الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. بَابُ: «قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللَّهِ»
سورۂ زمر {اِنَّکَ مَیِّتٌ وَاِنَّہُمْ مَیِّتُوْنَ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8737
عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ {إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ} [الزمر: 30-31] قَالَ الزُّبَيْرُ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ أَيُكَرَّرُ عَلَيْنَا مَا كَانَ بَيْنَنَا فِي الدُّنْيَا مَعَ خَوَاصِّ الذُّنُوبِ قَالَ ( (نَعَمْ لَيُكَرَّرَنَّ عَلَيْكُمْ حَتَّى يُؤَدَّى إِلَى كُلِّ ذِي حَقٍّ حَقُّهُ) ) فَقَالَ الزُّبَيْرُ وَاللَّهِ إِنَّ الْأَمْرَ لَشَدِيدٌ
۔ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جب سورۂ زمر کی یہ اٰیات نازل ہوئیں: {إِنَّکَ مَیِّتٌ وَإِنَّہُمْ مَیِّتُونَ ثُمَّ إِنَّکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عِنْدَ رَبِّکُمْ تَخْتَصِمُونَ} … (اے نبی) یقینا تم بھی وفات پانے والے ہو اور وہ لوگ بھی مرنے والے ہیں، پھر تم روزقیامت اپنے رب کے پاس جھگڑا کرو گے۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! گناہوں کے ساتھ ساتھ دنیا میں ہمارے ما بین جو کچھ ہوتا ہے، کیا پھر اس کاتکرار ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، تم پر ضرور تکرار ہوگا، یہاں تک کہ ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا جائے گا۔ یہ سن کر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم!پھر تو معاملہ بڑا سخت ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8737]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 4158، والترمذي: 3236، 3356، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1434 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1434»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن ۔ أخرجه ابن ماجه: 4158
حدیث نمبر: 8738
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ {ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ} [الزمر: 31] قَالَ الزُّبَيْرُ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ مَعَ خُصُومَتِنَا فِي الدُّنْيَا قَالَ ( (نَعَمْ) ) وَلَمَّا نَزَلَتْ {ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنْ النَّعِيمِ} [التكاثر: 8] قَالَ الزُّبَيْرُ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ نَعِيمٍ نُسْأَلُ عَنْهُ وَإِنَّمَا يَعْنِي هُمَا الْأَسْوَدَانِ التَّمْرُ وَالْمَاءُ قَالَ ( (أَمَا إِنَّ ذَلِكَ سَيَكُونُ) )
۔ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: {ثُمَّ إِنَّکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عِنْدَ رَبِّکُمْ تَخْتَصِمُونَ} … (پھر تم روزقیامت اپنے رب کے پاس جھگڑا کرو گے۔ تو میں (زبیررضی اللہ عنہ) نے کہا:اے اللہ کے رسول! دنیا میں ہونے والے ہمارے مابین کے جھگڑوں کے ساتھ (آخرت میں بھی یہ جھگڑے) ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ اور جب یہ آیت نازل ہوئی: {ثُمَّ لَتُسْأَ لُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنْ النَّعِیمِ} … پھر اس دن تم سے ضرور ضرور نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ میں (زبیر رضی اللہ عنہ) نے کہا: اے اللہ کے رسول!کون سی نعمت کے بارے میں ہم سے سوال کیا جائے گا؟ بس ہمارے پاس تو یہ دو کالے رنگ کی چیزیں ہیں، ایک کھجور ہے اور ایک پانی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! عنقریب یہ سوال ہو گا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8738]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1405»
وضاحت: فوائد: … دنیا اور آخرت کے محاسبہ میں فرق ہے، اگر مظلوم نے دنیا میں ہی اپنی رضامندی سے ظالم کو مکمل طور پر معاف کر دیاتو ٹھیک وگرنہ میدانِ حشر میں تصفیہ ہو گا۔ نعمت، نعمت ہی ہوتی ہے، ہر بشر کسی نہ کسی انداز میں اللہ تعالی کی مختلف نعمتوں سے فیضیاب ہوتا ہے، اگر دنیا میں ان کا شکر ادا کر لیا تو ٹھیک، وگرنہ آخرت میں پوچھ گچھ ہو گی۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1405
