الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. بَابُ: «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ۔۔الخ»
{یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تَسْاَلُوْا عَنْ اَشْیَائَ … الخ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8587
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا [سورة آل عمران: ٩٧] قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفِي كُلِّ عَامٍ فَسَكَتَ فَقَالُوا أَفِي كُلِّ عَامٍ فَسَكَتَ قَالَ ثُمَّ قَالُوا أَفِي كُلِّ عَامٍ فَقَالَ لَا وَلَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ [سورة المائدة: ١٠١] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی {وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَیْہِ سَبِیلًا} … لوگوں پر اللہ کے لیے حج فرض ہے جو اس کی طرف راستہ کی طاقت رکھتا ہے۔ تو لوگوں نے کہا: ا ے اللہ کے رسول! کیا حج ہر سال فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے۔ انہوں نے پھر کہا: کیا حج ہر سال فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، اور اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہرسال فرض ہو جاتا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: {یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْئــَـلُوْا عَنْ اَشْیَاء َ اِنْ تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ وَاِنْ تَسْئــَـلُوْا عَنْہَا حِیْنَیُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَکُمْ عَفَا اللّٰہُ عَنْہَا وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۔} … اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ان چیزوں کے بارے میں سوال مت کرو جو اگر تمھارے لیے ظاہر کر دی جائیں تو تمھیں بری لگیں اور اگر تم ان کے بارے میں اس وقت سوال کرو گے جب قرآن نازل کیا جا رہا ہے تو تمھارے لیے ظاہر کر دی جائیں گی۔ اللہ نے ان سے در گزر فرمایا اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت برد بار ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8587]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبد الاعلي بن عامر الثعلبي ضعيف، ثم ھو منقطع ايضا، ابو البختري سعيد بن فيروز لم يسمع عليا أخرجه ابن ماجه: 2884، والترمذي: 814، 3055، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 905 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 905»
وضاحت: فوائد: … یہ اصولِ فقہ کا ایک مسلّمہ قانون ہے کہ اللہ تعالی اور اس کے رسول کا مطلق حکم، محکوم بہ کے تکرار پر دلالت نہیں کرتا، یعنی جب شریعت میں کسی قید کے بغیر کوئی حکم دیا جائے اور بندہ اس پر ایک دفعہ عمل کر لے، تو وہ اس حکم سے بریٔ الذمہ ہو جائے گا اور اس سے دوبارہ اس حکم کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔بالکل یہی مثال اس حدیث ِ مبارکہ میں کہ اللہ تعالی نے مطلق طور پر حج کو فرض قرار دیا، اس اطلاق کا تقاضا یہ ہے کہ جب آدمی ایک دفعہ حج کر لے گا تو وہ بریٔ الذمہ ہو جائے گا، لیکن جب صحابہ نے اس قانون پر اکتفا نہ کیا اور مزید پابندیوں کے بارے میں سوال کرنا شروع کر دیا تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ناگوار گزرا اور اللہ تعالیٰ اس قسم کے سوالات سے منع کر دیا۔ حدیث نمبر (۴۰۶۴) میں حج کی فرضیت بیان ہو چکی ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 8588
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَبِي قَالَ أَبُوكَ فُلَانٌ فَنَزَلَتْ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ [سورة المائدة: ١٠١] إِلَى تَمَامِ الْآيَةِ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا باپ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا باپ فلاں ہے۔ پس یہ آیت نازل ہوئی: {یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْئَـلُوْا عَنْ اَشْیَائَ اِنْ تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ وَاِنْ تَسْئَـلُوْا عَنْہَا حِیْنَیُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَکُمْ عَفَا اللّٰہُ عَنْہَا وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۔} … اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ان چیزوں کے بارے میں سوال مت کرو جو اگر تمھارے لیے ظاہر کر دی جائیں تو تمھیں بری لگیں اور اگر تم ان کے بارے میں اس وقت سوال کرو گے جب قرآن نازل کیا جا رہا ہے تو تمھارے لیے ظاہر کر دی جائیں گی۔ اللہ نے ان سے در گزر فرمایا اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت برد بار ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8588]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7295، ومسلم: 45، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13147 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13179»
وضاحت: فوائد: … سوال کی دو اقسام ہیں: (۱)وہ سوال جو ان امورِ دین سے متعلقہ ہو جو عام ضرورت ہونے کی وجہ سے توضیح طلب ہوتے ہیں، ایسا سوال کرناجائزہے، جیسے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اور دوسرے صحابہ کا شراب کے بارے میں سوال کرتے رہنا، یہاں تک اسے حرام قرار دیا گیا، کیونکہ ضرورت کا تقاضا یہ تھا کہ اسے حرام قرار دیا جائے۔ اسی طرح ظالم امراء کی اطاعت کرنے، کلالہ، جوا، حیض، شکار اور حرمت والے مہینوں میں قتال کرنے کے بارے میں سوال کرنا، کیونکہیہ ضروریات ہیں، سوال کی اسی قسم کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا: {فَاسْئَلُوْا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۔} … پس تم اہل علم سے سوال کرو، اگر تم خود نہیں جانتے۔ (سورۂ نحل: ۴۳)
