الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ سُورَةِ الْبَقَرَةِ وَمَا جَاءَ فِي فَضْلِهَا
سورۂ بقرہ کی تفسیر اور اس کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر: 8482
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ تَعَلَّمُوا سُورَةَ الْبَقَرَةِ فَإِنَّ أَخْذَهَا بَرَكَةٌ وَتَرْكَهَا حَسْرَةٌ وَلَا يَسْتَطِيعُهَا الْبَطَلَةُ قَالَ ثُمَّ مَكَثَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ تَعَلَّمُوا سُورَةَ الْبَقَرَةِ وَآلَ عِمْرَانَ فَإِنَّهُمَا الزَّهْرَاوَانِ يُظِلَّانِ صَاحِبَهُمَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ أَوْ غَيَايَتَانِ أَوْ فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ وَإِنَّ الْقُرْآنَ يَلْقَى صَاحِبَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حِينَ يَنْشَقُّ عَنْهُ قَبْرُهُ كَالرَّجُلِ الشَّاحِبِ فَيَقُولُ لَهُ هَلْ تَعْرِفُنِي فَيَقُولُ مَا أَعْرِفُكَ فَيَقُولُ لَهُ هَلْ تَعْرِفُنِي فَيَقُولُ مَا أَعْرِفُكَ فَيَقُولُ أَنَا صَاحِبُكَ الْقُرْآنُ الَّذِي أَظْمَأْتُكَ فِي الْهَوَاجِرِ وَأَسْهَرْتُ لَيْلَكَ وَإِنَّ كُلَّ تَاجِرٍ مِنْ وَرَاءِ تِجَارَتِهِ وَإِنَّكَ الْيَوْمَ مِنْ وَرَاءِ كُلِّ تِجَارَةٍ فَيُعْطَى الْمُلْكَ بِيَمِينِهِ وَالْخُلْدَ بِشِمَالِهِ وَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ تَاجُ الْوَقَارِ وَيُكْسَى وَالِدَاهُ حُلَّتَيْنِ لَا يُقَوَّمُ لَهُمَا أَهْلُ الدُّنْيَا فَيَقُولَانِ بِمَ كُسِينَا هَذِهِ فَيُقَالُ بِأَخْذِ وَلَدِكُمَا الْقُرْآنَ ثُمَّ يُقَالُ لَهُ اقْرَأْ وَاصْعَدْ فِي دَرَجَةِ الْجَنَّةِ وَغُرَفِهَا فَهُوَ فِي صُعُودٍ مَا دَامَ يَقْرَأُ هَذًّا كَانَ أَوْ تَرْتِيلًا
۔ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہواتھا، میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: سورۂ بقرہ سیکھو، اس کی تعلیم حاصل کرنا باعث ِ برکت ہے اور اسے چھوڑنا باعث ِ حسرت ہے، باطل پرست اس پر غالب نہیں آ سکتے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ دیر کے لیے ٹھہر گئے اور پھر فرمایا: سورۂ بقرہ اور سورۂ آل عمران سیکھو،یہ دونوں چمکدار اور خوبصورت سورتیں ہیں،یہ روز قیامت اپنے پڑھنے والوں کواس طرح ڈھانپ لیں گی گویا کہ دو بادل ہوں یا دو سایہ دار چیزیں یا پر پھیلائے ہوئے پرندوں کے دو غول ہوں اور یقیناقرآن مجید قیامت کے دن تلاوت کرنے والے کو اس وقت ملے گا، جب اس کی قبر پھٹے گی، وہ کمزور اوررنگت تبدیل شدہ آدمی کی مانند ہوگا اور بندے سے کہے گا: کیا تو مجھے پہچانتا ہے؟ وہ کہے گا: میں نہیں پہچانتا، قرآن پھر کہے گا: کیا تو مجھے پہچانتا ہے؟ یہ کہے گا: میں نہیں پہچانتا، وہ کہے گا: میں تیرا ساتھی قرآن ہوں، جس نے تجھے دوپہر کے وقت پیاسا رکھا اورتجھے رات کو جگاتا رہا، آج ہر تاجر اپنی تجارت کے پیچھے ہے (یعنی ہر تاجر اپنی تجارت سے نفع حاصل کرنے کی امید رکھتا ہے) اور آج تو ہر تجارت کے پیچھے ہو۔ (یعنی آج تجھے ہر تجارت سے بڑھ کر فائدہ حاصل ہوگا) پھر اسے دائیں ہاتھ میں بادشاہت اور بائیں ہاتھ میں ہمیشگی دی جائیگی، اس کے سر پر وقار کا تاج رکھا جائے گا، اور اس کے والدین کو دو عمدہ پوشاکیں پہنائی جائیں گی، وہ اس قدر بیش قیمت ہوں گی کہ دنیا ومافیہا (کی قیمت) ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ وہ کہیں گے: اے ہمارے ربّ! یہ پوشاکیں ہمارے لیے کیوں ہیں؟ انہیں بتایا جائے گا کہ تمہارے بیٹے کے قرآن پڑھنے کی وجہ سے پہنایا گیا ہے، پھر اس سے کہا جائے گا پڑھتا جا اور جنت کی منزلیں طے کرتا جا، وہ جنت کے بالا خانوں میں چڑھتا جائے گا، جب تک پڑھتا جائے گا، چڑھتا جائے گا، تیز پڑھے یا آہستہ پڑھے۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8482]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن في المتابعات من اجل بشير بن المھاجر الغنوي، وحسّنه الحافظ ابن كثير في تفسيره، ولبعضه شواھد يصح بھا۔ أخرجه البزار: 2302، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22950 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23338»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن في المتابعات من اجل بشير بن المھاجر الغنوي
حدیث نمبر: 8483
عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْبَقَرَةُ سَنَامُ الْقُرْآنِ وَذُرْوَتُهُ نَزَلَ مَعَ كُلِّ آيَةٍ مِنْهَا ثَمَانُونَ مَلَكًا وَاسْتُخْرِجَتْ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ فَوُصِلَتْ بِهَا أَوْ فَوُصِلَتْ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ وَيَسٓ قَلْبُ الْقُرْآنِ لَا يَقْرَؤُهَا رَجُلٌ يُرِيدُ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَالدَّارَ الْآخِرَةَ إِلَّا غُفِرَ لَهُ وَاقْرَءُوهَا عَلَى مَوْتَاكُمْ
۔ سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سورۂ بقرہ قرآن مجید کی کوہان اور اس کی چوٹی ہے، اس کی ہر آیت کے ساتھ اسی (۸۰) فرشتے نازل ہوئے اور اس کی آیت {لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ} کو عرش الٰہی کے نیچے سے نکالا گیا اور اور پھر اس کو سورۂ بقرہ کے ساتھ ملا دیا گیا۔ سورۂ یٰسین، قرآن مجید کا دل ہے، جو بھی اسے اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر اور آخرت کے ثواب کے لئے پڑھے گا، اللہ تعالیٰ اسے معاف کر دے گا، اپنے قریب المرگ لوگوں کے قریب اس سورت کی تلاوت کیا کرو۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8483]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة الرجل وابيه، وسمي في رواية بأبي عثمان، ولا يعرف أخرجه النسائي في عمل اليوم والليلة: 1075، والطبراني: 20/ 511، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20300 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20566»
وضاحت: فوائد: … درج ذیل حدیث سے ثابت ہوا کہ سورۂ بقرہ واقعی قرآن مجید کی کوہان اور چوٹی ہے: سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ موقوفًا اور مرفوعًا روایت کرتے ہیں: ((اِنَّ لِکُلِّ شَيْئٍ سَنَامًاوَسَنَامُ الْقُرْآنِ سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃِ، وَاِنَّ الشَّیْطَانَ اِذَا سَمِعَ سُوْرَۃَ الْبَقَرَۃِ خَرَجَ مِنَ الْبَیْتِ الَّذِي یُقْرَأُ فِیْہِ سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃِ۔)) … ہر چیز کی ایک کوہان ہوتی ہے اور قرآن کی کوہان سورۂ بقرہ ہے اور جب شیطان سورۂ بقرہ کی تلاوت سنتا ہے تو وہ اس گھر سے نکل جاتا ہے جس میں اس سورت کی تلاوت کی جا رہی ہو۔ (حاکم: ۱/ ۵۶۱، صحیحہ: ۵۸۸)
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة الرجل وابيه
حدیث نمبر: 8484
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ مَقَابِرَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَفِرُّ مِنَ الْبَيْتِ الَّذِي يُقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ، شیطان اس گھر سے بھاگ جاتا ہے، جس میں سورۂ بقرہ پڑھی جاتی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8484]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 780، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7821 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7808»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا مضمون درج ذیل مرفوع روایت میں بھی بیان کیا گیا ہے: سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے
ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِقْرَؤُوْا سُوْرَۃَ الْبَقَرَۃِ فِيْ بُیُوْتِکُمْ، فَاِنَّ الشَّیْطَانَ لَا یَدْخُلُ بَیْتًایُقْرَاُ فِیْہِ سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃِ۔)) … اپنے گھروں میں سورۂ بقرہ کی تلاوت کیا کرو، کیونکہ جس گھر میں سورۂ بقرہ کی تلاوت کی جاتی ہے، اس میں شیطان نہیں گھستا۔ (حاکم: ۱/۵۶۱، صحیحہ:۱۵۲۱)
سورۂ بقرہ حق ہے اور شیطان باطل ہے، جہاں حق کا ظہور اور آمد ہو، باطل وہاں سے دم دبا کر بھاگ جاتا ہے۔
ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِقْرَؤُوْا سُوْرَۃَ الْبَقَرَۃِ فِيْ بُیُوْتِکُمْ، فَاِنَّ الشَّیْطَانَ لَا یَدْخُلُ بَیْتًایُقْرَاُ فِیْہِ سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃِ۔)) … اپنے گھروں میں سورۂ بقرہ کی تلاوت کیا کرو، کیونکہ جس گھر میں سورۂ بقرہ کی تلاوت کی جاتی ہے، اس میں شیطان نہیں گھستا۔ (حاکم: ۱/۵۶۱، صحیحہ:۱۵۲۱)
سورۂ بقرہ حق ہے اور شیطان باطل ہے، جہاں حق کا ظہور اور آمد ہو، باطل وہاں سے دم دبا کر بھاگ جاتا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 780
4. بَابُ «اَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا» وَقِصَّةِ هَارُوتَ وَمَارُوتَ
{اَتَجْعَلُ فِیْہا مَنْ یُفْسِدُ فِیَہَا} کی تفسیر اور ہاروت اور ماروت کا قصہ
حدیث نمبر: 8485
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ سَمِعَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمَّا أَهْبَطَهُ اللَّهُ تَعَالَى إِلَى الْأَرْضِ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ أَيْ رَبِّ أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ قَالُوا رَبَّنَا نَحْنُ أَطْوَعُ لَكَ مِنْ بَنِي آدَمَ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى لِلْمَلَائِكَةِ هَلُمُّوا مَلَكَيْنِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ حَتَّى يُهْبَطَ بِهِمَا إِلَى الْأَرْضِ فَنَنْظُرَ كَيْفَ يَعْمَلَانِ قَالُوا رَبَّنَا هَارُوتُ وَمَارُوتُ فَأُهْبِطَا إِلَى الْأَرْضِ وَمُثِّلَتْ لَهُمَا الزُّهْرَةُ امْرَأَةً مِنْ أَحْسَنِ الْبَشَرِ فَجَاءَتْهُمَا فَسَأَلَاهَا نَفْسَهَا فَقَالَتْ لَا وَاللَّهِ حَتَّى تَكَلَّمَا بِهَذِهِ الْكَلِمَةِ مِنَ الْإِشْرَاكِ فَقَالَا وَاللَّهِ لَا نُشْرِكُ بِاللَّهِ أَبَدًا فَذَهَبَتْ عَنْهُمَا ثُمَّ رَجَعَتْ بِصَبِيٍّ تَحْمِلُهُ فَسَأَلَاهَا نَفْسَهَا فَقَالَتْ لَا وَاللَّهِ حَتَّى تَقْتُلَا هَذَا الصَّبِيَّ فَقَالَا وَاللَّهِ لَا نَقْتُلُهُ أَبَدًا فَذَهَبَتْ ثُمَّ رَجَعَتْ بِقَدَحِ خَمْرٍ تَحْمِلُهُ فَسَأَلَاهَا نَفْسَهَا قَالَتْ لَا وَاللَّهِ حَتَّى تَشْرَبَا هَذَا الْخَمْرَ فَشَرِبَا فَسَكِرَا فَوَقَعَا عَلَيْهَا وَقَتَلَا الصَّبِيَّ فَلَمَّا أَفَاقَا قَالَتِ الْمَرْأَةُ وَاللَّهِ مَا تَرَكْتُمَا شَيْئًا مِمَّا أَبَيْتُمَاهُ عَلَيَّ إِلَّا قَدْ فَعَلْتُمَا حِينَ سَكِرْتُمَا فَخُيِّرَا بَيْنَ عَذَابِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ فَاخْتَارَا عَذَابَ الدُّنْيَا
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو زمین پر اتارا تو فرشتوں نے کہا: اے ہمارے پروردگار! {أَ تَجْعَلُ فِیہَا مَنْ یُفْسِدُ فِیہَا وَیَسْفِکُ الدِّمَائَ، وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ قَالَ إِنِّی أَ عْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ} … کیا تو اس زمین میں اس بشر کو آباد کرنے والا ہے، جو اس میں فساد کرے گا اور خون بہائے گا، جبکہ ہم تیری تسبیح بیان کرتے ہیں اور پاکیزگی بیان کرتے ہیں، اللہ نے کہا:میں و ہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ لیکن فرشتوں نے کہا: ہم آدم کی اولاد کی بہ نسبت تیرے زیادہ مطیع ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا: اچھا پھر دو فرشتے لاؤ تا کہ ہم انہیں زمین پر اتاریں اور دیکھیں کہ وہ کیا عمل کرتے ہیں، انہوں نے کہا: اے ہمارے پروردگار! یہ ہاروت اور ماروت دو فرشتے ہیں، پس انہیں زمین پر اتارا گیا اور ان کے سامنے ایک حسین ترین عورت پیش کی گئی،یہ دونوں اس کے پاس آئے اور اس سے اس کے نفس کا یعنی بدکاری کا مطالبہ کیا، لیکن اس نے کہا: اللہ کی قسم: نہیں، اس وقت تک تم قریب نہیں آ سکتے، جب تک تم اللہ تعالیٰ سے شرک والا کلمہ نہیں کہو گے، انہوں نے کہا: ہم تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہیں کر سکتے۔ سو وہ چلی گئی اور پھر ایک بچہ لے کر دوبارہ آ گئی، انہوں نے پھراس عورت سے بدکاری کا مطالبہ کیا، لیکن اس نے کہا:جب تک تم اس بچے کوقتل نہیں کرتے، میرے قریب نہیں آ سکتے۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم اسے تو قتل نہیں کر سکتے، وہ چلی گئی اور اگلی بار شراب کا پیالہ لے کر آئی، جب انہوں نے پھر اس سے اس کے نفس کا مطالبہ کیا تو اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں تمہیں قریب نہیں آنے دوں گی،یہاں تک کہ تم یہ شراب پی لو، جب انہوں نے شراب پی لی تو(نشے میں آ کر)اس عورت سے بدکاری بھی کر لی اور بچے کو قتل بھی کر دیا، جب ان کو ہوش آئی تو اس عورت نے کہا: اللہ کی قسم! ہر جس جس چیز کے انکاری تھی، تم نے نشہ کی حالت میں اس کا ارتکاب کر لیا ہے، (اس جرم کی پاداش میں) انہیں دنیا اور آخرت کے عذاب میں سے ایک کو منتخب کرنے کا کہا گیا، انہوں نے دنیا کا عذاب اختیار کیا۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8485]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف ومتنه باطل، موسي بن جبير الانصاري المدنييخطيء ويخالف، وقال الحافظ: مستور، وزھير بن محمد الخراساني صدوق منكر الحديث۔ والصحيح ان ھذا الحديث لا تصح نسبته الي النبي الكريم صلي الله عليه وآله وسلم وانما ھو من قصص كعب الاحبار، نقله عن كتب بني اسرائيل۔ أخرجه ابن حبان: 6186،و البزار: 2938، والبيھقي: 10/ 4، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6178 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6178»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث تو ضعیف ہے، البتہ فرشتوں کا یہ کہنا حسد یا اعتراض کے طور پر نہیں تھا، بلکہ اس کی حقیقت اور حکمت معلوم کرنے کی غرض سے تھا کہ اے ربّ! اس مخلوق کے پیدا کرنے میں کیا حکمت ہے، جبکہ ان میں کچھ ایسے لوگ بھی ہوں گے، جو فساد پھیلائیں گے اور خون ریزی کریں گے؟ اگر مقصود یہ ہے کہ تیری عبادت ہو تو اس کام کے لیے ہم موجود ہیں، ہم سے وہ خطرات بھی نہیں جو نئی مخلوق میں متوقع ہیں؟ اللہ تعالی نے فرمایا: میں وہ مصلحت ِ راجحہ جانتا ہوں جس بنا پر ان ذکر کردہ مفاسد کے باوجود میں اسے پیدا کر رہا ہوں، جو تم نہیں جانتے، کیونکہ ان میں انبیائ، صلحائ، شہداء اور اتقیا بھی ہوں گے۔ ہاروت اور ماروت واقعی دو فرشتے ہیں، سورۂ بقرہ کی آیت نمبر (۱۰۲) میں ان کا ذکر موجود ہے، اللہ تعالی نے بابل میں ان پر جادو کا علم نازل کیا تھا تاکہ وہ لوگوں کو بتائیں کہ انبیاء و رسل کے ہاتھوں پر ظاہر شدہ معجزے، جادو سے مختلف چیز ہے اور جادو یہ ہے جس کا علم اللہ تعالی کی طرف سے ہم دو فرشتوں کو عطا کیا گیا ہے۔ اس دور میں جادو عام ہونے کی وجہ سے لوگ انبیائے کرام کو نعوذ باللہ جادو گر اور شعبدہ باز سمجھنے لگے تھے، اسی مغالطے سے لوگوں کو بچانے کے لیے اور بطورِ امتحان ان فرشتوں کو نازل کیا گیا۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف ومتنه باطل
5. بَابُ: «ادْخُلُو الْبَابَ سُجَّدًا وَقُوْلُوْا حِطَةٌ»
{ادْخُلُو الْبَابَ سُجَّدًا} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8486
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا} قَالَ دَخَلُوا زَحْفًا {وَقُولُوا حِطَّةٌ} قَالَ بَدَّلُوا فَقَالُوا حِنْطَةٌ فِي شَعْرَةٍ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا} … (سجدہ کرتے ہوئے دروازے سے داخل ہو جاؤ) لیکن وہ لوگ اس کے برعکس گھسٹ کر داخل ہوئے اور ان سے کہا گیا کہ {وَقُوْلُوا حِطَّۃٌ} … (اور کہو بخش دے) لیکن انھوں نے حکم کو بدل دیا اور کہا: بالی میں گندم کا دانہ۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8486]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4479، ومسلم: 3015، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8110 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8095»
وضاحت: فوائد: … پوری آیتیوں ہے: {وَاِذْ قُلْنَا ادْخُلُوْا ھٰذِہِ الْقَرْیَۃَ فَکُلُوْا مِنْہَا حَیْثُ شِئْتُمْ رَغَدًا وَّادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّقُوْلُوْا حِطَّۃٌ نَّغْفِرْ لَکُمْ خَطٰیٰکُمْ وَسَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ۔} … اور جب ہم نے کہا اس بستی میں داخل ہو جاؤ، پس اس میں سے کھلا کھاؤ جہاں چاہو اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو جاؤ اور کہو بخش دے، تو ہم تمھیں تمھاری خطائیں بخش دیں گے اور ہم نیکی کرنے والوں کو جلد ہی زیادہ دیں گے۔ (سورۂ بقرہ: ۵۸)
جب بنو اسرائیل میدانِ تیہ میں چالیس سال گزارنے کے بعد یوشع بن نون علیہ السلام کے ساتھ نکلے اور اللہ تعالی نے ان کو بیت المقدس کی فتح عطا کی، جبکہ اس فتح کی تکمیل کے لیے سورج کو بھی روک دیا گیا تھا، اس وقت اِن سے کہا گیا کہ سجدہ کرتے ہوئے دروازے سے داخل ہو جاؤ اور کہتے جاؤ کہ یا اللہ! ہمیں بخش دے، تاکہ فتح کے اظہار تشکر کا مظہر نظر آ جائے، لیکن انھوں نے داخل ہوتے ہوئے تضحیک آمیز انداز اپنایا،یہیہودیوں کی حکم عدولی کا حال تھا۔
جب بنو اسرائیل میدانِ تیہ میں چالیس سال گزارنے کے بعد یوشع بن نون علیہ السلام کے ساتھ نکلے اور اللہ تعالی نے ان کو بیت المقدس کی فتح عطا کی، جبکہ اس فتح کی تکمیل کے لیے سورج کو بھی روک دیا گیا تھا، اس وقت اِن سے کہا گیا کہ سجدہ کرتے ہوئے دروازے سے داخل ہو جاؤ اور کہتے جاؤ کہ یا اللہ! ہمیں بخش دے، تاکہ فتح کے اظہار تشکر کا مظہر نظر آ جائے، لیکن انھوں نے داخل ہوتے ہوئے تضحیک آمیز انداز اپنایا،یہیہودیوں کی حکم عدولی کا حال تھا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4479
6. بَابُ: «مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ۔۔۔۔۔»
{مَنْ کَانَ عَدُوٌّ لِجِبْرِیْلَ …} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8487
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَقْبَلَتْ يَهُودُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا أَبَا الْقَاسِمِ إِنَّا نَسْأَلُكَ عَنْ خَمْسَةِ أَشْيَاءَ فَإِنْ أَنْبَأْتَنَا بِهِنَّ عَرَفْنَا أَنَّكَ نَبِيٌّ وَاتَّبَعْنَاكَ فَأَخَذَ عَلَيْهِمْ مَا أَخَذَ إِسْرَائِيلُ عَلَى بَنِيهِ إِذْ قَالُوا {اللَّهُ عَلَى مَا نَقُولُ وَكِيلٌ} قَالَ هَاتُوا قَالُوا أَخْبِرْنَا عَنْ عَلَامَةِ النَّبِيِّ قَالَ تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ قَالُوا أَخْبِرْنَا كَيْفَ تُؤْنَثُ الْمَرْأَةُ وَكَيْفَ تُذْكَرُ قَالَ يَلْتَقِي الْمَاءَانِ فَإِذَا عَلَا مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَ الْمَرْأَةِ أَذْكَرَتْ وَإِذَا عَلَا مَاءُ الْمَرْأَةِ آنَثَتْ قَالُوا أَخْبِرْنَا مَا حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ قَالَ كَانَ يَشْتَكِي عِرْقَ النَّسَا فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا يُلَائِمُهُ إِلَّا أَلْبَانَ كَذَا وَكَذَا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ قَالَ أَبِي قَالَ بَعْضُهُمْ يَعْنِي الْإِبِلَ فَحَرَّمَ لُحُومَهَا قَالُوا صَدَقْتَ قَالُوا أَخْبِرْنَا مَا هَذَا الرَّعْدُ قَالَ مَلَكٌ مِنْ مَلَائِكَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مُوَكَّلٌ بِالسَّحَابِ بِيَدِهِ أَوْ فِي يَدِهِ مِخْرَاقٌ مِنْ نَارٍ يَزْجُرُ بِهِ السَّحَابَ يَسُوقُهُ حَيْثُ أَمَرَ اللَّهُ قَالُوا فَمَا هَذَا الصَّوْتُ الَّذِي يُسْمَعُ قَالَ صَوْتُهُ قَالُوا صَدَقْتَ إِنَّمَا بَقِيَتْ وَاحِدَةٌ وَهِيَ الَّتِي نُبَايِعُكَ إِنْ أَخْبَرْتَنَا بِهَا فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا لَهُ مَلَكٌ يَأْتِيهِ بِالْخَبَرِ فَأَخْبِرْنَا مَنْ صَاحِبُكَ قَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالُوا جِبْرِيلُ ذَاكَ الَّذِي يَنْزِلُ بِالْحَرْبِ وَالْقِتَالِ وَالْعَذَابِ عَدُوُّنَا لَوْ قُلْتَ مِيكَائِيلَ الَّذِي يَنْزِلُ بِالرَّحْمَةِ وَالنَّبَاتِ وَالْقَطْرِ لَكَانَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ} إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ یہودی لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور انھوں نے کہا: اے ابو القاسم! ہم آپ سے پانچ چیزوں کے بارے میں سوال کریں گے، اگر آپ ان کے جوابات دیں گے تو ہم پہچان جائیں گے کہ آپ برحق نبی ہیں اور ہم آپ کی اتباع بھی کریں گے، آپ نے ان سے اس طرح عہد لیا، جس طرح یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے عہد لیا تھا، جب انھوں نے کہا تھا ہم جو بات کر رہے ہیں، اس پر اللہ تعالیٰ وکیل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: و ہ سوال پیش کرو۔ (۱) انہوں نے کہا: ہمیں نبی کی نشانی بتائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نبی کی آنکھیں سوتی ہیں اور اس کا دل نہیں سوتا۔ (۲) انھوں نے کہا: یہ بتائیں کہ نر اورمادہ کیسے پیدا ہوتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مردوزن کا آب جو ہر دونوں ملتے ہیں،جب آدمی کا پانی عورت کے پانی پر غالب آتا ہے، تو نر پیدا ہوتا ہے اور جب عورت کا آب جو ہر غالب آتا ہے تو مادہ پیدا ہوتی ہے۔ (۳) انہوں نے کہا: ہمیں بتائو کہ یعقوب علیہ السلام نے خود پر کیا حرام قرار دیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انہیں عرق نساء کی بیماری تھی، انہیںصرف اونٹنیوں کا دودھ موافق آیا، تو صحت ہونے پر اونٹوں کا گوشت خود پر حرام قرار دے دیا۔ انہوں نے کہا: آپ سچ کہتے ہیں، (۴) اچھا یہ بتائیں کہ یہ رسد کیا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اللہ تعالیٰ کے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہے، جس کے سپرد بادل ہیںیا اس فرشتہ کے ہاتھ میں آگ کا ہنٹرہے، جس کے ساتھ وہ بادلوں کو چلاتا ہے، جہاں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا: یہ آواز کیا ہے جو سنی جاتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اسی ہنٹر کی آواز ہے۔ انہوں نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے۔ (۵) انہوں نے کہا: ایک بات رہ گئی ہے، اگر آپ اس کا جواب دیں گے تو ہم آپ کی بیعت کریں گے، وہ یہ ہے کہ ہر نبی کے لئے ایک فرشتہ مقرر ہوتا ہے، جواس کے پاس بھلائییعنی وحی لے کر آتا ہے، آپ بتائیں آپ کا فرشتہ ساتھی کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام ہیں۔ اب کی بار انھوں نے کہا: جبریل،یہ تو جنگ، لڑائی اور عذاب لے کر آتا ہے، یہ تو ہمارا دشمن ہے، اگر آپ میکائیل کہتے جو کہ رحمت، نباتات اور بارش کے ساتھ نازل ہوتا ہے، تو پھر بات بنتی، اللہ تعالیٰ نے اس وقت یہ آیت نازل کی: قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّہ نَزَّلَہُ عَلٰیقَلْبِکَ بِاِذْنِ اللّٰہِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَیَدَیْہِ وَھُدًی وَّبُشْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ۔} … کہہ دے جو کوئی جبریل کا دشمن ہو تو بے شک اس نے یہ کتاب تیرے دل پر اللہ کے حکم سے اتاری ہے، اس کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے ہے اور مومنوں کے لیے سرا سر ہدایت اور خوشخبری ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۹۷) [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8487]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني۔ أخرجه الترمذي: 3117، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2483 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2483»
وضاحت: فوائد: … جب یوسف رضی اللہ عنہ کے بھائیوں نے اپنے باپ یعقوب رضی اللہ عنہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے بیٹے کو غلہ لینے کے لیے ان کے ساتھ ان کے ساتھ بھیجیں، تو اس وقت انھوں نے ان سے پکا عہد لیا تھا کہ وہ اس کو اپنے ساتھ واپس لائیں گے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالی ہے: {قَالَ لَنْ اُرْسِلَہُ مَعَکُمْ حَتّٰی تُؤْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰہِ لَتَاْتُنَّنِیْ بِہٖٓاِلَّآاَنْیُّحَاطَ بِکُمْ فَلَمَّآ اٰتَوْہُ مَوْثِقَہُمْ قَالَ اللّٰہُ عَلٰی مَا نَقُوْلُ وَکِیْلٌ۔} … اس نے کہا میں اسے تمھارے ساتھ ہرگز نہ بھیجوں گا، یہاں تک کہ تم مجھے اللہ کا پختہ عہد دوگے کہ تم ہر صورت اسے میرے پاس لاؤ گے، مگر یہ کہ تمھیں گھیر لیا جائے۔ پھر جب انھوں نے اسے اپنا پختہ عہد دے دیا تو اس نے کہا اللہ اس پر جو ہم کہہ رہے ہیں، ضامن ہے۔ (سورۂ یوسف: ۶۶)
اس حدیث کی مزید وضاحت اگلی حدیث سے ہو رہی ہے۔
اس حدیث کی مزید وضاحت اگلی حدیث سے ہو رہی ہے۔
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 8487M
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَيْضًا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ حَضَرَتْ عِصَابَةٌ مِنَ الْيَهُودِ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقَالُوا يَا أَبَا الْقَاسِمِ حَدِّثْنَا عَنْ خِلَالٍ نَسْأَلُكَ عَنْهُنَّ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا نَبِيٌّ قَالَ سَلُونِي عَمَّا شِئْتُمْ وَلَكِنْ اجْعَلُوا لِي ذِمَّةَ اللَّهِ وَمَا أَخَذَ يَعْقُوبُ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى بَنِيهِ لَئِنْ حَدَّثْتُكُمْ شَيْئًا فَعَرَفْتُمُوهُ لَتُتَابِعُنِّي عَلَى الْإِسْلَامِ قَالُوا فَذَلِكَ لَكَ قَالَ فَسَلُونِي عَمَّا شِئْتُمْ قَالُوا أَخْبِرْنَا عَنْ أَرْبَعِ خِلَالٍ نَسْأَلُكَ عَنْهُنَّ أَخْبِرْنَا أَيُّ الطَّعَامِ حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرَاةُ وَأَخْبِرْنَا كَيْفَ مَاءُ الْمَرْأَةِ وَمَاءُ الرَّجُلِ كَيْفَ يَكُونُ الذَّكَرُ مِنْهُ وَأَخْبِرْنَا كَيْفَ هَذَا النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ فِي النَّوْمِ وَمَنْ وَلِيُّهُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ قَالَ فَعَلَيْكُمْ عَهْدُ اللَّهِ وَمِيثَاقُهُ لَئِنْ أَنَا أَخْبَرْتُكُمْ لَتُتَابِعُنِّي قَالَ فَأَعْطَوْهُ مَا شَاءَ مِنْ عَهْدٍ وَمِيثَاقٍ قَالَ فَأَنْشُدُكُمْ بِالَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ إِسْرَائِيلَ يَعْقُوبَ عَلَيْهِ السَّلَامُ مَرِضَ مَرَضًا شَدِيدًا وَطَالَ سَقَمُهُ فَنَذَرَ لِلَّهِ نَذْرًا لَئِنْ شَفَاهُ اللَّهُ تَعَالَى مِنْ سَقَمِهِ لَيُحَرِّمَنَّ أَحَبَّ الشَّرَابِ إِلَيْهِ وَأَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَيْهِ وَكَانَ أَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَيْهِ لُحْمَانَ الْإِبِلِ وَأَحَبَّ الشَّرَابِ إِلَيْهِ أَلْبَانَهَا قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ اللَّهُمَّ اشْهَدْ عَلَيْهِمْ فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ مَاءَ الرَّجُلِ أَبْيَضُ غَلِيظٌ وَأَنَّ مَاءَ الْمَرْأَةِ أَصْفَرُ رَقِيقٌ فَأَيُّهُمَا عَلَا كَانَ لَهُ الْوَلَدُ وَالشَّبَهُ بِإِذْنِ اللَّهِ إِنْ عَلَا مَاءُ الرَّجُلِ عَلَى مَاءِ الْمَرْأَةِ كَانَ ذَكَرًا بِإِذْنِ اللَّهِ وَإِنْ عَلَا مَاءُ الْمَرْأَةِ عَلَى مَاءِ الرَّجُلِ كَانَ أُنْثَى بِإِذْنِ اللَّهِ قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ اللَّهُمَّ اشْهَدْ عَلَيْهِمْ فَأَنْشُدُكُمْ بِالَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ هَذَا النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ اللَّهُمَّ اشْهَدْ قَالُوا وَأَنْتَ الْآنَ فَحَدِّثْنَا مَنْ وَلِيُّكَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ فَعِنْدَهَا نُجَامِعُكَ أَوْ نُفَارِقُكَ قَالَ فَإِنَّ وَلِيِّي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَلَمْ يَبْعَثِ اللَّهُ نَبِيًّا قَطُّ إِلَّا وَهُوَ وَلِيُّهُ قَالُوا فَعِنْدَهَا نُفَارِقُكَ لَوْ كَانَ وَلِيُّكَ سِوَاهُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ لَتَابَعْنَاكَ وَصَدَّقْنَاكَ قَالَ فَمَا يَمْنَعُكُمْ مِنْ أَنْ تُصَدِّقُوهُ قَالُوا إِنَّهُ عَدُوُّنَا قَالَ فَعِنْدَ ذَلِكَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَى قَلْبِكَ بِإِذْنِ اللَّهِ} إِلَى قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {كِتَابَ اللَّهِ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ كَأَنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ} فَعِنْدَ ذَلِكَ {بَاؤُوا بِغَضَبٍ عَلَى غَضَبٍ} الْآيَةَ
۔ (دوسری سند) یہودیوں کی ایک جماعت ایک دن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اورکہا: اے ابو القاسم! ہمیں چند باتیں بتائو، انہیں صرف نبی جانتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مرضی ہے پوچھو، لیکن اللہ تعالیٰ کے ذمہ کو مدنظررکھنا اور اسے بھی مدنظر رکھنا جو یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے ذمہ داری لی تھی کہ اگر میں تمہیں تمہارے سوالوں کے درست جوابات دے دوں تو پھر اسلام کے مطابق میری پیروی کرنا۔ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے، یہ تمہارا حق ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب جو مرضی سوال کرو۔ انہوں نے کہا: ہمیں چار باتوں کے بارے میںبتاؤ،یعقوب علیہ السلام نے تورات نازل ہونے سے پہلے اپنے اوپر کونسا کھانا حرام کیا تھا، آدمی کا آب جوہر عورت کے آب جوہر پر غالب آ جائے تو مذکرکیسے بنتا ہے اور یہ اُمّی نبی نیند میں کیسے ہوتا ہے اورفرشتوں میں سے اس کا دوست کون ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا عہد و میثاق دیتا ہوںہے کہ اگر میں نے تمہیں جواب دیدیے تو تم میری اتباع کرو گے۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہر پختہ عہد دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اس اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ جس نے موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل کی، کیا تم جانتے ہو کہ یعقوب علیہ السلام سخت بیمار پڑ گئے تھے اوران کی بیماری لمبی ہو گئی تھی، بالآخر انہوں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان کو شفا دی تو وہ سب سے زیادہ محبوب مشروب اور سب سے زیاد ہ پسندیدہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ھانا حرام قرار دیں گے، اورانہیں سب سے زیادہ پیارا کھانا اونٹوں کا گوشت اور سب سے زیادہ پسندیدہ مشروب اونٹنیوں کا دودھ تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے میرے اللہ! ان پرگواہ رہنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اس اللہ کا واسطہ دیتا ہوں، جس کے سوا کوئی معبود نہیںاور جس نے موسیٰ علیہ السلام پرتورات نازل کی ہے، کیا تم جانتے ہو آدمی کا آب جوہر سفید اور گاڑھا ہوتاہے اور عورت کا پانی زرد اور باریک ہوتا ہے، ان میں سے جو بھی غالب آتا ہے، اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس سے مشابہت ہو جاتی ہے، اگر آدمی کا آب جوہر عورت کے پانی پر غالب آ جائے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے مذکر بن جاتا ہے اوراگر عورت کا آب جوہر آدمی کے مادۂ منویہ پرغالب آ جائے تو مؤنث پیدا ہوتی ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ جانتا ہےیہی بات ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے میرے اللہ! ان پرگواہ رہنا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اس اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل کی، کیا تم جانتے ہو اس اُمّی نبی کی آنکھیں سوتی ہیں اور اس کا دل نہیں سوتا؟ انہوں نے کہا: اللہ جانتا ہے کہ یہی بات ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے میرے اللہ! گواہ رہنا۔ انہوں نے کہا: آپ بھی اب اسی طرح ہیں، ہمیں بتائو فرشتوں میں سے آپ کا دوست کون ہے؟ یہ بتانے کے بعد یا تو ہم آپ سے مل جائیں گے یا جدا ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرا دوست جبریل علیہ السلام ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے جو نبی بھی بھیجا ہے، یہی جبریل علیہ السلام اس کے دوست رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: تب تو ہم آپ سے علیحدہ ہوتے ہیں، اگر اس کے علاوہ کوئی اور فرشتہ آپ کا دوست ہوتا تو ہم آپ کی ا تباع کرتے اور تصدیق کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں جبریل کی تصدیق میں کونسی چیز رکاوٹ ہے؟ انہوں نے کہا: یہ فرشتہ ہمارا دشمن ہے۔ اس وقت اللہ تعالی نے فرمایا: {قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّہٗنَزَّلَہٗعَلٰی قَلْبِکَ بِاِذْنِ اللّٰہِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَیَدَیْہِ وَھُدًی وَّبُشْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ۔ … … کِتَابَ اللّٰہِ وَرَائَ ظُہُورِہِمْ کَأَ نَّہُمْ لَا یَعْلَمُونَ} … کہہ دے جو کوئی جبریل کا دشمن ہو تو بے شک اس نے یہ کتاب تیرے دل پر اللہ کے حکم سے اتاری ہے، اس کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے ہے اور مومنوں کے لیے سرا سر ہدایت اور خوشخبری ہے۔ … اللہ تعالی کی کتاب کو اپنی پیٹھوں کے پیچھے پھینک دیا، گویا کہ وہ نہیں جانتے تھے۔ پس اس وقت یہ لوگ دوہرے غضب کے ساتھ لوٹے۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8487M]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه الطيالسي: 2731، والطبراني: 13012، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2514 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2514»
وضاحت: فوائد: … یہ پوری آیاتیوں ہیں: قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّہٗنَزَّلَہٗعَلٰی قَلْبِکَ بِاِذْنِ اللّٰہِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَیَدَیْہِ وَھُدًی وَّبُشْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ۔ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّلّٰہِ وَمَلٰیِکَتِہٖ وَرُسُلِہٖوَجِبْرِیْلَ وَمِیْکٰیلَ فَاِنَّ اللّٰہَ عَدُوٌّ لِّلْکٰفِرِیْنَ۔ وَلَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ اٰیٰتٍ بَیِّنٰتٍ وَمَا یَکْفُرُ بِہَآ اِلَّا الْفٰسِقُوْنَ۔ اَوَکُلَّمَا عٰھَدُوْا عَہْدًا نَّبَذَہٗفَرِیْقٌ مِّنْھُمْ بَلْ اَکْثَرُھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ۔ وَلَمَّا جَاء َھُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَھُمْ نَبَذَ فَرِیْقٌ مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ کِتٰبَ اللّٰہِ وَرَاء َ ظُہُوْرِھِمْ کَاَنَّھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ۔} … کہہ دے جو کوئی جبریل کا دشمن ہو تو بے شک اس نے یہ کتاب تیرے دل پر اللہ کے حکم سے اتاری ہے، اس کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے ہے اور مومنوں کے لیے سرا سر ہدایت اور خوشخبری ہے۔جو کوئی اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبریل اور میکائیل کا دشمن ہو تو بے شک اللہ کافروں کا دشمن ہے۔اور بلاشبہ یقینا ہم نے تیریطرف واضح آیات نازل کی ہیں اور ان سے کفر نہیں کرتے مگر جو فاسق ہیں۔ اور کیا جب کبھی انھوں نے کوئی عہد کیا تو اسے ان میں سے ایک گروہ نے پھینک دیا، بلکہ ان کے اکثر ایمان نہیں رکھتے۔ (سورۂ بقرہ: ۹۷۔۱۰۱)
یہیہودیوں کی ہٹ دھرمی تھی، ان کے پاس پہلے والے چار سوالات کے جوابات کے انکار کی کوئی صورت نہیں تھی، سو انھوں نے جبریل علیہ السلام کے بارے میں یہ بات گھڑ لی۔ {بَائُ وْا بِغَضَبٍ عَلَی غَضَبٍ} … دوہرے غضب کے ساتھ لوٹے۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور مجاہد نے کہا: پہلا غضب تورات کو ضائع کرنے کی وجہ سے تھا اور دوسرا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کفر کرنے کی وجہ سے۔ جبکہ قتادہ نے کہا: پہلا غضب عیسیٰ علیہ السلام اور انجیل کے ساتھ کفر کرنے کی وجہ سے تھا اور دوسرا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قرآن کے ساتھ کفر کرنے کی وجہ سے تھا۔
یہیہودیوں کی ہٹ دھرمی تھی، ان کے پاس پہلے والے چار سوالات کے جوابات کے انکار کی کوئی صورت نہیں تھی، سو انھوں نے جبریل علیہ السلام کے بارے میں یہ بات گھڑ لی۔ {بَائُ وْا بِغَضَبٍ عَلَی غَضَبٍ} … دوہرے غضب کے ساتھ لوٹے۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور مجاہد نے کہا: پہلا غضب تورات کو ضائع کرنے کی وجہ سے تھا اور دوسرا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کفر کرنے کی وجہ سے۔ جبکہ قتادہ نے کہا: پہلا غضب عیسیٰ علیہ السلام اور انجیل کے ساتھ کفر کرنے کی وجہ سے تھا اور دوسرا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قرآن کے ساتھ کفر کرنے کی وجہ سے تھا۔
الحكم على الحديث:
حسن ۔ أخرجه الطيالسي: 2731
7. بَابُ: «فَأَيْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ»
{فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8488
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ مُقْبِلًا مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ وَفِيهِ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ}
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری پر نماز پڑھ رہے تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف جا رہے تھے، سواری جدھر چاہتی متوجہ ہو جاتی، اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: {فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ} … جس طرف بھی تم پھرو، وہیں اللہ تعالیٰ کا چہر ہ ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۱۱۵) [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8488]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1000، ومسلم: 700، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5447 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5447»
وضاحت: فوائد: … اس آیت کی مختلف شانِ نزول بیان کی جاتی ہیں، ان میں ایکیہ ہے کہ اس کے نزول کا سبب سفر میں سواری پر نفل نماز پڑھنے کی اجازت ہے کہ سواری کا منہ جدھر بھی ہو، نماز پڑھی جا سکتی ہے، مزید دو اسبابِ نزول درج ذیل ہیں:ہجرت کے بعد جب مسلمان بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے تو مسلمانوں کو اس کا رنج تھا، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔ جب بیت المقدس سے خانہ کعبہ کی طرف رخ کرنے کا حکم ہوا تو یہودیوں نے طرح طرح کی باتیں کیں، ان کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔ ایسے ہوتا ہے کہ کبھی چند اسباب جمع ہو جاتے ہیں اور ان سب کے حکم کے لیے ایک ہی آیت نازل ہو جاتی ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1000
8. بَابُ: «وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلَّى»
{وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَقَامِ اِبْرَاہِیْمَ مُصَلّٰی} کی تشریح
حدیث نمبر: 8489
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَافَقْتُ رَبِّي فِي ثَلَاثٍ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوِ اتَّخَذْنَا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى فَنَزَلَتْ {وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى} وَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ نِسَاءَكَ يَدْخُلُ عَلَيْهِنَّ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ فَلَوْ أَمَرْتَهُنَّ أَنْ يَحْتَجِبْنَ فَنَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ وَاجْتَمَعَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نِسَاؤُهُ فِي الْغَيْرَةِ فَقُلْتُ لَهُنَّ عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ قَالَ فَنَزَلَتْ كَذَلِكَ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے اپنے رب سے تین کاموں میں موافقت کی ہے، میں نے کہا: اگر ہم مقام ابراہیم کو جائے نماز بنالیں تو یہ آیت نازل ہوئی {وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاہِیمَ مُصَلًّی} … تم مقام ابراہیم کو جائے نماز مقرر کر لو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کی عورتوں پر نیک اور بد سب داخل ہوتے ہیں، اگر آپ انہیں پردہ کرنے کا حکم دے دیں تو بہتر ہے، پس پردہ والی آیت نازل ہوئی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں غیرت کے معاملے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جمع ہوئیں تو میں نے کہا: ہو سکتا ہے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تم کو طلاق دے دیں تو اللہ تعالیٰ تمہارے بدلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوبہتر عورتیں دے دے، تو اسی طرح آیت نازل ہوئی۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8489]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4483، 4790، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 250 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 250»
وضاحت: فوائد: … مقام ابراہیم سے مراد وہ پتھر ہے، جس پر ابراہیم علیہ السلام بیت اللہ کی تعمیر کرتے وقت کھڑے ہوتے تھے، اس پتھر پر ابراہیم علیہ السلام کے قدموں کے نشانات بھی موجود ہیں۔ یہ ابراہیم علیہ السلام کی حیران کن، عجیب اور یادگار منقبت ہے، اب اس پتھر کو ایک شیشے میں محفوظ کر دیا گیا ہے، طواف مکمل کرنے کے بعد اس طرح دو رکعت ادا کرنے کا حکم ہے کہ مقام ابراہیم، نمازی اور بیت اللہ کے درمیان آ جائے۔ باقی آیات کی وضاحت ان کے مقام پر آئے گی۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4483
9. بَابُ: «وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطَا»
{وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا کُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8490
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا} قَالَ عَدْلًا
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے فرمان {وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا کُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا} میں وَسَطًا کا معنی عادل بیان کیا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8490]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3339، 4487، 7349، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11271 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11291»
وضاحت: فوائد: … {وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا کُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا} … ہم نے اسی طرح تمہیں عادل امت بنایا ہے۔ وَسَط کا لفظی معنی درمیان ہے، لیکنیہ بہتر اور افضل کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، یہاں اسی معنی میں استعمال ہوا ہے، یعنی جس طرح تمہیں سب سے بہتر قبلہ عطا کیا گیا ہے، اسی طرح تمہیں سب سے زیادہ فضیلت والی امت بھی بنایا گیا ہے اور مقصد اس کا یہ ہے کہ تم لوگوں پر گواہی دو۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3339