28. بَابُ: «وَمَا قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدْرِهِ»
{قُلْ یَا عِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰی اَنْفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8739
عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ( (مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا بِهَذِهِ الْآيَةِ {يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ} [الزمر: 53] فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَنْ أَشْرَكَ فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ ( (إِلَّا مَنْ أَشْرَكَ) ) ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
۔ مولائے رسول سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں یہ پسند نہیں کرتا کہ مجھے اس آیت کے بدلے میں دنیا و ما فیہا دے دیا جائے: {یَا عِبَادِیَ الَّذِینَ أَ سْرَفُوْا عَلٰی أَنْفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَحْمَۃِ اللّٰہِ إِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِیعًا إِنَّہُ ہُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ} … اے میرے وہ بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید نہ ہوجاؤ، بے شک اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے، یقینا وہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور جس نے شرک کیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہو گئے اور پھر فرمایا: مگر جس نے شرک کیا (اس کی بخشش نہیں ہو گی)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار یہ جملہ دوہرایا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8739]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابن لھيعة سييء الحفظ، وابو عبد الرحمن الجبلاني في عداد المجھولين۔ أخرجه الطبراني في الاوسط: 176، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22362 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22720»
وضاحت: فوائد: … آیت ِ مبارکہ اپنے مضمون میں واضح ہے، توبہ کی ترغیب دلائی گئی ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
29. بَابُ: «وَمَا كُنتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَا أَبْصَارُكُمْ»
{وَمَا قَدَرُوْا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8740
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ مَرَّ يَهُودِيٌّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ قَالَ كَيْفَ تَقُولُ يَا أَبَا الْقَاسِمِ يَوْمَ يَجْعَلُ اللَّهُ السَّمَاءَ عَلَى ذِهْ وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ وَالْأَرْضَ عَلَى ذِهْ وَالْمَاءَ عَلَى ذِهْ وَالْجِبَالَ عَلَى ذِهْ وَسَائِرَ الْخَلْقِ عَلَى ذِهْ كُلُّ ذَلِكَ يُشِيرُ بِأَصَابِعِهِ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ} [الزمر: 67]
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک یہودی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے، اس نے کہا: اے ابو القاسم! اس بارے میں آپ کیا کہیں گے کہ جب اللہ تعالیٰ آسمان کو اس انگشت ِشہادت پر اٹھا لے گا اور زمین کو اس انگلی پر، پانی کو اس انگلی پر، پہاڑوں کو اس انگلی پر اور باقی تمام مخلوقات کو اس انگلی پر اٹھا لے گا؟ ساتھ ہی اس یہودی نے انگلیوں کی طرف اشارہ کیا تھا، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر دی: {وَمَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہِ} … اورانہوں نے اللہ تعالیٰ کی اتنی قدر نہیں کی، جتنی کہ اس کی قدر کی جانی چاہیے تھی۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8740]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه الترمذي: 3240، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2988 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2988»
الحكم على الحديث:
