الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. بَابُ: «الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ۔۔۔الخ»
{اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ … الخ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8578
عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ آيَةً فِي كِتَابِكُمْ لَوْ عَلَيْنَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ نَزَلَتْ لَاتَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا قَالَ وَأَيُّ آيَةٍ هِيَ قَالَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي [سورة المائدة: ٣] قَالَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ الْيَوْمَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالسَّاعَةَ الَّتِي نَزَلَتْ فِيهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ
۔ طارق بن شہاب سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایکیہودی،سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے امیر المومنین! تم اپنی کتاب میں ایک ایسی آیت پڑھتے ہو کہ اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوئی ہوتی تو ہم نے (تعظیم کرتے ہوئے) اس دن کو عید بنا لینا تھا، انہوں نے کہا: وہ کونسی آیت ہے؟ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان کہ {الْیَوْمَ أَ کْمَلْتُ لَکُمْ دِینَکُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِی} … آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:اللہ کی قسم! میں وہ دن جانتا ہوں، جس میں یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوئی تھی، بلکہ اس گھڑی کا بھی علم ہے، جس میں یہ نازل ہوئی تھی، جمعہ کا دن تھا اور عرفہ کی شام تھی۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8578]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 45، ومسلم: 3017، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 188 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 188»
وضاحت: فوائد: … یہ سوال کرنے والے کعب احبار رحمتہ اللہ علیہ تھے، مشہور قول کے مطابق یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں مسلمان ہوئے تھے، اس وقت ان کے ساتھ یہودیوں کی ایک جماعت تھی۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: فَاِنَّھَا نَزَلَتْ فِیْیَوْمِ عِیْدَیْنِ فِیْیَوْمِ جُمُعَۃٍ وَفِیْیَوْمِ عَرَفَۃَ۔ … یہ آیت تو دو عیدوں کے دن میںنازل ہوئی، جمعہ کا دن بھی تھا اور عرفہ کا دن بھی تھا۔ (ترمذی) چونکہ ہمارے دین کی بنیاد قرآن و حدیث پر ہے، نہ کہ عقلی اختراعات و ایجادات و تصورات پر، اس دین میں خوشی اور غمی کے معیارات مقرر ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت با سعادت، نبوت و رسالت کا آغاز، اسراء و معراج، ہجرت ِ مدینہ، غزوۂ بدر کبری، غزوۂ خندق، فتح مکہ، دین کی تکمیل، جلیل القدر صحابۂ کرام کا قبولیت ِ اسلام، وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب امت ِ مسلمہ کے لیے بڑی بڑی خوشیوں کے دن ہیں، لیکن ان خوشیوں کا معیار نبی مہربان کا مبارک وجود ہے۔ معلوم ہوا کہ شریعت کی رہنمائی کے بغیر کسی مناسبت سے کسی دن کو تعظیم والا قرار دے کر اس کو خوشیاں منانا شروع کر دینایہودیانہ روش ہے، عصر حاضر میں سالگرہ اور وطنی عیدجیسے امور محض اغیار کی نقالی ہیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 45
18. بَابُ آيَةِ التيمم
تیمم کا بیان
حدیث نمبر: 8579
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا اسْتَعَارَتْ مِنْ أَسْمَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قِلَادَةً فَهَلَكَتْ فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رِجَالًا فِي طَلَبِهَا فَوَجَدُوهَا فَأَدْرَكَتْهُمُ الصَّلَاةُ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ فَصَلَّوْا بِغَيْرِ وُضُوءٍ فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ التَّيَمُّمَ فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِعَائِشَةَ جَزَاكِ اللَّهُ خَيْرًا فَوَاللَّهِ مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ تَكْرَهِينَهُ إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ لَكِ وَلِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ خَيْرًا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انھوں نے سیدہ اسمائ رضی اللہ عنہا سے ایک ہار بطورِ استعارہ لیا تھا، لیکن وہ گم ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ افراد کو اس کو تلاش کرنے کے لیے بھیجا، ان کو وہ مل گیا، لیکن نماز نے ان کو اس حال میں پا لیا کہ ان کے ساتھ پانی نہیںتھا، پس انھوں نے بغیروضو کے نماز پڑھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف یہ شکایت کی، پس اللہ تعالی نے تیمم کی رخصت نازل کر دی، سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اللہ تعالی تم کو جزائے خیر دے، جب بھی تمہارا کوئی ایسا معاملہ بنتا ہے، جس کو تم ناپسند کرتی ہے، اللہ تعالی اس میں تمہارے لیے اور مسلمانوں کے لیے خیر و بھلائی بنا دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8579]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3773، 4583، ومسلم: 367، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24299 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24803»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3773
حدیث نمبر: 8579M
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ أَوْ بِذَاتِ الْجَيْشِ انْقَطَعَ عِقْدٌ لِي فَأَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْتِمَاسِهِ وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ فَأَتَى النَّاسُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالُوا أَلَا تَرَى مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَبِالنَّاسِ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاضِعٌ رَأْسَهُ عَلَى فَخِذِي فَقَالَ حَبَسْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسَ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ قَالَتْ فَعَاتَبَنِي أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ وَجَعَلَ يَطْعَنُ بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي وَلَا يَمْنَعُنِي مِنَ التَّحَرُّكِ إِلَّا مَكَانُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَخِذِي فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَصْبَحَ النَّاسُ عَلَى غَيْرِ مَاءٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ آيَةَ التَّيَمُّمِ فَتَيَمَّمُوا فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ الْحُضَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا هِيَ بِأَوَّلِ بَرَكَتِكُمْ يَا آلَ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ فَبَعَثْنَا الْبَعِيرَ الَّذِي كُنْتُ عَلَيْهِ فَوَجَدْنَا الْعِقْدَ تَحْتَهُ
۔ (دوسری سند) عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ بھی روایت ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے جب ہم بیداءیا ذات الجیش جگہ پر پہنچے تو میرا ایک ہار گم ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی تلاش کے لئے ٹھہر گئے لوگ بھی ٹھہر گئے نہ وہ پانی پر تھے اور نہ ہی ان کے پاس پانی تھا۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ آئے جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا سر مبارک میری ران پر رکھے سو رہے تھ۔ ابوبکر کہنے لگے تو نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو روک رکھا ہے اور لوگوں کو بھی نہ وہ پانی کے پاس ہیں اور نہ ہی ان کے پاس پانی ہے۔ کہا مجھے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے بہت سرزنش کی اور جو چاہا کہا اور میری کوکھ میں مارنا شروع ہوئے۔ مجھے حرکت میں یہ چیز رکاوٹ تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری ران پر سر رکھے ہوئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے صبح تک لوگوں کے پاس پانی نہ تھا تو اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت نازل کی لوگوں نے تیمم کیا سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اے ابوبکر کی اولاد! یہ تمہاری پہلی برکت نہیں تم ہمیشہ باعث برکت ثابت ہوئے ہو۔ تو بعد میں ہم نے اونٹ اٹھایا جس پر میں تھی تو ہار اس کے نیچے سے مل گیا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8579M]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25969»
وضاحت: فوائد: … تیمم والی آیت سے مراد درج ذیل آیت ہے: {یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْہَکُمْ وَاَیْدِیَکُمْ اِلَی الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوْا بِرُء ُوْسِکُمْ وَاَرْجُلَکُمْ اِلَی الْکَعْبَیْنِ وَاِنْ کُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّہَّرُوْا وَاِنْ کُنْتُمْ مَّرْضٰٓی اَوْ عَلٰی سَفَرٍ اَوْ جَاء َ اَحَدٌ مِّنْکُمْ مِّنَ الْغَایِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَاء َ فَلَمْ تَجِدُوْا مَاء ً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْہِکُمْ وَاَیْدِیْکُمْ مِّنْہُ مَایُرِیْدُ اللّٰہُ لِیَجْعَلَ عَلَیْکُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَّلٰکِنْ یُّرِیْدُ لِیُطَہِّرَکُمْ وَلِیُتِمَّ نِعْمَتَہ عَلَیْکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ۔} … اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تم نماز کے لیے اٹھو تو اپنے منہ اور اپنے ہاتھ کہنیوں تک دھو لو اور اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں ٹخنوں تک (دھو لو) اور اگر جنبی ہو تو غسل کر لو اور اگر تم بیمار ہو، یا کسی سفر پر، یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا ہو، یا تم نے عورتوں سے مباشرت کی ہو، پھر کوئی پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی کا قصد کرو، پس اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مسح کر لو۔ اللہ نہیں چاہتا کہ تم پر کوئی تنگی کرے اور لیکن وہ چاہتا ہے کہ تمھیں پاک کرے اور تاکہ وہ اپنی نعمت تم پر پوری کرے، تاکہ تم شکر کرو۔ حدیث نمبر (۹۸۱) اور اس سے بعد والی احادیث میں تیمم کی مفصل بحثیں گزر چکی ہے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25969
19. بَابُ: «إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ۔۔۔الخ»
{اِنَّمَا جَزَائُ الَّذِیْنَیُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ … الخ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8580
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَفَرًا مِنْ عُكْلٍ وَعُرَيْنَةَ تَكَلَّمُوا بِالْإِسْلَامِ فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُمْ أَهْلُ ضَرْعٍ وَلَمْ يَكُونُوا أَهْلَ رِيفٍ وَشَكَوْا حُمَّى الْمَدِينَةِ فَأَمَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِذَوْدٍ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَخْرُجُوا مِنَ الْمَدِينَةِ فَيَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا فَانْطَلَقُوا فَكَانُوا فِي نَاحِيَةِ الْحَرَّةِ فَكَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ وَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَسَاقُوا الذَّوْدَ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ الطَّلَبَ فِي آثَارِهِمْ فَأُتِيَ بِهِمْ فَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ وَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَتُرِكُوا بِنَاحِيَةِ الْحَرَّةِ يَقْضَمُونَ حِجَارَتَهَا حَتَّى مَاتُوا قَالَ قَتَادَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَبَلَغَنَا أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِيهِمْ إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [سورة المائدة: ٣٣]
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عکل اور عرینہ قبیلہ کے کچھ افراد نے اسلام قبول کیااور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا کہ وہ مویشیوں والے لوگ ہیں، کھیتی باڑی والے نہیں ہیں، نیز انہوں نے مدینہ کے بخار کی بھی شکایت کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لیےاونٹوں کا حکم دیا اور ان سے فرمایا کہ وہ مدینہ سے باہر چلے جائیں اور اونٹوں کا پیشاب اور دودھ پئیں، ایسے ہی ہوا اور وہ مدینہ سے باہر حرّہ کی ایک طرف چلے گئے، لیکن انھوں نے اسلام لانے کے بعد کفر کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چرواہے کو قتل کیا اور اونٹ ہانک کر لے گئے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کا پتہ چلا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے تعاقب میں بندے بھیجے، جو ان کو پکڑ کر لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی آنکھیں پھوڑ دیں، ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالے اور حرہ کی ایک جانب انہیں پھینک دیا، وہ پتھروں کو منہ میں کاٹتے تھے اور اسی حالت میں مر گئے۔ قتادہ کہتے ہیں: ہمیں یہ بات پہنچی کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی: { اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ وَیَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْٓا اَوْ یُصَلَّبُوْٓا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْہِمْ وَاَرْجُلُھُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ ذٰلِکَ لَھُمْ خِزْی’‘ فِی الدُّنْیَا وَلَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَاب’‘ عَظِیْم’‘} … جو لوگ اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا مخالف جانب سے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے جائیں،یا انہیں جلا وطن کر دیا جائے، یہ تو ہوئی ان کی دنیوی ذلت اور خواری اور آخرت میں ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔ (سورۂ مائدہ: ۳۳) [الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8580]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1501، 4192، 5727، ومسلم: 1671، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12668 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12697»
وضاحت: فوائد: … مُحَارِب: لغوی معنی: لڑائی کرنے والا:اصطلاحی تعریف: جو لوگوں کو قتل ہونے یا مال چھن جانے کے ڈر سے گھبراہٹ میں ڈال رکھے، خواہ وہ شہر میں ہو یا اس سے باہر اور ایسا کرنے والا مسلمان ہو یا کافر۔ اس کو محاربہ کہتے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ کسی منظّم اور مسلح جتھے کا اسلامی حکومت کے دائرے میںیا اس کے قریب صحرا وغیرہ میں راہ چلتے قافلوں اور افراد اور گروہوں پر حملے کرنا، قتل و غارت گری کرنا، سلب ونہب، اغوا اور آبرو ریزی کرنا وغیرہ۔ محاربہ کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۶۸۰۰)
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1501
20. بَابُ: «يا أيُّهَا الرَّسُوْلُ لَا يَحْزُنُكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ»
اِلٰی قَوْلِہِ {وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُلٰئِکَ ھُمُ الْفَاسِقُوْنَ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8581
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مُرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَهُودِيٍّ مُحَمَّمٍ مَجْلُودٍ فَدَعَاهُمْ فَقَالَ أَهَكَذَا تَجِدُونَ حَدَّ الزَّانِي فِي كِتَابِكُمْ فَقَالُوا نَعَمْ قَالَ فَدَعَا رَجُلًا مِنْ عُلَمَائِهِمْ فَقَالَ أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى أَهَكَذَا تَجِدُونَ حَدَّ الزَّانِي فِي كِتَابِكُمْ فَقَالَ لَا وَاللَّهِ وَلَوْلَا أَنَّكَ أَنْشَدْتَنِي بِهَذَا لَمْ أُخْبِرْكَ نَجِدُ حَدَّ الزَّانِي فِي كِتَابِنَا الرَّجْمَ وَلَكِنَّهُ كَثُرَ فِي أَشْرَافِنَا فَكُنَّا إِذَا أَخَذْنَا الشَّرِيفَ تَرَكْنَاهُ وَإِذَا أَخَذْنَا الضَّعِيفَ أَقَمْنَا عَلَيْهِ الْحَدَّ فَقُلْنَا تَعَالَوْا حَتَّى نَجْعَلَ شَيْئًا نُقِيمُهُ عَلَى الشَّرِيفِ وَالْوَضِيعِ فَاجْتَمَعْنَا عَلَى التَّحْمِيمِ وَالْجَلْدِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَوَّلُ مَنْ أَحْيَا أَمْرَكَ إِذْ أَمَاتُوهُ قَالَ فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ لَا يَحْزُنْكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ إِلَى قَوْلِهِ يَقُولُونَ إِنْ أُوتِيتُمْ هَذَا فَخُذُوهُ يَقُولُونَ ائْتُوا مُحَمَّدًا فَإِنْ أَفْتَاكُمْ بِالتَّحْمِيمِ وَالْجَلْدِ فَخُذُوهُ وَإِنْ أَفْتَاكُمْ بِالرَّجْمِ فَاحْذَرُوا إِلَى قَوْلِهِ وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ قَالَ فِي الْيَهُودِ إِلَى قَوْلِهِ وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ [سورة المائدة: ٤١-٤٧] قَالَ هِيَ فِي الْكُفَّارِ
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے ایک یہودی کو گزارا گیا، جس کا چہرہ کالا کیا گیا تھا اور اسے کوڑے لگائے گئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو بلایا اور فرمایا: کیا تم اپنی کتاب میں زانی کی یہی حد پاتے ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے علماء میں سے ایک آدمی کو بلایا اور اس سے فرمایا: میں تجھے اس اللہ کا واسطہ دیتا ہوں، جس نے موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل کی، کیا تم اپنی کتاب میں زانی کی حد اسی طرح پاتے ہو؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! نہیں، اور اگر آپ نے مجھے یہ واسطہ نہ دیا ہوتا تو میں آپ کو نہ بتلاتا، ہم اپنی کتاب میں زنا کی حد رجم ہی پاتے ہیں، لیکن جب ہمارے اونچے طبقے والے لوگوں میں زنا عام ہو گیا تھا، تو جب ہم کسی اونچے آدمی کو پکڑتے تو اسے چھوڑ دیتے اور جب ہم کسی کمزور کو پکڑتے تو اس پر یہی حد قائم کردیتے، پھر ہم نے اجلاس کیا اور یہ قانون پاس کیا کہ ہم ایسی حد تجویز کر لیں جو ہم بلند مرتبہ اور کم مرتبہ دونوں قسم کے لوگوں پر نافذ کر سکیں، پس ہم نے اس پر اتفاق کیا کہ کوڑے مار دئیے جائیں اور منہ کالا کر دیا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میں تیرا وہ بندہ ہوں، جس نے سب سے پہلے تیرے حکم کو زندہ کیا ہے، جبکہ یہودیوں نے اس کو چھوڑ رکھا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا اور اسے رجم کر دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {یٰٓاَیُّھَا الرَّسُوْلُ لَا یَحْزُنْکَ الَّذِیْنَیُسَارِعُوْنَ فِی الْکُفْرِ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِاَفْوَاہِہِمْ وَلَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُہُمْ وَمِنَ الَّذِیْنَ ہَادُوْا سَمّٰعُوْنَ لِلْکَذِبِ سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِیْنَ لَمْ یَاْتُوْکَیُحَرِّفُوْنَ الْکَلِمَ مِنْ بَعْدِ مَوَاضِعِہٖیَقُوْلُوْنَ اِنْ اُوْتِیْتُمْ ہٰذَا فَخُذُوْہُ وَاِنْ لَّمْ تُؤْتَوْہُ فَاحْذَرُوْا۔} … اے رسول! تجھے وہ لوگ غمگین نہ کریں جو کفر میں دوڑ کر جاتے ہیں، ان لوگوں میں سے جنھوں نے اپنے مونہوں سے کہا ہم ایمان لائے، حالانکہ ان کے دل ایمان نہیں لائے اور ان لوگوں میں سے جو یہودی بنے۔ بہت سننے والے ہیں جھوٹ کو، بہت سننے والے ہیں دوسرے لوگوں کے لیے جو تیرے پاس نہیں آئے، وہ کلام کو اس کی جگہوں کے بعد پھیر دیتے ہیں۔ کہتے ہیں اگر تمھیں یہ دیا جائے تو لے لو اور اگر تمھیں یہ نہ دیا جائے تو بچ جاؤ۔ یہ یہودی آپس میں کہتے ہیں:تم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاؤ،اگر وہ تمہیں یہ فتویٰ دیں کہ زانی کا منہ کالا کرو اور اسے کوڑے لگاؤ تو پھر ان کی بات مان لینا اور اگر و ہ رجم کا فتویٰ دیں تو پھر بچ کر رہنا، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان تک: {وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللّٰہُ فَأُولَئِکَ ہُمُ الْکَافِرُوْنَ} یہ یہودیوں کے بارے میں ہے اور {وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَا أَ نْزَلَ اللّٰہُ فَأُولَئِکَ ہُمُ الظَّالِمُوْنَ} اور {وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَا أَ نْزَلَ اللّٰہُ فَأُولَئِکَ ہُمُ الْفَاسِقُونَ} یہ دو آیتیں کافروں کے بارے میں ہیں۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8581]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1700، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18525 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18724»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1700
حدیث نمبر: 8582
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنْ جَاءُوكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ وَإِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ يَضُرُّوكَ شَيْئًا وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ [سورة المائدة: ٤٢] قَالَ كَانَ بَنُو النَّضِيرِ إِذَا قَتَلُوا قَتِيلًا مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ أَدَّوْا إِلَيْهِمْ نِصْفَ الدِّيَةِ وَإِذَا قَتَلَ بَنُو قُرَيْظَةَ مِنْ بَنِي النَّضِيرِ قَتِيلًا أَدَّوْا إِلَيْهِمْ الدِّيَةَ كَامِلَةً فَسَوَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمُ الدِّيَةَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {فَإِنْ جَائُ وْکَ فَاحْکُمْ بَیْنَہُمْ أَ وْ أَ عْرِضْ عَنْہُمْ، وَإِنْ تُعْرِضْ عَنْہُمْ فَلَنْ یَضُرُّوکَ شَیْئًا، وَإِنْ حَکَمْتَ فَاحْکُمْ بَیْنَہُمْ بِالْقِسْطِ، إِنَّ اللّٰہَیُحِبُّ الْمُقْسِطِینَ} … پھر اگر وہ تیرے پاس آئیں تو ان کے درمیان فیصلہ کر، یا ان سے منہ پھیر لے اور اگر تو ان سے منہ پھیر لے تو ہرگز تجھے کچھ نقصان نہ پہنچائیں گے اور اگر تو فیصلہ کرے تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کر، بے شک اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ تفصیل یہ ہے کہ جب بنو نضیر، بنو قریظہ کا بندہ قتل کر دیتے تو وہ نصف دیت دیتے اور جب بنو قریظہ، بنو نضیر میں سے کسی کو قتل کر دیتے تو یہ پوری دیت دیتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیت کے معاملے میں ان کے مابین برابری کر دی۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8582]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه ابوداود: 3591، والنسائي: 8/ 19، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3434 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3434»
وضاحت: فوائد: … بنو قریظہ اور بنو نضیر، دونوں یہودی قبیلے تھے، لیکن بنو نضیر کو زیادہ شرف و منزلت والا سمجھا جاتا تھا، اس لیے مقتول کے معاملے میں اس قدر فرق پایا جاتا تھا۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن ۔ أخرجه ابوداود: 3591
حدیث نمبر: 8583
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْزَلَ وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ وَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ وَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ [سورة المائدة: ٤٤-٤٧] قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَنْزَلَهَا اللَّهُ فِي الطَّائِفَتَيْنِ مِنَ الْيَهُودِ وَكَانَتْ إِحْدَاهُمَا قَدْ قَهَرَتِ الْأُخْرَى فِي الْجَاهِلِيَّةِ حَتَّى ارْتَضَوْا وَاصْطَلَحُوا عَلَى أَنَّ كُلَّ قَتِيلٍ قَتَلَتْهُ الْعَزِيزَةُ مِنَ الذَّلِيلَةِ فَدِيَتُهُ خَمْسُونَ وَسْقًا وَكُلُّ قَتِيلٍ قَتَلَتْهُ الذَّلِيلَةُ مِنَ الْعَزِيزَةِ فَدِيَتُهُ مِائَةُ وَسْقٍ فَكَانُوا عَلَى ذَلِكَ حَتَّى قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَذَلَّتِ الطَّائِفَتَانِ كِلْتَاهُمَا لِمَقْدَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَيَوْمَئِذٍ لَمْ يَظْهَرْ وَلَمْ يُوَطِّئْهُمَا عَلَيْهِ وَهُوَ فِي الصُّلْحِ فَقَتَلَتِ الذَّلِيلَةُ مِنَ الْعَزِيزَةِ قَتِيلًا فَأَرْسَلَتِ الْعَزِيزَةُ إِلَى الذَّلِيلَةِ أَنِ ابْعَثُوا إِلَيْنَا بِمِائَةِ وَسْقٍ فَقَالَتِ الذَّلِيلَةُ وَهَلْ كَانَ هَذَا فِي حَيَّيْنِ قَطُّ دِينُهُمَا وَاحِدٌ وَنَسَبُهُمَا وَاحِدٌ وَبَلَدُهُمَا وَاحِدٌ دِيَةُ بَعْضِهِمْ نِصْفُ دِيَةِ بَعْضٍ إِنَّا إِنَّمَا أَعْطَيْنَاكُمْ هَذَا ضَيْمًا مِنْكُمْ لَنَا وَفَرَقًا مِنْكُمْ فَأَمَّا إِذْ قَدِمَ مُحَمَّدٌ فَلَا نُعْطِيكُمْ ذَلِكَ فَكَادَتِ الْحَرْبُ تَهِيجُ بَيْنَهُمَا ثُمَّ ارْتَضَوْا عَلَى أَنْ يَجْعَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ ذَكَرَتِ الْعَزِيزَةُ فَقَالَتْ وَاللَّهِ مَا مُحَمَّدٌ بِمُعْطِيكُمْ مِنْهُمْ ضِعْفَ مَا يُعْطِيهِمْ مِنْكُمْ وَلَقَدْ صَدَقُوا مَا أَعْطَوْنَا هَذَا إِلَّا ضَيْمًا مِنَّا وَقَهْرًا لَهُمْ فَدُسُّوا إِلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ يُخْبِرُ لَكُمْ رَأْيَهُ إِنْ أَعْطَاكُمْ مَا تُرِيدُونَ حَكَّمْتُمُوهُ وَإِنْ لَمْ يُعْطِكُمْ حَذِرْتُمْ فَلَمْ تُحَكِّمُوهُ فَدَسُّوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَاسًا مِنَ الْمُنَافِقِينَ لِيُخْبِرُوا لَهُمْ رَأْيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَ اللَّهُ رَسُولَهُ بِأَمْرِهِمْ كُلِّهِ وَمَا أَرَادُوا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ لَا يَحْزُنْكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ مِنَ الَّذِينَ قَالُوا آمَنَّا إِلَى قَوْلِهِ وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ [سورة المائدة: ٤١-٤٧] ثُمَّ قَالَ فِيهِمَا وَاللَّهِ نَزَلَتْ وَإِيَّاهُمَا عَنَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کیں: اور جو لوگ اللہ کی اتاری ہوئی وحی کے ساتھ فیصلہ نہ کریں وہ کافر ہیں اور وہ لوگ ظالم ہیں اور وہ لوگ فاسق ہیں انھوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے یہ آیات یہودیوں کے دو گروہوں کے بارے میں نازل کیں، ان میں سے ایک نے دورِ جاہلیت میں دوسرے کو زیر کر لیا تھا، حتی کہ وہ راضی ہو گئے اور اس بات پر صلح کر لی کہ عزیزہ قبیلے نے ذلیلہ قبیلے کا جو آدمی قتل کیا، اس کی دیت پچاس وسق ہو گی اور ذلیلہ نے عزیزہ کا جو آدمی قتل کیا اس کی دیت سو (۱۰۰) وسق ہو گی، وہ اسی معاہدے پر برقرار تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آنے سے وہ دونوں قبیلے بے وقعت ہو گئے، حالانکہ ابھی تک آپ ان پر غالب نہیں آئے تھے اور نہ آپ نے ان کی موافقت کی تھی اور ان کے ساتھ صلح و صفائی کا زمانہ تھا۔ اُدھر ذلیلہ نے عزیزہ کا بندہ قتل کر دیا، عزیزہ نے ذلیلہ کی طرف پیغام بھیجا کہ سو وسق ادا کرو۔ ذلیلہ والوں نے کہا: جن قبائل کا دین ایک ہو، نسب ایک ہو اور شہر ایک ہو، تو کیایہ ہو سکتا ہے کہ ایک کی دیت دوسرے کی بہ نسبت نصف ہو؟ ہم تمھارے ظلم و ستم کی وجہ سے تمھیں (سو وسق) دیتے رہے، اب جبکہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آ چکے ہیں، ہم تمھیں نہیں دیں گے۔ ان کے مابین جنگ کے شعلے بھڑکنے والے ہی تھے کہ وہ آپس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بحیثیت ِ فیصل راضی ہو گئے۔ عزیزہ کے ورثاء آپس میں کہنے لگے: اللہ کی قسم! محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمھارے حق میں دو گنا کا فیصلہ نہیں کرے گا، ذلیلہ والے ہیں بھی سچے کہ وہ ہمارے ظلم و ستم اور قہر و جبر کی وجہ سے دو گناہ دیتے رہے، اب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کسی آدمی کو بطورِ جاسوس بھیجو جو تمھیں اس کے فیصلے سے آگاہ کر سکے، اگر وہ تمھارے ارادے کے مطابق فیصلہ کر دے تو تم اسے حاکم تسلیم کر لینا اور اگر اس نے ایسے نہ کیا تو محتاط رہنا اور اسے فیصل تسلیم نہ کرنا۔ سو انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کچھ منافق لوگوں کو بطورِ جاسوس بھیجا، جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان کی تمام سازشوں اور ارادوں سے آگاہ کر دیا اور یہ آیات نازل فرمائیں: اے رسول! آپ ان لوگوں کے پیچھے نہ کڑھیے جو کفر میں سبقت کر رہے ہیں خواہ وہ ان میں سے ہوں جو زبانی تو ایمان کا دعوی کرتے لیکن حقیقت میں ان کے دل باایمان نہیں … … اور جو اللہ کی اتاری ہوئی وحی کے ساتھ فیصلہ نہ کریں وہ کافر ہیں۔ (سورۂ مائدہ: ۴۱۔ ۴۴) پھر کہا: اللہ کی قسم! یہ آیتیں انہی دونوں کے بارے میں نازل ہوئیں اور اللہ تعالیٰ کی مراد یہی لوگ تھے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8583]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 3576، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2212 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2212»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے ہمیں یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ ہر معاملے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آخری اور حتمی فیصل تسلیم کیا جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیصلے کو بغیر کسی چون و چرا کے تسلیم کیا جائے۔ امام البانی رحمتہ اللہ علیہ اس حدیث میں مذکورہ آیات پر بحث کرتے ہوئے رقمطراز ہیں: یہودیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیصلے کے بارے میں کہا: اگر وہ نبی تم کو تمہارے ارادے کے مطابق دے دے تو اس کو حاکم تسلیم کر لینا اور اگر کچھ نہ دے تو بچ جانا اور اسے حاکم تسلیم نہ کرنا۔
قرآن مجید میں بھی ان کے اس قبیح اصول کا ذکر موجود ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: {یَقُوْلُوْنَ اِنْ أُوْتِیْتُمْ ھٰذَا فَخُذُوْہُ وَاِنْ لَّمْ تُؤْتَوْہُ فَاحْذَرُوْا} (سورۂ مائدہ: ۴۱) یعنی: یہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر تم کو یہ چیز دی گئی تو لے لینا اور نہ دیگئی تو بچ جانا۔ درج ذیل تین آیات اِن یہودیوں اور ان کے اس فیصلے کے بارے میں نازل ہوئیں:
{وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکَافِرُوْنَ} (سورۂ مائدہ: ۴۴)
یعنی: اور جو لوگ اللہ تعالی کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ نہیں کریں گے، وہ کافر ہیں۔
{وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظَّالِمُوْن} (سورۂ مائدہ: ۴۵)
یعنی: اور جو لوگ اللہ تعالی کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ نہیں کریں گے، وہ ظالم ہیں۔
{وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْفَاسِقُوْن} (سورۂ مائدہ: ۴۷)
یعنی: اور جو لوگ اللہ تعالی کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ نہیں کریں گے، وہ فاسق ہیں۔
اگریہ آیاتیہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں تو ان کی روشنی میں ان مسلم حکمرانوں اور قاضیوں کو کافر اور غیر مسلم نہیں قراردیا جا سکتا، جو اللہ تعالی اور رسول اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور ملکی معاملات میں اللہ تعالی کے احکام سے ہٹ کر فیصلہ کرتے ہیں۔ یہ لوگ مجرم ہیں جو مذکورہ انداز میں فیصلہ کرنے میں یہودیوں کی طرح ہیں، لیکن اللہ تعالی اور اس کے رسول پر ایمان رکھنے کی وجہ سے یہودیوں سے مختلف ہیں، کیونکہیہودیوں نے تو کہا تھا کہ اگر ان کی خواہش کے مطابق فیصلہ نہ کیا گیا تو وہ اللہ کے رسول کو سرے سے حاکم ہی تسلیم نہیں کریں گے، جبکہ مسلم حکمرانوں کا معاملہ ان کے برعکس ہے، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حقیقی حاکم تسلیم کرتے ہیں اور آپ کی تعلیمات کو برحق سمجھتے ہیں، لیکن عملی طور پر فیصلہ کرتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکام سے پہلو تہی کر جاتے ہیں۔ اس بحث کا نتیجہیہ ہے کہ کفر کی دو قسمیں ہیں: (۱)اعتقادی اور (۲) عملی۔ اعتقادی کفر کا محل دل اور عملی کفر کا محل ظاہری اعضاء ہیں۔ اگر کوئی آدمی شریعت کی مخالفت کرتے ہوئے کفریہ عمل کرتا ہے اور اس کا دل اس کے اس فیصلے پر مطمئن ہو جاتا ہے تو یہ اعتقادی کفر کہلائے گا، ایسے کافر کی بخشش نہیں ہو گیاوریہ ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ لیکن اگر کسی آدمی کا دل شرعی احکام کی روشنی میں اس کے کفریہ عمل کی مخالفت کر رہا ہو اور اسے غلط سمجھ رہا ہو تو یہ عملی کفر کہلائے گا، ایسا مجرم مسلم ہی تصور ہو گا، اس کا یہ بد عمل اللہ تعالی کی مشیت میں ہوگا، اس نے چاہا تو بخش دے گا اور چاہا تو سزا دے گا۔ جن احادیث میں مسلمانوں کی بعض معصیتوں کو کفر کہا گیا ہے، اس سے مراد عملی کفر ہے، مثلا: (۱) نسب میں طعن کرنا اور میت پر نوحہ کرنا کفر ہے۔ (۲) قرآن میں جھگڑا کرنا کفر ہے۔ (۳)مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے قتال کرنا کفر ہے۔ (۴) اپنے نسب سے براء ت کا اظہار کرنا اللہ تعالی کے ساتھ کفر ہے۔ (۵) اللہ تعالی کی نعمت کا بیان کرنا شکر ہے اور ایسا نہ کرنا کفر ہے۔ (۶) میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کو قتل کرنے لگ جاؤ۔ علاوہ ازیں اس موضوع پر دلالت کرنے والی بہت سی احادیث ہیں، اس مقام پر ان کا احاطہ کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان ان برائیوں اور معصیتوں کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کا کفر عملی ہوتا ہے، یعنی وہ وہ عمل کرتا ہے، جو عام طور پر کافر کرتے ہیں۔ ہاں اگر کوئی آدمی کسی برائی کو حلال اور جائز سمجھ کا اس کا ارتکاب کرتا ہے اور سرے سے اسے نافرمانی ہی تصور نہیں کرتا تو وہ کافر ہو گا، کیونکہ وہ عقائد میں کفار کی طرح ہو جاتا ہے۔ سلف صالحین کفر د ون کفر کی اصطلاح استعمال کرتے رہے، ترجمان القرآن سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے بھییہ قاعدہ منقول ہے، پھر بعض تابعین نے ان سے نقل کیا۔ اس اصطلاح کا یہی تقاضا ہے کہ ہر عملی کفر کو اعتقادی کفر نہیں کہا جا سکتا اور یہ کہ عملی کفر کی مختلف اقسام ہیں، کسی کا گناہ زیادہ ہوتا ہے اور کسی کا کم۔ عصر حاضر میں بھی بعض لوگ اس نازک مسئلہ میں گمراہ ہو گئے ہیں، انھوں نے خارجیوں کا روپ دھار لیا ہے، جو بعض گناہوں کی وجہ سے صوم و صلاۃ کے پابند مسلمانوں کو کافر قرار دیتے تھے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں متقدمین کے بعض اقوال ذکر کر دیئے جائیں، شاید وہ ان لوگوں کے کے لیے مشعلِ ہدایت ثابت ہوں۔
(۱) ابن جریر طبری نے اپنی تفسیر (۱۰/ ۳۵۵/ ۱۲۰۵۳) میں صحیح سند کے ساتھ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کیا: {وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکَافِرُوْن} اس آیت کا مصداق بننے والا کافر تو ہے، لیکن اس سے اللہ تعالی، فرشتوں،آسمانی کتابوں اور رسولوں کے ساتھ کفر لازم نہیں آتا۔ (۲)ایک روایت کے مطابق اسی آیت کے بارے میں انھوں نے کہا: اس آیت سے مراد وہ کفر نہیں، جو ملت ِ اسلام سے خارج کر دیتا ہے، جیسا کہ خوارج کا خیال ہے، بلکہ یہ آیت کفر دون کفر کی اصطلاح کا مصداق ہے۔ (مستدرک حاکم: ۲/ ۳۱۳)۔ (۳) ابن جریر کی ایک روایت کے مطابق سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے کہا: جس نے اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام کا انکار کیا، اس نے (اعتقادی) کفر کیا اور جس نے ان احکام کو برحق تسلیم کیا، لیکن ان کی روشنی میں فیصلہ نہ کیا تو وہ ظالم اور فاسق ٹھہرے گا۔ (۴) ابن جریر (۱۲۰۲۵، ۱۲۰۲۶) دو سندوں کے ساتھ عمران بن حدیر سے بیان کرتے ہیں کہ بنوعمرو کے کچھ لوگ ابو مجلز کے پاس آئے اور کہا: کیا آپ ان تین آیات کو حق سمجھتے ہیں: {وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکَافِرُوْن}(سورۂ مائدہ: ۴۴) یعنی: اور جو لوگ اللہ تعالی کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ نہیں کریں گے، وہ کافر ہیں۔ {وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظَّالِمُوْن} (سورۂ مائدہ: ۴۵) یعنی: اور جو لوگ اللہ تعالی کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ نہیں کریں گے، وہ ظالم ہیں۔ {وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْفَاسِقُوْن} (سورۂ مائدہ: ۴۷) یعنی: اور جو لوگ اللہ تعالی کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ نہیں کریں گے، وہ فاسق ہیں۔ ابومجلز:جی ہاں۔ بنوعمرو: ابو مجلز! تو کیا ہمارے حکمران اللہ تعالی کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں؟ ابومجلز: ہمارے حکمرانوں کا دین اسلام ہے، وہ اسی کے قائل ہیں اور اسی کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ اگر یہ لوگ دیدہ دانستہ طور پر دین کے بعض امور کو نظر انداز کر دیتے ہیں تو گنہگار ہوں گے، نہ کہ کافر۔ بنوعمرو: اللہ کی قسم! جو کچھ تم کہہ رہے ہو ایسے ہر گز نہیں ہے۔ تم ان سے ڈر رہے ہو۔ (یہ لوگ کافر ہیں)۔ ابومجلز: اگر تم لوگ کوئی حرج محسوس کیے بغیر ایسا کہنا چاہتے ہو تو کہو، بہرحال میری رائے یہ نہیں ہے۔ میں تو کہتا ہوں کہ یہ آیاتیہودیوں اور عیسائیوں کے بارے میں نازل ہوئی تھیں، جو مشرک تھے۔ قرآن مجید کی اس آیت {وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکَافِرُوْن} (سورۂ مائدہ: ۴۴) میں کفر سے کیا مراد ہے؟ ابن جریر نے اپنی تفسیر (۱۰/ ۳۴۶۔ ۳۵۷) میںعلمائے کرام کے پانچ اقوال بیان کیے ہیں اور یوں کہتے ہوئے بات ختم کی ہے: میرے نزدیک ان میں سے راجح ترین قول یہ ہے کہ یہ آیت اہل کتاب کے کافروں کے بارے میں نازل ہوئی، کیونکہ اس سے پہلے والی اور بعد والی آیات میں ان ہی لوگوں کا تذکرہ کیا گیا ہے، سیاق و سباق کا یہی تقاضا ہے کہ اس سے مراد یہود و نصاری لیے جائیں۔ اگر کوئی اعتراض کرے کہ اللہ تعالی نے اس آیت میں عام بات کی ہے کہ جو بھی اللہ تعالی کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ نہیں کرے گا، وہ کافر ٹھہرے گا، آپ لوگ اس کو بعض لوگوں کے ساتھ خاص کیوں کرتے ہیں؟ جواب یہ دیا جائے گا کہ اس آیت میں عام الفاظ ان لوگوں کے بارے میں ہی استعمال ہی کیے گئے ہیں، جو اللہ تعالی کے حکم کا انکار کرنے والے تھے اور ہم بھییہی کہتے ہیں کہ جو آدمی اللہ تعالی کے احکام کا انکار کرتے ہوئے ان کو ترک کرے گا، وہ کافر کہلائے گا، جیسا کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا ہے۔ خلاصۂ قول یہ ہے کہ یہ آیت احکامِ الٰہی کا انکار کرنے والے یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی، پس جو آدمی ان کی طرح کا انکار کرے گا، وہ ان کی طرح کا ہی اعتقادی کافر کہلائے گا اور جو آدمی اللہ تعالی کے احکام کا انکار نہیں کرتا، بلکہ ان کو حق تسلیم کرتا ہے، لیکن فیصلہ کرتے وقت ان احکام سے پہلو تہی کر جاتا ہے تو اس کا کفر عملی ہو گا، وہ گنہگار ہو گا، لیکن ملت ِ اسلام سے خارج نہیں ہو گا، جیسا سیدنا ابن عباس کی رائے بیان کی جا چکی ہے۔ حافظ ابو عبید قاسم بن سلام نے (کتاب الایمان: باب الخروج من الایمان بالمعاصی صـ: ۸۴۔ ۹۷بتحقیقی) میں اس مضمون پر شاندار بحث کی ہے، خواہشمند افراد خود مطالعہ کر لیں۔ پھرامام ابن تیمیہl (۷/ ۲۵۴)نے کہا: امام احمدl سے اس آیت میں مذکورہ کفر کے بارے میں سوال کیا گیا۔ انھوں نے کہا: یہ ایسا کفر ہے، جس کی وجہ سے بندہ ایمان سے خارج نہیں ہوتا۔ جیسے ایمان کے مختلف مراتب ہیں، اسی طرح کفر کے بھی مختلف مراتب ہیں۔ کسی مسلمان کو اس وقت تک کافر نہیں قرار دیا جا سکتا، جب تک وہ کسی ایسے جرم کا ارتکاب نہ کر لے، جس کی بنا پر بالاتفاق ملت ِ اسلام سے خارج ہو جاتا ہو۔ شیخ الاسلام (۷/۳۱۲) نے مزید کہا: جس طرح سلف صالحیں کا خیال ہے کہ ایک آدمی میں ایمان اور نفاق دونوں صفات ہو سکتی ہے، اسی طرح کسی آدمی میں ایمان اور کفر دونوں کا وجود ممکن ہے، لیکنیاد رہے کہ جس کفر سے ایمان ضائع نہیں ہوتا، وہ مسلمان کو ملت ِ اسلام سے خارج نہیں کرتا، جیسا کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور ان کے تلامذہ نے کہا کہ اللہ تعالی کے فرمان {وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکَافِرُوْن}(سورۂ مائدہ: ۴۴) میں مذکورہ کفر کے بارے میں کہا کہ اس سے کوئی بندہ ایمان سے خارج نہیں ہوتا۔ پھر امام احمدl جیسے ائمہ نے ان کی موافقت بھی کی ہے۔ ممکن ہے کہ ایک وقت میں دو اسباب جمع ہو گئے ہوں اور اس وقت یہ آیات نازل ہوئی ہوں، شیخ احمد شاکر نے کہا: یہی متعین اور صحیح بات ہے، یہ ضروری نہیں کہ آیات کا نزول صرف ایک واقعہ کے پیشنظر ہو، ممکن ہے کہ دو یا زیادہ واقعات کے بعد قرآن مجید نازل ہوا ہو اور اس میں ان سب کا فیصلہ کیا گیا ہو، پس بعض صحابہ کوئی سبب بیان کر دیتے ہیں اور بعض کوئی، جبکہ یہ ساری باتیں صحیح ہوتی ہیں۔
قرآن مجید میں بھی ان کے اس قبیح اصول کا ذکر موجود ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: {یَقُوْلُوْنَ اِنْ أُوْتِیْتُمْ ھٰذَا فَخُذُوْہُ وَاِنْ لَّمْ تُؤْتَوْہُ فَاحْذَرُوْا} (سورۂ مائدہ: ۴۱) یعنی: یہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر تم کو یہ چیز دی گئی تو لے لینا اور نہ دیگئی تو بچ جانا۔ درج ذیل تین آیات اِن یہودیوں اور ان کے اس فیصلے کے بارے میں نازل ہوئیں:
{وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکَافِرُوْنَ} (سورۂ مائدہ: ۴۴)
یعنی: اور جو لوگ اللہ تعالی کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ نہیں کریں گے، وہ کافر ہیں۔
{وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظَّالِمُوْن} (سورۂ مائدہ: ۴۵)
یعنی: اور جو لوگ اللہ تعالی کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ نہیں کریں گے، وہ ظالم ہیں۔
{وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْفَاسِقُوْن} (سورۂ مائدہ: ۴۷)
یعنی: اور جو لوگ اللہ تعالی کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ نہیں کریں گے، وہ فاسق ہیں۔
اگریہ آیاتیہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں تو ان کی روشنی میں ان مسلم حکمرانوں اور قاضیوں کو کافر اور غیر مسلم نہیں قراردیا جا سکتا، جو اللہ تعالی اور رسول اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور ملکی معاملات میں اللہ تعالی کے احکام سے ہٹ کر فیصلہ کرتے ہیں۔ یہ لوگ مجرم ہیں جو مذکورہ انداز میں فیصلہ کرنے میں یہودیوں کی طرح ہیں، لیکن اللہ تعالی اور اس کے رسول پر ایمان رکھنے کی وجہ سے یہودیوں سے مختلف ہیں، کیونکہیہودیوں نے تو کہا تھا کہ اگر ان کی خواہش کے مطابق فیصلہ نہ کیا گیا تو وہ اللہ کے رسول کو سرے سے حاکم ہی تسلیم نہیں کریں گے، جبکہ مسلم حکمرانوں کا معاملہ ان کے برعکس ہے، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حقیقی حاکم تسلیم کرتے ہیں اور آپ کی تعلیمات کو برحق سمجھتے ہیں، لیکن عملی طور پر فیصلہ کرتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکام سے پہلو تہی کر جاتے ہیں۔ اس بحث کا نتیجہیہ ہے کہ کفر کی دو قسمیں ہیں: (۱)اعتقادی اور (۲) عملی۔ اعتقادی کفر کا محل دل اور عملی کفر کا محل ظاہری اعضاء ہیں۔ اگر کوئی آدمی شریعت کی مخالفت کرتے ہوئے کفریہ عمل کرتا ہے اور اس کا دل اس کے اس فیصلے پر مطمئن ہو جاتا ہے تو یہ اعتقادی کفر کہلائے گا، ایسے کافر کی بخشش نہیں ہو گیاوریہ ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ لیکن اگر کسی آدمی کا دل شرعی احکام کی روشنی میں اس کے کفریہ عمل کی مخالفت کر رہا ہو اور اسے غلط سمجھ رہا ہو تو یہ عملی کفر کہلائے گا، ایسا مجرم مسلم ہی تصور ہو گا، اس کا یہ بد عمل اللہ تعالی کی مشیت میں ہوگا، اس نے چاہا تو بخش دے گا اور چاہا تو سزا دے گا۔ جن احادیث میں مسلمانوں کی بعض معصیتوں کو کفر کہا گیا ہے، اس سے مراد عملی کفر ہے، مثلا: (۱) نسب میں طعن کرنا اور میت پر نوحہ کرنا کفر ہے۔ (۲) قرآن میں جھگڑا کرنا کفر ہے۔ (۳)مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے قتال کرنا کفر ہے۔ (۴) اپنے نسب سے براء ت کا اظہار کرنا اللہ تعالی کے ساتھ کفر ہے۔ (۵) اللہ تعالی کی نعمت کا بیان کرنا شکر ہے اور ایسا نہ کرنا کفر ہے۔ (۶) میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کو قتل کرنے لگ جاؤ۔ علاوہ ازیں اس موضوع پر دلالت کرنے والی بہت سی احادیث ہیں، اس مقام پر ان کا احاطہ کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان ان برائیوں اور معصیتوں کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کا کفر عملی ہوتا ہے، یعنی وہ وہ عمل کرتا ہے، جو عام طور پر کافر کرتے ہیں۔ ہاں اگر کوئی آدمی کسی برائی کو حلال اور جائز سمجھ کا اس کا ارتکاب کرتا ہے اور سرے سے اسے نافرمانی ہی تصور نہیں کرتا تو وہ کافر ہو گا، کیونکہ وہ عقائد میں کفار کی طرح ہو جاتا ہے۔ سلف صالحین کفر د ون کفر کی اصطلاح استعمال کرتے رہے، ترجمان القرآن سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے بھییہ قاعدہ منقول ہے، پھر بعض تابعین نے ان سے نقل کیا۔ اس اصطلاح کا یہی تقاضا ہے کہ ہر عملی کفر کو اعتقادی کفر نہیں کہا جا سکتا اور یہ کہ عملی کفر کی مختلف اقسام ہیں، کسی کا گناہ زیادہ ہوتا ہے اور کسی کا کم۔ عصر حاضر میں بھی بعض لوگ اس نازک مسئلہ میں گمراہ ہو گئے ہیں، انھوں نے خارجیوں کا روپ دھار لیا ہے، جو بعض گناہوں کی وجہ سے صوم و صلاۃ کے پابند مسلمانوں کو کافر قرار دیتے تھے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں متقدمین کے بعض اقوال ذکر کر دیئے جائیں، شاید وہ ان لوگوں کے کے لیے مشعلِ ہدایت ثابت ہوں۔
(۱) ابن جریر طبری نے اپنی تفسیر (۱۰/ ۳۵۵/ ۱۲۰۵۳) میں صحیح سند کے ساتھ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کیا: {وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکَافِرُوْن} اس آیت کا مصداق بننے والا کافر تو ہے، لیکن اس سے اللہ تعالی، فرشتوں،آسمانی کتابوں اور رسولوں کے ساتھ کفر لازم نہیں آتا۔ (۲)ایک روایت کے مطابق اسی آیت کے بارے میں انھوں نے کہا: اس آیت سے مراد وہ کفر نہیں، جو ملت ِ اسلام سے خارج کر دیتا ہے، جیسا کہ خوارج کا خیال ہے، بلکہ یہ آیت کفر دون کفر کی اصطلاح کا مصداق ہے۔ (مستدرک حاکم: ۲/ ۳۱۳)۔ (۳) ابن جریر کی ایک روایت کے مطابق سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے کہا: جس نے اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام کا انکار کیا، اس نے (اعتقادی) کفر کیا اور جس نے ان احکام کو برحق تسلیم کیا، لیکن ان کی روشنی میں فیصلہ نہ کیا تو وہ ظالم اور فاسق ٹھہرے گا۔ (۴) ابن جریر (۱۲۰۲۵، ۱۲۰۲۶) دو سندوں کے ساتھ عمران بن حدیر سے بیان کرتے ہیں کہ بنوعمرو کے کچھ لوگ ابو مجلز کے پاس آئے اور کہا: کیا آپ ان تین آیات کو حق سمجھتے ہیں: {وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکَافِرُوْن}(سورۂ مائدہ: ۴۴) یعنی: اور جو لوگ اللہ تعالی کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ نہیں کریں گے، وہ کافر ہیں۔ {وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظَّالِمُوْن} (سورۂ مائدہ: ۴۵) یعنی: اور جو لوگ اللہ تعالی کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ نہیں کریں گے، وہ ظالم ہیں۔ {وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْفَاسِقُوْن} (سورۂ مائدہ: ۴۷) یعنی: اور جو لوگ اللہ تعالی کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ نہیں کریں گے، وہ فاسق ہیں۔ ابومجلز:جی ہاں۔ بنوعمرو: ابو مجلز! تو کیا ہمارے حکمران اللہ تعالی کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں؟ ابومجلز: ہمارے حکمرانوں کا دین اسلام ہے، وہ اسی کے قائل ہیں اور اسی کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ اگر یہ لوگ دیدہ دانستہ طور پر دین کے بعض امور کو نظر انداز کر دیتے ہیں تو گنہگار ہوں گے، نہ کہ کافر۔ بنوعمرو: اللہ کی قسم! جو کچھ تم کہہ رہے ہو ایسے ہر گز نہیں ہے۔ تم ان سے ڈر رہے ہو۔ (یہ لوگ کافر ہیں)۔ ابومجلز: اگر تم لوگ کوئی حرج محسوس کیے بغیر ایسا کہنا چاہتے ہو تو کہو، بہرحال میری رائے یہ نہیں ہے۔ میں تو کہتا ہوں کہ یہ آیاتیہودیوں اور عیسائیوں کے بارے میں نازل ہوئی تھیں، جو مشرک تھے۔ قرآن مجید کی اس آیت {وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکَافِرُوْن} (سورۂ مائدہ: ۴۴) میں کفر سے کیا مراد ہے؟ ابن جریر نے اپنی تفسیر (۱۰/ ۳۴۶۔ ۳۵۷) میںعلمائے کرام کے پانچ اقوال بیان کیے ہیں اور یوں کہتے ہوئے بات ختم کی ہے: میرے نزدیک ان میں سے راجح ترین قول یہ ہے کہ یہ آیت اہل کتاب کے کافروں کے بارے میں نازل ہوئی، کیونکہ اس سے پہلے والی اور بعد والی آیات میں ان ہی لوگوں کا تذکرہ کیا گیا ہے، سیاق و سباق کا یہی تقاضا ہے کہ اس سے مراد یہود و نصاری لیے جائیں۔ اگر کوئی اعتراض کرے کہ اللہ تعالی نے اس آیت میں عام بات کی ہے کہ جو بھی اللہ تعالی کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ نہیں کرے گا، وہ کافر ٹھہرے گا، آپ لوگ اس کو بعض لوگوں کے ساتھ خاص کیوں کرتے ہیں؟ جواب یہ دیا جائے گا کہ اس آیت میں عام الفاظ ان لوگوں کے بارے میں ہی استعمال ہی کیے گئے ہیں، جو اللہ تعالی کے حکم کا انکار کرنے والے تھے اور ہم بھییہی کہتے ہیں کہ جو آدمی اللہ تعالی کے احکام کا انکار کرتے ہوئے ان کو ترک کرے گا، وہ کافر کہلائے گا، جیسا کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا ہے۔ خلاصۂ قول یہ ہے کہ یہ آیت احکامِ الٰہی کا انکار کرنے والے یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی، پس جو آدمی ان کی طرح کا انکار کرے گا، وہ ان کی طرح کا ہی اعتقادی کافر کہلائے گا اور جو آدمی اللہ تعالی کے احکام کا انکار نہیں کرتا، بلکہ ان کو حق تسلیم کرتا ہے، لیکن فیصلہ کرتے وقت ان احکام سے پہلو تہی کر جاتا ہے تو اس کا کفر عملی ہو گا، وہ گنہگار ہو گا، لیکن ملت ِ اسلام سے خارج نہیں ہو گا، جیسا سیدنا ابن عباس کی رائے بیان کی جا چکی ہے۔ حافظ ابو عبید قاسم بن سلام نے (کتاب الایمان: باب الخروج من الایمان بالمعاصی صـ: ۸۴۔ ۹۷بتحقیقی) میں اس مضمون پر شاندار بحث کی ہے، خواہشمند افراد خود مطالعہ کر لیں۔ پھرامام ابن تیمیہl (۷/ ۲۵۴)نے کہا: امام احمدl سے اس آیت میں مذکورہ کفر کے بارے میں سوال کیا گیا۔ انھوں نے کہا: یہ ایسا کفر ہے، جس کی وجہ سے بندہ ایمان سے خارج نہیں ہوتا۔ جیسے ایمان کے مختلف مراتب ہیں، اسی طرح کفر کے بھی مختلف مراتب ہیں۔ کسی مسلمان کو اس وقت تک کافر نہیں قرار دیا جا سکتا، جب تک وہ کسی ایسے جرم کا ارتکاب نہ کر لے، جس کی بنا پر بالاتفاق ملت ِ اسلام سے خارج ہو جاتا ہو۔ شیخ الاسلام (۷/۳۱۲) نے مزید کہا: جس طرح سلف صالحیں کا خیال ہے کہ ایک آدمی میں ایمان اور نفاق دونوں صفات ہو سکتی ہے، اسی طرح کسی آدمی میں ایمان اور کفر دونوں کا وجود ممکن ہے، لیکنیاد رہے کہ جس کفر سے ایمان ضائع نہیں ہوتا، وہ مسلمان کو ملت ِ اسلام سے خارج نہیں کرتا، جیسا کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور ان کے تلامذہ نے کہا کہ اللہ تعالی کے فرمان {وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکَافِرُوْن}(سورۂ مائدہ: ۴۴) میں مذکورہ کفر کے بارے میں کہا کہ اس سے کوئی بندہ ایمان سے خارج نہیں ہوتا۔ پھر امام احمدl جیسے ائمہ نے ان کی موافقت بھی کی ہے۔ ممکن ہے کہ ایک وقت میں دو اسباب جمع ہو گئے ہوں اور اس وقت یہ آیات نازل ہوئی ہوں، شیخ احمد شاکر نے کہا: یہی متعین اور صحیح بات ہے، یہ ضروری نہیں کہ آیات کا نزول صرف ایک واقعہ کے پیشنظر ہو، ممکن ہے کہ دو یا زیادہ واقعات کے بعد قرآن مجید نازل ہوا ہو اور اس میں ان سب کا فیصلہ کیا گیا ہو، پس بعض صحابہ کوئی سبب بیان کر دیتے ہیں اور بعض کوئی، جبکہ یہ ساری باتیں صحیح ہوتی ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن ۔ أخرجه ابوداود: 3576
21. بَابُ: «وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ۔۔۔ الخ»
{وَکَتَبْنَا عَلَیْہِمْ فِیْہَا اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ … الخ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8584
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَرَأَهَا وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنُ بِالْعَيْنِ [سورة المائدة: ٤٥] نَصَبَ النَّفْسَ وَرَفَعَ الْعَيْنَ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {وَکَتَبْنَا عَلَیْہِمْ فِیْہَا اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَیْنُ بِالْعَیْنِ} [المائدۃ: ۴۵] … ہم نے ان پر فرض کیا کہ قصاص میں جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ ہو گی۔ نفس پر زبر پڑھی اور العین پر پیش پڑھی۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8584]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو علي بن يزيد جھّله ابو حاتم، وذكره ابن حبان في الثقات أخرجه ابوداود: 3976، 3977، والترمذي: 2929، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13249 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13282»
وضاحت: فوائد: … متواتر قراء ت یوں ہے: {وَکَتَبْنَا عَلَیْہِمْ فِیْہَآ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَیْنَ بِالْعَیْنِ} حدیث نمبر (۶۵۴۵) وما بعد میںقصاص کے مسائل گزر چکے ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
22. بَابُ: «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ۔۔۔ الخ»
{یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ … الخ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8585
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَصَنَعَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ طَعَامًا فَأَكَلُوا وَشَرِبُوا وَانْتَشَوْا مِنَ الْخَمْرِ وَذَاكَ قَبْلَ أَنْ تُحَرَّمَ فَاجْتَمَعْنَا عِنْدَهُ فَتَفَاخَرُوا وَقَالَتِ الْأَنْصَارُ الْأَنْصَارُ خَيْرٌ وَقَالَتِ الْمُهَاجِرُونَ الْمُهَاجِرُونَ خَيْرٌ فَأَهْوَى لَهُ رَجُلٌ بِلَحْيَيْ جَزُورٍ فَفَزَرَ أَنْفَهُ فَكَانَ أَنْفُ سَعْدٍ مَفْزُورًا فَنَزَلَتْ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ إِلَى قَوْلِهِ فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ [سورة المائدة: ٩٠-٩١]
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری آدمی نے کھانا تیار کیا اور ساتھیوں کو دعوت دی، انہوں نے کھانا کھایا اور شراب پی اور نشہ میں مست ہو گئے، یہ شراب کے حرام ہونے سے پہلے کی بات ہے، ہم بھی ان کے پاس جمع تھے، انہوں نے آپس میں فخر کا اظہار کرنا شروع کر دیا، انصار نے کہا: انصار بہتر ہیں، مہاجرین نے کہا کہ مہاجر بہتر ہیں، ایک آدمی نے اونٹ کے جبڑے کی ہڈی اٹھائی اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے ناک کو پھاڑ دیا، اس طرح ان کی ناک پھاڑی ہوئی تھی،پھریہ آیات نازل ہوئیں: {یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ۔ اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَکُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَاء َ فِی الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ وَیَصُدَّکُمْ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ وَعَنِ الصَّلٰوۃِ فَہَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَہُوْنَ۔} … اے لوگو جو ایمان لائے ہو! بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور شرک کے لیے نصب کردہ چیزیں اور فال کے تیر سراسر گندے ہیں، شیطان کے کام سے ہیں، سو اس سے بچو، تاکہ تم فلاح پاؤ۔شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمھارے درمیان دشمنی اور بغض ڈال دے اور تمھیں اللہ کے ذکر سے اور نماز سے روک دے، تو کیا تم باز آنے والے ہو۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8585]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1748، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1567 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1567»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1748
حدیث نمبر: 8586
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ بِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ مَاتُوا وَهُمْ يَشْرَبُونَهَا فَنَزَلَتْ لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا [سورة المائدة: ٩٣] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ وَفِي رِوَايَةٍ فَقَالَ بَعْضُهُمْ قَدْ قُتِلَ سُهَيْلُ بْنُ بَيْضَاءَ وَهِيَ فِي بَطْنِهِ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا [سورة المائدة: ٩٣] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارے ان بھائیوں کا کیا بنے گا، جو اس حال میں فوت ہوئے کہ وہ شراب پیتے تھے، پس یہ آیت نازل ہوئی: {لَیْسَ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْٓا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاَحْسَنُوْا وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۔} … ان لوگوں پر جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے اس چیز میں کوئی گناہ نہیں جو وہ کھا چکے، جب کہ وہ متقی بنے اور ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، پھر وہ متقی بنے اور ایمان لائے، پھر وہ متقی بنے اور انھوں نے نیکی کی اور اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ (سورۂ مائدہ: ۹۳) ایک روایت میں ہے: کسی نے کہا: سیدنا سہیل بن بیضائ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے، جبکہ ان کے پیٹ میں شراب تھی (یعنی وہ اس وقت پیتے تھے) پس اللہ تعالیٰ نے یہ حکم اتار دیا: {لَیْسَ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْٓا}۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8586]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه الترمذي: 3052، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2088 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2088»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۸۵۰۴)
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره ۔ أخرجه الترمذي: 3052