(۲)وہ سوال جو محض تکلف اور تعنت کی بنا پر کیا جائے، مثلا دورِ نبوی میں ایسی چیز کی حلت و حرمت کے بارے میں کریدنا شروع کر دینا، جس کو صحابہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے استعمال کر رہے ہوں اور اس میں کوئی مفسدت بھی نہ پائی جاتی ہو، ایسی چیز کے بارے میں پوچھنا جو ابھی واقع نہ ہوئی ہو یا جس کی کوئی ضرورت نہ ہو۔ مثلا: عذاب ِ قبر جیسے غیبی امور کی حقیقت کے بارے میں سوال کرنا، اسی طرح قیامت کے بارے میں، روح کی حقیقت اور اس امت کی مدت کے بارے میں سوال کرنا یا کوئی ایسا سوال کرنا جس کا عمل سے کوئی تعلق نہ ہو۔ اس اور دیگر احادیث میں ایسے سوالات سے منع کیا گیا ہے۔ جو سوالات محض تکلف کی بناء پر کیے جاتے ہیں، ان کی واضح ترین مثال موسیٰ علیہ السلام کی قوم کا مطالبہ ہے، جب موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا کہ اللہ تعالی نے تم لوگوں کو گائے ذبح کرنے کا حکم دیا ہے، یہ حکم سن کر اگر وہ کوئی گائے بھی ذبح کر دیتے تو اللہ تعالی کی منشا پوری ہو جاتی، لیکن انھوں نے سب سے پہلے تو کہا: اے موسی! ہمارے ساتھ مذاق تو نہیں کر رہے۔ پھر جب ان کو اللہ تعالی کے حکم کا علم ہو گیا تو انھوں نے پہلا سوال یہ تھا: اللہ تعالی ہمارے لیے اس کی ماہیت بیان کرے، جب وہ بیان کر دی گئی تو ان کا دوسرا سوال یہ تھا کہ اس کا رنگ کیا ہونا چاہیے، جب رنگ کی وضاحت کر دی گئی تو وہ پھر کہنے لگے کہ اس گائے کی مزید ماہیت بیان ہونی چاہیے، اس قسم کی گائیں تو بہت زیادہ ہیں۔ اس طرح جب نبو اسرائیل نے مین میخ نکالنا اور طرح طرح کے سوالات کرنے شروع کر دئیے، تو اللہ تعالی بھی ان پر سختی کرتا چلا گیا، اس لیے دین میں تعمق اور سختی اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
حلال و حرام کے بارے میں شریعت نے بڑا آسان اور سادہ قانون پیش کیا ہے، سیدنا ابو الدردائ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا اَحَلَّ اللّٰہُ فِی کِتَابِہِ فَھُوَ حَلَالٌ، وَمَا حَرَّمَ فَھُوَ حَرَامٌ، وَمَا سَکَتَ عَنْہُ فَھُوَ عَفْوٌ، َفاقْبَلُوْا مِنَ اللّٰہِ عَافِیَّتَہٗ، فَاِنَّ اللّٰہ لَمْ یَکُنْیَنْسٰی شَیْئًا۔)) ثُمَّ تَلَا ھٰذِہِ الْآیَۃَ: {وَمَا کَانَ رَبُّکَ نَسِیًّا} … اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کو اپنی کتاب میں حلال کیا، وہ حلال ہیں۔ جن چیزوں کو حرام کیا، وہ حرام ہیں اور جن چیزوں سے خاموشی اختیار کی، وہ معاف ہیں۔ پس تم اللہ تعالی سے اس کی عافیت قبول کرو، کیونکہ اللہ تعالی کسی چیز کو نہیں بھولتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: اور تیرا رب بھولنے والا نہیں ہے۔
(مسند بزار)
ایک اہم سوال: حلال و حرام کا فیصلہ محض اللہ تعالی کی مرضی کے مطابق ہوتا ہے، تو پھر سوال کرنے والا مجرم کیوں ہے؟ جواب: حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: بلا شک و شبہ تقدیر میں حلال و حرام کے فیصلے ہو چکے ہیں اور ایسے آدمی کے سوال کی وجہ سے حرام ہونے والی چیز پہلے بھیحرام ہی ہوتی ہے، اس کو مجرم ٹھہرانے کی وجہ یہ ہے کہ اس نے محض تکلف اور تعنت کی بنا پر سوال کیا، حقیقت میں اس کو ایسا سوال کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ اس حدیث میں جرم سے مراد گناہ ہے۔
(تلخیص از فتح الباری: ۱۳/ ۳۳۳)
مزید وضاحت کے لیے دیکھیں حدیث نمبر (۲۶۴) والا باب۔
(۲)وہ سوال جو محض تکلف اور تعنت کی بنا پر کیا جائے، مثلا دورِ نبوی میں ایسی چیز کی حلت و حرمت کے بارے میں کریدنا شروع کر دینا، جس کو صحابہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے استعمال کر رہے ہوں اور اس میں کوئی مفسدت بھی نہ پائی جاتی ہو، ایسی چیز کے بارے میں پوچھنا جو ابھی واقع نہ ہوئی ہو یا جس کی کوئی ضرورت نہ ہو۔ مثلا: عذاب ِ قبر جیسے غیبی امور کی حقیقت کے بارے میں سوال کرنا، اسی طرح قیامت کے بارے میں، روح کی حقیقت اور اس امت کی مدت کے بارے میں سوال کرنا یا کوئی ایسا سوال کرنا جس کا عمل سے کوئی تعلق نہ ہو۔ اس اور دیگر احادیث میں ایسے سوالات سے منع کیا گیا ہے۔ جو سوالات محض تکلف کی بناء پر کیے جاتے ہیں، ان کی واضح ترین مثال موسیٰ علیہ السلام کی قوم کا مطالبہ ہے، جب موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا کہ اللہ تعالی نے تم لوگوں کو گائے ذبح کرنے کا حکم دیا ہے، یہ حکم سن کر اگر وہ کوئی گائے بھی ذبح کر دیتے تو اللہ تعالی کی منشا پوری ہو جاتی، لیکن انھوں نے سب سے پہلے تو کہا: اے موسی! ہمارے ساتھ مذاق تو نہیں کر رہے۔ پھر جب ان کو اللہ تعالی کے حکم کا علم ہو گیا تو انھوں نے پہلا سوال یہ تھا: اللہ تعالی ہمارے لیے اس کی ماہیت بیان کرے، جب وہ بیان کر دی گئی تو ان کا دوسرا سوال یہ تھا کہ اس کا رنگ کیا ہونا چاہیے، جب رنگ کی وضاحت کر دی گئی تو وہ پھر کہنے لگے کہ اس گائے کی مزید ماہیت بیان ہونی چاہیے، اس قسم کی گائیں تو بہت زیادہ ہیں۔ اس طرح جب نبو اسرائیل نے مین میخ نکالنا اور طرح طرح کے سوالات کرنے شروع کر دئیے، تو اللہ تعالی بھی ان پر سختی کرتا چلا گیا، اس لیے دین میں تعمق اور سختی اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
حلال و حرام کے بارے میں شریعت نے بڑا آسان اور سادہ قانون پیش کیا ہے، سیدنا ابو الدردائ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا اَحَلَّ اللّٰہُ فِی کِتَابِہِ فَھُوَ حَلَالٌ، وَمَا حَرَّمَ فَھُوَ حَرَامٌ، وَمَا سَکَتَ عَنْہُ فَھُوَ عَفْوٌ، َفاقْبَلُوْا مِنَ اللّٰہِ عَافِیَّتَہٗ، فَاِنَّ اللّٰہ لَمْ یَکُنْیَنْسٰی شَیْئًا۔)) ثُمَّ تَلَا ھٰذِہِ الْآیَۃَ: {وَمَا کَانَ رَبُّکَ نَسِیًّا} … اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کو اپنی کتاب میں حلال کیا، وہ حلال ہیں۔ جن چیزوں کو حرام کیا، وہ حرام ہیں اور جن چیزوں سے خاموشی اختیار کی، وہ معاف ہیں۔ پس تم اللہ تعالی سے اس کی عافیت قبول کرو، کیونکہ اللہ تعالی کسی چیز کو نہیں بھولتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: اور تیرا رب بھولنے والا نہیں ہے۔
(مسند بزار)
ایک اہم سوال: حلال و حرام کا فیصلہ محض اللہ تعالی کی مرضی کے مطابق ہوتا ہے، تو پھر سوال کرنے والا مجرم کیوں ہے؟ جواب: حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: بلا شک و شبہ تقدیر میں حلال و حرام کے فیصلے ہو چکے ہیں اور ایسے آدمی کے سوال کی وجہ سے حرام ہونے والی چیز پہلے بھیحرام ہی ہوتی ہے، اس کو مجرم ٹھہرانے کی وجہ یہ ہے کہ اس نے محض تکلف اور تعنت کی بنا پر سوال کیا، حقیقت میں اس کو ایسا سوال کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ اس حدیث میں جرم سے مراد گناہ ہے۔
(تلخیص از فتح الباری: ۱۳/ ۳۳۳)
مزید وضاحت کے لیے دیکھیں حدیث نمبر (۲۶۴) والا باب۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 7295
24. بَابُ: «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ»
{یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا عَلَیْکُمْ اَنْفُسَکُمْ لَا یَضُرُّکُمْ مَنْ ضَلَّ اِذَا اھْتَدَیْتُمْ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8589
عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَجُلٌ قُتِلَ مِنْهُمْ بِأَوْطَاسٍ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا عَامِرٍ أَلَا غَيَّرْتَ فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ [سورة المائدة: ١٠٥] فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ أَيْنَ ذَهَبْتُمْ إِنَّمَا هِيَ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ مِنَ الْكُفَّارِ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ
۔ سیدنا ابو عامر اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان میں سے ایک آدمی اوطاس کی جنگ میں شہید ہو گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: اے ابو عامر! تو نے اس برائی کو کیوں نہیں بدلا (یعنی اس سے روکا کیوں نہیں)؟ آگے سے اس نے یہ آیت پڑھی: {یَا أَ یُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا عَلَیْکُمْ أَ نْفُسَکُمْ لَا یَضُرُّکُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اہْتَدَیْتُمْ} … اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم پر اپنی جانوں کا بچاؤ لازم ہے، تمھیں وہ شخص نقصان نہیں پہنچائے گا جو گمراہ ہے، جب تم ہدایت پا چکے۔ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غصہ آ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کہاں چلے گئے ہو، اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اے ایماندارو! جب تم ہدایت یافتہ ہو جاؤ تو گمراہ ہونے والے کافر تمہیں نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8589]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، حديث علي بن مدرك عن الصحابة منقطع۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 22/ 799، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17165 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17297»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
حدیث نمبر: 8590
عَنْ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَامَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ هَذِهِ الْآيَةَ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ [سورة المائدة: ١٠٥] وَإِنَّا سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوُا الْمُنْكَرَ فَلَمْ يُنْكِرُوهُ أَوْشَكَ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ بِعِقَابِهِ قَالَ وَسَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ إِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ فَإِنَّ الْكَذِبَ مُجَانِبٌ لِلْإِيمَانِ
۔ قیس سے روایت ہے کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا بیان کرنے کے بعد کہا: اے لوگو! تم یہ آیت پڑھتے ہو: {یَا أَ یُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا عَلَیْکُمْ أَ نْفُسَکُمْ لَا یَضُرُّکُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اہْتَدَیْتُمْ} … اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم پر اپنی جانوں کا بچاؤ لازم ہے، تمھیں وہ شخص نقصان نہیں پہنچائے گا جو گمراہ ہے، جب تم ہدایت پا چکے۔ جبکہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہفرماتے ہوئے سنا کہ جب لوگ جب برائی کو دیکھیں اور اسے تبدیل نہیں کریں گے تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو عام عذاب میں مبتلا کر دے۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: جھوٹ سے بچو، کیونکہ جھوٹ ایمان سے مختلف چیز ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8590]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابوداود: 4338، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1»
وضاحت: فوائد: … مسند احمد کی حدیث نمبر (۱۶) میں آیت کے مطابق یہ الفاظ ہیں: وَاِنَّکُمْ تَضَعُوْنَھَا عَلٰی غَیْرِ مَوْضِعِھَا۔ (تم اس آیت کو اس کے غیر محل پر چسپاں کر رہے ہو)۔ دراصل سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ لوگ اس آیت کا غلط مفہوم سمجھ رہے ہیں۔ حافظ ابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: اللہ تعالیٰ اس آیت میں اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ خود اپنی اصلاح کریں اور اپنی طاقت کے مطابق نیکیوں میں مشغول رہیں، جب وہ خود ٹھیک ٹھاک ہو جائیں گے تو برے لوگوں کا ان پر کوئی بوجھ نہیں پڑے گا، خواہ وہ رشتے دار اور قریبی ہوں، خواہ اجنبی اور دور کے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں: مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عامل ہو جائے، برائیوں سے بچ جائے تو اس پر گنہگار لوگوں کے گناہ کا کوئی بوجھ نہیں ہو گا۔ مقاتل سے مروی ہے کہ ہر عامل کو اس کے عمل کا بدلہ ملتا ہے، بروں کو سزا اور اچھوں کو جزا، اس آیت سے یہ نہ سمجھا جائے کہ اچھی بات کا حکم نہ دیا جائے اور بری باتوں سے منع نہ کیا جائے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين ۔ أخرجه ابوداود: 4338
25. سُوْرَةُ الْأَنْعَامِ
{اِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَاِنَّہُمْ عِبَادُکَ …} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8591
حَدَّثَتْنِي جَسْرَةُ بِنْتُ دَجَاجَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا انْطَلَقَتْ مُعْتَمِرَةً فَانْتَهَتْ إِلَى الرَّبَذَةِ فَسَمِعَتْ أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي فِي صَلَاةِ الْعِشَاءِ فَصَلَّى بِالْقَوْمِ ثُمَّ تَخَلَّفَ أَصْحَابٌ لَهُ يُصَلُّونَ فَلَمَّا رَأَى قِيَامَهُمْ وَتَخَلُّفَهُمْ انْصَرَفَ إِلَى رَحْلِهِ فَلَمَّا رَأَى الْقَوْمَ قَدْ أَخْلَوُا الْمَكَانَ رَجَعَ إِلَى مَكَانِهِ فَصَلَّى فَجِئْتُ فَقُمْتُ خَلْفَهُ فَأَوْمَأَ إِلَيَّ بِيَمِينِهِ فَقُمْتُ عَنْ يَمِينِهِ ثُمَّ جَاءَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَامَ خَلْفِي وَخَلْفَهُ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ بِشِمَالِهِ فَقَامَ عَنْ شِمَالِهِ فَقُمْنَا ثَلَاثَةً يُصَلِّي كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا بِنَفْسِهِ وَيَتْلُو مِنَ الْقُرْآنِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَتْلُوَ فَقَامَ بِآيَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ يُرَدِّدُهَا حَتَّى صَلَّى الْغَدَاةَ فَبَعْدَ أَنْ أَصْبَحْنَا أَوْمَأْتُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنْ أَسْأَلَهُ مَا أَرَادَ إِلَى مَا صَنَعَ الْبَارِحَةَ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ بِيَدِهِ لَا أَسْأَلُهُ عَنْ شَيْءٍ حَتَّى يُحَدِّثَ إِلَيَّ فَقُلْتُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي قُمْتَ بِآيَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ وَمَعَكَ الْقُرْآنُ لَوْ فَعَلَ هَذَا بَعْضُنَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ قَالَ دَعَوْتُ لِأُمَّتِي قَالَ فَمَاذَا أُجِبْتَ أَوْ مَاذَا رُدَّ عَلَيْكَ قَالَ أُجِبْتُ بِالَّذِي لَوِ اطَّلَعَ عَلَيْهِ كَثِيرٌ مِنْهُمْ طَلْعَةً تَرَكُوا الصَّلَاةَ قَالَ أَفَلَا أُبَشِّرُ النَّاسَ قَالَ بَلَى فَانْطَلَقْتُ مُعْنِقًا قَرِيبًا مِنْ قَذْفَةٍ بِحَجَرٍ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ إِنْ تَبْعَثْ إِلَى النَّاسِ بِهَذَا نَكَلُوا عَنِ الْعِبَادَةِ فَنَادَى أَنِ ارْجِعْ فَرَجَعَ وَتِلْكَ الْآيَةُ إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [سورة المائدة: ١١٨]
۔ جسرہ بنت دجاجہ سے مروی ہے کہ وہ عمرہ کے لئے گئی، جب راستے میں ربذہ مقام پر پہنچی، تو سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا: انہوں نے کہا: ایک رات عشاء کی نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیام کیا اور لوگوں کو یہ نماز پڑھائی، جب فارغ ہوئے تو صحابہ کرام پیچھے ہٹ کر نماز پڑھنے لگے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ وہ نماز پڑھنے کے لئے پیچھے ہٹ گئے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر چلے گئے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ جگہ لوگوں سے خالی ہو گئی ہے تو آپ اپنی جگہ پر پھر لوٹ آئے اور نماز پڑھنا شروع کر دی۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کھڑا ہوگیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دائیں جانب کھڑا ہونے کا اشارہ کیا، پس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دائیں جانب کھڑا ہو گیا، اتنے میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ آ گئے اور وہ ہم دونوں کے پیچھے کھڑے ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو بائیں جانب کھڑا ہونے کا اشارہ کیا، سو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بائیں جانب کھڑے ہوگئے، ہم تینوں اس انداز پر نماز پڑھتے رہے کہ ہر کوئی اپنی اپنی نماز پڑھ رہا تھا اور قرآن مجید میں سے حسب منشا تلاوت کرتا رہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآن مجید کی صرف ایک آیت کے ساتھ قیام کیا، صبح کی نماز تک اسے ہی دہراتے رہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ فجر سے فارغ ہو گئے تو میں (ابو ذر) نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اشارۃً کہا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گزشتہ رات کے عمل کی بابت پوچھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کیا مقصد تھا کہ ایک آیت ہی دوہراتے رہے، لیکن انہوں نے کہا: میں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نہیں پوچھوں گا، الا یہ کہ آپ مجھ سے گفتگو کریں، پھر میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! آپ نے ایک ہی آیت میں ساری رات گزار دی، جبکہ سارا قرآن مجید آپ کو یاد ہے، اگر ہم سے کوئی ایسا کرتا تو ہم اس سے تو ناراض ہو جاتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنی امت کے لئے دعا کی ہے۔ میں نے کہا: تو پھر آپ کو اس دعا کا کیا جواب دیاگیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس کا ایسا جواب دیا گیا ہے کہ اگر زیادہ تر لوگوں کو اس کا پتہ چل جائے تو وہ اس پر تکیہ کر کے نماز بھی چھوڑ دیں گے۔ میں نے کہا: کیا میں لوگوں کو اس کی بشارت نہ دے دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں، ضرور دو۔ میں تیز چلا اور ابھی تک ایک پتھر کی پھینک پر تھا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے ابوذر کو لوگوں کی طرف بھیج دیا ہے کہ وہ ان کو خوشخبری دیں، اس سے یہ لوگ عبادت میں سست روی اختیار کریں گے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے آواز دی کہ ابو ذر واپس آ جاؤ، سو میں واپس آ گیا۔ وہ آیت یہ تھی: {إِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَإِنَّہُمْ عِبَادُکَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَہُمْ فَإِنَّکَ أَ نْتَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ} … [الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8591]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابوداود: 4338، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21827»
وضاحت: فوائد: … دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے روزِ قیامت اپنی امت کے لیے سفارش کرنے کا مطالبہ کیا تھا، جیسا کہ درج ذیل حدیث کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے: سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: صَلَّی رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لَیْلَۃً فَقَرَأَ بِآیَۃٍ حَتَّی أَ صْبَحَ یَرْکَعُ بِہَا وَیَسْجُدُ بِہَا {إِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَإِنَّہُمْ عِبَادُکَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَہُمْ فَإِنَّکَ أَ نْتَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ۔} فَلَمَّا أَ صْبَحَ قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! مَا زِلْتَ تَقْرَأُ ہَذِہِ الْآیَۃَ حَتَّیأَ صْبَحْتَ تَرْکَعُ بِہَا وَتَسْجُدُ بِہَا، قَالَ: ((إِنِّی سَأَ لْتُ رَبِّی عَزَّ وَجَلَّ الشَّفَاعَۃَ لِأُمَّتِی فَأَ عْطَانِیہَا وَہِیَ نَائِلَۃٌ إِنْ شَاء َ اللّٰہُ لِمَنْ لَا یُشْرِکُ بِاللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ شَیْئًا۔)) … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رات کو نماز پڑھی اور صبح تک ایکہی آیت کی تلاوت کے ساتھ رکوع و سجود کا سلسلہ جاری رکھا، وہ آیتیہ تھی: {إِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَإِنَّہُمْ عِبَادُکَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَہُمْ فَإِنَّکَ أَ نْتَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ۔}، جب صبح ہوئی تو میں نے کہا: اے للہ کے رسول! آپ صبح تک ایک ہی آیت پڑھتے رہے، اسی کے ساتھ رکوع و سجود کرتے رہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے ربّ سے اپنی امت کے حق میں سفارش کرنے کا سوال کیا، پس اللہ تعالی نے میرا مطالبہ پورا کر دیا، اب ان شاء اللہ ہر وہ آدمی اس سفارش کا مصداق بنے گا، جو اللہ تعالی کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراتا۔ (مسند احمد: ۵/۱۴۹)