حسن لغيره ۔ أخرجه الترمذي: 3240
حدیث نمبر: 8741
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ فَقَالَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ أَبَلَغَكَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَحْمِلُ الْخَلَائِقَ عَلَى أُصْبُعٍ وَالسَّمَاوَاتِ عَلَى أُصْبُعٍ وَالْأَرَضِينَ عَلَى أُصْبُعٍ وَالشَّجَرَ عَلَى أُصْبُعٍ وَالثَّرَى عَلَى أُصْبُعٍ فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ} [الزمر: 67]
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اہل کتاب میں سے ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے ابو القاسم! کیایہ بات آپ تک پہنچی ہے کہ اللہ تعالیٰ مخلوقات کو ایک انگلی پر،آسمانوں کو ایک انگلی پر،زمینوںکو ایک انگلی پر،درختوں کوایک انگلی پر اور تر مٹی کو ایک انگلی پر اٹھا لے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی بات پر اتنا زیادہ ہنسے کہ آپ کی داڑھیں مبارک نمایاں ہو گئیں، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر دی: {وَمَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہِ} … اورانہوں نے اللہ تعالیٰ کی اتنی قدر نہیں کی، جتنی کہ اس کی قدر کی جانی چاہیے تھی۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8741]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7415، 7451، ومسلم: 2786، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3590 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3590»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 7415
حدیث نمبر: 8742
عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى الْمِنْبَرِ {وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ} [الزمر: 67] وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَكَذَا بِيَدِهِ وَيُحَرِّكُهَا يُقْبِلُ بِهَا وَيُدْبِرُ ( (يُمَجِّدُ الرَّبُّ نَفْسَهُ أَنَا الْجَبَّارُ أَنَا الْمُتَكَبِّرُ أَنَا الْمَلِكُ أَنَا الْعَزِيزُ أَنَا الْكَرِيمُ) ) فَرَجَفَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمِنْبَرُ حَتَّى قُلْنَا لَيَخِرَّنَّ بِهِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن منبر پر یہ اس آیت کی تلاوت کی: {وَمَا قَدَرُوْا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہِ وَالْأَ رْضُ جَمِیعًا قَبْضَتُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَالسَّمٰوَاتُ مَطْوِیَّاتٌ بِیَمِینِہِ سُبْحَانَہُ وَتَعَالٰی عَمَّا یُشْرِکُونَ} … اور انھوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جو اس کی قدر کا حق ہے، حالانکہ زمین ساری قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپیٹے ہو ئے ہوں گے۔ وہ پاک ہے اور بہت بلند ہے اس سے جو وہ شریک بنا رہے ہیں۔ ساتھ ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ کو آگے پیچھے حرکت دینا شروع کی اور فرمایا: رب اپنی ذات کی بزرگی بیان کر رہا ہے کہ میں جبار ہوں، میں بڑائی والا ہوں، میں بادشاہ ہوں، میں غالب ہوں،میں کریم ہوں۔ جب آپ یہ کہہ رہے تھے تو منبر اس قدر لرز رہا تھا کہ ہمیں خطرہ لاحق ہوا کہ کہیں آپ منبر سے نیچے نہ گر جائیں۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8742]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7412، ومسلم: 2788، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5414 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5414»
وضاحت: فوائد: … یہ آیت اللہ تعالی کے عظیم اختیارات پر دلالت کرتی ہے۔
حافظ ابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میںکہا: مشرکین نے دراصل اللہ تعالیٰ کی قدر و عظمت جانی ہی نہیں، اسی وجہ سے وہ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے لگے۔ اللہ تعالی سے بڑھ کر عزت والا، اس سے زیادہ بادشاہت والا، اس سے بڑھ کر غلبے اور قدرت والا کوئی نہیں، نہ کوئی اس کا ہمسر ہے اور نہ مدمقابل، یہ آیت قریشی کفار کے بارے میں نازل ہوئی ہے، اگر انہیں قدر ہوتی تو اس کی باتوں کو غلط نہ جانتے، جو شخص اللہ کو ہر چیز پر قادر مانتا ہے، وہی اللہ کی عظمت کا اعتراف کرتاہے۔ اس آیت کے متعلق بہت سی حدیثیں منقول ہیں، اس جیسی آیات اور احادیث کے بارے میں سلف صالحین کا مسلک یہ رہا ہے کہ جس طرح اور جن لفظوں میں یہ آئی ہے اسی طرح انہی لفظوں کے ساتھ انہیں مان لینا چاہیے اور ان پر ایمان رکھنا چاہیے، نہ ان کی کیفیت کو ٹٹولا جائے اور نہ ان میں تحریف و تبدیلی کی جائے۔
