ہے کہ وہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراء ت کے بارے میں سوال کیا گیا تھا، انہوں نے کہا: تم اُس اندازِ تلاوت کی طاقت نہیں رکھتے، پھر انھوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے: {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ}۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8367]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26451 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26983»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالی ہے: {وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِیْلًا} (سورۂ مزمل: ۴) … قرآن مجید کو صاف صاف اور عمدہ طریقہ پر پڑھا کرو۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 8368
عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ قِرَاءَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ يَمُدُّ بِهَا صَوْتَهُ مَدًّا وَفِي لَفْظٍ كَانَتْ قِرَاءَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَدًّا يَمُدُّ بِهَا مَدًّا
۔ امام قتادہ رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراء ت کیسی تھی؟ انھوں نے کہا: آپ کھینچ کھینچ کر اور لمبا کر کے قراء ت کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8368]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5045، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12198 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12222»
وضاحت: فوائد: … فَرَجَّعَ: بلند آواز میں تلاوت کرتے ہوئے آواز کو گلے میں گھمانا، اس سے ایک خاص قسم کا حسن اور نغمہ پیدا ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5045
حدیث نمبر: 8369
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فِي مَسِيرِهِ سُورَةَ الْفَتْحِ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَقَالَ مَرَّةً نَزَلَتْ سُورَةُ الْفَتْحِ وَهُوَ فِي مَسِيرٍ لَهُ فَجَعَلَ يَقْرَأُ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ قَالَ فَرَجَّعَ فِيهَا قَالَ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لَوْلَا أَنْ أَكْرَهَ أَنْ يَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَيَّ لَحَكَيْتُ لَكُمْ قِرَاءَتَهُ
۔ معاویہ بن قرہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ والے سال اپنے سفر میں سورۂ فتح کی تلاوت کی، اور ایک روایت میں ہے: سورۂ فتح اس وقت نازل ہوئی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر میں تھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی سواری پر اس کی تلاوت کی اور بلند آواز میں تلاوت کرتے ہوئے آواز کو گلے میں گھمایا، پھر سیدنا معاویہ رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: اگر لوگوں کے مجھ پر جمع ہو جانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں تمہارے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراء ت نقل کرتا۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8369]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7540، ومسلم: 794، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20542 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20816»
وضاحت: فوائد: … آہ آہ کے الفاظ صحیح بخاری میںیوں ہیں: آء آء آئ۔یہ اتار چڑھاؤ کے ساتھ آواز کو گلے میں گھمانے کا انداز ہے، تجوید کا ماہر آدمی عملی طور پر آپ کو بتا سکتا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 7540
حدیث نمبر: 8370
حَدَّثَنَا شَبَّابَةُ وَأَبُو طَالِبِ بْنُ جَابَانَ الْقَارِئُ قَالَا ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ ابْنُ جَابَانَ فِي حَدِيثِهِ آَهْ آَهْ
۔ شبابہ اور ابو طالب بن جابان القاری رحمۃ اللہ علیہما دونوں بیان کرتے ہیں کہ ہم سےشعبہ نے بیان کیا،انھوں نے معاویہ بن قرہ رحمۃ اللہ علیہ سے،وہ سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے اور وہ بنی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اوپر والی حدیث کی مانند ہی بیان کرتے ہیں۔ ابن جابان (کی روایت)کے الفاظ یہ ہیں: آء آء یعنی الف کو کھینچ کر پڑھتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8370]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20817»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20817