اس آیت میں اللہ تعالی کے سامنے بندوں کی عاجزی و بے بسی کا اظہار بھی ہے اور اللہ کی عظمت و جلالت اور اس کے قادر مطلوق اور مختار کل ہونے کا بیان بھی اور پھر ان دونوں باتوں کے حوالے سے عفو ومغفرت کی التجا بھی، سبحا ن اللہ! کیسی عجیب و بلیغ آیت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یا اللہ! ان کا ہر معاملہ تیری مشیت کے سپرد ہے، اس لیے کہ تو جو چاہتا ہے، کر گزرتا ہے، تجھ سے کوئی باز پرس کرنے والا بھی نہیں ہے، جبکہ تو ہر ایک سے پوچھ گچھ کر سکتا ہے۔
دراصل اس آیت کے ساتھ عیسیٰ رضی اللہ عنہ روزِ قیامت جواب دیں گے، اس آیت کے درج ذیل سیاق و سباق سے اس کے صحیح مفہوم کا ادراک ہوتا ہیـ:
{وَاِذْ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ ء َاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَاُمِّیَ اِلٰہَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ قَالَ سُبْحٰنَکَ مَا یَکُوْنُ لِیْٓ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَیْسَ لِیْ ٓ بِحَقٍّ اِنْ کُنْتُ قُلْتُہ فَقَدْ عَلِمْتَہ تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَلَآ اَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِکَ اِنَّکَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِo مَا قُلْتُ لَہُمْ اِلَّا مَآ اَمَرْتَنِیْ بِہٖٓاَنِاعْبُدُوا اللّٰہَ رَبِّیْ وَرَبَّکُمْ وَکُنْتُ عَلَیْہِمْ شَہِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْہِمْ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْہِمْ واَنْتَ عَلٰی کُلِّ شَیْء ٍ شَہِیْدٌ۔ اِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَاِنَّہُمْ عِبَادُکَ وَاِنْ تَغْفِرْ لَہُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُo} (سورۂ مائدہ: ۱۱۶۔ ۱۱۸) اور جب اللہ کہے گا اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے سوا دو معبود بنا لو؟ وہ کہے گا تو پاک ہے، میرے لیے بنتا ہی نہیں کہ میں وہ بات کہوں جس کا مجھے کوئی حق نہیں، اگر میں نے یہ بات کہی تھی تو یقینا تو نے اسے جان لیا، تو جانتا ہے جو میرے نفس میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے نفس میں ہے، یقینا تو ہی سب چھپی باتوں کو بہت خوب جاننے والا ہے۔ میں نے انھیں اس کے سوا کچھ نہیں کہا جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا کہ اللہ کی عبادت کرو، جو میرا رب اور تمھارا رب ہے اور میں ان پر گواہ تھا جب تک ان میں رہا، پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان پر نگران تھا اور تو ہر چیز پر گواہ ہے۔اگر تو انھیں عذاب دے تو بے شک وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انھیں بخش دے تو بے شک تو ہی سب پر غالب کمال حکمت والا ہے۔
اس آیت میں اللہ تعالی کے سامنے بندوں کی عاجزی و بے بسی کا اظہار بھی ہے اور اللہ کی عظمت و جلالت اور اس کے قادر مطلوق اور مختار کل ہونے کا بیان بھی اور پھر ان دونوں باتوں کے حوالے سے عفو ومغفرت کی التجا بھی، سبحا ن اللہ! کیسی عجیب و بلیغ آیت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یا اللہ! ان کا ہر معاملہ تیری مشیت کے سپرد ہے، اس لیے کہ تو جو چاہتا ہے، کر گزرتا ہے، تجھ سے کوئی باز پرس کرنے والا بھی نہیں ہے، جبکہ تو ہر ایک سے پوچھ گچھ کر سکتا ہے۔
دراصل اس آیت کے ساتھ عیسیٰ رضی اللہ عنہ روزِ قیامت جواب دیں گے، اس آیت کے درج ذیل سیاق و سباق سے اس کے صحیح مفہوم کا ادراک ہوتا ہیـ:
{وَاِذْ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ ء َاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَاُمِّیَ اِلٰہَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ قَالَ سُبْحٰنَکَ مَا یَکُوْنُ لِیْٓ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَیْسَ لِیْ ٓ بِحَقٍّ اِنْ کُنْتُ قُلْتُہ فَقَدْ عَلِمْتَہ تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَلَآ اَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِکَ اِنَّکَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِo مَا قُلْتُ لَہُمْ اِلَّا مَآ اَمَرْتَنِیْ بِہٖٓاَنِاعْبُدُوا اللّٰہَ رَبِّیْ وَرَبَّکُمْ وَکُنْتُ عَلَیْہِمْ شَہِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْہِمْ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْہِمْ واَنْتَ عَلٰی کُلِّ شَیْء ٍ شَہِیْدٌ۔ اِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَاِنَّہُمْ عِبَادُکَ وَاِنْ تَغْفِرْ لَہُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُo} (سورۂ مائدہ: ۱۱۶۔ ۱۱۸) اور جب اللہ کہے گا اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے سوا دو معبود بنا لو؟ وہ کہے گا تو پاک ہے، میرے لیے بنتا ہی نہیں کہ میں وہ بات کہوں جس کا مجھے کوئی حق نہیں، اگر میں نے یہ بات کہی تھی تو یقینا تو نے اسے جان لیا، تو جانتا ہے جو میرے نفس میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے نفس میں ہے، یقینا تو ہی سب چھپی باتوں کو بہت خوب جاننے والا ہے۔ میں نے انھیں اس کے سوا کچھ نہیں کہا جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا کہ اللہ کی عبادت کرو، جو میرا رب اور تمھارا رب ہے اور میں ان پر گواہ تھا جب تک ان میں رہا، پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان پر نگران تھا اور تو ہر چیز پر گواہ ہے۔اگر تو انھیں عذاب دے تو بے شک وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انھیں بخش دے تو بے شک تو ہی سب پر غالب کمال حکمت والا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين ۔ أخرجه ابوداود: 4338
26. باب: «إِنْ تُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ۔۔۔۔»
سورۃ الانعام {وَمَا مِنْ دَابَّۃٍ فِی الْاَرْضِ وَلَا طَائِرٍ یَطِیْرُ بِجَنَاحَیْہٖ …}کی تفسیر
حدیث نمبر: 8592