حافظ ابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میںکہا: مشرکین نے دراصل اللہ تعالیٰ کی قدر و عظمت جانی ہی نہیں، اسی وجہ سے وہ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے لگے۔ اللہ تعالی سے بڑھ کر عزت والا، اس سے زیادہ بادشاہت والا، اس سے بڑھ کر غلبے اور قدرت والا کوئی نہیں، نہ کوئی اس کا ہمسر ہے اور نہ مدمقابل، یہ آیت قریشی کفار کے بارے میں نازل ہوئی ہے، اگر انہیں قدر ہوتی تو اس کی باتوں کو غلط نہ جانتے، جو شخص اللہ کو ہر چیز پر قادر مانتا ہے، وہی اللہ کی عظمت کا اعتراف کرتاہے۔ اس آیت کے متعلق بہت سی حدیثیں منقول ہیں، اس جیسی آیات اور احادیث کے بارے میں سلف صالحین کا مسلک یہ رہا ہے کہ جس طرح اور جن لفظوں میں یہ آئی ہے اسی طرح انہی لفظوں کے ساتھ انہیں مان لینا چاہیے اور ان پر ایمان رکھنا چاہیے، نہ ان کی کیفیت کو ٹٹولا جائے اور نہ ان میں تحریف و تبدیلی کی جائے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 7412
30. بَابُ: «قُلْ لا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمُوَدَّةَ فِي الْقُرُبٰي»
سورۂ فصلت {وَمَا کُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ اَنْ یَشْہَدَ عَلَیْکُمْ سَمْعُکُمْ وَلَا اَبْصَارُکُمْ …}کی تفسیر
حدیث نمبر: 8743
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ مُسْتَتِرًا بِسِتَارِ الْكَعْبَةِ فَجَاءَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ قُرَشِيٌّ وَخَتَنَاهُ ثَقَفِيَّانِ أَوْ ثَقَفِيٌّ وَخَتَنَاهُ قُرَشِيَّانِ كَثِيرٌ شَحْمُ بُطُونِهِمْ قَلِيلٌ فِقْهُ قُلُوبِهِمْ فَتَكَلَّمُوا بِكَلَامٍ لَمْ أَسْمَعْهُ فَقَالَ أَحَدُهُمْ أَتَرَوْنَ اللَّهَ يَسْمَعُ كَلَامَنَا هَذَا فَقَالَ الْآخَرُ أُرَانَا إِذَا رَفَعْنَا أَصْوَاتَنَا سَمِعَهُ وَإِذَا لَمْ نَرْفَعْهَا لَمْ يَسْمَعْ فَقَالَ الْآخَرُ إِنْ سَمِعَ مِنْهُ شَيْئًا سَمِعَهُ كُلَّهُ قَالَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَا أَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُودُكُمْ} إِلَى قَوْلِهِ {ذَلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِي ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ أَرْدَاكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ مِنَ الْخَاسِرِينَ} [فصلت: 22-23]
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں کعبہ کے پردے کی اوٹ میں چھپا ہواتھا کہ تین آدمی آئے، ایک قریشی تھا اور دو اس کے سالے تھے، جو بنو ثقیف سے تھے، یاایک ثقفی تھا اور دو اس کے قریشی سالے تھے، ان کے پیٹوں پر چربی تو بہت زیادہ چڑھی ہوئی تھی لیکن دلوں میں سمجھ کی کمی تھی، انہوں نے مختلف باتیں کیں، میں وہ ساری تو نہ سن سکا، بہرحال ان میں سے ایک نے کہا: تمہارا کیا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری یہ بات سن رہا ہے؟ دوسرے نے کہا: میرا خیال ہے کہ جب ہم آواز بلند کریں گے تو وہ ہماری آواز سنے گا اور جب ہم آوازیں بلند نہیں کریں گے تو وہ نہیں سنے گا، تیسرا بولا اور اس نے کہا: اگر وہ ہماری بات کا کچھ حصہ سنتا ہے تو پھر اس کامطلب یہ ہوا کہ وہ ساری باتیں سنتا ہے۔ جب میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان باتوں کا ذکر کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کیں: {وَمَا کُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ یَشْہَدَ عَلَیْکُمْ … … فَأَصْبَحْتُمْ مِنْ الْخَاسِرِینَ} [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8743]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4817، ومسلم: 2775، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3614 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3614»
