الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. بَابُ: «لَيْسَ بِأَمَانِيكُمْ»
{لَیْسَ بِاَمَانِیِّکُمْ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8569
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَجُلًا تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ [سورة النساء: ١٢٣] قَالَ إِنَّا لَنُجْزَى بِكُلِّ عَمَلِنَا هَلَكْنَا إِذًا فَبَلَغَ ذَاكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ نَعَمْ يُجْزَى بِهِ الْمُؤْمِنُونَ فِي الدُّنْيَا فِي مُصِيبَةٍ فِي جَسَدِهِ فِيمَا يُؤْذِيهِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے یہ آیت تلاوت کی: {مَنْ یَعْمَلْ سُوئً ا یُجْزَ بِہِ} … جو بھی کوئی برائی کرے گا اسے اس کی جزا دی جائے گی۔ اور پھر کہا: اگر ہمیں ہر برے عمل کا بدلہ ملا تو ہم تو مارے جائیں گے، جب یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! (بدلہ تو ہر برے عمل کا ملتا ہے) لیکن ایمانداروں کو دنیا میں تکلیف دینے والی جو مصیبت لاحق ہوتی ہے، یہ ان (کے گناہوں کا) بدلہ ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8569]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابويعلي: 4675، وابن حبان: 2923، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24368 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24872»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ مسلمان کی ہر تکلیف اس کے گناہوں کا کفارہ بنتی ہے یا اس کے لیے بلندیٔ درجات کاسبب بنتی ہے، بہرحال اللہ تعالی سے دنیا و آخرت میں معافی اور عافیت کا سوال کرنا چاہیے۔ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره ۔ أخرجه ابويعلي: 4675
14. باب: «وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا»
{وَاتَّخَذَ اللّٰہُ اِبْرَاھِیْمَ خَلِیْلًا} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8570
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي قَوْلِهِ وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا [سورة النساء: ١٢٥] قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ خَالِدِ بْنِ رِبْعِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ اللَّهَ اتَّخَذَ صَاحِبَكُمْ خَلِيلًا يَعْنِي مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ معمر نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {وَاتَّخَذَ اللّٰہُ اِبْرَاھِیْمَ خَلِیْلًا} … اور اللہ نے ابراہیم کو خاص دوست بنا لیا۔ کو سامنے رکھ کر روایت کی کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھی یعنی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خلیل بنایا ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8570]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3749 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3749»
وضاحت: فوائد: … چونکہ ابراہیم علیہ السلام اپنے ربّ کے بہت زیادہ مطیع اور فرمانبردار تھے، ان کی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی عظیم مثالوں سے بھری پڑی ہے، اللہ تعالی نے بھی ان کی قربانیوں کی قدر کی اور ان کو اپنا خلیل بنا لیا۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 8571
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھی کو اپنا خلیل بنایا ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8571]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3892 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3892»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بے مثال فضائل اور مناقب میں ایک فضیلت و منقبت یہ ہے کہ اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنا خلیل بنا لیا ہے۔ سبحان اللہ! یادرہے کہ خلیل اس مُحِبّ کو کہتے ہیں، جو اپنے دل میں اپنے محبوب سے اتنی زیادہ سچی اور گہری محبت رکھتا ہو کہ مزید اس کے دل میں کسی کے لئے کوئی گنجائش باقی نہ رہی ہو۔ ایسی محبت کو خلّت کہتے ہیں اور محبت کا یہ انداز صرف اللہ تعالی کے بارے میں اختیار کیا جا سکتا ہے۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
15. بَابُ: «يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ»
{یَسْتَفْتُوْنَکَ قُلِ اللّٰہُ یُفْتِیْکُمْ فِی الْکَلَالَۃِ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8572
عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ مَرِضْتُ فَأَتَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَاشِيَيْنِ وَقَدْ أُغْمِيَ عَلَيَّ فَلَمْ أُكَلِّمْهُ فَتَوَضَّأَ فَصَبَّهُ عَلَيَّ فَأَفَقْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَصْنَعُ فِي مَالِي وَلِي أَخَوَاتٌ قَالَ فَنَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ كَانَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أَخَوَاتٌ إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ [سورة النساء: ١٧٦]
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں بیمار ہو گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ پیدل چل کر میری تیمار داری کے لئے تشریف لائے، میں بیہوش تھا، سو آپ سے کوئی بات نہ کر سکا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا اور مجھ پر پانی ڈالا، اس سے مجھے ہوش آ گیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اپنے مال کا کیا کروں، جبکہ میری بہنیں وارث ہیں؟ پس میراث سے متعلقہ یہ آیت نازل ہوئی {یَسْتَفْتُونَکَ قُلِ اللّٰہُ یُفْتِیکُمْ فِی الْکَلَالَۃِ} … لوگ آپ سے فتوی پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیں کہ اللہ تعالی تم کو کلالہ کے بارے میں فتوی دیتا ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی اولاد نہیں تھی، صرف بہنیں تھیں، {إِنْ امْرُؤٌ ہَلَکَ لَیْسَ لَہُ وَلَدٌ وَلَہُ أُخْتٌ} … اگر مرد فوت ہو جائے اور اس کی اولاد نہ ہو اور اس کی ایک بہن ہو۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8572]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5651، 672، ومسلم: 1616، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14298 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14349»
وضاحت: فوائد: … پوری آیتیوں ہے: {یَسْتَـفْتُوْنَکَ قُلِ اللّٰہُ یُفْتِیْکُمْ فِی الْکَلٰلَۃِ اِنِ امْرُؤٌا ہَلَکَ لَیْسَ لَہ وَلَدٌ وَّلَہٓ اُخْتٌ فَلَہَا نِصْفُ مَا تَرَکَ وَہُوَ یَرِثُہَآ اِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّہَا وَلَدٌ فَاِنْ کَانَتَا اثْنَـتَیْنِ فَلَہُمَا الثُّلُثٰنِ مِمَّا تَرَکَ وَاِنْ کَانُوْٓا اِخْوَۃً رِّجَالًا وَّنِسَاء ً فَلِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَـیَیْنِیُـبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمْ اَنْ تَضِلُّوْا وَاللّٰہُ بِکُلِّ شَیْء ٍ عَلِیْمٌ۔} … وہ تجھ سے فتویٰ مانگتے ہیں، کہہ دے اللہ تمھیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے، اگر کوئی آدمی مر جائے، جس کی کوئی اولاد نہ ہو اور اس کی ایک بہن ہو تو اس کے لیے اس کا نصف ہے جو اس نے چھوڑا اور وہ (خود) اس (بہن) کا وارث ہوگا، اگر اس (بہن) کی کوئی اولاد نہ ہو۔ پھر اگر وہ دو (بہنیں) ہوں تو ان کے لیے اس میں سے دو تہائی ہوگا جو اس نے چھوڑا اور اگر وہ کئی بھائی بہن مرد اور عورتیں ہوں تو مرد کے لیے دو عورتوں کے حصے کے برابر ہوگا۔ اللہ تمھارے لیے کھول کر بیان کرتا ہے کہ تم گمراہ نہ ہو جاؤ اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔ اس آیت میں کلالہ کے عینی اور علاتی بھائیوں کا ذکر ہے، سورۂ نساء کی آیت نمبر (۱۲) میں کلالہ کے اخیافی بہن بھائیوں کا ذکر ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5651
حدیث نمبر: 8572M
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا وَجِعٌ لَا أَعْقِلُ قَالَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَبَّ عَلَيَّ أَوْ قَالَ صُبُّوا عَلَيْهِ فَعَقَلْتُ فَقُلْتُ إِنَّهُ لَا يَرِثُنِي إِلَّا كَلَالَةٌ فَكَيْفَ الْمِيرَاثُ قَالَ فَنَزَلَتْ آيَةُ الْفَرْضِ
۔ (دوسری سند) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، جبکہ مجھے تکلیف تھی اور میں بیہوش تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا اور مجھ پر پانی ڈالا، یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر پانی ڈال دو۔ پس میں ہوش میں آ گیا، میں نے کہا: میرا وارث صرف کلالہ ہیں،ایسی صورت میں میراث کی تقسیم کیسے ہو گی؟ پس وراثت والی آیت نازل ہوئی۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8572M]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14235»
وضاحت: فوائد: … کلالہ سے مراد وہ میت ہے، جس کے والدین ہوں نہ اولاد۔ یہ اکلیل سے مشتق ہے، اکلیل ایسی چیز کو کہتے ہیں جو کہ سر کو اس کے اطراف یعنی کناروں سے گھیر لے، کلالہ کو بھی کلالہ اس لیے کہتے ہیں کہ اصول و فروع کے اعتبار سے تو اس کا وارث نہ بنے، لیکن اطراف و جوانب سے وارث قرار پا جائے، جیسے بہن بھائی وغیرہ۔ سورۂ نساء میں دو مقامات پر کلالہ کا ذکر ہے، آیت نمبر (۱۲) اور آیت نمبر (۱۷۶) میں، اول الذکر آیت موسم سرما میں اور آخر الذکر موسم گرما میں نازل ہوئی تھی۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14235
حدیث نمبر: 8573
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اشْتَكَيْتُ وَعِنْدِي سَبْعُ أَخَوَاتٍ لِي فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَضَحَ فِي وَجْهِي فَأَفَقْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُوصِي لِأَخَوَاتِي بِالثُّلُثَيْنِ قَالَ أَحْسِنْ قُلْتُ بِالشَّطْرِ قَالَ أَحْسِنْ قَالَ ثُمَّ خَرَجَ وَتَرَكَنِي ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ يَا جَابِرُ إِنِّي لَا أَرَاكَ مَيِّتًا مِنْ وَجَعِكَ هَذَا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَنْزَلَ فَبَيَّنَ الَّذِي لِأَخَوَاتِكَ فَجَعَلَ لَهُنَّ الثُّلُثَيْنِ فَكَانَ جَابِرٌ يَقُولُ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِيَّ يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ [سورة النساء: ١٧٦]
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں بیمار پڑ گیا، جبکہ میری سات بہنیں تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میرے چہرے پر پانی چھڑکا، میں ہوش میں آ گیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اپنی بہنوں کے لئے اپنے دو تہائی مال کی وصیت کردوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زیادہ کرو۔ میں نے کہا: نصف مال کی وصیت کردوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور زیادہ کرو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس سے تشریف لے گئے اور پھر واپس آئے اورفرمایا: اے جابر! میرا خیال ہے کہ تم اس تکلیف کیوجہ سے فوت ہونے والے نہیں ہو، بہرحال اللہ تعالیٰ نے قرآن نازل کر کے تیری بہنوں کا حصہ واضح کر دیا ہے اور ان کو دو تہائی دیا ہے۔ سیدنا جابر کہا کرتے تھے: یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی ہے: {یَسْتَفْتُونَکَ قُلِ اللّٰہُ یُفْتِیکُمْ فِی الْکَلَالَۃِ}۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8573]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 2887، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14998 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15062»
وضاحت: فوائد: … ظاہری طور پر حدیث میں اشکال ہے کہ دو تہائی مال وصیت پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا: احسن زیادہ کر۔ تو جابر نے کہا نصف وصیت کر دیتا ہوں، ظاہر ہے کہ نصف دو تہائی سے کم ہے، اسی طرح اگلی بات ہے۔ اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ لا خواتی میں لام، عَلٰی کے معنی میں ہے مطلب ہے کہ بہنوں پر اور ضرورت مندوں کو ترجیح دیتے ہوئے دو تہائی وصیت کروں اورر باقی بہنوں کو دوں تو آپ نے فرمایا: بہنوں کو زیادہ دے پھر نصف کے بعد بھی فرمایا: بہنوں کو اور زیادہ دے۔ پھر آیت میراث نازل ہونے پر واضح ہوگیا کہ ایک سے زائد بہنوں کو دو تہائی حصہ ملے گا۔ (دیکھیں بلوغ الامانی) (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث:
حديث صحيح ۔ أخرجه ابوداود: 2887
حدیث نمبر: 8574
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنِ الْكَلَالَةِ فَقَالَ تَكْفِيكَ آيَةُ الصَّيْفِ
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کلالہ کے بارے میں دریافت کیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تجھے گرمیوں میں نازل ہونے والی آیت ہی کافی ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8574]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني۔ أخرجه ابوداود: 2889، والترمذي: 3042، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18589 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18790»
وضاحت: فوائد: … سورۂ نساء کی آیت نمبر (۱۷۶) موسم گرما میںنازل ہوئی تھی، اس میں کلالہ کے عینی اور علاتی بہن بھائیوں کا ذکر ہے۔ سورۂ نساء کی آیت نمبر (۱۲) میں کلالہ کے اخیافی بہن بھائیوں کا ذکر ہے، اگر دونوں مقامات کو غور کے ساتھ پڑھا جائے تو کلالہ سے متعلقہ مسائل سمجھ آ جاتے ہیں۔ کلالہ کے مزید احکام جاننے کے لیے ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۶۳۸۳)
الحكم على الحديث:
صحيح
16. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِهَا
سورۂ مائدہ کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 8575
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أُنْزِلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سُورَةُ الْمَائِدَةِ وَهُوَ رَاكِبٌ عَلَى رَاحِلَتِهِ فَلَمْ تَسْتَطِعْ أَنْ تَحْمِلَهُ فَنَزَلَ عَنْهَا
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب سورۂ مائدہ کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نزول ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری پر سوار تھے، سواری میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ اس کیفیت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اٹھا سکے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے اتر آئے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8575]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6643 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6643»
وضاحت: فوائد: … نزولِ وحی کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بوجھ پڑتا تھا، احادیث ِ صحیحہ س یہ بات ثابت ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: {اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْکَ قَوْلًا ثَـقِیْلًا} … یقینا ہم ضرور تجھ پر ایک بھاری کلام نازل کریں گے۔ (سورۂ مزمل: ۵)
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
حدیث نمبر: 8576
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ إِنِّي لَآخِذَةٌ بِزِمَامِ الْعَضْبَاءِ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذْ أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ الْمَائِدَةُ كُلُّهَا فَكَادَتْ مِنْ ثِقَلِهَا تَدُقُّ بِعَضُدِ النَّاقَةِ
۔ سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عضباء اونٹنی کی لگام تھامے ہوئے تھی کہ آپ پر سورۂ مائدہ نازل ہوئی، اس وحی کے بوجھ سے قریب تھا کہ اونٹنی کا بازو ٹوٹ جاتا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8576]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 24/ 448، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27575 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28127»
الحكم على الحديث:
حسن لغيره ۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 24/ 448
حدیث نمبر: 8577
عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَتْ هَلْ تَقْرَأُ سُورَةَ الْمَائِدَةِ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَتْ فَإِنَّهَا آخِرُ سُورَةٍ نَزَلَتْ فَمَا وَجَدْتُمْ فِيهَا مِنْ حَلَالٍ فَاسْتَحِلُّوهُ وَمَا وَجَدْتُمْ فِيهَا مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوهُ وَسَأَلْتُهَا عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ الْقُرْآنُ
۔ حبیر بن نفیر سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، انہوں نے مجھ سے پوچھا: کیا تم سورۂ مائدہ پڑھتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: یہ آخری سورت ہے، جو نازل ہوئی، اس لیے اس میں جو چیز حلال پاؤ،اس کو حلال سمجھو اور جو چیز اس میں حرام پاؤ، اسے حرام سمجھو۔ پھر جب میں نے سیدہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق قرآن تھا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8577]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي في الكبري: 11138،و الحاكم: 2/ 311، والبيھقي: 7/172، وأخرجه مسلم: 1233 بلفظ: فَقُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَ نْبِئِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللّٰهِ صلي الله عليه وآله وسلم قَالَتْ أَ لَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ قُلْتُ بَلٰي قَالَتْ فَإِنَّ خُلُقَ نَبِيِّ اللّٰهِ صلي الله عليه وآله وسلم كَانَ الْقُرْآنَ۔ في حديث طويل، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25547 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26063»
وضاحت: فوائد: … سب سے آخر میں قرآن مجید کی کون سی سورت یا آیت نازل ہوئی؟ دیکھیں حدیث نمبر (۸۴۴۵)والا باب۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح ۔ أخرجه النسائي في الكبري : 11138