🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. بَابُ: «وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطَا»
{وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا کُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8491
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُدْعَى نُوحٌ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ لَهُ هَلْ بَلَّغْتَ فَيَقُولُ نَعَمْ فَيُدْعَى قَوْمُهُ فَيُقَالُ لَهُمْ هَلْ بَلَّغَكُمْ فَيَقُولُونَ مَا أَتَانَا مِنْ نَذِيرٍ أَوْ مَا أَتَانَا مِنْ أَحَدٍ قَالَ فَيُقَالُ لِنُوحٍ مَنْ يَشْهَدُ لَكَ فَيَقُولُ مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ قَالَ فَذَلِكَ قَوْلُهُ {وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا} قَالَ الْوَسَطُ الْعَدْلُ قَالَ فَيُدْعَوْنَ فَيَشْهَدُونَ لَهُ بِالْبَلَاغِ قَالَ ثُمَّ أَشْهَدُ عَلَيْكُمْ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روزِ قیامت نوح علیہ السلام کو بلایا جائے گا اور ان سے پوچھا جائے گا: کیا تم نے پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ کہیں گے: جی ہاں، پھر ان کی قوم کو بلایا جائے گا اور ان سے کہاجائے گا: کیا نوح علیہ السلام نے تم تک پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ کہیں گے: ہمارے پاس تو کوئی ڈرانے والا نہیں آیا۔ نوح علیہ السلام سے کہا جائے گا: اب کون آپ کے حق میں گواہی دے گا؟ وہ کہیں گے: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اوران کی امت، یہی صورت اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی مصداق ہے: {وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا کُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا} … ہم نے اسی طرح تمہیں عادل امت بنایا ہے۔ وَسَط کا معنی عادل ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس میرے امت کے لوگوں کو بلایا جائے گا اور یہ نوح علیہ السلام کے حق میں گواہی دیں گے اور پھر میں تمہارے حق میں گواہی دوں گا۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8491]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق {لِيَكُوْنَ الرَّسُوْلُ شَهِيْدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُوْنُوْا شُهَدَاء َ عَلَي النَّاسِ} تاكه رسول تم پر شهادت دينے والابنے اور تم لوگوں پر شهادت دينے والے بنو۔ (سورهٔ حج: 78 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11303»
وضاحت: فوائد: … سورۂ حج میں امت ِ مسلمہ کے اسی منصب کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا: {لِیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ شَہِیْدًا عَلَیْکُمْ وَتَکُوْنُوْا شُہَدَاء َ عَلَی النَّاسِ} … تاکہ رسول تم پر شہادت دینے والابنے اور تم لوگوں پر شہادت دینے والے بنو۔ (سورۂ حج: ۷۸)

الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق {لِيَكُوْنَ الرَّسُوْلُ شَهِيْدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُوْنُوْا شُهَدَاء َ عَلَي النَّاسِ} تاكه رسول تم پر شهادت دينے والابنے اور تم لوگوں پر شهادت دينے والے بنو۔ (سورهٔ حج: 78 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11303
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. بَابُ: «وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيْمَانَكُمْ»
{وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَکُمْ} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8492
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا حُوِّلَتِ الْقِبْلَةُ قَالَ أُنَاسٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصْحَابُنَا الَّذِينَ مَاتُوا وَهُمْ يُصَلُّونَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ {وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ}
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں جب قبلہ تبدیل ہوا تو بعض لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارے وہ ساتھی جو بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے رہے اور پھر اسی حالت میں فوت ہو گئے، ان کا کیا بنے گا؟اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَکُمْ} … اللہ تعالیٰ تمہاری نمازیں ضائع کرنے والا نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8492]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 4680، والترمذي: 2964، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2775 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2775»
وضاحت: فوائد: … جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے آئے تو سولہ سترہ ماہ تک بیت المقدس کی طرح رخ کر کے نماز پڑھتے تھے، درآں حالیکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواہش یہ تھی کہ خانہ کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی جائے، بالآخر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کییہ خواہش پوری ہوئی تو بعض صحابہ کے ذہن میں یہ اشکال پیدا ہوا کہ اس سے پہلے والی نمازیں ضائع ہو جائیں گییا ان کا ثواب نہیں ملے گا، اللہ تعالی نے وضاحت کی کہ نمازیں ضائع نہیں ہوں گی، کیونکہ وہ بھی اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے مطابق تھیں۔ اس آیت میں نماز کو ایمان سے تعبیر کیا گیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ نماز کے بغیر ایمان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 4680
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابُ: «قَدْ نَرى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ ..»
{قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَائِ …} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8493
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَنَزَلَتْ {قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ} فَمَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ وَهُمْ رُكُوعٌ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ وَقَدْ صَلَّوْا رَكْعَةً فَنَادَى أَلَا إِنَّ الْقِبْلَةَ قَدْ حُوِّلَتْ أَلَا إِنَّ الْقِبْلَةَ قَدْ حُوِّلَتْ إِلَى الْكَعْبَةِ قَالَ فَمَالُوا كَمَا هُمْ نَحْوَ الْقِبْلَةِ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت المقدس کی جانب منہ کر کے نماز پڑھتے تھے، پھر جب یہ آیت نازل ہوئی: {قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَائِ فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضَاہَا فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ} … تحقیق ہم آپ کے چہرے کا آسمان کی جانب پلٹتا ہوا دیکھتے ہیں، ضرور ہم تمہیں اس قبلہ کی جانب پھیریں گے جسے تو پسند کرتا ہے، پس اپنے چہرے کو مسجد حرام کی جانب پھیر لو۔ تو ایک آدمی بنو سلمہ کے پاس سے گزرا، جبکہ وہ لوگ فجر کی نماز میں حالت رکوع میں تھے اور ایک رکعت انہوں نے پڑھ لی تھی، اس گزرنے والے نے آواز دی: خبردار! قبلہ تبدیل ہو چکا ہے، خبردار! قبلہ تبدیل ہو چکاہے اور اب کعبہ قبلہ ہے، تو وہ اسی حالت میں قبلہ کی طرف مڑ گئے۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8493]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 527، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14034 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14079»
وضاحت: فوائد: … یہ مسجد ِ قباء کا واقعہ ہے، یعنی قباء والوں کو نماز ِ فجر میں تحویلِ قبلہ کی خبر پہنچی تھی۔ نسخ کی سب سے پہلی مثال قبلہ کی تبدیلی ہے، بنوسلمہ کے اس باشندے کا نام سیدنا عباد بن بشر رضی اللہ عنہ ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اخبار الآحاد قبول کرنا واجب ہے، کیونکہ قبلہ کی تبدیلی کے بارے میں خبر دینے والا صرف ایک آدمی تھا، لیکن لوگوں نے اس کی بات پر اتنا اعتبار کیا کہ نماز کے اندر ہی قبلہ تبدیل کر دیا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 527
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8494
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا ثُمَّ وُجِّهَ إِلَى الْكَعْبَةِ وَكَانَ يُحِبُّ ذَلِكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ} الْآيَةَ قَالَ فَمَرَّ رَجُلٌ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ عَلَى قَوْمٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَهُمْ رُكُوعٌ فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَقَالَ هُوَ يَشْهَدُ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّهُ قَدْ وُجِّهَ إِلَى الْكَعْبَةِ قَالَ فَانْحَرَفُوا وَهُمْ رُكُوعٌ فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سولہ سترہ ماہ بیت المقدس کی جانب رخ کر کے نماز پڑھی، پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کعبہ کی جانب متوجہ کر دیا گیا اور آپ کی پسند بھی یہی قبلہ تھا، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:{قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَائِ فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضَاہَا فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ} … تحقیق ہم آپ کے چہرے کا آسمان کی جانب پلٹتا ہوا دیکھتے ہیں، ضرور ہم تمہیں اس قبلہ کی جانب پھیریں گے جسے تو پسند کرتاہے، پس اپنے چہرے کو مسجد حرام کی جانب پھیر لو۔ ایک آدمی،جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ عصر ادا کی تھی، انصاری قوم کے پاس سے گزرا، جبکہ وہ رکوع کی حالت میں تھے، اس نے کہا: میں گواہی دیتاہوں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ہے اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کعبہ کی جانب منہ کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے، وہ لوگ اسی وقت کعبہ کی طرف پھر گئے، جبکہ وہ رکوع کی حالت تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8494]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4492، ومسلم: 525، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18707 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18914»
وضاحت: فوائد: … یہ قبیلہ بنوحارثہ تھی، اسی مسجد کا نام مسجد قبلتین پڑ گیا۔ تمام احادیث کو جمع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ تحویل قبلہ کا حکم ظہر کی نماز کے وقت اترا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کعبے کی طرف اولین نماز، ظہر کی پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے والوں نے یہ اطلاع دوسری مساجد میں پہنچائی، مسجد قبلتین میں یہ اطلاع اسی دن نمازِ عصر کے وقت پہنچی اور مسجد قباء والوں کو دوسرے دن نمازِ فجر میں تحویل قبلہ کی خبر معلوم ہوئی۔
تحویل قبلہ کا حکم ظہر کی نماز کے وقت اترا: اس بارے اختلاف ہے کہ تحویل قبلہ کا حکم کس مسجد میں نازل ہوا تھا۔ بعض مسجد نبوی بتاتے اور دیگر اہل علم بنی سلمہ کی مسجد ذکر کرتے ہیں۔ دوسری رائے درست ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنی سلمہ کے محلہ میں گئے تھے وہاں نماز کا وقت ہوا، آپ نماز پڑھا رہے تھے کہ تحویل قبلہ کا حکم ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز کے دوران حکم کی تعمیل کی اور یہ ظہر کی نماز تھی، اسی مناسبت سے مسجد بنی سلمہ کو مسجد قبلتین کہتے ہیں۔ بنی حارثہ محلے میں نماز عصر کے دوران یہ خبر پہنچی تو انہوں نے بھی عین نماز کے دوران قبلہ تبدیل کیا۔ مسجد قباء میں فجر کی نماز کے دوران اطلاع پہنچی تو انہوں نے بھی اسی حالت میں قبلہ تبدیل کیا۔ اس کی تفصیل دیکھیں مدینہ منورہ کی تاریخی مساجد از ڈاکٹر محمد الیاس عبدالغنی ص ۵۳، فتح الباری: ج۱ ص ۵۰۳۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4492
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. بَابُ: «إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ»
{اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8495
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَ قُلْتُ أَرَأَيْتِ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوْ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا} قَالَ فَقُلْتُ فَوَاللَّهِ مَا عَلَى أَحَدٍ جُنَاحٌ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا فَقَالَتْ عَائِشَةُ بِئْسَ مَا قُلْتَ يَا ابْنَ أُخْتِي إِنَّهَا لَوْ كَانَتْ عَلَى مَا أَوَّلْتَهَا كَانَتْ {فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا} وَلَكِنَّهَا إِنَّمَا أُنْزِلَتْ أَنَّ الْأَنْصَارَ كَانُوا قَبْلَ أَنْ يُسْلِمُوا يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ الطَّاغِيَةِ الَّتِي كَانُوا يَعْبُدُونَ عِنْدَ الْمُشَلَّلِ وَكَانَ مَنْ أَهَلَّ لَهَا تَحَرَّجَ أَنْ يَطَّوَّفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَسَأَلُوا عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا نَتَحَرَّجُ أَنْ نَطَّوَّفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ} إِلَى قَوْلِهِ {فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا} قَالَتْ عَائِشَةُ ثُمَّ قَدْ سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الطَّوَافَ بِهِمَا فَلَيْسَ يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَدَعَ الطَّوَافَ بِهِمَا
۔ عروہ سے مروی ہے، انھوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اس آیت کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ أَ وْ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ أَ نْ یَطَّوَّفَ بِہِمَا} … بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، تو جو کوئی اس گھر کا حج کرے، یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ دونوں کا خوب طواف کرے (سورۂ بقرہ:۱۵۸) میں نے کہا:اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان کا طواف نہ بھی کیاجائے تو کوئی حرج نہیں ہے، لیکن سیدہ نے کہا: اے بھانجے! یہ تونے درست نہیں سمجھا، اگر یہ مطلب ہوتا جو تو بیان کر رہا ہے تو پھر قرآن کے الفاظ اس طرح ہوتے: {فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ أَ نْ لَا یَطَّوَّفَ بِہِمَا} … پس اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف نہ کرے۔ اصل واقعہ یہ ہے کہ اسلام قبول کرنے سے پہلے انصاری لوگ منات بت کے لئے احرام باندھتے تھے اور جس کی وہ عبادت کرتے تھے، وہ مشلل مقام میں تھا اور جو اس بت کے لئے احرام باندھتا تھا، وہ صفا اور مروہ کی سعی کرنے میں حرج سمجھتا تھا، جب انہوں نے اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہم جاہلیت میں صفا و مروہ کی سعی میں حرج محسوس کرتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ أَ نْ یَطَّوَّفَ بِہِمَا} … بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، تو جو کوئی اس گھر کا حج کرے، یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ دونوں کا خوب طواف کرے۔ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی سعی کو مشروع قرار دیا ہے، لہٰذا کسی کے لائق نہیں ہے کہ وہ ان کا طواف چھوڑے۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8495]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1643، 4861، ومسلم: 1277، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25112 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25625»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1643
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8496
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَيْضًا فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ} قَالَتْ كَانَ رِجَالٌ مِنَ الْأَنْصَارِ مِمَّنْ يُهِلُّ لِمَنَاةَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَمَنَاةُ صَنَمٌ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ قَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا نَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ تَعْظِيمًا لِمَنَاةَ فَهَلْ عَلَيْنَا مِنْ حَرَجٍ أَنْ نَطُوفَ بِهِمَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوْ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا}
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے فرمان { إِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ} کے بارے میں کہا: جو انصاری لوگ دورِ جاہلیت میں منات کے لیے احرام باندھتے تھے، مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک بت کا نام مناۃ تھا، انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہم صفااور مروہ کے درمیان منات کی تعظیم کے لئے سعی کیا کرتے تھے، کیا اب ان کی سعی کرنے میں ہم پرکوئی حرج تو نہیں ہے،پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ أَ وِ اعْتَمَرَ فَـلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ أَ نْ یَطَّوَّفَ بِہِمَا} … بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، تو جو کوئی اس گھر کا حج کرے، یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ دونوں کا خوب طواف کرے۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8496]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اذٔخرجه الطحاوي في شرح مشكل الآثار: 3937، وعلقه البخاري: 4861، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25298 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25812»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۴۳۹۰)

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح ۔ اذٔخرجه الطحاوي في شرح مشكل الآثار : 3937
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. بَابُ: «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ»
{یَااَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8497