وضاحت: فوائد: … مکمل آیاتیہ ہیں: {وَمَا کُنْتُمْ تَسْـتَتِرُوْنَ اَنْ یَّشْہَدَ عَلَیْکُمْ سَمْعُکُمْ وَلَآ اَبْصَارُکُمْ وَلَا جُلُوْدُکُمْ وَلٰکِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰہَ لَا یَعْلَمُ کَثِیْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ۔ وَذٰلِکُمْ ظَنُّکُمُ الَّذِیْ ظَنَنْتُمْ بِرَبِّکُمْ اَرْدٰکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ۔} … اور تم اس سے چھپ نہیں سکتے تھے کہ تمھارے خلاف تمھارے کان گواہی دیں گے اور نہ تمھاری آنکھیں اور نہ تمھارے چمڑے اور لیکن تم نے گمان کیا کہ بے شک اللہ بہت سے کام، جو تم کرتے ہو، نہیں جانتا۔ اور یہ تمھارا گمان تھا جو تم نے اپنے رب کے بارے میں کیا، اسی نے تمھیں ہلاک کر دیا، سو تم خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہو گئے۔
مشرک واقعی کھوٹی عقل والا ہوتا ہے، بھلا جو اللہ تعالی کا وفادار نہ رہے، اس کو کون آسرا دے گا۔
مشرک واقعی کھوٹی عقل والا ہوتا ہے، بھلا جو اللہ تعالی کا وفادار نہ رہے، اس کو کون آسرا دے گا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4817
31. بَابُ: «وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ»
سورۂ شوریٰ {قُلْ لَا اَسْاَلُکُمْ عَلَیْہٖ اَجْرًا اِلَّا الْمُوَدَّۃَ فِی الْقُرْبٰی}کی تفسیر
حدیث نمبر: 8744
عَنْ طَاوُسٍ قَالَ أَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا رَجُلٌ فَسَأَلَهُ وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ قَالَ سَمِعْتُ طَاوُسًا يَقُولُ سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا الْمَعْنَى عَنْ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى} [الشورى: 23] فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ قَرَابَةُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَجِلْتَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ بَطْنٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِلَّا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ قَرَابَةٌ فَنَزَلَتْ {قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى} إِلَّا أَنْ تَصِلُوا قَرَابَةَ مَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ
۔ طاؤس کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت کے معنی کے بارے میں سوال کیا: {قُلْ لَا أَسْأَلُکُمْ عَلَیْہِ أَ جْرًا إِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبٰی} … کہہ دیجئے میں تم سے کسی اجر کا سوال نہیں کرتا، مگر قرابت داری کی دوستی کا سوال کرتا ہوں۔ سعید بن حبیر نے کہا: یہاں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قرابت داری مراد ہے،لیکن سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اے سعید! تم نے جلد بازی سے کام لیا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قریش کے ہرچھوٹے اور بڑے قبیلے کے ساتھ قرابتداری تھی، ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کہ {قُلْ لَا أَ سْأَ لُکُمْ عَلَیْہِ أَ جْرًا إِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبٰی} … میں تم سے تبلیغ پر اجرت نہیں مانگتا، بلکہ میرے اور تمہارے درمیان جو قرابتداری ہے میں تو اس کو ملانے کا مطالبہ کرتا ہوں۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8744]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3497، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2024 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2024»
وضاحت: فوائد: … قبائلِ قریش اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان رشتے داری کا تعلق تھا، آیت کا مطلب بالکل واضح ہے کہ میں وعظ و نصیحت اور تبلیغ و دعوت کی کوئی اجرت تم سے نہیں مانگتا، البتہ ایک چیز کا سوال ضرور ہے کہ میرے اور تمہارے درمیان جو رشتے داری ہے، اس کا لحاظ تو کرو، تم میری دعوت کو نہیں مانتے تو نہ مانو، تمہاری مرضی، لیکن مجھے نقصان پہنچانے سے تو باز رہو، تم میرے دست و بازو نہیں بن سکتے تو رشتہ داری و قرابت کے ناطے مجھے ایذا تو نہ پہنچاؤ اور میرے راستے کا روڑہ تو نہ بنو۔ ذہن نشین رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل حسب و نسب کے اعتبار سے دنیا کی اشرف ترین آل ہے، اس سے محبت، اس کی تعظیم و توقیر جزوِ ایمان ہے، لیکن اس کا آیت کا اس موضوع سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3497
32. بَابُ: «وَلَمَّا ضَرَبَ ابْنُ مريمَ مَثَلًا»
{وَمَا اَصَابَکُمْ مِنْ مُصِیْبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ …} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8745
عَنْ أَبِي سُخَيْلَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَفْضَلِ آيَةٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى حَدَّثَنَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( ({مَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ} [الشورى: 30] وَسَأُفَسِّرُهَا لَكَ يَا عَلِيُّ {مَا أَصَابَكُمْ} مِنْ مَرَضٍ أَوْ عُقُوبَةٍ أَوْ بَلَاءٍ فِي الدُّنْيَا {فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ} وَاللَّهُ تَعَالَى أَكْرَمُ مِنْ أَنْ يُثَنِّيَ عَلَيْهِمْ الْعُقُوبَةَ فِي الْآخِرَةِ وَمَا عَفَا اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فِي الدُّنْيَا فَاللَّهُ تَعَالَى أَحْلَمُ مِنْ أَنْ يَعُودَ بَعْدَ عَفْوِهِ) )
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: کیا میں تمہیں قرآن مجید کی افضل آیت نہ بتاؤں، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں بیان فرمائی تھی، وہ آیت یہ ہے: {مَا أَ صَابَکُمْ مِنْ مُصِیبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ أَ یْدِیکُمْ وَیَعْفُو عَنْ کَثِیرٍ} … تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوت کا بدلہ ہے، اور وہ تو بہت سی باتوں سے درگزر فرما دیتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے علی! میں تمہارے لئے اس کی تفسیر بیان کرتاہوں: {مَا أَ صَابَکُمْ} جو کچھ تم کو پہنچتا ہے،یعنی بیماری یا سزا یا کوئی دنیوی آزمائش، {فَبِمَا کَسَبَتْ أَ یْدِیکُمْ} (تووہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوت کا بدلہ ہے) اور اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ کرم والا ہے کہ وہ آخرت میں تم کو دوبارہ عذاب دے، اور اللہ تعالیٰ دنیا میں جو کچھ معاف کردیتا ہے، تو وہ اس سے بہت زیادہ بردبار ہے کہ معاف کرنے کے بعد دوبارہ گرفت کرے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8745]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، الازھر بن راشد الكاھلي ضعّفه ابن معين، وقال ابو حاتم: مجھول، والخضر بن القواس مجھول، وكذا ابو سخيلة۔ أخرجه ابويعلي: 453، 608، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 649 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 649»
وضاحت: فوائد: … اس آیت میں اہل ایمان سے خطاب کیا گیا ہے، مطلب یہ ہے کہ بعض گناہوں کا کفارہ دنیوی مصائب بن جاتے ہیں، کچھ گناہ اللہ تعالی اپنی رحمت سے معاف کر دیتا ہے اور اللہ تعالی کی ذات اتنی بڑی کریم ہے کہ وہ معاف کرنے کے بعد آخرت میں دوبارہ مؤاخذہ نہیں فرمائے گی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ أَ ذْنَبَ فِی الدُّنْیَا ذَنْبًا فَعُوْقِبَ بِہِ فَاللّٰہُ أَ عْدَلُ مِنْ أَ نْ یُثْنِیٰ عقُوْبَتَہُ عَلٰی عَبْدِہِ، وَمَنْ أَذْنَبَ ذَنْبًا فِی الدُّنْیَا فَسَتَرَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَفَا عَنْہُ فَاللّٰہُ أَ کْرَمُ مِنْ أَ نْ یَعُوْدَ فِیْ شَیْئٍ قَدْ عَفَا عَنْہُ۔)) (ترمذی: ۲۶۲۶، وابن ماجہ: ۲۶۰۴،مسند احمد: ۷۷۵)
جس نے دنیا میں کوئی گناہ کیا اور پھر اسے یہیں اس کی سزا دی گئی تو اللہ تعالی اس سے زیادہ انصاف والا ہے کہ وہ ایسے بندے کو دوبارہ سزا دے، اور جس نے دنیا میں کوئی گناہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کی پردہ پوشی کی اور اس کو معاف کر دیا تو وہ اس سے زیادہ فضل و کرم والا ہے کہ وہ اس گناہ پر گرفت کرے، جس کو وہ معاف کر چکا ہو۔
معلوم ہوا کہ حد سے متعلقہ جرم معاف ہو جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عملاً حدود کے نفاذ کے بعض مواقع پر بھی بخشش کی نویدیں سنائی ہیں۔ اور کوئی مجرم حد سے بچ جاتا ہے تو وہ اللہ تعالی کے سپرد ہے، اگر اس نے چاہا تو اس کو معاف کر دے گا اور چاہا تو عذاب دے گا، آخری حدیث میں دنیا میں گناہ کی پردہ پوشی کا اللہ تعالی کا جو قانون بیان کیا گیا ہے، یہ قانون ہر جرم کے بارے میں علی الاطلاق نہیں ہے کہ دنیا میں جس مجرم کی پردہ پوشی کی گئی، اس کو آخرت میں بخش دیا جائے، بلکہ اس خاص آدمی کے حق میں کہ جس کی اللہ تعالی نے دنیا میں پردہ پوشی کی اور اس کو بخش بھی دیا تو قیامت کے دن اس کے اس جرم کی سزا نہیں دی جائے گی۔ دوسری کئی نصوص سے یہی بات ثابت ہوتی ہے۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اگر کسی مجرم کے گناہ پر پردہ ڈال دیا جاتا ہے تو اس کا نتیجہیہ نہیں ہونا چاہیے کہ وہ شخص یہ سمجھے کہ اس کا گناہ تو معاف کیا جاچکا ہے، ممکن ہے کہ اللہ تعالی اس کو بخش دے اور اس چیز کا امکان بھی ہے کہ اس سے اس کے گناہ کا انتقام لیا جائے، مؤخر الذکر چیز مؤمن کو ستاتی ہے، جس کے نتیجے میں وہ نیکیاں کرنے اور توبہ تائب ہونے کی کوشش کرتا ہے۔
جس نے دنیا میں کوئی گناہ کیا اور پھر اسے یہیں اس کی سزا دی گئی تو اللہ تعالی اس سے زیادہ انصاف والا ہے کہ وہ ایسے بندے کو دوبارہ سزا دے، اور جس نے دنیا میں کوئی گناہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کی پردہ پوشی کی اور اس کو معاف کر دیا تو وہ اس سے زیادہ فضل و کرم والا ہے کہ وہ اس گناہ پر گرفت کرے، جس کو وہ معاف کر چکا ہو۔
معلوم ہوا کہ حد سے متعلقہ جرم معاف ہو جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عملاً حدود کے نفاذ کے بعض مواقع پر بھی بخشش کی نویدیں سنائی ہیں۔ اور کوئی مجرم حد سے بچ جاتا ہے تو وہ اللہ تعالی کے سپرد ہے، اگر اس نے چاہا تو اس کو معاف کر دے گا اور چاہا تو عذاب دے گا، آخری حدیث میں دنیا میں گناہ کی پردہ پوشی کا اللہ تعالی کا جو قانون بیان کیا گیا ہے، یہ قانون ہر جرم کے بارے میں علی الاطلاق نہیں ہے کہ دنیا میں جس مجرم کی پردہ پوشی کی گئی، اس کو آخرت میں بخش دیا جائے، بلکہ اس خاص آدمی کے حق میں کہ جس کی اللہ تعالی نے دنیا میں پردہ پوشی کی اور اس کو بخش بھی دیا تو قیامت کے دن اس کے اس جرم کی سزا نہیں دی جائے گی۔ دوسری کئی نصوص سے یہی بات ثابت ہوتی ہے۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اگر کسی مجرم کے گناہ پر پردہ ڈال دیا جاتا ہے تو اس کا نتیجہیہ نہیں ہونا چاہیے کہ وہ شخص یہ سمجھے کہ اس کا گناہ تو معاف کیا جاچکا ہے، ممکن ہے کہ اللہ تعالی اس کو بخش دے اور اس چیز کا امکان بھی ہے کہ اس سے اس کے گناہ کا انتقام لیا جائے، مؤخر الذکر چیز مؤمن کو ستاتی ہے، جس کے نتیجے میں وہ نیکیاں کرنے اور توبہ تائب ہونے کی کوشش کرتا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
33. بَابُ: «وَنَادَوْا يَا مَالِكُ»
سورۂ زخرف {وَلَمَّا ضَرَبَ ابْنُ مَرْیَمَ مَثَلًا …} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8746
عَنْ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى ابْنِ عُقَيْلٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا لَقَدْ عُلِّمْتُ آيَةً مِنْ الْقُرْآنِ مَا سَأَلَنِي عَنْهَا رَجُلٌ قَطُّ فَمَا أَدْرِي أَعَلِمَهَا النَّاسُ فَلَمْ يَسْأَلُوا عَنْهَا أَمْ لَمْ يَفْطِنُوا لَهَا فَيَسْأَلُوا عَنْهَا ثُمَّ طَفِقَ يُحَدِّثُنَا فَلَمَّا قَامَ تَلَاوَمْنَا أَنْ لَا نَكُونَ سَأَلْنَاهُ عَنْهَا فَقُلْتُ أَنَا لَهَا إِذَا رَاحَ غَدًا فَلَمَّا رَاحَ الْغَدَ قُلْتُ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ ذَكَرْتَ أَمْسِ أَنَّ آيَةً مِنْ الْقُرْآنِ لَمْ يَسْأَلْكَ عَنْهَا رَجُلٌ قَطُّ فَلَا تَدْرِي أَعَلِمَهَا النَّاسُ فَلَمْ يَسْأَلُوا عَنْهَا أَمْ لَمْ يَفْطِنُوا لَهَا فَقُلْتُ أَخْبِرْنِي عَنْهَا وَعَنِ اللَّاتِي قَرَأْتَ قَبْلَهَا قَالَ نَعَمْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِقُرَيْشٍ ( (يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ فِيهِ خَيْرٌ) ) وَقَدْ عَلِمَتْ قُرَيْشٌ أَنَّ النَّصَارَى تَعْبُدُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا تَقُولُ فِي مُحَمَّدٍ فَقَالُوا يَا مُحَمَّدُ أَلَسْتَ تَزْعُمُ أَنَّ عِيسَى كَانَ نَبِيًّا وَعَبْدًا مِنْ عِبَادِ اللَّهِ صَالِحًا فَلَئِنْ كُنْتَ صَادِقًا فَإِنَّ آلِهَتَهُمْ لَكَمَا تَقُولُونَ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ} [الزخرف: 57] قَالَ قُلْتُ مَا يَصِدُّونَ قَالَ يَضِجُّونَ {وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ} [الزخرف: 61] قَالَ هُوَ خُرُوجُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:قرآن مجید کی ایک آیت ہے، میں تو اس کو جانتا ہوں، لیکن کبھی کسی آدمی نے اس کے بارے میں مجھ سے سوال نہیں کیا، اب مجھے یہ معلوم نہیں ہے کہ لوگوں کو اس کا علم ہے، اس لیے سوال نہیں کرتے، یا وہ اس کو سمجھ ہی نہیں سکے کہ اس کے بارے میں سوال کریں، پھروہ ہم سے اور باتیں کرتے رہے اور جب کھڑے ہو کر چلے گئے تو ہم ایک دوسرے سے ملامت کرنے لگے کہ ہم نے ان سے اس آیت کے بارے میں دریافت ہی نہیں کیا، میں (ابو یحیی) نے کہا:کل جب وہ آئیں گے تو میں پوچھوں گا، چنانچہ جب دوسرے دن آئے تو میں نے کہا: اے ابن عباس! کل آپ نے ایک آیت کا ذکر کیا تھا کہ اس کے متعلق آپ سے کسی آدمی نے پوچھا نہیں ہے، اب معلوم نہیں لوگوں کوا س کا پتہ چل گیا ہے، اس لیے نہیں پوچھا یا وہ اس کو سمجھ ہی نہ سکے؟ انہوں نے کہا: جی، بتاتا ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قریشیوں سے فرمایا: اے قریشیوں کی جماعت! اللہ تعالیٰ کے سوا جس کی بھی پرستش کی جائے گی، اس میں خیر نہیں ہو گی۔ اب قریشیوں کو پتہ تھا کہ عیسائی عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی عبادت کرتے تھے اور یہ بھی جانتے تھے کہ عیسائی، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں کیا کہتے ہیں یعنی وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کے منکر ہیں۔ تو قریش کے لوگوں نے کہا:اے محمد! کیا تم ہی لوگ یہ دعوی نہیں کرتے کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نبی اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندے تھے، تو پھر اگر آپ اس بات میں سچے ہیں تو ان کے معبود بھی ویسے ہی ہوئے، جیسے تم کہتے ہو (پس عیسی علیہ السلام میں کوئی خیر نہ رہی)؟ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: {وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ مَثَلًا إِذَا قَوْمُکَ مِنْہُ یَصِدُّونَ} … جب ان کے لئے مریم کے بیٹے کی مثال بیان کی گئی تو تیری قوم اس سے منہ پھیرتی ہے۔ راوی نے کہا: یَصِدُّونَ کا کیا مطلب ہے، اس نے کہا: شور کرنا، جبکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {وَإِنَّہُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَۃِ} حالانکہ عیسیٰ علیہ السلام کا نکلنا قیامت سے پہلے والی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8746]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه مختصرا ابن حبان: 6817، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2918 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2918»
وضاحت: فوائد: … شرک کی تردید اور جھوٹ معبودوںکی بے وقعتی کی وضاحت کے لیے جب مشرکین مکہ سے کہا جاتا کہ تمہارے ساتھ تمہارے معبود بھی جہنم میں جائیں گے، تو اس سے مراد پتھر کی مورتیاں ہوتی تھیں، جن کی وہ پوجا پاٹ کرتے تھے، نہ وہ نیک لوگ، جو اپنی زندگیوں میں لوگوںکو توحید کی دعوت دیتے رہے، مگر ان کی وفات کے بعد ان کے معتقدین نے ان کو معبود بنا لیا۔ اس لیے مشرکین کا یہ کھوکھلا نقطہ بے وقعت ہو گیا کہ اگر ان کے معبود جہنم میں جائیں گے تو پھر وہ نبی بھی جہنم میں جائیں گے، جن کی عبادت ہونے لگی، العیاذ باللہ۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن ۔ أخرجه مختصرا ابن حبان: 6817