حدیث نمبر: 8371
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَلَوْلَا أَنْ يَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَيَّ لَحَكَيْتُ لَكُمْ قِرَاءَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَرَأَ سُورَةَ الْفَتْحِ قَالَ يَعْنِي مُعَاوِيَةَ بْنَ قُرَّةَ لَوْلَا أَنْ يَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَيَّ لَحَكَيْتُ لَكُمْ مَا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُغَفَّلٍ كَيْفَ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ بَهْزٌ وَغُنْدَرٌ قَالَ فَرَجَّعَ فِيهَا
۔ سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فتح مکہ والے دن قراء ت کرتے ہوئے سنا، اگر مجھ پر لوگوں کا ہجوم ہو جانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں تمہارے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراء ت کی نقل اتارتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۂ فتح پڑھی تھی۔معاویہ بن قرہ نے کہا: اگر مجھ پر لوگوں کے جمع ہو جانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں تمہارے لیے سیدنا عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کی بتلائی ہوئی سورت کی نقل اتارتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیسے تلاوت کی تھی، غندر راوی نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آواز کو گھما کر پڑھا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8371]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4281، 4835، 5034، ومسلم: 794، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16789 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16912»
وضاحت: فوائد: … مذکورہ آیتیہ تھی: {إِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَإِنَّہُمْ عِبَادُکَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَہُمْ فَإِنَّکَ أَ نْتَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ} … اگر تو ان کو عذاب دے تو بیشک وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو ان کو بخش دے تو بیشک تو ہی غالب حکمت والا ہے۔ [المائدۃ: ۱۱۸] آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پورے قیام میں یہی آیت پڑھتے رہے، اس آیت میں اللہ تعالی کے سامنے عجیب انداز میں عاجزی کا اظہار کیا گیا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4281
5. بَابُ الْاقْتِصَادِ فِي الْقِرَائَةِ خَوْفَ الْمَلَلِ، وَفِي كَمْ يُقرَأ الْقُرْآنُ؟
بوریت کے ڈر سے قراء ت ِ قرآن میںمیانہ روی اختیار کرنے کا، نیز اس چیز کا بیان¤کہ کتنے دنوں میں قرآن مجید کی تکمیل کی جائے
حدیث نمبر: 8372
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَدَّدَ آيَةً حَتَّى أَصْبَحَ
۔ سیدنا ابو سعید خدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح تک ایک آیت ہی دہراتے رہے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8372]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11593 /2 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11615»
الحكم على الحديث:
حديث حسن
حدیث نمبر: 8373
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جَمَعْتُ الْقُرْآنَ فَقَرَأْتُ بِهِ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي أَخْشَى أَنْ يَطُولَ عَلَيْكَ زَمَانٌ أَنْ تَمَلَّ اقْرَأْهُ فِي كُلِّ شَهْرٍ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي أَسْتَمْتِعُ مِنْ قُوَّتِي وَشَبَابِي قَالَ اقْرَأْهُ فِي كُلِّ عِشْرِينَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي أَسْتَمْتِعُ مِنْ قُوَّتِي وَشَبَابِي قَالَ اقْرَأْهُ فِي كُلِّ عَشْرٍ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَشَبَابِي قَالَ اقْرَأْهُ فِي كُلِّ سَبْعٍ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَشَبَابِي فَأَبَى زَادَ فِي رِوَايَةٍ فَاقْرَأْ فِي كُلِّ سَبْعٍ لَا تَزِيدَنَّ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے قرآن مجید حفظ کر لیا تھا اور ہر رات کو قرآن مجید کی تکمیل کرتا تھا،جب یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے خطرہ ہے کہ جب تو لمبی عمر پائے گا تو تو اکتا جائے گا، اس لیے ایک مہینہ میں ایک دفعہ قرآن مکمل کر لیا کر۔ لیکن میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ اٹھانے دیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیس دن میں ایک دفعہ پڑھ لیا کرو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ اٹھانے دیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چلو دس دن میں پڑھ لیا کرو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اپنی قوت اور جوانی سے استفادہ کرنے دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سات دنوں میں ایک ختم کر لیا کرو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے چھوڑ دیں، مجھے اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ اٹھانے دیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکار کیا، ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر سات دن میں قرآن ختم کرلیا کر، لیکن اس سے کم دنوں میں نہیں۔
۔ (دوسری سند)سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے اس طرح بھی مروی ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں کتنے دنوں میں قرآن ختم کیا کرو؟ فرمایا: ہر ماہ میں ختم کرو۔ میں نے کہا: مجھے زیادہ قوت ہے۔آپ نے فرمایا: پچیس دنوں میں پڑھ لو۔ میں نے کہا: مجھ میں زیادہ قوت ہے۔آپ نے فرمایا: بیس دن میں پڑھ لو۔ میں نے کہا: مجھ میں اس سے زیادہ قوت ہے۔ آپ نے فرمایا: پندہ دنوں میں قرآن ختم کرلیا کرو۔ میں نے کہا: مجھ میں اس سے زیادہ قوت ہے۔ آپ نے فرمایا: سات دنوں میں پڑھ لیا کرو۔ میں نے کہا: مجھ میں اس سے زیادہ قوت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو تین دن سے کم میں پڑھے گا اس نے اسے سمجھا نہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8373]
۔ (دوسری سند)سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے اس طرح بھی مروی ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں کتنے دنوں میں قرآن ختم کیا کرو؟ فرمایا: ہر ماہ میں ختم کرو۔ میں نے کہا: مجھے زیادہ قوت ہے۔آپ نے فرمایا: پچیس دنوں میں پڑھ لو۔ میں نے کہا: مجھ میں زیادہ قوت ہے۔آپ نے فرمایا: بیس دن میں پڑھ لو۔ میں نے کہا: مجھ میں اس سے زیادہ قوت ہے۔ آپ نے فرمایا: پندہ دنوں میں قرآن ختم کرلیا کرو۔ میں نے کہا: مجھ میں اس سے زیادہ قوت ہے۔ آپ نے فرمایا: سات دنوں میں پڑھ لیا کرو۔ میں نے کہا: مجھ میں اس سے زیادہ قوت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو تین دن سے کم میں پڑھے گا اس نے اسے سمجھا نہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8373]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1980، ومسلم: 1159، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6516 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6516»
وضاحت: فوائد: … ابو داود کی روایت کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب سے پہلے چالیس دنوں میں قرآن مجید کی تکمیل کرنے کا حکم دیا، اس روایت سے معلوم ہوا کہ ہر چالیس دنوں میں کم از کم ایک بار قرآن مجید کی تلاوت مکمل کرنی چاہیے۔ جیسا کہ اسحاق بن ابراہیم کہتے ہیں: ((وَلَانُحِبُّ لِلرَّجُلِ اَنْ یَاْتِیَ عَلَیْہِ اَکْثَرُ مِنْ اَرْبَعِیْنَیَوْمًا وَلَمْ یَقْرَأِ الْقُرْآنَ بِھٰذَ الْحَدِیْثِ۔)) ہم اس حدیث کی روشنی میں کسی آدمی کے لیےیہ پسند نہیں کرتے کہ چالیس دن گزر جائیں اور اس نے مکمل قرآن مجید کی تلاوت نہ کی ہو۔ (ترمذی)
امام احمد، امام اسحق بن راہویہ اور امام ابوعبید وغیرہ کا یہی خیال ہے کہ تین دنوں سے پہلے قرآن مجید کی تکمیل نہیں کرنی چاہیے، لیکن کئی سلف صالحین سے اس سے کم مدت میں قرآن مجید کی تلاوت مکمل کرنا ثابت ہے۔ امام نووی نے کہا: راجح بات یہ ہے کہ اس میں شخصیات کا اعتبار کیا جائے گا، جو آدمی قرآن مجید کو سمجھتا ہواور دورانِ تلاوت اس پر
غور و فکر کرتا ہو، اسی طرح جو آدمی حصولِ علم اور دین کے دوسرے اہم امور اور مسلمانوں کی عام مصلحتوں میں مصروف ہو، اس کے لیے مستحبّ یہ ہے کہ وہ اتنی تلاوت کر لیا کرے، جس میں غور و فکر اور تدبر برقرار ہے اور اس کے کام میں بھی حرج نہ ہو، لیکن جس آدمی کے ایسے مشاغل نہ ہوں، اس کو حسب ِ امکان کثرت سے تلاوت کرنی چاہیے، بس ایک چیز کا خیال رکھے کہ اتنی زیادہ تلاوت نہ کرے کہ اکتا جائے۔ بہرحال ہمارا نظریہیہ ہے کہ تین دنوں سے کم مدت میں قرآن مجید کی تکمیل نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بڑی رغبت کے ساتھ عبادت کرنے والے تھے، وہ ہر رات کو قرآن مجید مکمل کرتے تھے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے دنوں کی حد مقرر کی توا نھوں نے آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اصرار کے ساتھ مزید دن کم کرنے کی درخواست بھی کی تھی، اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی فرمایا کہ جو آدمی اس کتاب کو تین دنوں سے کم مدت میںپڑھ لے گا، وہ اس کو نہیں سمجھے گا۔ جہاں اس حدیث میں قرآن مجید کی تلاوت کی تکمیل کے لیے مدت کا تعین کر دیا ہے، وہاں تین ایام سے کم ختم کرنے کی وجہ سے اس چیز کی وضاحت ہو رہی ہے کہ تلاوت ِ قرآن سے مقصود قرآن فہمی ہے۔ لیکن عصر حاضر میںبالخصوص عجموں میں فہمِ قرآن کا جنازہ اٹھ چکا ہے، ہر بندہ خود بھی بغیر سوچے سمجھے قرآن مجید کی تلاوت کر رہا ہے اور اپنی اولاد کو اسی انداز کا عادی بنا رہا ہے۔ یاد رہے کہ قرآن مجید ایسے سنہری قوانین و ضوابط کا مجموعہ ہے، جن کی روشنی میں زندگی کو بہترین سانچے میں ڈھالا جا سکتا ہے اور قوانین کو بغیر سوچے سمجھے پڑھا نہیں جاتا، بلکہ ان کو سمجھ کر ان پر عمل کیا جاتا ہے۔قرآن مجید کو تین ایام سے کم مدت میں ختم کرنے سے اس لیے روکا گیا کہ قاری بغیر سمجھے تلاوت کرتا جائے گا، لیکن افسوس کہ ہم تین نہیں، تیسیا تین سو دنوں میں بھی ختم کر لیں، پھر بھی ہمیں سمجھ نہیں آتا۔
امام احمد، امام اسحق بن راہویہ اور امام ابوعبید وغیرہ کا یہی خیال ہے کہ تین دنوں سے پہلے قرآن مجید کی تکمیل نہیں کرنی چاہیے، لیکن کئی سلف صالحین سے اس سے کم مدت میں قرآن مجید کی تلاوت مکمل کرنا ثابت ہے۔ امام نووی نے کہا: راجح بات یہ ہے کہ اس میں شخصیات کا اعتبار کیا جائے گا، جو آدمی قرآن مجید کو سمجھتا ہواور دورانِ تلاوت اس پر
غور و فکر کرتا ہو، اسی طرح جو آدمی حصولِ علم اور دین کے دوسرے اہم امور اور مسلمانوں کی عام مصلحتوں میں مصروف ہو، اس کے لیے مستحبّ یہ ہے کہ وہ اتنی تلاوت کر لیا کرے، جس میں غور و فکر اور تدبر برقرار ہے اور اس کے کام میں بھی حرج نہ ہو، لیکن جس آدمی کے ایسے مشاغل نہ ہوں، اس کو حسب ِ امکان کثرت سے تلاوت کرنی چاہیے، بس ایک چیز کا خیال رکھے کہ اتنی زیادہ تلاوت نہ کرے کہ اکتا جائے۔ بہرحال ہمارا نظریہیہ ہے کہ تین دنوں سے کم مدت میں قرآن مجید کی تکمیل نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بڑی رغبت کے ساتھ عبادت کرنے والے تھے، وہ ہر رات کو قرآن مجید مکمل کرتے تھے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے دنوں کی حد مقرر کی توا نھوں نے آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اصرار کے ساتھ مزید دن کم کرنے کی درخواست بھی کی تھی، اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی فرمایا کہ جو آدمی اس کتاب کو تین دنوں سے کم مدت میںپڑھ لے گا، وہ اس کو نہیں سمجھے گا۔ جہاں اس حدیث میں قرآن مجید کی تلاوت کی تکمیل کے لیے مدت کا تعین کر دیا ہے، وہاں تین ایام سے کم ختم کرنے کی وجہ سے اس چیز کی وضاحت ہو رہی ہے کہ تلاوت ِ قرآن سے مقصود قرآن فہمی ہے۔ لیکن عصر حاضر میںبالخصوص عجموں میں فہمِ قرآن کا جنازہ اٹھ چکا ہے، ہر بندہ خود بھی بغیر سوچے سمجھے قرآن مجید کی تلاوت کر رہا ہے اور اپنی اولاد کو اسی انداز کا عادی بنا رہا ہے۔ یاد رہے کہ قرآن مجید ایسے سنہری قوانین و ضوابط کا مجموعہ ہے، جن کی روشنی میں زندگی کو بہترین سانچے میں ڈھالا جا سکتا ہے اور قوانین کو بغیر سوچے سمجھے پڑھا نہیں جاتا، بلکہ ان کو سمجھ کر ان پر عمل کیا جاتا ہے۔قرآن مجید کو تین ایام سے کم مدت میں ختم کرنے سے اس لیے روکا گیا کہ قاری بغیر سمجھے تلاوت کرتا جائے گا، لیکن افسوس کہ ہم تین نہیں، تیسیا تین سو دنوں میں بھی ختم کر لیں، پھر بھی ہمیں سمجھ نہیں آتا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1980
حدیث نمبر: 8373M
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي كَمْ أَقْرَأُ الْقُرْآنَ قَالَ اقْرَأْهُ فِي كُلِّ شَهْرٍ قَالَ قُلْتُ إِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ اقْرَأْهُ فِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ قُلْتُ إِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ اقْرَأْهُ فِي عِشْرِينَ قَالَ قُلْتُ إِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ اقْرَأْهُ فِي خَمْسَ عَشْرَةَ قَالَ قُلْتُ إِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ اقْرَأْهُ فِي سَبْعٍ قَالَ قُلْتُ إِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ لَا يَفْقَهُهُ مَنْ يَقْرَؤُهُ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ
(دوسری سند) سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے اس طرح بھی مروی ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں کتنے دنوں میں قرآن ختم کیا کرو فرمایا ہر ماہ میں ختم کرو میں نے کہا: مجھے زیادہ قوت ہے پچیس دنوں میں پڑھ لو میں نے کہا: مجھ میں زیادہ قوت ہے کہا: میں دن میں پڑھ لو، میں نے کہا: مجھ میں اس سے زیادہ قوت ہے فرمایا پندہ دنوں میں قرآن ختم کر لیا کرو۔ میں نے کہا: مجھ میں اس سے زیادہ قوت ہے فرمایا سات دنوں میں پڑھ لیا کرو۔ میں نے کہا: مجھ میں اس سے زیادہ قوت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تین دن سے کم میں پڑھے گا اس نے اسے سمجھا نہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8373M]
تخریج الحدیث: «تخريج حديث صحيح لغيره، وانظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6516»
الحكم على الحديث:
تخريج حديث صحيح لغيره
6. بَابُ الْاقْتِصَادِ فِي الْقِرَائَةِ خَوْفَ الْمَلَلِ، وَفِي كَمْ يُقرَأ الْقُرْآنُ؟
بوریت کے ڈر سے قراء ت ِ قرآن میںمیانہ روی اختیار کرنے کا، نیز اس چیز کا بیان¤کہ کتنے دنوں میں قرآن مجید کی تکمیل کی جائے
حدیث نمبر: 8374
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَيْضًا أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنِي هَذَا يَقْرَأُ الْمُصْحَفَ بِالنَّهَارِ وَيَبِيتُ بِاللَّيْلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَا تَنْقِمُ أَنَّ ابْنَكَ يَظَلُّ ذَاكِرًا وَيَبِيتُ سَالِمًا
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے ہی روایت ہے کہ ایک آدمی اپنا بیٹا لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! یہ میرا بیٹا دن میں قرآن پڑھتا رہتا ہے اور رات کو سو جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو یہ بات پسند نہیں کرتا کہ تیرا بیٹا دن کو ذکر کرتا ہے اور رات کو سلامتی کے ساتھ سو جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8374]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة، وحييِّ بن عبد الله المعافري، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6614 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6614»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة
حدیث نمبر: 8375
عَنْ جُنْدُبِ بْنِ سُفْيَانَ الْبَجَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اقْرَءُوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ عَلَيْهِ قُلُوبُكُمْ فَإِنِ اخْتَلَفْتُمْ فَقُومُوا
۔ سیدنا جندب بن سفیان بَجَلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تک تمہارے دل (غور و فکر اور شوق کے ساتھ) مانوس رہیں، اس وقت تک قرآن مجید کی تلاوت کرو اور جب اکتاہٹ اور بوریت ہو جائے تو (تلاوت روک کر) کھڑے ہو جاؤ۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8375]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5061، 7364، ومسلم: 2667، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18816 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19022»
وضاحت: فوائد: … یعنی جب تک دل قرآن مجید کی طرف متوجہ رہے اور کلی طور پر اس کی قراء ت سے متفق رہے۔
قرآن مجید کی تلاوت نیک لوگوں کا مشغلہ ہے، اس باب میں زیادہ سے زیادہ تلاوت کی حد مقرر کی گئی ہے، بہرحال کم از کم تیس چالیس دنوں میں ا یک بار مکمل قرآن مجید کی تلاوت کرنی چاہیے اور زیادہ سے زیادہ تین ایام میں، تلاوت کرتے وقت پورے شوق اور رغبت سے الفاظ پر توجہ کرنی چاہیے، اکتاہت اور بوریت کی صورت میں تلاوت بند کر لینی چاہیے۔
قرآن مجید کی تلاوت نیک لوگوں کا مشغلہ ہے، اس باب میں زیادہ سے زیادہ تلاوت کی حد مقرر کی گئی ہے، بہرحال کم از کم تیس چالیس دنوں میں ا یک بار مکمل قرآن مجید کی تلاوت کرنی چاہیے اور زیادہ سے زیادہ تین ایام میں، تلاوت کرتے وقت پورے شوق اور رغبت سے الفاظ پر توجہ کرنی چاہیے، اکتاہت اور بوریت کی صورت میں تلاوت بند کر لینی چاہیے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5061