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ ابْنَيْ بُسْرٍ السُّلَمِيَّيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ دَخَلْتُ عَلَيْهِمَا فَقُلْتُ يَرْحَمُكُمَا اللَّهُ الرَّجُلُ مِنَّا يَرْكَبُ دَابَّتَهُ فَيَضْرِبُهَا بِالسَّوْطِ وَيَكْفَحُهَا بِاللِّجَامِ هَلْ سَمِعْتُمَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ شَيْئًا قَالَا لَا مَا سَمِعْنَا مِنْهُ فِي ذَلِكَ شَيْئًا فَإِذَا امْرَأَةٌ قَدْ نَادَتْ مِنْ جَوْفِ الْبَيْتِ أَيُّهَا السَّائِلُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ [سورة الأنعام: ٣٨] فَقَالَا هَذِهِ أُخْتُنَا وَهِيَ أَكْبَرُ مِنَّا وَقَدْ أَدْرَكَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ عبید اللہ بن زیاد سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بسر کے دو بیٹوں کے پاس گیا اور ان سے کہا: اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے، اس بارے میں بتائیں کہ آدمی اپنی سواری پر سوار ہوتا ہے، کوڑے کے ساتھ اسے مارتا ہے، اس کی لگام کھینچتا ہے، کیا تم نے اس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی حدیث سنی ہے؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، ہم نے اس بارے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کچھ نہیں سنا، اچانک گھر کے اندر سے ایک خاتون نے آواز دی اور کہا: اے سوال کرنے والے! بیشک اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَمَا مِنْ دَابَّۃٍ فِی الْأَ رْضِ وَلَا طَائِرٍ یَطِیرُ بِجَنَاحَیْہِ إِلَّا أُمَمٌ أَ مْثَالُکُمْ مَا فَرَّطْنَا فِی الْکِتَابِ مِنْ شَیْئٍ} … اور زمین میں نہ کوئی چلنے والا ہے اور نہ کوئی اڑنے والا، جو اپنے دو پروں سے اڑتا ہے مگر تمھاری طرح امتیں ہیں۔ ان دو بھائیوں نے کہا: یہ ہماری بہن ہے، ہم سے بڑی ہے، اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پایا ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8592]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17685 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17837»
وضاحت: فوائد: … {إِلَّا أُمَمٌ أَ مْثَالُکُمْ}اس جملے سے ثابت ہوا کہ انسان کے لیے جائز نہیں کہ وہ دوسری مخلوقات کو اذیت دے۔اس مماثلت سے کیا مراد ہے؟ چند ایک وجوہات درج ذیل ہیں۔ حیوانات کا بندوں کی طرح اللہ تعالی کی معرفت رکھنا اور اس کی تسبیح بیان کرنا۔ بندوں کی طرح ان کا آپس میں مانوس ہونا، خاص طور پر ہم جنسوں کا۔
روزی تلاش کرنا اور ہلاکت گاہوں سے بچنا۔ پیدا ہونے اور اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے بندوں کی طرح ایک مدبِّر کا محتاج ہونا۔ اللہ تعالی جیسے بندوں کو روزی دیتا ہے، ایسے ہی اُن کو روزی عطا کرتا ہے۔
روزی تلاش کرنا اور ہلاکت گاہوں سے بچنا۔ پیدا ہونے اور اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے بندوں کی طرح ایک مدبِّر کا محتاج ہونا۔ اللہ تعالی جیسے بندوں کو روزی دیتا ہے، ایسے ہی اُن کو روزی عطا کرتا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
27. بَابُ: «وَانْذِرُ بِهِ الَّذِينَ يَخَافُونَ أَنْ يُحْشَرُوا إِلَى رَبِّهِمْ۔۔۔۔۔ إِلَي قَوْلِهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالظَّالِمِينَ»
{وَاَنْذِرْ بِہِ الَّذِیْنَیَخَافُوْنَ اَنْ یُحْشَرُوْا اِلٰی رَبِّہِمْ … اِلٰی قَوْلِہٖ … ¤وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِالظَّالِمِیْنَ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8593
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَرَّ الْمَلَأُ مِنْ قُرَيْشٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ خَبَّابٌ وَصُهَيْبٌ وَبِلَالٌ وَعَمَّارٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَقَالُوا يَا مُحَمَّدُ أَرَضِيتَ بِهَؤُلَاءِ فَنَزَلَ فِيهِمُ الْقُرْآنُ وَأَنْذِرْ بِهِ الَّذِينَ يَخَافُونَ أَنْ يُحْشَرُوا إِلَى رَبِّهِمْ إِلَى قَوْلِهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالظَّالِمِينَ [سورة الأنعام: ٥١-٥٨]
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قریش کی ایک جماعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزری، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سیدنا خباب، سیدنا صہیب، سیدنا بلال اور سیدنا عمار موجود تھے، ان قریشیوں نے کہا: اے محمد! کیا آپ ان فقراء پر راضی ہو گئے ہیں (اور ان کو اپنی مجلس میں بٹھایا ہوا ہے)، اس پر ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: {وَاَنْذِرْ بِہِ الَّذِیْنَیَخَافُوْنَ اَنْ یُحْشَرُوْا اِلٰی رَبِّہِمْ … اِلٰی قَوْلِہٖ … وَاللّٰہُاَعْلَمُبِالظَّالِمِیْنَ۔} [الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8593]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 10520، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3985 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3985»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالی کے ہاں حسب و نسب، حسن وجمال، مال و دولت اور دولت و سطوت کی کوئی اہمیت نہیں، اُس کے ہاں ایمان اور عمل صالح کی اہمیت ہے، اگر وہ سیدنا خباب اور سیدنا صہیب رضی اللہ عنہما جیسے معاشرے کے کم اہمیت افراد میں ہوں گے، تو وہی اللہ کے محبوب ِ ہوں گے۔
یہ سورۂ انعام کی درج ذیل آٹھ آیات ہیں: {وَاَنْذِرْ بِہِ الَّذِیْنَیَخَافُوْنَ اَنْ یُّحْشَرُوْٓا اِلٰی رَبِّہِمْ لَیْسَ لَہُمْ مِّنْ دُوْنِہٖوَلِیٌّ وَّلَا شَفِیْعٌ لَّعَلَّہُمْ یَتَّقُوْنَ۔ وَلَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَیَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ بِالْغَدٰوۃِوَالْعَشِیِّیُرِیْدُوْنَ وَجْہَہٗمَاعَلَیْکَ مِنْ حِسَابِہِمْ مِّنْ شَیْء ٍ وَّمَا مِنْ حِسَابِکَ عَلَیْہِمْ مِّنْ شَیْء ٍ فَتَطْرُدَہُمْ فَتَکُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ۔ وَکَذٰلِکَ فَتَنَّا بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْٓا اَہٰٓؤُلَائِ مَنَّ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنْ بَیْنِنَا اَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰکِرِیْنَ۔ وَاِذَا جَائَ کَ الَّذِیْنَیُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ کَتَبَ رَبُّکُمْ عَلٰی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ اَنَّہٗمَنْعَمِلَمِنْکُمْسُوْئًابِجَہَالَۃٍ ثُمَّ تَابَ مِنْ بَعْدِہٖوَاَصْلَحَفَاَنَّہغَفُوْرٌرَّحِیْمٌ۔ وَکَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَلِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ۔ قُلْ اِنِّیْ نُہِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ قُلْ لَّآ اَتَّبِعُ اَہْوَائَ کُمْ قَدْ ضَلَلْتُ اِذًا وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُہْتَدِیْنَ۔ قُلْ اِنِّیْ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَکَذَّبْتُمْ بِہٖمَاعِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِہٖ اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ یَقُصُّ الْحَقَّ وَہُوَ خَیْرُالْفٰصِلِیْنَ۔ قُلْ لَّوْ اَنَّ عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِہٖلَقُضِیَ الْاَمْرُ بَیْنِیْ وَبَیْنَکُمْ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِالظّٰلِمِیْنَ۔} (الأنعام: ۵۱۔ ۵۸)
اور اس کے ساتھ ان لوگوں کو ڈرا جو خوف رکھتے ہیں کہ اپنے رب کی طرف (لے جا کر) اکٹھے کیے جائیں گے، ان کے لیے اس کے سوا نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی سفارش کرنے والا، تاکہ وہ بچ جائیں۔ اور ان لوگوں کو دور نہ ہٹا جو اپنے رب کو پہلے اور پچھلے پہر پکارتے ہیں، اس کا چہرہ چاہتے ہیں، تجھ پر ان کے حساب میں سے کچھ نہیں اور نہ تیرے حساب میں سے ان پر کچھ ہے کہ تو انھیں دور ہٹا دے، پس تو ظالموں میں سے ہو جائے۔ اور اسی طرح ہم نے ان میں سے بعض کی بعض کے ساتھ آزمائش کی ہے، تاکہ وہ کہیں کیایہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے ہمارے درمیان میں سے احسان فرمایا ہے؟ کیا اللہ شکر کرنے والوں کو زیادہ جاننے والا نہیں؟ اور جب تیرے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں تو کہہ سلام ہے تم پر، تمھارے رب نے رحم کرنا اپنے آپ پر لازم کر لیا ہے کہ بے شک حقیقتیہ ہے کہ تم میں سے جو شخص جہالت سے کوئی برائی کرے، پھر اس کے بعد توبہ کرے اور اصلاح کرلے تو یقینا وہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ اور اسی طرح ہم آیات کو کھول کر بیان کرتے ہیں اور تاکہ مجرموں کا راستہ خوب واضح ہوجائے۔ کہہ دے بے شک مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں ان کی عبادت کروں جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، کہہ دے میں تمھاری خواہشوں کے پیچھے نہیں چلتا، یقینا میںاس وقت گمراہ ہوگیا اور میں ہدایت پانے والوں میں سے نہیں ہوں۔ کہہ دے بے شک میں اپنے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل پر ہوں اور تم نے اسے جھٹلا دیا ہے، میرے پاس وہ چیز نہیں ہے جسے تم جلدی مانگ رہے ہو، فیصلہ اللہ کے سوا کسی کے اختیار میں نہیں، وہ حق بیان کرتا ہے اور وہی فیصلہ کرنے والوں میں سب سے بہتر ہے۔ کہہ دے اگر واقعی میرے پاس وہ چیز ہوتی جو تم جلدی مانگ رہے ہو تو میرے درمیان اور تمھارے درمیان معاملے کا ضرور فیصلہ کر دیا جاتا اور اللہ ظالموں کو زیادہ جاننے والا ہے۔
یہ سورۂ انعام کی درج ذیل آٹھ آیات ہیں: {وَاَنْذِرْ بِہِ الَّذِیْنَیَخَافُوْنَ اَنْ یُّحْشَرُوْٓا اِلٰی رَبِّہِمْ لَیْسَ لَہُمْ مِّنْ دُوْنِہٖوَلِیٌّ وَّلَا شَفِیْعٌ لَّعَلَّہُمْ یَتَّقُوْنَ۔ وَلَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَیَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ بِالْغَدٰوۃِوَالْعَشِیِّیُرِیْدُوْنَ وَجْہَہٗمَاعَلَیْکَ مِنْ حِسَابِہِمْ مِّنْ شَیْء ٍ وَّمَا مِنْ حِسَابِکَ عَلَیْہِمْ مِّنْ شَیْء ٍ فَتَطْرُدَہُمْ فَتَکُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ۔ وَکَذٰلِکَ فَتَنَّا بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْٓا اَہٰٓؤُلَائِ مَنَّ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنْ بَیْنِنَا اَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰکِرِیْنَ۔ وَاِذَا جَائَ کَ الَّذِیْنَیُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ کَتَبَ رَبُّکُمْ عَلٰی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ اَنَّہٗمَنْعَمِلَمِنْکُمْسُوْئًابِجَہَالَۃٍ ثُمَّ تَابَ مِنْ بَعْدِہٖوَاَصْلَحَفَاَنَّہغَفُوْرٌرَّحِیْمٌ۔ وَکَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَلِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ۔ قُلْ اِنِّیْ نُہِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ قُلْ لَّآ اَتَّبِعُ اَہْوَائَ کُمْ قَدْ ضَلَلْتُ اِذًا وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُہْتَدِیْنَ۔ قُلْ اِنِّیْ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَکَذَّبْتُمْ بِہٖمَاعِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِہٖ اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ یَقُصُّ الْحَقَّ وَہُوَ خَیْرُالْفٰصِلِیْنَ۔ قُلْ لَّوْ اَنَّ عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِہٖلَقُضِیَ الْاَمْرُ بَیْنِیْ وَبَیْنَکُمْ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِالظّٰلِمِیْنَ۔} (الأنعام: ۵۱۔ ۵۸)
اور اس کے ساتھ ان لوگوں کو ڈرا جو خوف رکھتے ہیں کہ اپنے رب کی طرف (لے جا کر) اکٹھے کیے جائیں گے، ان کے لیے اس کے سوا نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی سفارش کرنے والا، تاکہ وہ بچ جائیں۔ اور ان لوگوں کو دور نہ ہٹا جو اپنے رب کو پہلے اور پچھلے پہر پکارتے ہیں، اس کا چہرہ چاہتے ہیں، تجھ پر ان کے حساب میں سے کچھ نہیں اور نہ تیرے حساب میں سے ان پر کچھ ہے کہ تو انھیں دور ہٹا دے، پس تو ظالموں میں سے ہو جائے۔ اور اسی طرح ہم نے ان میں سے بعض کی بعض کے ساتھ آزمائش کی ہے، تاکہ وہ کہیں کیایہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے ہمارے درمیان میں سے احسان فرمایا ہے؟ کیا اللہ شکر کرنے والوں کو زیادہ جاننے والا نہیں؟ اور جب تیرے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں تو کہہ سلام ہے تم پر، تمھارے رب نے رحم کرنا اپنے آپ پر لازم کر لیا ہے کہ بے شک حقیقتیہ ہے کہ تم میں سے جو شخص جہالت سے کوئی برائی کرے، پھر اس کے بعد توبہ کرے اور اصلاح کرلے تو یقینا وہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ اور اسی طرح ہم آیات کو کھول کر بیان کرتے ہیں اور تاکہ مجرموں کا راستہ خوب واضح ہوجائے۔ کہہ دے بے شک مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں ان کی عبادت کروں جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، کہہ دے میں تمھاری خواہشوں کے پیچھے نہیں چلتا، یقینا میںاس وقت گمراہ ہوگیا اور میں ہدایت پانے والوں میں سے نہیں ہوں۔ کہہ دے بے شک میں اپنے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل پر ہوں اور تم نے اسے جھٹلا دیا ہے، میرے پاس وہ چیز نہیں ہے جسے تم جلدی مانگ رہے ہو، فیصلہ اللہ کے سوا کسی کے اختیار میں نہیں، وہ حق بیان کرتا ہے اور وہی فیصلہ کرنے والوں میں سب سے بہتر ہے۔ کہہ دے اگر واقعی میرے پاس وہ چیز ہوتی جو تم جلدی مانگ رہے ہو تو میرے درمیان اور تمھارے درمیان معاملے کا ضرور فیصلہ کر دیا جاتا اور اللہ ظالموں کو زیادہ جاننے والا ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن ۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 10520
28. بَابُ: «قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ»
{قُلْ ھُوَ الْقَادِرُ عَلٰی اَنْ یَبْعَثَ عَلَیْکُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِکُمْ اَوْ مِنْ¤تَحْتِ اَرْجُلِکُمْ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8594
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ [سورة الأنعام: ٦٥] فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنَّهَا كَائِنَةٌ وَلَمْ يَأْتِ تَأْوِيلُهَا بَعْدُ
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس آیت کے بارے میں پوچھا گیا: {ہُوَ الْقَادِرُ عَلٰی أَ نْ یَبْعَثَ عَلَیْکُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِکُمْ أَ وْ مِنْ تَحْتِ أَ رْجُلِکُمْ} … کہہ دے وہی اس پر قادر ہے کہ تم پر تمھارے اوپر سے عذاب بھیج دے، یا تمھارے پاؤں کے نیچے سے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار یہ ہونے والا ہے، لیکن ابھی تک اس کی تاویل پوری نہیں ہوئی (یعنی اس کی مصداق صورت سامنے نہیں آئی)۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8594]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابي بكر بن ابي مريم، ولانقطاعه، فان رواية راشد بن سعد عن سعد بن ابي وقاص مرسلة۔ أخرجه الترمذي: 3066، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1466 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1466»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف ابي بكر بن ابي مريم
حدیث نمبر: 8595
عَنْ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمَّا نَزَلَتْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَعُوذُ بِوَجْهِكَ فَلَمَّا نَزَلَتْ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَعُوذُ بِوَجْهِكَ فَلَمَّا نَزَلَتْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ [سورة الأنعام: ٦٥] قَالَ هَذِهِ أَهْوَنُ وَأَيْسَرُ
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: {ہُوَ الْقَادِرُ عَلٰی أَ نْ یَبْعَثَ عَلَیْکُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِکُمْ} … کہہ دے وہی اس پر قادر ہے کہ تم پر تمھارے اوپر سے عذاب بھیج دے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میں تیری چہرے کی پناہ میں آتا ہوں۔ جب یہ حصہ نازل ہوا: {أَ وْ مِنْ تَحْتِ أَ رْجُلِکُمْ} … یا تمھارے پاؤں کے نیچے سے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میں تیرے چہرے کی پناہ طلب کرتا ہوں۔ اور جب یہ حصہ نازل ہوا: {أَ وْ یَلْبِسَکُمْ شِیَعًا وَیُذِیقَ بَعْضَکُمْ بَأْسَ بَعْضٍ} … یا تمھیں مختلف گروہ بنا کر گتھم گتھا کر دے اور تمھارے بعض کو بعض کی لڑائی (کا مزہ) چکھائے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ زیادہ ہلکا اور زیادہ آسان عذاب ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8595]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7313، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14316 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14367»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 7313
حدیث نمبر: 8596
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي قَوْلِهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ الْآيَةَ [سورة الأنعام: ٦٥] قَالَ هُنَّ أَرْبَعٌ وَكُلُّهُنَّ عَذَابٌ وَكُلُّهُنَّ وَاقِعٌ لَا مَحَالَةَ فَمَضَتْ اثْنَتَانِ بَعْدَ وَفَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ سَنَةً فَأُلْبِسُوا شِيَعًا وَذَاقَ بَعْضُهُمْ بَأْسَ بَعْضٍ وَثِنْتَانِ وَاقِعَتَانِ لَا مَحَالَةَ الْخَسْفُ وَالرَّجْمُ
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {قُلْ ہُوَ الْقَادِرُ عَلٰٓی اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْکُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِکُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِکُمْ اَوْ یَلْبِسَکُمْ شِیَعًا وَّیُذِیْقَ بَعْضَکُمْ بَاْسَ بَعْضٍ اُنْظُرْ کَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّہُمْ یَفْقَہُوْنَ۔} … کہہ دے وہی اس پر قادر ہے کہ تم پر تمھارے اوپر سے عذاب بھیج دے، یا تمھارے پاؤں کے نیچے سے، یا تمھیں مختلف گروہ بنا کر گتھم گتھا کر دے اور تمھارے بعض کو بعض کی لڑائی (کا مزہ) چکھائے، دیکھ ہم کیسے آیات کو پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں، تاکہ وہ سمجھیں۔ پھر سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ چار امور ہیں، چاروں عذاب کی صورتیں ہیں، سب نے لامحالہ طور پر واقع ہونا ہے، بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے پچیس برس بعد واقع ہو چکی ہیں، ایک یہ کہ لوگ فرقوں میں بٹ گئے اور دوسرا پھر انہوں نے ایکدوسرے کو عذاب بھی چکھایا، باقی دو نے بھی لا محالہ طورپر ہو کر رہنا ہے، اور وہ ہیں: زمین میں دھنسنا اور پتھروں کا برسنا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8596]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابي جعفر الرازي۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 15/ 180، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21227 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21547»
وضاحت: فوائد: … اوپر سے عذاب کے آنے کی صورتیں: بارش کی کثرت، پتھر کا برسنا، امراء و حکام کا ظلم و ستم، نیچے سے عذاب کے آنے کی صورتیں: دھنسنا، زلزلہ، طوفانی سیلاب، ماتحتوں کی بددیانتی اور خیانت۔ باقی دو امور واضح ہیں کہ لوگ مختلف گروہوں اور جماعتوں میں بٹ کر ایکدوسرے کی گردنیں اڑائیں اور ایک دوسرے کو تکلیف دینا شروع کر دیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف ابي جعفر الرازي ۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 15/ 180