🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. بَابُ: «نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ»
{نِسَاؤُکُمْ حَرْثٌ لَّکُمْ} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8510
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ [سورة البقرة: ٢٢٣] فِي أُنَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلُوهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ائْتِهَا عَلَى كُلِّ حَالٍ إِذَا كَانَ فِي الْفَرْجِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انصاری لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: {نِسَاؤُکُمْ حَرْثٌ لَّکُمْ فَاْتُوْا حَرْثَکُمْ اَنّٰی شِئْتُمْ}(سورۂ بقرہ: ۲۲۳) … تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں، اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو آؤ۔ لیکن سوراخ ایک ہی استعمال کرنا چاہیے۔ جب وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور اس بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ہر کیفیت کے ساتھ اپنی بیوی کے ساتھ جماع کر سکتے ہو، بشرطیکہ مباشرت والی شرمگاہ ہی استعمال کی جائے۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8510]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2414 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2414»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8511
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكْتُ قَالَ وَمَا الَّذِي أَهْلَكَكَ قَالَ حَوَّلْتُ رَحْلِيَ الْبَارِحَةَ قَالَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا قَالَ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَى رَسُولِهِ هَذِهِ الْآيَةَ نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ [سورة البقرة: ٢٢٣] أَقْبِلْ وَأَدْبِرْ وَاتَّقِ الدُّبُرَ وَالْحَيْضَةَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا اے اللہ کے رسول! میں تو ہلاک ہو گیا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کس چیز نے تجھے ہلاک کر دیا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے گزشتہ رات کو اپنی بیوی سے پچھلی طرف سے اگلی شرمگاہ میں جماع کر لیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں کوئی جواب نہ دیا، پس اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب یہ آیت وحی کی: {نِسَاؤُکُمْ حَرْثٌ لَّکُمْ فَاْتُوْا حَرْثَکُمْ اَنّٰی شِئْتُمْ} … تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں، اپنی کھتیوں میں جس طرح چاہو آؤ۔ لیکن سوراخ ایک ہی استعمال کرنا چاہیے۔ (سورۂ بقرہ: ۲۲۳) پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اگلی طرف سے آ، یا پچھلی طرف سے، بہرحال دبر اور حیض کی حالت میں جماع کرنے سے بچ۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8511]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الترمذي: 2980، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2703 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2703»
وضاحت: فوائد: … دبر سے مراد غیر فطری جماع ہے، یعنی بیوی کو پشت سے استعمال کرنا، ایسا کرنا حرام ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن ۔ أخرجه الترمذي: 2980
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. بَابُ «حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطٰي»
{حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلٰاۃِ الْوُسْطٰی}کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8512
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ وَلَمْ يَكُنْ يُصَلِّي صَلَاةً أَشَدَّ عَلَى أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا قَالَ فَنَزَلَتْ حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى [سورة البقرة: ٢٣٨] وَقَالَ إِنَّ قَبْلَهَا صَلَاتَيْنِ وَبَعْدَهَا صَلَاتَيْنِ
۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر کی نماز دوپہر کے وقت پڑھاتے تھے اور یہی نماز صحابہ کرام پر سب سے زیادہ سخت تھی، پس یہ آیت نازل ہوئی: {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلٰاۃِ الْوُسْطٰی} … نمازوں کی حفاظت کرو اور خاص طور پر افضل نماز کی۔ پھر سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: کیونکہ دو نمازیں اس سے پہلے ہیں اور دو نمازیں اس کے بعد ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8512]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح أخرجه ابوداود: 411، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21595 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21931»
وضاحت: فوائد: … صلاۃ وسطی کے معانی افضل نماز کے ہیں۔ اس حدیث سے واضح طور پر یہ پتہ نہیں چل رہا ہے کہ الصَّلٰاۃِ الْوُسْطٰی سے مراد نماز ظہر ہے، کیونکہ ممکن ہے کہ نمازِ ظہر حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ کے عام حکم میں داخل ہو، بہرحال سیدنا زید رضی اللہ عنہ کی رائے یہ تھی کہ اس سے مراد نمازِ ظہر ہے، لیکن دوسری مرفوع روایات میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ اس سے مراد نمازِ عصر ہے۔ اس باب میں درج ذیل آیت کا بکثرت استعمال ہو گا، اس لیے اس کو ترجمہ سمیت ذہن نشین کر لیں: {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی وَقُومُوْا لِلّٰہِ قَانِتِینَ} … نمازوں کی حفاظت کرو اور خاص طور پر نمازِ وسطیٰ کی اور اللہ تعالی کے لیے مطیع ہو کر کھڑے ہو جاؤ۔ (سورۂ بقرہ: ۲۳۸)