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُحِيلَتِ الصَّلَاةُ ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ وَأُحِيلَ الصِّيَامُ ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ فَأَمَّا أَحْوَالُ الصَّلَاةِ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَهُوَ يُصَلِّي سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ (الْحَدِيثَ) قَالَ وَأَمَّا أَحْوَالُ الصِّيَامِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَجَعَلَ يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَقَالَ يَزِيدُ فَصَامَ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا مِنْ رَبِيعِ الْأَوَّلِ إِلَى رَمَضَانَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَصَامَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَضَ عَلَيْهِ الصِّيَامَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ} إِلَى هَذِهِ الْآيَةِ {وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ} قَالَ فَكَانَ مَنْ شَاءَ صَامَ وَمَنْ شَاءَ أَطْعَمَ مِسْكِينًا فَأَجْزَأَ ذَلِكَ عَنْهُ قَالَ ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْزَلَ الْآيَةَ الْأُخْرَى {شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ} إِلَى قَوْلِهِ {فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ} فَأَثْبَتَ اللَّهُ صِيَامَهُ عَلَى الْمُقِيمِ الصَّحِيحِ وَرَخَّصَ فِيهِ لِلْمَرِيضِ وَالْمُسَافِرِ وَثَبَّتَ الْإِطْعَامَ لِلْكَبِيرِ الَّذِي لَا يَسْتَطِيعُ الصِّيَامَ فَهَذَانِ حَالَانِ قَالَ وَكَانُوا يَأْكُلُونَ وَيَشْرَبُونَ وَيَأْتُونَ النِّسَاءَ مَا لَمْ يَنَامُوا فَإِذَا نَامُوا امْتَنَعُوا قَالَ ثُمَّ إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ صِرْمَةُ ظَلَّ يَعْمَلُ صَائِمًا حَتَّى أَمْسَى فَجَاءَ إِلَى أَهْلِهِ فَصَلَّى الْعِشَاءَ ثُمَّ نَامَ فَلَمْ يَأْكُلْ وَلَمْ يَشْرَبْ حَتَّى أَصْبَحَ فَأَصْبَحَ صَائِمًا قَالَ فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ جَهَدَ جَهْدًا شَدِيدًا قَالَ مَالِي أَرَاكَ قَدْ جَهَدْتَ جَهْدًا شَدِيدًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي عَمِلْتُ أَمْسِ فَجِئْتُ حِينَ جِئْتُ فَأَلْقَيْتُ نَفْسِي فَنِمْتُ وَأَصْبَحْتُ حِينَ أَصْبَحْتُ صَائِمًا قَالَ وَكَانَ عُمَرُ قَدْ أَصَابَ مِنَ النِّسَاءِ مِنْ جَارِيَةٍ أَوْ مِنْ حُرَّةٍ بَعْدَ مَا نَامَ وَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ} إِلَى قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ}
۔ سیدنامعاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ تین مراحل میں نماز کی فرضیت اور تین مراحل میں ہی روزے کی فرضیت ہوئی، نماز کے مراحل یہ ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سترہ ماہ تک بیت اللہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے رہے، … … (کتاب الصلاۃ میں مکمل حدیث گزر چکی ہے) روزے کے مراحل یہ ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر ماہ میں تین روزے رکھا کرتے تھے، یزید راوی کہتا ہے: ربیع الاول سے لے کر ماہِ رمضان کے روزوں کی فرضیت تک کل سترہ ماہ کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر ماہ میں تین روزے رکھتے رہے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس محرم کا روزہ بھی رکھا تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ماہِ رمضان کے روزے فرض کر دیئے اور یہ آیات نازل فرمائیں: {یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ۔} (اے ایمان والو! تم پر اسی طرح روزے فرض کئے گئے ہیں، جس طرح کہ تم سے پہلے والے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔)نیز فرمایا: { وَعَلَی الَّذِیْنَیُطِیْقُوْنَہُ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ} (اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہیں، وہ (روزہ کی بجائے) ایک مسکین کوبطور فدیہ کھانا کھلا دیا کریں۔) ان آیات پر عمل کرتے ہوئے جو آدمی چاہتا وہ روزہ رکھ لیتا اور جو کوئی روزہ نہ رکھنا چاہتا وہ بطورِ فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلا دیتا اور یہی چیز اس کی طرف سے کافی ہو جاتی، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا: {شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِی اُنْزِلَ فیِہِ الْقُرْآنُ ھُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنَاتٍ مِّنَ الْھُدٰی وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ} (ماہِ رمضان وہ مہینہ ہے، جس میں لوگوں کو ہدایت کے لئے اور ہدایت کے واضح دلائل بیان کرنے کے لئے قرآن مجید نازل کیا گیا ہے، جو حق و باطل میں امتیاز کرنے والا ہے، اب تم میں سے جو آدمی اس مہینہ کو پائے وہ روزے رکھے۔) اس طرح اللہ تعالیٰ نے مقیم اورتندرست آدمی پراس مہینے کے روزے فرض کر دیئے، البتہ مریض اور مسافر کو روزہ چھوڑنے کی رخصت دے دی اور روزہ کی طاقت نہ رکھنے والے عمر رسیدہ آدمی کے لیے روزے کا یہ حکم برقرار رکھا کہ وہ بطورِ فدیہ مسکین کو کھانا کھلا دیا کرے، یہ دو حالتیں ہو گئیں، تیسری حالت یہ تھی کہ لوگ رات کو سونے سے پہلے تک کھا پی سکتے تھے اور بیویوں سے ہم بستری کر سکتے تھے، لیکن جب نیند آ جاتی تو اس کے بعد یہ سب کچھ ان کے لئے ممنوع قرار پاتا تھا، ایک دن یوں ہوا کہ ایک صرمہ نامی انصاری صحابی روزے کی حالت میں سارا دن کام کرتا رہا، جب شام ہوئی تو اپنے گھر پہنچا اور عشاء کی نماز پڑھ کر کچھ کھائے پئے بغیر سو گیا،یہاں تک کہ صبح ہو گئی اور اس طرح اس کا روزہ بھی شروع ہو چکا تھا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے دیکھا کہ وہ کافی نڈھال ہوچکا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ: بہت نڈھال دکھائی دے رہے ہو، کیا وجہ ہے؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کل سارا دن کام کرتا رہا، جب گھر آیا تو ابھی لیٹا ہی تھا کہ سو گیا(اور اس طرح میرے حق میں کھانا پینا حرام ہو گیا اور) جب صبح ہوئی تو میں نے تو روزے کی حالت میں ہی ہونا تھا۔ اُدھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا بھی ایک معاملہ تھا کہ انھوں نے نیند سے بیدار ہونے کے بعد اپنی بیوی یا لونڈی سے ہم بستری کر لی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر ساری بات بتلا دی تھی، اس وقت اللہ تعالیٰ نےیہ حکم نازل فرمایا: {اُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ إلٰی نِسَائِکُمْ ھُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَاَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّھُنَّ عَلِمَ اللّٰہُ اَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَکُمْ فَتَابَ عَلَیْکُمْ وَعَفَا عَنْکُمْ فَالْئٰنَ بَاشِرُوْھُنَّ وَابْتَغُوْا مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَکُمْ وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰییَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ اَتِمُّوْا الصِّیَامَ إِلَی الَّیْلِ۔} (روزے کی راتوںمیں اپنی بیویوں سے ملنا تمہارے لیے حلال کیاگیا، وہ تمہارا لباس ہیں اور تم ان کے لباس ہو، تمہاری پوشیدہ خیانتوں کا اللہ تعالیٰ کو علم ہے، اس نے تمہاری توبہ قبول فرما کر تم سے درگزر فرما لیا، اب تمہیں ان سے مباشرت کی اور اللہ تعالیٰ کی لکھی ہوئی چیز کو تلاش کرنے کی اجازت ہے، تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے ظاہر ہو جائے، پھر رات تک روزے کو پورا کرو۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8497]
تخریج الحدیث: «قال الالباني: صحيح۔ اخرجه ابوداود: 507، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22124 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22475»
وضاحت: فوائد: … مسلمانوں پر جو روزے فرض ہیں، ان کی موجودہ صورتحال یہ ہے: سال کے بارہ مہینوں میں صرف رمضان کے روزے فرض ہیں، روزے کا دورانیہ طلوع فجر سے غروبِ آفتاب تک ہے، روزہ نہ رکھ سکنے والا مستقل مریض اور کمزور بزرگ ایک روزہ ترک کرنے کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں، مسافر اور شفا کی امید رکھنے والے مریض کے لیےیہ حکم ہے کہ اگر وہ اس سفر اور بیماری کے دوران روزے نہ رکھ سکیں تو بعد میں قضائی دے دیں۔
لیکن روزوں کو درج بالا صورت دینے سے پہلے بالترتیب درج ذیل مراحل سے گزارا گیا:
(۱) ہر ماہ میں تین روزے رکھنا اور یوم عاشوراء (یعنی دس محرم) کا روزہ رکھنا، انیس مہینوں تک یہ عمل جاری رہا۔
(۲) رمضان کے روزے فرض کر دیئے گئے، لیکنیہ اختیار دیا گیا کہ جو چاہتا ہے، روزے رکھ لے اور جو چاہتا ہے ہر روزے کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلا دے۔
(۳) مقیم اور صحت مند آدمی پر رمضان کے روزے فرض کر دیئے گئے، مریض اور مسافر کو مخصوص رخصت دی گئی، …۔ یعنی روزوں کی موجودہ صورت۔
بیچ میں ایک تبدیلییہ بھی ہوئی کہ شروع میں سحری کی رخصت نہیں تھی، بلکہ غروبِ آفتاب کے بعد افطاری سے لے کر رات کو سونے سے پہلے تک کھانے پینے اور مجامعت کی اجازت ہوتی تھی، جونہی کسی کی آنکھ لگ جاتی، اس کا روزہ شروع ہو جاتا تھا، پھر اللہ تعالی نے غروب آفتاب سے طلوع فجر تک کھانے پینے اور مجامعت کی اجازت دے دی۔

الحكم على الحديث:
قال الالباني: صحيح۔ اخرجه ابوداود: 507
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. بَابُ: «أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ»
{اُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰی نِسَائِکُمْ} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8498
عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ الرَّجُلُ صَائِمًا فَحَضَرَ الْإِفْطَارُ فَنَامَ قَبْلَ أَنْ يُفْطِرَ لَمْ يَأْكُلْ لَيْلَتَهُ وَلَا يَوْمَهُ حَتَّى يُمْسِيَ وَإِنَّ فُلَانًا الْأَنْصَارِيَّ كَانَ صَائِمًا فَلَمَّا حَضَرَهُ الْإِفْطَارُ أَتَى امْرَأَتَهُ فَقَالَ هَلْ عِنْدَكِ مِنْ طَعَامٍ قَالَتْ لَا وَلَكِنْ أَنْطَلِقُ فَأَطْلُبُ لَكَ فَغَلَبَتْهُ عَيْنُهُ وَجَاءَتِ امْرَأَتُهُ فَلَمَّا رَأَتْهُ قَالَتْ خَيْبَةٌ لَكَ فَأَصْبَحَ فَلَمَّا انْتَصَفَ النَّهَارُ غُشِيَ عَلَيْهِ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ [سورة البقرة: ١٨٧] إِلَى قَوْلِهِ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ وَإِنَّ قَيْسَ بْنَ صِرْمَةَ الْأَنْصَارِيَّ جَاءَ فَنَامَ فَذَكَرَهُ
۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابۂ کرام میں سے جب کوئی آدمی روزے دار ہوتا اور افطارکا وقت ہو جانے کے بعد افطاری کرنے سے پہلے سو جاتا تو وہ نہ اس رات کو کچھ کھا سکتا اور نہ اگلے دن کو، یہاں تک کہ اگلے دن کی شام ہو جاتی، ایک انصاری یعنی سیدنا صرمہ بن قیسروزے دار تھے، جب افطاری کاوقت ہوا تو وہ اپنی بیوی کے پاس آئے اور کہا: کیا کچھ کھانے کے لیے ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، لیکن میں جاتی ہوں اور تمہارے لئے کچھ تلاش کر کے لاتی ہوں، اتنی دیر میں اس کی آنکھ لگ گئی، جب بیوی نے واپس آ کر دیکھا تو وہ کہنے لگی:ہائے ناکامی ہو تیرے لیے (اب کیا بنے گا)، پس اس نے اسی حالت میں صبح کی اور جب نصف دن گزر گیا تو وہ بیہوش ہو گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ساری صورتحال بتلائی گئی تو یہ آیت نازل ہوئی: {اُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰی نِسَائِکُمْ ھُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَاَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّہُنَّ عَلِمَ اللّٰہُ اَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَکُمْ فَتَابَ عَلَیْکُمْ وَعَفَا عَنْکُمْ فَالْئٰنَ بَاشِرُوْھُنَّ وَابْتَغُوْا مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَکُمْ وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰییَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ} … تمھارے لیے روزے کی رات اپنی عورتوں سے صحبت کرنا حلال کر دیا گیا ہے، وہ تمھارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو۔ اللہ نے جان لیا کہ بے شک تم اپنی جانوں کی خیانت کرتے تھے تو اس نے تم پر مہربانی فرمائی اور تمھیں معاف کر دیا، تو اب ان سے مباشرت کرو اور طلب کرو جو اللہ نے تمھارے لیے لکھا ہے اور کھاؤ اور پیو،یہاں تک کہ تمھارے لیے سیاہ دھاگے سے سفید دھاگا فجر کا خوب ظاہر ہو جائے (سورۂ بقرہ: ۱۸۷) [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8498]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1915، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18611 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18812»
وضاحت: فوائد: … ابتدائے اسلام میں یہ حکم تھا کہ افطار کے بعد کھانا پینا، جماع کرنا عشاء کی نماز تک جائز تھا اور اگر کوئی اس سے بھی پہلے سوجاتا تو اس پر نیند آتے ہی کھانا پینا اور جماع حرام ہوجاتا، اس میں صحابہ کو کافی ساری مشقت ہوئی، جس سے یہ رخصت کی آیتیں نازل ہوئیں اور غروب ِ آفتاب سے طلوع فجر تک کھانے پینے کی سہولت مل گئی، اس طرح آسانی کے احکام مل گئے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1915
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. بَابُ: «‏‏‏‏وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأبيضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ»
{وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰییَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ¤مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8499
عَنِ الشَّعْبِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَنَا عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ [سورة البقرة: ١٨٧] قَالَ عَمَدْتُ إِلَى عِقَالَيْنِ أَحَدُهُمَا أَسْوَدُ وَالْآخَرُ أَبْيَضُ فَجَعَلْتُهُمَا تَحْتَ وَسَادَتِي قَالَ ثُمَّ جَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهِمَا فَلَا تَبِينُ لِي الْأَسْوَدُ مِنَ الْأَبْيَضِ وَلَا الْأَبْيَضُ مِنَ الْأَسْوَدِ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي صَنَعْتُ فَقَالَ إِنْ كَانَ وَسَادُكَ إِذًا لَعَرِيضٌ إِنَّمَا ذَلِكَ بَيَاضُ النَّهَارِ مِنْ سَوَادِ اللَّيْلِ
۔ سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: {وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰییَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ} … اور کھاؤ اور پیو،یہاں تک کہ تمھارے لیے سیاہ دھاگے سے سفید دھاگا فجر کا خوب ظاہر ہو جائے (سورۂ بقرہ: ۱۸۷) تو میں عدی نے دو دھاگے لئے، ان میں سے ایک سیاہ تھا اور دوسرا سفید، میں نے انہیں اپنے تکیہ کے نیچے رکھ دیا، پھر میں نے انہیں دیکھنا شروع کردیا، لیکن میرے لئے نہ تو سیا ہ دھاگہ ظاہر ہوتاتھا اور نہ ہی سفید دھاگہ، جب صبح ہوئی تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور میں نے جو کچھ کیا تھا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا تکیہ تو بہت لمبا چوڑا ہے، اس سے یہ مراد تو دن کی سفیدی اور رات کی سیاہی۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8499]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4509، 4510، ومسلم: 1090، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19370 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19587»
وضاحت: فوائد: … سفید دھاگے سے مراد فجر صادق ہے اور سیاہ دھاگے سے مراد رات ہے۔
اس حدیث ِ مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قرآن مجید سمجھنے کے لیے صرف عربی زبان کی مہارت کافی نہیں ہے، بلکہ ساتھ ساتھ تشریحات ِ نبویہ کی بھی ضرورت پڑتی ہے، اس کی دیگر مثالیں بھی موجود ہیں، ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۸۵۹۷)

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4509
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8500
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ وَالصِّيَامَ قَالَ صَلِّ كَذَا وَكَذَا وَصُمْ فَإِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ فَكُلْ وَاشْرَبْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكَ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ [سورة البقرة: ١٨٧] وَصُمْ ثَلَاثِينَ يَوْمًا إِلَّا أَنْ تَرَى الْهِلَالَ قَبْلَ ذَلِكَ فَأَخَذْتُ خَيْطَيْنِ مِنْ شَعْرٍ أَسْوَدَ وَأَبْيَضَ فَكُنْتُ أَنْظُرُ فِيهِمَا فَلَا يَتَبَيَّنُ لِي فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ وَقَالَ يَا ابْنَ حَاتِمٍ إِنَّمَا ذَاكَ بَيَاضُ النَّهَارِ مِنْ سَوَادِ اللَّيْلِ
۔ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے نماز اور روزہ کی تعلیم دی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فلاں وقت میں فلاں نماز پڑھو اور روزہ رکھو، جب سورج غروب ہوجائے تو پھرکھاؤ اور پیو،یہاں تک کہ سیاہ دھاگے سے سفید دھاگہ ظاہرہو جائے اور تیس دن روزے رکھو، الا یہ کہ چاند پہلے نظر آ جائے۔ میں نے سیاہ اور سفید بالوں سے دو دھاگے لیے اور ان کو دیکھنا شروع کردیا، لیکن وہ میرے لیے ظاہر نہیں ہوئے، جب میں نے اس بات کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا تو آپ مسکرائے اور فرمایا: اے ابن حاتم! اس سے دن کی سفیدی اور رات کی سیاہی مراد ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8500]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الترمذي: 2970، 2971، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19375 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19593»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح ۔ أخرجه الترمذي: 2970
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں