الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. بَابُ: «الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ»
{اَلَّذِیْنَ آمَنُوْا وَلَمْ یَلْبِسُوْا اِیْمَانَہُمْ بِظُلْمٍ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8597
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ [سورة الأنعام: ٨٢] شَقَّ ذَلِكَ عَلَى النَّاسِ وَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَيُّنَا لَا يَظْلِمُ نَفْسَهُ قَالَ إِنَّهُ لَيْسَ الَّذِي تَعْنُونَ أَلَمْ تَسْمَعُوا مَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [سورة لقمان: ١٣] إِنَّمَا هُوَ الشِّرْكُ وَفِي لَفْظٍ لَمْ تَسْمَعُوا مَا قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جب یہ آیت نازل ہوئی: {الَّذِینَ آمَنُوْا وَلَمْ یَلْبِسُوْا إِیمَانَہُمْ بِظُلْمٍ} … جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان میں ظلم کی آمیزش نہیں ہونے دی تو یہ بات لوگوں پر بہت گراں گزری اور انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے کون ہے جس نے خود پر ظلم نہ کیا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کا مطلب وہ نہیں، جو تم سمجھ رہے ہو، کیا تم نے نیک بندے کی بات نہیں سنی؟ جب اس نے کہا تھا: {یَا بُنَیَّ لَا تُشْرِکْ بِاللّٰہِ إِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیمٌ} … اے میرے پیارے بیٹے! اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا، بیشک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ اس آیت میں ظلم سے مراد شرک ہے۔ ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے وہ بات نہیں سنی جو لقمان نے اپنے بیٹے سے کہی تھی: {لَا تُشْرِکْ بِاللّٰہِ إِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیمٌ} … اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا، بیشک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8597]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 32، 3360، 3428، ومسلم: 124، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4031 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4031»
وضاحت: فوائد: … پوری آیتیوں ہے: {اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ یَلْبِسُوْٓا اِیْمَانَہُمْ بِظُلْمٍ اُولٰئِکَ لَہُمُ الْاَمْنُ وَہُمْ مُّہْتَدُوْنَ۔} … وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے اپنے ایمان کو بڑے ظلم کے ساتھ نہیں ملایا،یہی لوگ ہیں جن کے لیے امن ہے اور وہی ہدایت پانے والے ہیں۔ صحابۂ کرام نے مطلق ظلم مراد لیا اور ہر گناہ کو ظلم کہتے ہیں، جبکہ اس مقام پر ظلم سے مراد شرک ہے اور صحابۂ کرام شرک جیسے ظلم سے بہت دور تھے، لہٰذا وہی امن پانے والے ہدایتیافتہ لوگ ہیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 32
30. بَابُ: «وَلا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ»
{وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8598
عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ عَزَلُوا أَمْوَالَ الْيَتَامَى حَتَّى جَعَلَ الطَّعَامُ يَفْسُدُ وَاللَّحْمُ يُنْتِنُ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَتْ وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ [سورة البقرة: ٢٢٠] قَالَ فَخَالَطُوهُمْ
۔سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نال ہوئی:{وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیمِ إِلَّا بِالَّتِی ہِیَ أَ حْسَنُ} … یتیم کے مال کے قریب نہ جائو، مگر اس طریقہ سے جو بہتر ہو۔تولوگوں نے یتیموں کے مال علیحدہ کردئیے، جب علیحدہ کئے توان کا کھانا خراب ہونے لگا اورگوشت بدبودار ہونے لگا، جب نبی کریمa سے اس بات کا ذکر کیا گیا تو یہ آیت نازل ہوئی: {وَإِنْ تُخَالِطُوْہُمْ فَإِخْوَانُکُمْ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ} … اگر تم یتیموں کے ساتھ مل جل کر رہو تو وہ تمہارے بھائی ہیں، اللہ تعالی فساد کرنے والے اور اصلاح کرنے والے کو جانتا ہے۔ اس حکم کے بعد صحابہ نے ان سے کھانا ملا لیا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8598]
تخریج الحدیث: «حسن، قاله الالباني۔ أخرجه بنحوه ابوداود: 2871، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3000 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3000»
وضاحت: فوائد: … پہلی آیت سے صحابۂ کرام کو فکر پیدا ہوئی، جس کی وجہ سے انھوں نے یتیم کا حساب کتاب ہی علیحدہ کر دیا،یہ عدل و انصاف تو تھا ہی، لیکن اس میںیتیم کا نقصان ہو رہا تھا، کیونکہ الگ سے کھانا پکانا اور پھر بچی ہوئی چیز کا خراب ہو جانا، اس سے نقصان ہوتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے نئے حکم کے ذریعے صحابۂ کرام کی رہنمائی کی کہ یتیموں کو اپنے ساتھ ملا لو، البتہ اخراجات کا حساب ٹھیک ٹھیک اور عدل و انصاف کے ساتھ رکھو۔ ان آیات سے ان مختلف افراد کو بھی سبق حاصل کرنا چاہیے، جن کا کھانا پینا مشترکہ ہو، کسی کے دل میں مشترک مال کے بارے میں کوئی ایسا عنصر نہ پایا جائے، جس سے عدل و انصاف کے تقاضے متأثر ہوں۔
الحكم على الحديث:
حسن
31. بَابُ: «وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِيمًا»
{وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا …} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8599
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَطَّ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطًّا ثُمَّ قَالَ هَذَا سَبِيلُ اللَّهِ ثُمَّ خَطَّ خُطُوطًا عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ ثُمَّ قَالَ هَذِهِ سُبُلٌ قَالَ يَزِيدُ مُتَفَرِّقَةٌ عَلَى كُلِّ سَبِيلٍ مِنْهَا شَيْطَانٌ يَدْعُو إِلَيْهِ ثُمَّ قَرَأَ وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ [سورة الأنعام: ١٥٣]
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے لئے ایک خط کھینچا اور ساتھ ہی فرمایا: یہ اللہ تعالیٰ کا راستہ ہے۔ پھر اس کے دائیں بائیں کئی خطوط کھینچے اور فرمایا۔ یہ جدا جدا راستے ہیں، ان میں سے ہر راستے پر شیطان ہے، جو اپنی طرف بلاتا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: {واَنَّ ہٰذَا صِرَاطِی مُسْتَقِیمًا فَاتَّبِعُوْہُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیلِہِ} … اور یہ کہ بے شک یہی میرا راستہ ہے سیدھا، پس اس پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ تمھیں اس کے راستے سے جدا کر دیں گے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8599]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الطيالسي: 244، والدارمي: 1/ 67، والنسائي في الكبري: 11174، وابن حبان: 7، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4142 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4142»
وضاحت: فوائد: … اختلاف اور فرقہ بندی سے اجتناب کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کو اپنانے کی کوشش کی جائے، یہی صراطِ مستقیم ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن ۔ أخرجه الطيالسي: 244
32. بَابُ: «هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ تَأْتِيَهُمُ الْمَلَائِكَةُ أَوْيَاتِيَ رَبُّكَ»
{ھَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا اَنْ تَاْتِیَہُمُ الْمَلَائِکَۃُ اَوْیَاْتِیَ رَبُّکَ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8600
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَغِيبُ الشَّمْسُ تَحْتَ الْعَرْشِ فَيُؤْذَنُ لَهَا فَتَرْجِعُ فَإِذَا كَانَتْ تِلْكَ اللَّيْلَةُ الَّتِي تَطْلُعُ صَبِيحَتَهَا مِنَ الْمَغْرِبِ لَمْ يُؤْذَنْ لَهَا فَإِذَا أَصْبَحَتْ قِيلَ لَهَا اطْلُعِي مِنْ مَكَانِكِ ثُمَّ قَرَأَ هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ تَأْتِيَهُمُ الْمَلَائِكَةُ أَوْ يَأْتِيَ رَبُّكَ أَوْ يَأْتِيَ بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ [سورة الأنعام: ١٥٨]
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سورج عرش کے نیچے غروب ہوتا ہے، پھر اسے اجازت دی جاتی ہے، تب یہ واپس لوٹتا ہے، جب وہ رات آئے گی، جس کی صبح کو اس نے مغرب سے طلوع ہونا ہوگا، تو اسے لوٹنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جب صبح ہو گی تو سورج سے کہا جائے گا:جہاں سے تو آیا ہے، وہیں سے طلوع ہو (یعنی مغرب سے)، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: {ہَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ تَاْتِیَہُمُ الْمَلٰیِکَۃُ اَوْ یَاْتِیَ رَبُّکَ اَوْ یَاْتِیَ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّکَ یَوْمَیَاْتِیْ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّکَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُہَا لَمْ تَکُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ کَسَبَتْ فِیْٓ اِیْمَانِہَا خَیْرًا قُلِ انْتَظِرُوْٓا اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ۔} … وہ اس کے سوا کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں،یا تیرا رب آئے، یا تیرے رب کی کوئی نشانیآئے، جس دن تیرے رب کی کوئی نشانی آئے گی کسی شخص کو اس کا ایمان فائدہ نہ دے گا، جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا تھا، یا اپنے ایمان میں کوئی نیکی نہ کمائی تھی۔ کہہ دے انتظار کرو، بے شک ہم (بھی) منتظر ہیں۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8600]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3199، 4802، ومسلم: 159، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21300 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21625»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ کافروں کو، پیغمبروں کے مخالفوں کو،اپنی آیات کو جھٹلانے والوں کو اور اپنی راہ سے روکنے والوں کو ڈرا رہا ہے کہ کیا انہیں قیامت کا انتظار ہے، جبکہ فرشتے بھی آ جائیں گے اور خود اللہ قہار بھی، لیکن وہ ایسا وقت ہو گا، جب ایمان بھی بے سود ہو گا اور توبہ بھی بیکار ہو گی،جب سورج مغرب سے طلوع ہو گا تو زمین پر جتنے لوگ ہوں گے، سب ایمان لے آئیں گے، لیکن اس وقت کا ایمان محض بے سود ہو گا، بلکہ جب قیامت کی تین نشانیاں ظاہر ہو جائیں گی،سورج کا مغرب سے نکلنا، دجال کا آنا، دابتہ الارض کا ظاہر ہونا، تو بے ایمان کو ایمان لانا اور خیر سے رکے ہوئے لوگوں کو اس کے بعد نیکییا توبہ کرنا کچھ فائدہ نہ دے گا۔ سورج کا عرش کے نیچے غروب ہونا اور سجدہ کرنا، اس قسم کے امور پر مشتمل احادیث ِ صحیحہ پر ایمان لانا ضروری ہے اور یہ ضروری نہیں ہے کہ ان کی کیفیت کو بھی سمجھا جائے، جبکہ سورج ہر وقت عرش کے نیچے ہی رہتا ہے اور کوئی گھڑی ایسی نہیں گزرتی، جس میں یہ اپنے ربّ کے سامنے مطیع نہ ہو رہا ہو، جیسا کہ ارشادِ باری تعالی ہے: {اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یَسْجُدُ لَہُ مَنْ فِی السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُوْمُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَالْأَ نْعَامُ وَکَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ} (سورۂ حج: ۱۸)
کیا تو نے دیکھا نہیں کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے، وہ اللہ تعالی کے لیے سجدہ کرتا ہے، مثلا سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، درخت، چوپائے، مویشی اور بہت زیادہ لوگ۔
ابو العالیہ رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: آسمان میں موجود ہر ستارہ، سورج اور چاند غروب ہوتے وقت اللہ تعالی کو سجدہ کرتا ہے، پھر اس کو آگے بڑھنے کی اجازت دی جاتی ہے، جبکہ یہ بات بھی معلوم ہے کہ سورج ہر وقت فلک میں رہتا ہے، پس یہ ہر وقت فلک میں تسبیح بیان کرتا ہے اور ہر وقت سجدہ کرتا ہے اور ہر رات کو اجازت طلب کرتا ہے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے، وہ اس طرح سجدہ کرتا ہے، جیسا اس کے لیے مناسب ہے اور اللہ تعالی کے سامنے عاجزی و انکساری کا اظہار کرتا ہے۔ ذہن نشین رہے کہ سورج ہر گھڑی میںکسی علاقے کے لیے غروب ہو رہا ہے اور کسی علاقے کے لیے طلوع ہو رہا ہے، سو یہ ہر لمحہ اللہ تعالی کے سامنے عاجزی کر رہا ہے اور آگے چلنے کی اجازت لے رہا ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے رسالے قنوت الأشیاء کلھا للہ میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کییہ حدیث ذکر کی اور کہا: پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حدیث میں اس چیز کی خبر دی ہے کہ سورج غروب ہونے کے بعد سجدہ کرتا ہے اور اجازت لیتا ہے۔ پھر انھوں نے ابو العالیہ کا مذکورہ بالا قول پیش کیا۔
کیا تو نے دیکھا نہیں کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے، وہ اللہ تعالی کے لیے سجدہ کرتا ہے، مثلا سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، درخت، چوپائے، مویشی اور بہت زیادہ لوگ۔
ابو العالیہ رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: آسمان میں موجود ہر ستارہ، سورج اور چاند غروب ہوتے وقت اللہ تعالی کو سجدہ کرتا ہے، پھر اس کو آگے بڑھنے کی اجازت دی جاتی ہے، جبکہ یہ بات بھی معلوم ہے کہ سورج ہر وقت فلک میں رہتا ہے، پس یہ ہر وقت فلک میں تسبیح بیان کرتا ہے اور ہر وقت سجدہ کرتا ہے اور ہر رات کو اجازت طلب کرتا ہے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے، وہ اس طرح سجدہ کرتا ہے، جیسا اس کے لیے مناسب ہے اور اللہ تعالی کے سامنے عاجزی و انکساری کا اظہار کرتا ہے۔ ذہن نشین رہے کہ سورج ہر گھڑی میںکسی علاقے کے لیے غروب ہو رہا ہے اور کسی علاقے کے لیے طلوع ہو رہا ہے، سو یہ ہر لمحہ اللہ تعالی کے سامنے عاجزی کر رہا ہے اور آگے چلنے کی اجازت لے رہا ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے رسالے قنوت الأشیاء کلھا للہ میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کییہ حدیث ذکر کی اور کہا: پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حدیث میں اس چیز کی خبر دی ہے کہ سورج غروب ہونے کے بعد سجدہ کرتا ہے اور اجازت لیتا ہے۔ پھر انھوں نے ابو العالیہ کا مذکورہ بالا قول پیش کیا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3199
حدیث نمبر: 8601
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا [سورة الأنعام: ١٥٨] قَالَ طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: {یَوْمَیَاْتِیْ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّکَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُہَا} … جس دن تیرے رب کی کوئی نشانی آ جائے گی تو کسی شخص کو اس کا ایمان فائدہ نہیں دے گا پھر فرمایا: یہ نشانی سورج کا مغرب کی طرف سے طلوع ہونا ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8601]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره۔ أخرجه الترمذي: 3071، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11266 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11286»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره ۔ أخرجه الترمذي: 3071
33. بَابُ: «وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِم مِّنْ غِلٍّ تَجْرِي مِن تَحْتِهِمُ الْأَنْهَارُ۔۔۔۔»
سورۃ الاعراف {وَنَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِھِمْ مِنْ غِلٍّ …}کی تفسیر
حدیث نمبر: 8602
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي هَذِهِ الْآيَةِ وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [سورة الأعراف: ٤٣] قَالَ ثَنَا قَتَادَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَبَا الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُمْ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُمْ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْلُصُ الْمُؤْمِنُونَ مِنَ النَّارِ فَيُحْبَسُونَ عَلَى قَنْطَرَةٍ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ فَيُقْتَصُّ لِبَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ مَظَالِمُ كَانَتْ بَيْنَهُمْ فِي الدُّنْيَا حَتَّى إِذَا هُذِّبُوا وَنُقُّوا أُذِنَ لَهُمْ فِي دُخُولِ الْجَنَّةِ قَالَ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَحَدُهُمْ أَهْدَى لِمَنْزِلِهِ فِي الْجَنَّةِ مِنْهُ لِمَنْزِلِهِ كَانَ فِي الدُّنْيَا قَالَ قَتَادَةُ وَقَالَ بَعْضُهُمْ مَا يُشْبِهُ لَهُمْ إِلَّا أَهْلُ جُمُعَةٍ حِينَ انْصَرَفُوا مِنْ جُمُعَتِهِمْ
۔ سعید بن ابی عروبہ نے اس آیت {وَنَزَعْنَا مَا فِی صُدُورِہِمْ مِنْ غِلٍّ}کے بارے میں کہا: ہمیں قتادہ نے بیان کیا کہ ان کو ابو متوکل ناجی نے بیان کیا کہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب ایمانداروں کو دوزخ سے رہائی ملے گی تو انہیں جنت اور دوزخ کے درمیان ایک پل پر روکا جائے گا، آپس میں ظلموں کا قصاص دلایا جائے گا، یہاں تک کہ جب وہ ان سے پاک و صاف کردئیے جائیں گے، تو تب انہیں جنت میں داخل ہونے کی اجازت ملے گی، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ جنت میں اپنے مقام کو اس سے زیادہ پہچانتے ہوں گے، جتنا دنیا میں وہ اپنے گھر کے راستے کو پہچانتے ہیں۔ قتادہ نے کہا: بعض راویوں نے کہا: جیسے وہ دنیا میں جمعہ پڑھنے کے بعد سیدھے اپنے گھروں کو لوٹ جاتے تھے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8602]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره۔ أخرجه الترمذي: 3071، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11266 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11729»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا متن پوری آیت سے سمجھ آئے گا، ارشادِ باری تعالی ہے: {وَنَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِہِمْ مِّنْ غِلٍّ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہِمُ الْاَنْھٰرُ وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ ہَدٰینَا لِھٰذَا وَمَا کُنَّا لِنَہْتَدِیَ لَوْلَآ اَنْ ہَدٰینَا اللّٰہُ لَقَدْ جَاء َتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ وَنُوْدُوْٓا اَنْ تِلْکُمُ الْجَنَّۃُ اُوْرِثْتُمُوْہَا بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔} (سورۂ اعراف: ۴۳)
اور ان کے سینوں میں جو بھی کینہ ہوگا ہم نکال دیں گے، ان کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ کہیں گے سب تعریف اللہ کی ہے جس نے ہمیں اس کی ہدایت دی اور ہم کبھی نہ تھے کہ ہدایت پاتے، اگر یہ نہ ہوتا کہ اللہ نے ہمیں ہدایت دی، بلاشبہ یقینا ہمارے رب کے رسول حق لے کر آئے۔ اور انھیں آواز دی جائے گی کہ یہی وہ جنت ہے جس کے وارث تم اس کی وجہ سے بنائے گئے ہو جو تم کیا کرتے تھے۔
یعنی اس طرح جنت کی طرف اور پھر جنت میں اپنے مقام کی طرف رہنمائی پانا اللہ تعالی کی توفیق سے تھا۔
اور ان کے سینوں میں جو بھی کینہ ہوگا ہم نکال دیں گے، ان کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ کہیں گے سب تعریف اللہ کی ہے جس نے ہمیں اس کی ہدایت دی اور ہم کبھی نہ تھے کہ ہدایت پاتے، اگر یہ نہ ہوتا کہ اللہ نے ہمیں ہدایت دی، بلاشبہ یقینا ہمارے رب کے رسول حق لے کر آئے۔ اور انھیں آواز دی جائے گی کہ یہی وہ جنت ہے جس کے وارث تم اس کی وجہ سے بنائے گئے ہو جو تم کیا کرتے تھے۔
یعنی اس طرح جنت کی طرف اور پھر جنت میں اپنے مقام کی طرف رہنمائی پانا اللہ تعالی کی توفیق سے تھا۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره ۔ أخرجه الترمذي: 3071
34. بَابُ: «فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَل .... الخ»
{فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّہٗلِلْجَبَلِ … الخ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8603
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ [سورة الأعراف: ١٤٣] قَالَ قَالَ هَكَذَا يَعْنِي أَنَّهُ أَخْرَجَ طَرَفَ الْخِنْصَرِ قَالَ أَبِي أَرَانَا مُعَاذٌ قَالَ فَقَالَ لَهُ حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ مَا تُرِيدُ إِلَى هَذَا يَا أَبَا مُحَمَّدٍ قَالَ فَضَرَبَ صَدْرَهُ ضَرْبَةً شَدِيدَةً وَقَالَ مَنْ أَنْتَ يَا حُمَيْدُ وَمَا أَنْتَ يَا حُمَيْدُ يُحَدِّثُنِي بِهِ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَتَقُولُ أَنْتَ مَا تُرِيدُ إِلَيْهِ
۔ سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے فرمان {فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّہُ لِلْجَبَلِ جَعَلَہٗدَکًّا} … تو جب اس کا رب پہاڑ کے سامنے ظاہر ہوا تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔ کے بارے میں فرمایا: بس اس طرح ہوا تھا۔ ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھنگلیانگلی کا ایک کنارہ نکالا، جب معاذ نے ہمیں یہ کیفیت دکھائی تو حمید طویل نے کہا: اے ابو محمد! اس مثال سے تیری مراد کیا ہے؟ لیکن ابو محمد نے حمید کے سینے پر سخت ضرب لگائی اور کہا: حمید! تو کون ہے؟ تو کیا چیز ہے، حمید! مجھے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کیا تھا اور تو کہتا ہے کہ اس مثال سے تیری مراد کیا ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8603]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه بنحوه الترمذي: 3074، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12260 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12285»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم ۔ أخرجه بنحوه الترمذي: 3074
حدیث نمبر: 8603M
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ [سورة الأعراف: ١٤٣] قَالَ فَأَوْمَأَ بِخِنْصَرِهِ قَالَ فَسَاخَ
۔ (دوسری سند) سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالی کے اس فرمان{فَلَمَّا تَجَلَّی رَبُّہُ لِلْجَبَلِ} کی وضاحت کرتے ہوئے چھنگلی انگلی سے اشارہ کیا، لیکن (اتنی سی تجلّی سے پہاڑ زمین میں دھنسگیا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8603M]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13210»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالی ہے: {وَلَمَّا جَاء َ مُوْسٰی لِمِیْقَاتِنَا وَکَلَّمَہ رَبُّہ قَالَ رَبِّ اَرِنِیْٓ اَنْظُرْ اِلَیْکَ قَالَ لَنْ تَرٰینِیْ وَلٰکِنِ انْظُرْ اِلَی الْجَبَلِ فَاِنِ اسْـتَقَرَّ مَکَانَہ فَسَوْفَ تَرٰینِیْ فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّہ لِلْجَبَلِ جَعَلَہ دَکًّا وَّخَرَّ مُوْسٰی صَعِقًا فَلَمَّآ اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَکَ تُبْتُ اِلَیْکَ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ۔} … اور جب موسیٰ ہمارے مقررہ وقت پر آیا اور اس کے رب نے اس سے کلام کیا تو اس نے کہا اے میرے رب! مجھے دکھا کہ میں تجھے دیکھوں۔ فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھے گا اور لیکن اس پہاڑ کی طرف دیکھ، سو اگر وہ اپنی جگہ برقرار رہا تو عنقریب تو مجھے دیکھ لے گا۔ تو جب اس کا رب پہاڑ کے سامنے ظاہر ہوا تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا اور موسیٰ بے ہوش ہو کر گر پڑا، پھر جب اسے ہوش آیا تو اس نے کہا تو پاک ہے، میں نے تیری طرف توبہ کی اور میں ایمان لانے والوں میں سب سے پہلا ہوں۔
ان احادیث سے ثابت ہوا کہ ابھی تک چھوٹی انگلی کے پورے کی مقدار کے برابر اللہ تعالی نے پہاڑ پر تجلی کی تھی، لیکن وہ اس کوبھی برادشت نہ کرسکا اور ریزہ ریزہ ہو گیا۔
پہاڑ کے ریزہ ریزہ ہونے والی بات تو قرآن مجید سے ثابت ہے۔ اس روایت میں اس کے زمین میں دھنس جانے کا ذکر آیا ہے تو ممکن ہے کچھ حصہ ریزہ ریزہ ہوا اور کچھ زمین میں دھنس گیا۔ (عبداللہ رفیق)
ان احادیث سے ثابت ہوا کہ ابھی تک چھوٹی انگلی کے پورے کی مقدار کے برابر اللہ تعالی نے پہاڑ پر تجلی کی تھی، لیکن وہ اس کوبھی برادشت نہ کرسکا اور ریزہ ریزہ ہو گیا۔
پہاڑ کے ریزہ ریزہ ہونے والی بات تو قرآن مجید سے ثابت ہے۔ اس روایت میں اس کے زمین میں دھنس جانے کا ذکر آیا ہے تو ممکن ہے کچھ حصہ ریزہ ریزہ ہوا اور کچھ زمین میں دھنس گیا۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13210
35. بَابُ: «وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّاتِهِمْ»
{وَاِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْ آدَمَ مِنْ ظُہُوْرِھِمْ ذُرِّیَّاتِہِمْ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8604
عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سُئِلَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ [سورة الأعراف: ١٧٢] فَقَالَ عُمَرُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ آدَمَ ثُمَّ مَسَحَ ظَهْرَهُ بِيَمِينِهِ وَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ ذُرِّيَّةً فَقَالَ خَلَقْتُ هَؤُلَاءِ لِلْجَنَّةِ وَبِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَعْمَلُونَ ثُمَّ مَسَحَ ظَهْرَهُ فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ ذُرِّيَّةً فَقَالَ خَلَقْتُ هَؤُلَاءِ لِلنَّارِ وَبِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ يَعْمَلُونَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَفِيمَ الْعَمَلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا خَلَقَ الْعَبْدَ لِلْجَنَّةِ اسْتَعْمَلَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَمُوتَ عَلَى عَمَلٍ مِنْ أَعْمَالِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيُدْخِلَهُ بِهِ الْجَنَّةَ وَإِذَا خَلَقَ الْعَبْدَ لِلنَّارِ اسْتَعْمَلَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى يَمُوتَ عَلَى عَمَلٍ مِنْ أَعْمَالِ أَهْلِ النَّارِ فَيُدْخِلَهُ بِهِ النَّارَ
۔ مسلم بن یسار جہنی سے مروی ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا گیا: {وَاِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْ آدَمَ مِنْ ظُھُوْرِھِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ}، انھوں نے کہا: میں نے خود سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا، اس کی کمر کو دائیں ہاتھ سے چھوا اور اس سے اس کی اولاد نکالی اور کہا: میں نے ان کو جنت کے لیے پیدا کیا ہے اور اہل جنت کے عمل ہی وہ کریں گے، پھر اس کی کمر کو چھوا اور اس نے مزید اولاد نکال کر کہا: میں نے ان کو آگ کے لیے پیدا کیا ہے اور اہل جہنم کے عمل ہی وہ کریں گے۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! تو پھر عمل کی کیا حیثیت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ بندے کو جنت کے لیے پیدا کرتا ہے تو اس کواہل جنت کے ہی اعمال کرنے کی توفیق دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ جنتی لوگوں کے عمل پر مرتا ہے اور اس طرح وہ اس کوجنت میں داخل کر دیتا ہے، اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو آگ کے لیے پیدا کرتا ہے تو اس کو جہنمی لوگوں کے عمل کرنے کی ہی توفیق دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ اہل جہنم کے اعمال پر مرتا ہے اور وہ اس کو جہنم میں داخل کر دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8604]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 4703، والترمذي: 3075، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 311 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 311»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره ۔ أخرجه ابوداود: 4703
حدیث نمبر: 8605
عَنْ رُفَيْعٍ أَبِي الْعَالِيَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ [سورة الأعراف: ١٧٢] قَالَ جَمَعَهُمْ فَجَعَلَهُمْ أَرْوَاحًا ثُمَّ صَوَّرَهُمْ فَاسْتَنْطَقَهُمْ فَتَكَلَّمُوا ثُمَّ أَخَذَ عَلَيْهِمُ الْعَهْدَ وَالْمِيثَاقَ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالَ فَإِنِّي أُشْهِدُ عَلَيْكُمُ السَّمَاوَاتِ السَّبْعَ وَالْأَرَضِينَ السَّبْعَ وَأُشْهِدُ عَلَيْكُمْ أَبَاكُمْ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَمْ نَعْلَمْ بِهَذَا اعْلَمُوا أَنَّهُ لَا إِلَهَ غَيْرِي وَلَا رَبَّ غَيْرِي فَلَا تُشْرِكُوا بِي شَيْئًا إِنِّي سَأُرْسِلُ إِلَيْكُمْ رُسُلِي يُذَكِّرُونَكُمْ عَهْدِي وَمِيثَاقِي وَأُنْزِلُ عَلَيْكُمْ كُتُبِي قَالُوا شَهِدْنَا بِأَنَّكَ رَبُّنَا وَإِلَهُنَا لَا رَبَّ لَنَا غَيْرُكَ فَأَقَرُّوا بِذَلِكَ وَرَفَعَ إِلَيْهِمْ آدَمُ يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ فَرَأَى الْغَنِيَّ وَالْفَقِيرَ وَحَسَنَ الصُّورَةِ وَدُونَ ذَلِكَ فَقَالَ رَبِّ لَوْ لَا سَوَّيْتَ بَيْنَ عِبَادِكَ قَالَ إِنِّي أَحْبَبْتُ أَنْ أُشْكَرَ وَرَأَى الْأَنْبِيَاءَ فِيهِمْ مِثْلَ السُّرُجِ عَلَيْهِمُ النُّورُ خُصُّوا بِمِيثَاقٍ آخَرَ فِي الرِّسَالَةِ وَالنُّبُوَّةِ وَهُوَ قَوْلُهُ تَعَالَى وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ إِلَى قَوْلِهِ عِيسَى بْنِ مَرْيَمَ [سورة الأحزاب: ٧] كَانَ فِي تِلْكَ الْأَرْوَاحِ فَأَرْسَلَهُ إِلَى مَرْيَمَ فَحَدَّثَ عَنْ أُبَيٍّ أَنَّهُ دَخَلَ مِنْ فِيهَا
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں کہتے ہیں: اور جب تیرے پروردگار نے بنوآدم کی پشتوں یعنی ان کی اولاد سے پختہ عہد لیا اور ان کو ان کے نفسوں پر گواہ بنایا اس کی تفصیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جمع کیا، ان کو روحیں بنایا، پھر ان کی تصویریں بنائیں اور ان کو بولنے کی طاقت دی، پس انھوں نے کلام کیا، پھر اللہ تعالیٰ نے ان سے پختہ عہد لیا اور ان کو ان کے نفسوں پر گواہ بناتے ہوئے کہا: کیا میں تمہارا ربّ نہیں ہوں؟ میں ساتوں آسمانوں، ساتوں زمینوں اور تمہارے باپ کو تم پر گواہ بناتا ہوں، تاکہ تم قیام کے دن یہ نہ کہہ دو کہ ہمیں اس چیز کا کوئی علم نہ تھا، تم اچھی طرح جان لو کہ میرے علاوہ نہ کوئی معبود ہے اور نہ کوئی ربّ، پس میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرانا، میں عنقریب تمہاری طرف اپنے رسول بھیجوں گا، وہ تم کو میرا عہد یاد کرائیں گے، نیز میں تم پر اپنی کتابیں بھی نازل کروں گا، انھوں نے کہا: ہم یہ شہادت دیتے ہیں کہ تو ہی ہمارا ربّ اور معبود ہے، تیرے علاوہ ہمارا کوئی ربّ نہیں ہے، پس ان سب نے اقرار کیا، پھر اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو ان پر بلند کیا، انھوں نے ان میں غنی، فقیر، حسین اور کم خوبصورت افراد دیکھے اور کہا: اے میرے ربّ! تو نے ان کے درمیان برابری کیوں نہیں کی؟ اللہ تعالیٰ نے کہا: میں چاہتا ہوں کہ میرا شکریہ ادا کیا جائے، نیز انھوں نے ان میں انبیاء دیکھے، وہ چراغوں کی طرح نظر آ رہے تھے اور ان پر نور تھا، ان کو رسالت اور نبوت کے عہد و میثاق کے ساتھ خاص کیا گیا، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں اسی چیز کا ذکر ہے: اور جب ہم نے نبیوں سے ان کا پختہ عہد لیا … عیسیٰ بن مریم۔ عیسیٰ علیہ السلام بھی ان ہی ارواح میں تھے، پھر اللہ تعالیٰ اس روح کو سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی طرف بھیجا اور وہ ان کے منہ سے ان میں داخل ہو گئی۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8605]
تخریج الحدیث: «اثر ضعيف، محمد بن يعقوب الربالي مستور۔ أخرجه الحاكم: 2/ 323، والبيھقي في الاسماء والصفات: ص 368، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21232 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21552»
وضاحت: فوائد: … درج بالا اور اس موضوع کی دیگر احادیث میں عَھْدِ اَلَسْت کا ذکر ہے، یہ ترکیب آیت کے ان الفاظ {اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ} سے بنائی گئی ہے، یہ عہد آدم علیہ السلام کی تخلیق کے بعد ان کی پشت سے ہونے والی تمام اولاد سے لیا گیا، پوری آیاتیوں ہیں:
{وَاِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْ آدَمَ مِنْ ظُھُوْرِھِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ وَاَشْھَدَھُمْ عَلٰی اَنْفُسِہِمْأَ لَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوا بَلٰی شَہِدْنَآ أَ نْ تَقُولُوا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اِنَّا کُنَّا عَنْ ہٰذَا غَافِلِیْنَ۔ أَ وْ تَقُوْلُوآ اِنَّمَا أَشْرَکَ آبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَ کُنَّا ذُرِّیَّۃً مِّنْ بَعْدِہِمْ أَ فَتُہْلِکُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ۔}
(الاعراف: ۱۷۲، ۱۷۳)
اور جب آپ کے رب نے اولادِ آدم کی پشت سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان سے ان ہی کے متعلق اقرار لیا کہ کیا میں تمہارا ربّ نہیں ہوں؟ سب نے جواب دیا کیوں نہیں! ہم سب گواہ بنتے ہیں۔ تاکہ تم لوگ قیامت کے روز یوں نہ کہو کہ ہم تو اس سے محض بے خبر تھے۔ یایوں کہو کہ پہلے پہلے شرک تو ہمارے بڑوں نے کیا اور ہم ان کے بعد ان کی نسل میں ہوئے، سو کیا ان غلط راہ والوں کے فعل پر تو ہم کو ہلاکت میں ڈال دے گا۔
یہ عہد ہم اس لیے تسلیم کریں گے کہ اللہ تعالی اور اس کے رسول نے اس کی اطلاع دے دی ہے، بہرحال اس کا اثر یہ ہے کہ اللہ تعالی کی ربوبیت کییہ گواہی ہر انسان کی فطرت میں رکھ دی گئی ہے اور اگر یہ فطرت مختلف آلائشوں کی وجہ سے اپنی حیثیت کھو نہ بیٹھی ہو تو ایسا انسان خارجی آوازاور باطنی فکر مل جانے کی وجہ سے فوراً حق کی آواز کو قبول کرتا ہے، لیکن اگر شرک و بدعت یا گندے معاشرے کی وجہ سے وہ فطرت متأثر ہو چکی ہو تو اس کو حق تسلیم کرنے میں اجنبیت محسوس ہوتی ہے اور اس کے لیےیہ مرحلہ مشکل ہو جاتا ہے، جلد اور بدیر اسلام قبول کرنے والے صحابۂ کرام کی وجہ یہی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی مفہوم کو ان الفاظ میں بیان کیا: ((کُلُّ مَوْلُودٍ یُولَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ فَأَ بَوَاہُ یُہَوِّدَانِہِ أَ وْ یُنَصِّرَانِہِ أَ وْ یُمَجِّسَانِہِ کَمَثَلِ الْبَہِیمَۃِ تُنْتَجُ الْبَہِیمَۃَ ہَلْ تَرٰی فِیہَا جَدْعَاء َ۔)) … ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پس اس کے ماں باپ اس کو یہودییا نصرانییا مجوسی بنا دیتے ہیں، جس طرح جانور کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے، اس کا ناک، کان کٹا نہیں ہوتا۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
{وَاِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْ آدَمَ مِنْ ظُھُوْرِھِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ وَاَشْھَدَھُمْ عَلٰی اَنْفُسِہِمْأَ لَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوا بَلٰی شَہِدْنَآ أَ نْ تَقُولُوا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اِنَّا کُنَّا عَنْ ہٰذَا غَافِلِیْنَ۔ أَ وْ تَقُوْلُوآ اِنَّمَا أَشْرَکَ آبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَ کُنَّا ذُرِّیَّۃً مِّنْ بَعْدِہِمْ أَ فَتُہْلِکُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ۔}
(الاعراف: ۱۷۲، ۱۷۳)
اور جب آپ کے رب نے اولادِ آدم کی پشت سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان سے ان ہی کے متعلق اقرار لیا کہ کیا میں تمہارا ربّ نہیں ہوں؟ سب نے جواب دیا کیوں نہیں! ہم سب گواہ بنتے ہیں۔ تاکہ تم لوگ قیامت کے روز یوں نہ کہو کہ ہم تو اس سے محض بے خبر تھے۔ یایوں کہو کہ پہلے پہلے شرک تو ہمارے بڑوں نے کیا اور ہم ان کے بعد ان کی نسل میں ہوئے، سو کیا ان غلط راہ والوں کے فعل پر تو ہم کو ہلاکت میں ڈال دے گا۔
یہ عہد ہم اس لیے تسلیم کریں گے کہ اللہ تعالی اور اس کے رسول نے اس کی اطلاع دے دی ہے، بہرحال اس کا اثر یہ ہے کہ اللہ تعالی کی ربوبیت کییہ گواہی ہر انسان کی فطرت میں رکھ دی گئی ہے اور اگر یہ فطرت مختلف آلائشوں کی وجہ سے اپنی حیثیت کھو نہ بیٹھی ہو تو ایسا انسان خارجی آوازاور باطنی فکر مل جانے کی وجہ سے فوراً حق کی آواز کو قبول کرتا ہے، لیکن اگر شرک و بدعت یا گندے معاشرے کی وجہ سے وہ فطرت متأثر ہو چکی ہو تو اس کو حق تسلیم کرنے میں اجنبیت محسوس ہوتی ہے اور اس کے لیےیہ مرحلہ مشکل ہو جاتا ہے، جلد اور بدیر اسلام قبول کرنے والے صحابۂ کرام کی وجہ یہی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی مفہوم کو ان الفاظ میں بیان کیا: ((کُلُّ مَوْلُودٍ یُولَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ فَأَ بَوَاہُ یُہَوِّدَانِہِ أَ وْ یُنَصِّرَانِہِ أَ وْ یُمَجِّسَانِہِ کَمَثَلِ الْبَہِیمَۃِ تُنْتَجُ الْبَہِیمَۃَ ہَلْ تَرٰی فِیہَا جَدْعَاء َ۔)) … ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پس اس کے ماں باپ اس کو یہودییا نصرانییا مجوسی بنا دیتے ہیں، جس طرح جانور کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے، اس کا ناک، کان کٹا نہیں ہوتا۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
الحكم على الحديث:
اثر ضعيف