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح أخرجه ابوداود: 411
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8513
عَنِ الزِّبْرِقَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَهْطًا مِنْ قُرَيْشٍ مَرَّ بِهِمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُمْ مُجْتَمِعُونَ فَأَرْسَلُوا إِلَيْهِ غُلَامَيْنِ لَهُمْ يَسْأَلَانِهِ عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى فَقَالَ هِيَ الْعَصْرُ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلَانِ مِنْهُمْ فَسَأَلَاهُ فَقَالَ هِيَ الظُّهْرُ ثُمَّ انْصَرَفَا إِلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَأَلَاهُ فَقَالَ هِيَ الظُّهْرُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَجِيرِ وَلَا يَكُونُ وَرَاءَهُ إِلَّا الصَّفُّ وَالصَّفَّانِ مِنَ النَّاسِ فِي قَائِلَتِهِمْ وَفِي تِجَارَتِهِمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ [سورة البقرة: ٢٣٨] قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيَنْتَهِيَنَّ رِجَالٌ أَوْ لَأُحَرِّقَنَّ بُيُوتَهُمْ
۔ زبرقان سے مروی ہے کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ قریش کے ایک گروہ کے قریب سے گزرے، وہ ایک جگہ پر جمع تھے، انہوں نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ کے پاس دو غلام بھیجے، انھوں نے ان سے وسطی نماز کے بارے دریافت کیا، انہوں نے جواباً کہا: یہ عصر کی نماز ہے، لیکن ان میں سے دو آدمی کھڑے ہوئے اور کہاکہ یہ نمازِ ظہر ہے، پھر وہ دونوں سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے یہ سوال کیا، انہوں نے بھی کہا یہ نماز ظہر ہے، اس کی تفصیل یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوپہر کے وقت نماز ظہر ادا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں نمازیوں کی ایک دو صفیں ہوتی تھیں،کوئی قیلولہ کر رہا ہوتا اور کوئی تجارت میں مصروف ہوتا، پس اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل کیا: {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطَی وَقُومُوْا لِلَّہِ قَانِتِینَ} … نمازوں کی حفاظت کرو اور خاص طور پر نمازِ وسطیٰ کی اور اللہ تعالیٰ کے لیے مطیع ہو کر کھڑے ہو جاؤ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگ نماز چھوڑنے سے باز آ جائیں گے یا پھر میں ان کے گھر جلا دوں گا۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8513]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، الزبرقان لم يدرك القصة التي رواھا۔ أخرجه ابن ماجه: 795، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21792 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22135»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8514
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَزَلَتْ حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ فَقَرَأْنَاهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ نَقْرَأَهَا لَمْ يَنْسَخْهَا اللَّهُ فَأَنْزَلَ حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى [سورة البقرة: ٢٣٨] فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ كَانَ مَعَ شَقِيقٍ يُقَالُ لَهُ أَزْهَرُ وَهِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ قَالَ قَدْ أَخْبَرْتُكَ كَيْفَ نَزَلَتْ وَكَيْفَ نَسَخَهَا اللَّهُ تَعَالَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب یہ آیت اتری {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَصَلَاۃِ الْعَصْرِ}تو جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا، ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں اس کی تلاوت کرتے رہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے منسوخ نہیں کیا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس طرح نازل کر دی: {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی}۔ شقیق راوی کے ساتھ ایک آدمی تھا، اس کا نام ازہر تھا، اس نے سیدنا براء سے دریافت کیا: نمازِ وسطیٰ سے مراد نمازِعصر ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے تمہیں بتا دیا ہے کہ یہ آیت کس طرح نازل ہوئی اور کس طرح منسوخ ہوئی، باقی اللہ تعالیٰ بہتر جانتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8514]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 630، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18673 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18876»
وضاحت: فوائد: … اس روایت کے الفاظ لَمْ یَنْسَخْہَا اللّٰہُ، فَأَ نْزَلَ کے بجائے صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ثُمَّ نَسَخَہَا اللّٰہُ، فَأَ نْزَلَ (پھر اللہ تعالی نے اس کو منسوخ کر دیا اور یہ آیت نازل کی) یعنی پہلے نازل ہونے والی آیت میں وَصَلَاۃِ الْعَصْرِ کے الفاظ تھے اور اس کے بعد نازل ہونے والی آیت میں وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی کے الفاظ تھے۔ سیدنا برائ رضی اللہ عنہ نے سائل کے سامنے دونوں آیات پیش کر کے معاملہ اس کے فہم پر چھوڑ دیا، وَصَلَاۃِ الْعَصْرِ کی جگہ پر وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی کے الفاظ نازل کرنے سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد نمازِ عصر ہی ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 630
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8515
عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ أَمَرَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنْ أَكْتُبَ لَهَا مُصْحَفًا قَالَتْ إِذَا بَلَغْتَ هَذِهِ الْآيَةَ فَآذِنِّي حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى [سورة البقرة: ٢٣٨] قَالَ فَلَمَّا بَلَغْتُهَا آذَنْتُهَا فَأَمْلَتْ عَلَيَّ حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَصَلَاةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ ثُمَّ قَالَتْ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ مولائے عائشہ ابو یونس سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے حکم دیا کہ میں ان کے لئے ایک مصحف لکھوں، اور کہا کہ جب میں اس آیت {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطَی} پر پہنچوں تو مجھے بتانا،پس جب میں اس آیت پر پہنچا تو میں نے انہیں بتایا، انھوں نے اس آیت کییوں املاء کروائی: {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطَی وَصَلَاۃِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّہِ قَانِتِینَ} پھر انھوں نے کہا:میں نے یہ آیت اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8515]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 629، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25450 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25964»
وضاحت: فوائد: … وَصَلَاۃِ الْعَصْرِ کے الفاظ دراصل وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطَی کے الفاظ کی تفسیر ہیں۔ راجح قول کے مطابق اَلصَّلَاۃُ الْوُسْطَی سے مراد نماز عصر ہے، دیکھیں حدیث نمبر (۱۱۳۳)

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 629
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8516
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ الرَّجُلُ يُكَلِّمُ صَاحِبَهُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَاجَةِ فِي الصَّلَاةِ حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ [سورة البقرة: ٢٣٨] فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ
۔ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد ِ مبارک میں نماز کے دوران اپنی ضرورت کی بات کر سکتا تھا، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: {وَقُوْمُوْا لِلّٰہِ قَانِتِیْنَ} … اور اللہ تعالیٰ کے لیے مطیع ہو کر کھڑے ہو جاؤ۔ پس ہمیں نماز میں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8516]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1200، 4534، ومسلم: 539، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19278 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19493»
وضاحت: فوائد: … قَانِتِیْنَ کے دو معانی ہیں: اطاعت گزار، خاموش ہو کر۔ شروع شروع میں نماز میںخارجی کلام کرنا جائز تھا، بعد میں مذکورہ بالا اور اس موضوع سے متعلقہ دیگر احادیث کے ذریعے نماز میں کلام کرنے کو حرام قرار دیا گیا، اس مسئلہ میں اس بات پر تواہل علم کا اتفاق ہے کہ جان بوجھ کر کلام کرنے والی کی نماز باطل ہو گی، بشرطیکہ اسے اس مسئلہ کا علم ہو، البتہ اس شخص کے بارے میں اختلاف ہے جو بھول کر یا جہالت کی بنا پر نماز میں کلام کرتا ہے، راجح مسلک یہ ہے کہ ایسے شخص کی نماز متأثر نہیں ہو گی، امام مالک، امام شافعی،امام احمد اور جمہور اہل علم کییہی رائے ہے۔ اس مسلک کے دلائل درج ذیل ہیں: (۱)سیدنامعاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، جس کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جہالت کی وجہ سے کلام کرنے والے کو اس مسئلہ کی تعلیم دی اور اسے نماز دوہرانے کا حکم نہیں دیا، جبکہ اس وقوعہ سے پہلے نماز میں کلام کرنے کی حرمت کا حکم آچکا تھا۔ دیکھیں حدیث نمبر (۱۸۸۷)
(۲) ذوالیدین کے قصے پر مشتمل حدیث، جس کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھول کر ظہر یا عصر کی دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا اور باتیں بھی کیں، لیکن اس کے باوجود مزید صرف دو رکعتیں ہی ادا کیں۔ اگر بھول کر کلام کرنے سے نماز باطل ہو جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلی دو رکعتوں کو باطل قرار دے کر از سرِ نو چار رکعت نماز ادا کرتے۔ یہ واقعہ سات سن ہجری کے بعد پیش آیا، جبکہ دو سن ہجری سے پہلے نماز میں کلام کرنا حرام ہو چکا تھا،ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۱۹۸۹)
(۳)نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ اللّٰہَ تَجَاوَزَ عَنْ أُمَّتِیَ الْخَطَأُ وَالنِّسْیَانُ وَمَا اسْتُکْرِھُوْا عَلَیْہِ۔)) … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالی نے میری امت سے خطا، بھول چوک اور جس پر اس کو مجبور کر دیا جائے، کا گناہ اٹھا دیا ہے۔ (ابن ماجہ: ۲۰۴۳)
لیکن امام ابوحنیفہ اور بعض اہل علم کی رائے یہ ہے کہ بھول کر یا جہالت کی وجہ سے کلام کرنے سے نماز باطل ہو جائے گی، انھوں نے اپنے حق میں وہ عام دلائل پیش کیے ہیں، جن کا تذکرہ اس باب میں ہوا ہے۔ لیکن حقیقت ِ حال یہ ہے کہ جب ان دلائل کے بیان کے بعد والے واقعات میں بھول کر یا جہالت کی وجہ سے کلام کی گئی اور نماز پر بطلان کا حکم نہیں لگایا گیا تو اِن خاص احادیث کی روشنی میں مسئلہ کو سمجھنا چاہیے۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ اگر کوئی روزے دار رمضان میں بھول کر کھا پی لیتا ہے تو اہل الحدیث کی طرح احناف کے ہاں بھی اس سے روزہ متأثر نہیں ہوتا، حالانکہ نماز میں کلام کرنے کی طرح فرضی روزے کی حالت میں کھانا پینا بھی حرام ہے۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ نماز میں بھول کر یا جہالت کی وجہ سے کلام ہو جائے تو نماز متأثر نہیں ہو گی، وگرنہ باطل ہو جائے گی۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1200
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8517
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ حَرْفٍ مِنَ الْقُرْآنِ يُذْكَرُ فِيهِ الْقُنُوتُ فَهُوَ الطَّاعَةُ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن مجید میں جہاں بھی قنوت کا لفظ استعمال ہوا ہے، اس سے مراد اطاعت ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8517]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11711 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11734»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ آيَةِ الْكُرْسِيِّ
آیۃ الکرسی کے فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8518
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي هَذَيْنِ الْآيَتَيْنِ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ [سورة البقرة: ٢٥٥] وَالم اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ [سورة آل عمران: ٢] إِنَّ فِيهِمَا اسْمَ اللَّهِ الْأَعْظَمَ
۔ سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ہے:{اَللَّہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ} اور {الٓمٓ اللّٰہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ}۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8518]
تخریج الحدیث: «حسن، قاله الالباني۔ أخرجه ابوداود: 1496، والترمذي: 3478، وابن ماجه: 3855، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27611) اِلٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ} اور {الٓمٓ اللّٰهُ لَا اِلٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ}۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28163»
وضاحت: فوائد: … اللہ پاک کے اسم اعظم کے لیے دیکھیں حدیث نمبر (۵۶۲۸) اور اس سے پہلے والی احادیث اور ان کے فوائد۔

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8519
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا السَّلِيلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ النَّاسَ حَتَّى يُكْثَرَ عَلَيْهِ فَيَصْعَدَ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ فَيُحَدِّثَ النَّاسَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ أَعْظَمُ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ [سورة البقرة: ٢٥٥] قَالَ فَوَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ قَالَ فَوَجَدْتُ بَرْدَهَا بَيْنَ ثَدْيَيَّ أَوْ قَالَ فَوَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ ثَدْيَيَّ فَوَجَدْتُ بَرْدَهَا بَيْنَ كَتِفَيَّ قَالَ يَهْنِيكَ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ الْعِلْمَ الْعِلْمَ
۔ ابو سلیل سے مروی ہے کہ ایک صحابی لوگوں کو احادیث بیان کرتا، یہاں تک کہ جب لوگوں کی تعداد بڑھ گئی تو وہ گھر کی چھت پر چڑھ کر لوگوں کو احادیث سنانے لگا، ایک حدیث یہ تھی: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: قرآن مجید میں کونسی آیت سب سے عظمت والی ہے؟ ایک آدمی نے جواب دیا اور کہا: {اَللَّہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ} یعنی آیۃ الکرسی،یہ جواب سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس کے کندھوں پر رکھا، اس نے کہا:میں نے اپنے سینے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ کی ٹھنڈک محسوس کی،یا اس صحابی نے یوں کہا: پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر رکھا اور میں نے اپنے کندھوں کے مابین اس کی ٹھنڈک محسوس کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو منذر! تجھے یہ علم مبارک ہو، یہ واقعی علم ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8519]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه مسلم: 810 من حديث ابي، وھو الحديث الآتي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20588 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20864»
وضاحت: فوائد: … یہ صحابی سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ تھے، جیسا کہ اگلی حدیث سے پتہ چل رہا ہے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح ۔ أخرجه مسلم: 810 من حديث ابي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں