🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْجَهْرِ بِقِرَانَةِ الْقُرْآنِ وَالتَّغَنِّى بِهِ وَحُسْنِ الصَّوْتِ
قرآن پاک دلکش آواز میں پڑھنے کی ترغیب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8357
عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَرَأَ أَلْفَ آيَةٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُتِبَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى
۔ سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو رضائے الٰہی کی خاطر ہزار آیات پڑھے گا، روزِ قیامت اس کا ساتھ انبیائے کرام، صدیقوں، شہیدوں اور نیک لوگوں میں لکھا جائے گا اور ان لوگوں کا ساتھ کتنا ہی اچھا ہے، ان شاء اللہ۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8357]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، لضعف زبان بن فائد، وسھل بن معاذ في رواية زبان عنه۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 20/399، وابويعلي: 1489، والحاكم: 2/ 87، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15611 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15696»
وضاحت: فوائد: … خشوع و خضوع، رقت اور خوبصورت آواز کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کرنا اللہ تعالی کے ہاں پسندیدہ عمل ہے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8358
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْءٍ مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ زَادَ فِي رِوَايَةٍ فِيمَا يَجْهَرُ بِهِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے کبھی کسی چیز کو اس قدر غور سے نہیں سنا جتنا وہ اپنے نبی کی آواز سننے کے لئے کان لگاتے ہیں، جب وہ قرآن بلند آواز سے پڑھ رہا ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8358]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5023، 5024، 7482، ومسلم: 792، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7670 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7657»
وضاحت: فوائد: … وکیع راوی کا بیان کیا ہوا معنی درست نہیں ہے، اس کا صحیح معنی قرآن پاک کو خوبصورت آواز میں پڑھنے کا ہے۔
(وہ ہم سے نہیں جو قرآن مجید کے ساتھ (اور چیزوں سے) مستغنی نہیں ہوتا۔ حدیث کا یہ مفہوم بھی ٹھیک ہے، امام بخاری نے اسی زیر مطالعہ حدیث کے لیے عنوان قائم کر کے قرآن مجید کییہ آیت پیش کی ہے۔ {اَوَ لَمْ یَکْفِہِمْ اَنَّآ اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْکِتٰبَ یُتْلٰی عَلَیْہِمْ } (العنکبوت: ۵۱) کیا ان کو یہ کافی نہیں کہ ہم نے تجھ پر کتاب نازل کی ہے، وہ ان پر پڑھی جاتی ہے۔ یعنییہ کتاب پہلی کتب سماوی سے مستغنی کرتی ہے فضول اشعار اور تحریروں سے بے پرواہ کرتی ہے۔ (بخاری، باب من لم یتغنی بالقرآن قبل الحدیث: ۵۰۲۲) معلوم ہوتا ہے کہ حدیث کے دونوں مفہوم درست ہیںیہ حدیث نبوی کا ایک کمال ہے۔) (عبداللہ رفیق)
بلاشبہ خوبصورت آواز سے قرآن مجید کے حسن میں اضافہ ہوتاہے اور تلاوت کرنے والوں اور سننے والوں میں مزید تلاوت کرنے اور سننے کی تمنا پیدا ہوتی ہے، لیکن اس معاملے میں تکلف سے گریز کرنا ضروری ہے۔
معلوم ہوا کہ قرآن مجید کی تلاوت کرتے وقت مخصوص سریلی آواز کا اہتمام کیا جائے، لیکن اس معاملے میں عرب کے لہجے کو سامنے رکھنا چاہیے، جیسے حرم مکی کے امام تلاوت کرتے ہیں، زیادہ تکلف سے بچنا چاہیے، جیسے آج کل مصری قراء کی تلاوت کا انداز ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8359
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ قَالَ وَكِيعٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَعْنِي يَسْتَغْنِي بِهِ
۔ سیدناسعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو قرآن پاک گا کر نہیں پڑھتا، وہ ہم سے نہیں ہے۔ وکیع راوی نے اس کا یہ معنی بیان کیا: وہ اس کے ذریعے لوگوں سے مستغنی ہو جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8359]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 1470، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1549 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1549»
وضاحت: فوائد: … مخفی صدقہ افضل ہے، کیونکہ اس میں ریاکاری کا شبہ نہیں ہوتا، اگر ریاکاری کا شبہ نہ ہو اور کسی کو نصیحت کرنا مقصود ہو تو اعلانیہ صدقہ بھی درست ہے، یہی حکم تلاوت ِ قرآنِ مجید کا ہے،

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8360
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْجَاهِرُ بِالْقُرْآنِ كَالْجَاهِرِ بِالصَّدَقَةِ وَالْمُسِرُّ بِالْقُرْآنِ كَالْمُسِرِّ بِالصَّدَقَةِ
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلند آواز سے قرآن کی تلاوت کرنے والا اعلانیہ صدقہ کرنے والے کی طرح ہے اور پوشیدہ آواز میں تلاوت کرنے والا مخفی انداز میں صدقہ کرنے والے کی طرح ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8360]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود:1333، والنسائي: 5/ 80، والترمذي: 2919، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17444 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17581»
وضاحت: فوائد: … اَوَّاہ کے معانی: آہیں بھرنے والا، گڑگڑانے والا، زیادہ رونے والا، زیادہ دعائیں کرنے والا

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8361
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ يُقَالُ لَهُ ذُو الْبِجَادَيْنِ إِنَّهُ أَوَّاهٌ وَذَلِكَ أَنَّهُ كَانَ رَجُلًا كَثِيرَ الذِّكْرِ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْقُرْآنِ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ فِي الدُّعَاءِ
۔ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذو بِجادَین نامی ایک آدمی کے بارے میں فرمایا: بیشک وہ بہت زیادہ گڑگڑانے والا ہے۔ یہ آدمی بہت زیادہ قرآن مجید کی تلاوت کر کے ذکر میں مشغول رہنے والا تھا اور دعا کرتے وقت اپنی آواز کو بلند کرتا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8361]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 17/ 813، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17453 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17592»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8362
عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَلَّهُ أَشَدُّ أَذَنًا إِلَى الرَّجُلِ حَسَنِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ مِنْ صَاحِبِ الْقَيْنَةِ إِلَى قَيْنَتِهِ
۔ سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس آدمی کی طرف بہت زیادہ کان لگاتے ہیں، جو قرآن پاک خوبصورت آواز سے پڑھتا ہے، گانے والی کا مالک بھی گانے والی کی طرف اتنا کان نہیں لگاتا۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8362]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، فان اسماعيل بن عبيد الله لم يدرك فضالة بن عبيد، بينھما ميسرة مولي فضالة، وھو مجھول۔ أخرجه الحاكم: 1/ 570، والبيھقي: 10/ 230، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23947 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24446»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8363
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ فَسَمِعَ قِرَاءَةَ رَجُلٍ فَقَالَ مَنْ هَذَا قِيلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ فَقَالَ لَقَدْ أُوتِيَ هَذَا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے اور ایک آدمی کی تلاوت کی آواز سنی اور پوچھا: یہ کون ہے؟ کسی نے کہا: یہ عبداللہ بن قیس ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تحقیق اس کو داود علیہ السلام کی بانسریاں عطا کی گئی ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8363]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 1341، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9806 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9805»
وضاحت: فوائد: … بانسری سے مراد خوبصورت آواز ہے اور آل داود سے مراد خود داود علیہ السلام ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8364
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ الْأَشْعَرِيَّ أُعْطِيَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ
۔ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عبداللہ بن قیس اشعری کو داود علیہ السلام کی بانسریوں میں سے ایک بانسری عطا کی گئی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8364]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوعوانة: 3890، وابن حبان: 892، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23033 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23421»
وضاحت: فوائد: … ان روایات کا مقصود یہ ہے کہ تجوید و حسن صوت اور خوش آوازی و خوش الحانی کے ساتھ ایسے سوز میں تلاوت کی جائے کہ جس سے رقت طاری ہو جائے اور حرفوں کی ادائیگی اس طرح ہو کہ اس میں کمییا بیشی نہ ہو۔ زیادہ تکلف اور تصنع سے بچا جائے، جیسے آج کل کے بہت سے قاری بالخصوص مصر کے بعض قراء تلاوت کرتے ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ مَا جَاءَ فِي تَرْتِيلِ الْقِرَاءَةِ وَقِرَاءَةِ النَّبِي ﷺ
قرآن پاک ٹھہر ٹھہر کر (ترتیل سے) پڑھا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8365
عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ زَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ
۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی آوازوں کے ذریعہ قرآن پاک کو خوبصورت بناؤ۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8365]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1468، والنسائي: 2/ 179، وعلقه البخاري في صحيحه في كتاب التوحيد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18494 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18688»
وضاحت: فوائد: … یہ وہ لوگ تھے جو زبان سے تو قرآن مجید کی تلاوت کر رہے تھے، لیکن ان کے دلوں نے نہ اس کتاب کو سمجھا اور نہ اس سے متأثر ہوئے۔قرآن مجید کتنے دنوں میں ختم کرنا چاہیے؟ ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۸۳۷۳م)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8366
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ ذُكِرَ لَهَا أَنَّ نَاسًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ فِي اللَّيْلَةِ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ فَقَالَتْ أُولَئِكَ قَرَءُوا وَلَمْ يَقْرَءُوا كُنْتُ أَقُومُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ التَّمَامِ وَفِي رِوَايَةٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ اللَّيْلَةَ التَّمَامَ فَكَانَ يَقْرَأُ سُورَةَ الْبَقَرَةِ وَآلَ عِمْرَانَ وَالنِّسَاءِ فَلَا يَمُرُّ بِآيَةٍ فِيهَا تَخَوُّفٌ إِلَّا دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَاسْتَعَاذَ وَلَا يَمُرُّ بِآيَةٍ فِيهَا اسْتِبْشَارٌ إِلَّا دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَغِبَ إِلَيْهِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ان کے سامنے ایسے لوگوں کا ذکر کیا گیا، جو ایک رات میں ایک دو دو بار قرآن مجید پڑھ لیتے ہیں، سیدہ نے ان کے بارے میں کہا: ان کا پڑھنا بھی نہ پڑھنے کی طرح ہے، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساری رات قیام کرتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورۂ بقرہ، سورۂ آل عمران اور سورۂ نساء پڑھتے تھے اور جب خوف والی آیت کی تلاوت کرتے تواللہ تعالیٰ سے دعا کرتے اور پناہ طلب کرتے اور اگر خوشخبری والی آیت کے پاس سے گزرتے تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے اور اس کے سامنے عاجزانہ درخواست کرتے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8366]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه البيھقي: 2/ 310، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24609 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25116»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث مختلف طرق سے روایت کی گئی ہے، دو سندیں اور ان کے متون درج ذیل ہیں غور فرمائیں: ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں: قَالَ نَافِعٌ: أُرَاھَا حَفْصَۃَ أَنَّہَا سُئِلَتْ عَنْ قِرَائَ ۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَتْ: إِنَّکُمْ لاَتَسْتَطِیْعُوْنَہَا، قَالَ: فَقِیْلَ لَھَا: أَ خْبِرِیْنَا بِہَا، قَالَ: فَقَرَأَ تْ قِرَائَ ۃً تَرَسَّلَتْ فِیْہَا، قَالَ أَ بُوْعَامِرٍ: قَالَ نَافِعٌ: فَحَکٰی لَنَا اِبْنُ أَ بِی مُلَیْکَۃَ {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ} ثُمَّ قَطَعَ، {اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ}، ثُمَّ قَطَعَ، {مَالِکِ یَوْمِ الدَّیِْن}۔ ایک زوجۂ رسول، غالبا وہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں، بیان کرتی ہیں کہ ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراء ت کے بارے میں سوال کیا گیا، انھوں نے کہا: تم تو اس کی استطاعت ہی نہیں رکھتے۔ کسی نے ان سے کہا: آپ ہمیں بتلا تو دیں۔ جوابا ً انہوں نے قراء ت کی اور اس میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھا۔ابن ابی ملیکہ نے اس کو یوں بیان کیا: {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ} پڑھا، پھر ٹھہر گئے، پھر {اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} پڑھا اور اس پر وقف کیا، پھر {مَالِکِ یَوْمِ الدَّیِْن} پڑھا۔ ابن ابی ملیکہ سے مروی ہے کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراء ت کے بارے میں سوال کیا گیا، انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر آیت پر ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کرتے تھے: {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مَالِکِ یَوْمِ الدَّیِْن}۔ (مسند احمد: ۲۶۵۸۳، ابوداود: ۴۰۰۱، ترمذی: ۲۹۲۷)
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ قرآن مجید کی تلاوت کے دوران ہر آیت پر وقف بھی کیا جائے اور ٹھہراؤ کا بھی خیال رکھا جائے۔ وائے مصیبت! اکثر مسلمان تلاوت ِ قرآن کے سلسلے میں مقدار کی طرف توجہ کرتے ہیں، معیار کو نہیں دیکھتے، بالخصوص تراویح اور رمضان میں۔ ان کا ذہن یہ ہوتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ پاروں کی تلاوت کرکے جلدی جلدی قرآن مجید ختم کیا جائے۔ ایسے لوگوں سے گزارش ہے کہ سب سے پہلے اپنے عمل میں معیار کے مطابق حسن پیدا کریں، ترتیل کے ساتھ تلاوت کریں اور ہر ایک آیت پر وقف کریں، اگر زیادہ مقدار چاہتے ہیں تو زیادہ وقت دیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں