🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ آيَةِ الْكُرْسِيِّ
آیۃ الکرسی کے فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8520
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أُبَيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهُ أَيُّ آيَةٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ أَعْظَمُ قَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَرَدَّدَهَا مِرَارًا ثُمَّ قَالَ أُبَيٌّ آيَةُ الْكُرْسِيِّ قَالَ لِيَهْنِكَ الْعِلْمُ أَبَا الْمُنْذِرِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ لَهَا لِسَانًا وَشَفَتَيْنِ تُقَدِّسُ الْمَلِكَ عِنْدَ سَاقِ الْعَرْشِ
۔ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے سوال کیا: اللہ کی کتاب میں کونسی آیت سے سب سے زیادہ عظمت والی ہے؟ میں نے کہا:اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں،لیکن آپ نے یہ سوال کئی بار دہرایا، بالآخر میں نے کہا: وہ آیۃ الکرسی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو منذر! تجھے تیرا علم مبارک ہو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس آیت کی ایک زبان اور دو ہونٹ ہیں،یہ عرش کے پائے کے پاس اللہ بادشاہ کی پاکیزگی بیان کرتی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8520]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 810، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21278 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21602»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کو ظاہری معنی پر محمول کیا جائے گا، کیونکہ اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 810
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8521
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ فِي سَهْوَةٍ لَهُ فَكَانَتِ الْغُولُ تَجِيءُ فَتَأْخُذُ فَشَكَاهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِذَا رَأَيْتَهَا فَقُلْ بِسْمِ اللَّهِ أَجِيبِي رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَجَاءَتْ فَقَالَ لَهَا فَأَخَذَهَا فَقَالَتْ لَهُ إِنِّي لَا أَعُودُ فَأَرْسَلَهَا فَجَاءَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ قَالَ أَخَذْتُهَا فَقَالَتْ لِي إِنِّي لَا أَعُودُ فَأَرْسَلْتُهَا فَقَالَ إِنَّهَا عَائِدَةٌ فَأَخَذْتُهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا كُلَّ ذَلِكَ تَقُولُ لَا أَعُودُ وَيَجِيءُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُ مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ فَيَقُولُ أَخَذْتُهَا فَتَقُولُ لَا أَعُودُ فَيَقُولُ إِنَّهَا عَائِدَةٌ فَأَخَذَهَا فَقَالَتْ أَرْسِلْنِي وَأُعَلِّمُكَ شَيْئًا تَقُولُ فَلَا يَقْرَبُكَ شَيْءٌ آيَةَ الْكُرْسِيِّ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ صَدَقَتْ وَهِيَ كَذُوبٌ
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں میں اپنے گھر میں چبوترے پر تھا، ایک جن بھوت آتا اور (مال وغیرہ) لے جاتا۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کی شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو جب اسے دیکھے تو کہنا بسم اللہ! تو اللہ کے رسول کی بات قبول کر۔ جب وہ آیا تو میں نے اس سے یہی بات کہی اور اس کو پکڑ لیا، اس نے کہا: اب نہیں لوٹوں گا۔ پس میں نے اسے چھوڑ دیا،میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: قیدی کا کیا بنا۔ میں نے کہا: جی میں نے اسے پکڑ لیا تھا، جب اس نے دوبارہ نہ آنے کا وعدہ کیا تو میں نے اسے چھوڑ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ پھر لوٹے گا۔ جب وہ پھر آیا تو میں نے اسے پکڑ لیا اور دو تین مرتبہ پکڑ کر چھوڑ دیا، وہ ہر دفعہ یہی کہتا تھا کہ وہ نہیں لوٹے گا اور میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: قیدی نے کیا کیا؟ میں نے کہا:جی میں اسے پکڑتا ہوں تو وہ یہ کہتا ہے کہ وہ نہیں لوٹے گا، سو میں اسے چھوڑ دیتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: دیکھنا، وہ لوٹے گا۔ وہ تو واقعی آیا اور میں نے اس کو پکڑ لیا، اب کی بار اس نے کہا: مجھے جھوڑ دو، میں تمہیں ایسی چیز کی تعلیم دیتا ہوں کہ اس کی وجہ سے کوئی چیز تیرے قریب نہیں آئے گی، وہ آیۃ الکرسی ہے، جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور یہ بات بتلائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ جھوٹا تو بہت ہے، لیکن تجھ سے اس نے سچ بولا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8521]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني۔ أخرجه الترمذي: 2880، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23592 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23990»
وضاحت: فوائد: … یہ آنے والا شیطان تھا، جنوں اور شیطانوںکی ایک جنس کو غُوْل کہتے ہیں، اس کی جمع اغوال اور غیلان ہے، یہ جنوں اور شیطانوں کی ایک قسم ہے، جو مشرکین عرب کے عقیدے کے مطابق جنگلوں میں راہ چلتے لوگوں کو دکھائی دیتے تھے، مختلف شکلوں میں تبدیل ہونا ان کا شیوہ تھا۔ مشرکین کے بقول یہ مسافروں کو راہ سے بے راہ کر کے ہلاک کر دیتے تھے۔
فوائد: … آیۃ الکرسی اور اس کا ترجمہ: {اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ اَلْـحَیُّ الْقَیُّوْمُ لَا تَاْخُذُہ سِـنَۃٌ وَّلَا نَوْمٌ لَہٗمَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِیْیَشْفَعُ عِنْدَہٓ اِلَّا بِاِذْنِہٖیَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ وَلَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْء ٍ مِّنْ عِلْمِہٖٓاِلَّابِمَاشَائَوَسِعَکُرْسِـیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَا یَئـــُـــوْدُہ حِفْظُہُمَا وَھُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ۔} … اللہ (وہ ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود نہیں، زندہ ہے، ہر چیز کو قائم رکھنے والا ہے، نہ اسے کچھ اونگھ پکڑتی ہے اور نہ کوئی نیند، اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے، کون ہے وہ جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرے، جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرتے مگر جتنا وہ چاہے۔ اس کی کرسی آسمانوں اور زمین کو سمائے ہوئے ہے اور اسے ان دونوں کی حفاظت نہیں تھکاتی اور وہی سب سے بلند، سب سے بڑا ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۲۵۵)
آیۃ الکرسی عظیم ترین آیت ہے، اس آیت میں اللہ تعالی نے اپنے کلام میں اپنا تعارف پیش کیا ہے، اس سورت کی مختلف فضیلتیں بیان کی گئی ہیں اور مختلف مواقع پر اس کو تلاوت کرنا مسنون ہے، مثلا صبح و شام، رات کو سوتے وقت، ہر فرضی نماز کے بعد، وغیرہ۔

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. بابُ: «وَإِذَا قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ أَرِنِي كِيْفَ تُحْيِ الْـمَوْتٰي»
{وَاِذَا قَالَ اِبْرَاھِیْمُ رَبِّ اَرِنِیْ کِیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰی} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8522
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِذْ قَالَ رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي [سورة البقرة: ٢٦٠]
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بہ نسبت شک کرنے کے زیادہ حقدار ہیں، جب انھوں نے کہا: {رَبِّ اَرِنِیْ کَیْفَ تُحْيِ الْمَوْتٰی قَالَ اَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلٰی وَ لَکِنْ لِیَطْمَئِنَّ قَلْبِیْ} اور جب ابراہیم نے کہا اے میرے رب! مجھے دکھا تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا؟ فرمایا اور کیا تونے یقین نہیں کیا؟ کہا کیوں نہیں اور لیکن اس لیے کہ میرا دل پوری تسلی حاصل کر لے۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8522]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4537، ومسلم: 151، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8328 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8311»
وضاحت: فوائد: … امام نووی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث پر یہ باب ثبت کیا ہے: باب زیادۃ طمأنینۃ القلب بتظاہر الأدلۃ فیہ (ظاہر دلائل کی وجہ سے دل کے اطمینان کے زیادہ ہونے کا بیان) پھر امام نووی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے کہا: شک کرنے سے کیا مراد ہے، اس کے بارے میں اہل علم میں اختلاف پایا جاتا ہے، سب سے بہترین اور صحیح ترین جواب وہ ہے جو امام شافعی کے شاگرد امام ابو ابراہیم مزنی اور دوسرے کئی اہل علم نے دیا ہے، ان کے جواب کا مفہوم یہ ہے: مردوں کو زندہ کرنے کے بارے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حق میں شک کرنا محال ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمانا چاہتے ہیں: اگر انبیائے کرام کو شک ہو سکتا ہوتا میں شک کرنے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے زیادہ مستحق ہوتا، پس تم جان لو کہ میں نے شک نہیں کیا، سو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی شک نہیں کیا۔ (شرح مسلم للنووی)
یہ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عاجزی کا اظہار کر رہے تھے، حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کے عقائد مضبوط بنیادوں پر قائم تھے، ان کا مقصد علم الیقین سے عین الیقین کی طرف منتقل ہونا تھا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4537
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. بَابُ: «لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَإِنْ تدُو مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ۔۔۔۔» ‏‏‏‏
{لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوَاتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ وَاِنْ تُبْدُوْ مَا فِیْ اَنْفُسِکُمْ اَوْ تُخْفُوْہٗ …}کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8523
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: لَمَّا نَزَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: {لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ، فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ} فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى صَحَابَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَثَوْا عَلَى الرُّكَبِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كُلِّفْنَا مِنَ الْأَعْمَالِ مَا نُطِيقُ الصَّلَاةَ وَالصِّيَامَ وَالْجِهَادَ وَالصَّدَقَةَ، وَقَدْ أُنْزِلَ عَلَيْكَ هَذِهِ الْآيَةُ وَلَا نُطِيقُهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَتُرِيدُونَ أَنْ تَقُولُوا كَمَا قَالَ أَهْلُ الْكِتَابَيْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا، بَلْ قُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ) ) فَقَالُوا: سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ، فَلَمَّا أَقَرَّ بِهَا الْقَوْمُ وَذَلَّتْ بِهَا أَلْسِنَتُهُمْ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي إِثْرِهَا: {آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ، كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ} قَالَ عَفَّانُ: قَرَأَهَا سَلَّامٌ أَبُو الْمُنْذِرِ يُفَرِّقُ {وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ} فَلَمَّا فَعَلُوا ذَلِكَ نَسَخَهَا اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِقَوْلِهِ: {لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ} فَصَارَ لَهَا مَا كَسَبَتْ مِنْ خَيْرٍ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ مِنْ شَرٍّ، فَسَّرَ الْعَلاَءُ هَذَا {رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا} قَالَ: نَعَمْ، {رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا} قَالَ: نَعَمْ، {رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ} قَالَ: نَعَمْ، {وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ}
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی {لِلَّہِ مَا فِی السَّمَوَاتِ وَمَا فِی الْأَ رْضِ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِی أَ نْفُسِکُمْ أَ وْ تُخْفُوہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہُ، فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَشَائُ وَیُعَذِّبُ مَنْ یَشَائُ وَاللّٰہُ عَلَی کُلِّ شَیْء ٍ قَدِیرٌ} … اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو زمین میں ہے اور اگر تم اسے ظاہر کرو جو تمھارے دلوں میں ہے، یا اسے چھپاؤ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا، پھر جسے چاہے گابخش دے گا اور جسے چاہے گا عذاب دے گا اور اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ یہ آیت صحابہ کرام پر بہت گراں گزری، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور دو زانوں ہو کر بیٹھ گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں اس آیت میں ان اعمال کا مکلف بنایا گیا ہے، جن کی ہم طاقت رکھتے ہیں، نماز ہے، روزہ ہے، جہاد ہے، صدقہ ہے،(ہم ان اعمال کو سرانجام دے سکتے ہیں)، لیکن اب آپ پر جو آیت نازل ہوئی ہے، اس کی ہم میں طاقت نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم بھی وہی بات دہرانا چاہتے ہو، جس طرح تم سے پہلے اہل کتاب نے کہا تھا کہ ہم نے سنا اور ہم نے نافرمانی کی، بلکہ یہ کہو کہ ہم نے سنا اور ہم نے اطااعت کی، اے ہمارے پروردگار! ہم تیری بخشش مانگتے ہیں اور تیری طرف لوٹنا ہے۔ صحابہ کرام نے کہا: ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی، اے ہمارے رب! ہم تیری بخشش مانگتے ہیں اور تیری طرف لوٹنا ہے، جب لوگوں نے اس کا اقرار کیا اور ان کی زبانیں اس حکم کے سامنے پست ہوئیں تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَیْہِ مِنْ رَبِّہِ وَالْمُؤْمِنُونَ، کُلٌّ آمَنَ بِاللّٰہِ وَمَلَائِکَتِہِ وَکُتُبِہِ وَرُسُلِہِ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ أَ حَدٍ مِنْ رُسُلِہِ} عفان نے کہا: ابو منذر سلام نے یُفَرِّقُ پڑھا ہے، {وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَأَ طَعْنَا غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَإِلَیْکَ الْمَصِیرُ} جب صحابہ کرام نے ایسے ہی کیا تو اللہ تعالیٰ اس آیت کے حکم کو اس فرمان کے ساتھ منسوخ کر دیا: {لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَہَا لَہَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیْہَا مَا اکْتَسَبَتْ} نفس کے حق میں وہ خیر ہے، جو وہ کمائے اور اسی پر وہ شرّ ہے، جس کا وہ ارتکاب کرے۔ { رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِینَا أَ وْ أَ خْطَأْنَا} اللہ تعالیٰ نے کہا: ہاں {رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَیْنَا إِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہُ عَلَی الَّذِینَ مِنْ قَبْلِنَا} اللہ تعالیٰ نے کہا: ہاں {رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہِ} اللہ تعالیٰ نے کہا: ہاں،{وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَ نْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِینَ۔} [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8523]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 125، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9344 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9333»
وضاحت: فوائد: … صحابۂ کرام اس حدیث ِ مبارکہ کی ابتداء میں مذکورہ آیت کی وجہ سے بہت زیادہ پریشان ہو گئی، کیونکہ انھوں نے یہ سمجھا کہ دل میں جو خیالات اور وسوسے پیدا ہوتے ہیں، ان سب کے بارے میں محاسبہ ہو گا، کیونکہ اللہ تعالی نے فرمایا: اور اگر تم اسے ظاہر کرو جو تمھارے دلوں میں ہے، یا اسے چھپاؤ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو تلقین کی کہ بس وہ تسلیم کرتے جائیں، اللہ تعالی کوئی سبیل پیدا کرے گا۔ {آمَنَ الرَّسُولُ} میں رسول سے مراد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ {لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ أَ حَدٍ مِنْ رُسُلِہٖ} یہآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کا امتیاز ہے کہ اِس نے سب انبیاء و رسل کی نبوت و رسالت کو تسلیم کیا، اس امت کا رویہیہود ونصاری کی طرح نہیں، جو کسی پر ایمان لائے اور کسی کے ساتھ کفر کیا۔ آخری دو مکمل آیات اور ان کا ترجمہ درج ذیل ہیں: {اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مِنْ رَّبِّہٖوَالْمُؤْمِنُوْنَکُلٌّاٰمَنَبِاللّٰہِوَمَلٰیِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖوَرُسُلِہٖلَانُفَرِّقُبَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِہٖوَقَالُوْاسَمِعْنَاوَاَطَعْنَاغُفْرَانَکَرَبَّنَاوَاِلَیْکَ الْمَصِیْرُ۔لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا لَہَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیْہَا مَا اکْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ اِنْ نَّسِیْنَآ اَوْ اَخْطَاْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَیْنَآ اِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہٖوَاعْفُعَنَّاوَاغْفِرْلَنَاوَارْحَمْنَااَنْتَمَوْلٰینَا فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ۔} … رسول اس پر ایمان لایا جو اس کے رب کی جانب سے اس کی طرف نازل کیا گیا اور سب مومن بھی، ہر ایک اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا، ہم اس کے رسولوں میں سے کسی ایک کے درمیان فرق نہیں کرتے۔ اور انھوں نے کہا ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی، تیری بخشش مانگتے ہیں اے ہمارے رب! اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ اللہ کسی جان کو تکلیف نہیں دیتا مگر اس کی گنجائش کے مطابق، اسی کے لیے ہے جو اس نے (نیکی) کمائی اور اسی پر ہے جو اس نے (گناہ) کمایا، اے ہمارے رب! ہم سے مؤاخذہ نہ کر اگر ہم بھول جائیںیا خطا کر جائیں، اے ہمارے رب! اور ہم پر کوئی بھاری بوجھ نہ ڈال، جیسے تو نے اسے ان لوگوں پر ڈالا جو ہم سے پہلے تھے، اے ہمارے رب! اور ہم سے وہ چیز نہ اٹھوا جس (کے اٹھانے) کی ہم میں طاقت نہ ہو اور ہم سے در گزر کر اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر، تو ہی ہمارا مالک ہے، سو کافر لوگوں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 125
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8524
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ إِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ [سورة البقرة: ٢٨٤] قَالَ دَخَلَ قُلُوبَهُمْ مِنْهَا شَيْءٌ لَمْ يَدْخُلْ قُلُوبَهُمْ مِنْ شَيْءٍ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَسَلَّمْنَا فَأَلْقَى اللَّهُ الْإِيمَانَ فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ [سورة البقرة: ٢٨٥-٢٨٦] قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْإِمَامِ أَحْمَدَ آدَمُ هَذَا هُوَ أَبُو يَحْيَى بْنُ آدَمَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی {لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوَاتِ وَمَا فِی الْأَ رْضِ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِی أَ نْفُسِکُمْ أَ وْ تُخْفُوہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہُ … } … اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو زمین میں ہے اور اگر تم اسے ظاہر کرو جو تمھارے دلوں میں ہے، یا اسے چھپاؤ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا۔ تو صحابہ کے دلوں میں ایک خیال گھس گیا اور وہ غمگین ہو گئے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کہو کہ ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کییا ہم نے تسلیم کیا، پس اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ایمان ڈال دیا اور اتنے میں یہ آیات نازل کر دیں: {اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مِنْ رَّبِّہٖ وَالْمُؤْمِنُوْنَ کُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَمَلٰیِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ لَانُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِہٖ وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَاغُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَاِلَیْکَ الْمَصِیْرُ۔لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا لَہَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیْہَا مَا اکْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ اِنْ نَّسِیْنَآ اَوْ اَخْطَاْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَیْنَآ اِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہٖ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْلَنَا وَارْحَمْنَا اَنْتَ مَوْلٰینَا فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ۔} [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8524]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 126، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2070 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2070»
وضاحت: فوائد: … سابقہ حدیث کے فوائد میں ان آیات کا ترجمہ ملاحظہ ہو۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 126
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8525
عَنْ مُجَاهِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقُلْتُ يَا أَبَا عَبَّاسٍ كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ فَبَكَى قَالَ أَيَّةُ آيَةٍ قُلْتُ إِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ [سورة البقرة: ٢٨٤] قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ هَذِهِ الْآيَةَ حِينَ أُنْزِلَتْ غَمَّتْ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَمًّا شَدِيدًا وَغَاظَتْهُمْ غَيْظًا شَدِيدًا يَعْنِي وَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكْنَا إِنْ كُنَّا نُؤَاخَذُ بِمَا تَكَلَّمْنَا وَبِمَا نَعْمَلُ فَأَمَّا قُلُوبُنَا فَلَيْسَتْ بِأَيْدِينَا فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا قَالَ فَنَسَخَتْهَا هَذِهِ الْآيَةُ آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ [سورة البقرة: ٢٨٥] إِلَى لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ [سورة البقرة: ٢٨٦] فَتُجُوِّزَ لَهُمْ عَنْ حَدِيثِ النَّفْسِ وَأُخِذُوا بِالْأَعْمَالِ
۔ مجاہد کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس داخل ہوا اور کہا: اے ابو عباس! میں سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا، انھوں نے یہ آیت پڑھی اور رو پڑے، انھوں نے کہا: کون سی آیت؟ میں نے کہا: یہ آیت{لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوَاتِ وَمَا فِی الْأَ رْضِ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِی أَنْفُسِکُمْ أَوْ تُخْفُوہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہُ … } … اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو زمین میں ہے اور اگر تم اسے ظاہر کرو جو تمھارے دلوں میں ہے، یا اسے چھپاؤ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام سخت غمزہ ہوئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! ہم تو ہلاک ہو گئے ہیں، اگرہماری باتوں اور اعمال کی وجہ سے ہمارا مؤاخذہ کیا جائے (تو یہ تو ٹھیک ہے)، اب ہمارے دل تو ہمارے قابو میں نہیں ہے۔ آگے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کہو: ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی۔ پھر اس آیت نے اس آیت کے حکم کو منسوخ کر دیا{آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَیْہِ مِنْ رَبِّہِ وَالْمُؤْمِنُونَ … … لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَہَا لَہَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیْہَا مَا اکْتَسَبَتْ} پس نفس کے خیالات کو معاف کر دیا گیا اور اعمال کا مؤاخذہ کیا گیا۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8525]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه الطبراني: 10769، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3070 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3070»
وضاحت: فوائد: … ان آیات کا مضمون درج ذیل حدیث میں بیان کیا گیا ہے: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ اللّٰہَ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِی مَا حَدَّثَتْ بِہِ أَ نْفُسُہَا مَا لَمْ یَتَکَلَّمُوا أَ وْ یَعْمَلُوا بِہِ۔)) … بیشک اللہ تعالی نے میری امت سے ان امور سے تجاوز کیا ہے، جو نفسوں میں خیال آتے ہیں، جب تک وہ اس کے مطابق کلام نہ کریںیا عمل نہ کریں۔ (صحیح مسلم: ۱۸۱)

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين ۔ أخرجه الطبراني: 10769
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8526
عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ إِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ [سورة البقرة: ٢٨٤] وَعَنْ هَذِهِ الْآيَةِ مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ [سورة النساء: ١٢٣] فَقَالَتْ مَا سَأَلَنِي عَنْهُمَا أَحَدٌ مُنْذُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمَا فَقَالَ يَا عَائِشَةُ هَذِهِ مُتَابَعَةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ الْعَبْدَ بِمَا يُصِيبُهُ مِنَ الْحُمَّى وَالنَّكْبَةِ وَالشَّوْكَةِ حَتَّى الْبِضَاعَةُ يَضَعُهَا فِي كُمِّهِ فَيَفْقِدُهَا فَيَفْزَعُ لَهَا فَيَجِدُهَا فِي ضِبْنِهِ حَتَّى إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيَخْرُجُ مِنْ ذُنُوبِهِ كَمَا يَخْرُجُ التِّبْرُ الْأَحْمَرُ مِنَ الْكِيرِ
۔ امیہ سے مروی ہے کہ اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان آیات کے بارے میں سوال کیا: {إِنْ تُبْدُوْا مَا فِی أَنْفُسِکُمْ أَ وْ تُخْفُوْہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہُ} اور {مَنْ یَعْمَلْ سُوئً ا یُجْزَ بِہِ} (جو کوئی برا عمل کرے گا، اس کو اس کا بدلہ دیا جائے گا) سیدہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جب سے میں نے ان کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا تھا، اس وقت سے اب تک کسی نے مجھ سے ان کے بارے میں سوال نہیں کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایاتھا: اے عائشہ! یہ اللہ تعالیٰ بندے کا مؤاخذہ کرتے رہتے ہیں، ان عوارض کے ذریعے جو بندے کو لاحق ہوتے رہتے ہیں، مثلاً: بخار ہو گیا، مصیبت آ گئی، کانٹا چبھ گیا،یہاں تک کہ وہ سامان، جو بندہ اپنی آستیں میں رکھتا ہے، پھر اس کو گم پانے کی وجہ سے پریشان ہو جاتا ہے، اتنے میں اسی اپنی پہلو یا بغل میں پا لیتا ہے،(بیماریوں اور پریشانیوں کا یہ سلسلہ جاری رہتا ہے) یہاں تک کہ مومن اپنے گناہوں سے اس طرح صاف ہو جاتا ہے، جس طرح سونے کی سرخ ڈلی صاف ہو کر بھٹی سے نکلتی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8526]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف بھذه السياقة لضعف علي بن زيد بن جدعان، ولجھالة امية بنت عبد الله۔ أخرجه الترمذي: 2991، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25835 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26359»
وضاحت: فوائد: … اس باب میں سورۂ بقرہ کی آخری تین آیات کا ذکر ہے، آیات کا مفہوم احادیث سے ہی واضح ہو رہا ہے، ضرورت کے مطابق مزید وضاحت بھی کر دی ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف بھذه السياقة لضعف علي بن زيد بن جدعان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
27. بَاب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ خَوَاتِمِ الْبَقَرَةِ
سورۂ بقرہ کی آخری آیات کے فضائل
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8527
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ كِتَابًا قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِأَلْفَيْ عَامٍ فَأَنْزَلَ مِنْهُ آيَتَيْنِ فَخَتَمَ بِهِمَا سُورَةَ الْبَقَرَةِ وَلَا يُقْرَآَنِ فِي دَارٍ ثَلَاثَ لَيَالٍ فَيَقْرَبَهَا الشَّيْطَانُ قَالَ عَفَّانُ فَلَا تُقْرَبَنَّ
۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کی تخلیق سے دو ہزار سال قبل ایک دستاویز تحریر فرمائی، اس سے دو آیتیں اتاریں اور ان کے ذریعے سورۂ بقرہ کو مکمل کیا، جس گھر میں تین راتیں یہ دو آیتیں پڑھی جائیں گی، شیطان اس کے قریب نہیں پھٹک سکے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8527]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الترمذي: 2882، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18414 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18604»
وضاحت: فوائد: … یہ آیات {آمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْہِ … } ہیں، پچھلے باب میں گزر چکی ہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن ۔ أخرجه الترمذي: 2882
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8528
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَرَأَ الْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ
۔ سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو رات کو سورۂ بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھے گا تو یہ اسے کفایت کریں گی۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8528]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5009، ومسلم: 807، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17096 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17224»
وضاحت: فوائد: … یہ آیات قیام اللیل سے یا شیطان سے یا آفات سے کفایت کریں گی، ممکن ہے کہ ان سب چیزوں سے کفایت کرنا مقصود ہو۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5009
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8529
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ اقْرَءُوا هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ اللَّتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فَإِنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَعْطَاهُنَّ أَوْ أَعْطَانِيهِنَّ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منبر پر براجمان ہو کر فرمایا: سورۂ بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھا کرو، کیونکہ میرے رب نے مجھے عرش کے نیچے سے یہ عطاء کی ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8529]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابويعلي: 1735، والطبراني في الكبير: 17/ 780، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17445 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17582»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره ۔ أخرجه ابويعلي: 1735
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں