🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
34. بَابُ: «‏‏‏‏فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ» ‏‏‏‏
{وَنَادَوْا یَا مَالِکُ …}کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8747
عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ ( (وَنَادَوْا يَا مَالِكُ) ) [الزخرف: 77]
۔ سیدنایعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منبر پر یہ الفاظ ادا کیے: ((وَنَادَوْا یَا مٰلِکُ۔)) … وہ پکار پکار کر کہیں گے کہ اے مالک! [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8747]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3230، 3266،ومسلم: 871، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17981 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18125»
وضاحت: فوائد: … جہنم کے داروغے کا نام مالک ہے۔ پوری آیتیوں ہے: ((وَنَادَوْا یَا مٰلِکُ لِیَقْضِ عَلَیْنَا رَبُّکَ قَالَ اِنَّکُمْ مّٰکِثُوْنَ۔)) … اوروہ پکار پکار کر کہیں گے کہ اے مالک! تیرا ربّ ہمارا کام ہی تمام کر دے، لیکن وہ کہے گا: تمہیں تو ہمیشہ (اسی جہنم میں) رہنا ہے۔ جہنمی، جہنم میں موت کا مطالبہ کریں گے، لیکن اس وقت موت کوموت آ چکی ہو گی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
35. بَابُ: «‏‏‏‏قَالَ أَرَأَيْتُمْ مَا تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ» ‏‏‏‏
سورۂ دخان {فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَاْتِی السَّمَائُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍ …} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8748
عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ بَيْنَا رَجُلٌ يُحَدِّثُ فِي الْمَسْجِدِ الْأَعْظَمِ قَالَ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ نَزَلَ دُخَانٌ مِنْ السَّمَاءِ فَأَخَذَ بِأَسْمَاعِ الْمُنَافِقِينَ وَأَبْصَارِهِمْ وَأَخَذَ الْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ كَهَيْئَةِ الزُّكَامِ قَالَ مَسْرُوقٌ فَدَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ وَكَانَ مُتَّكِئًا فَاسْتَوَى جَالِسًا فَأَنْشَأَ يُحَدِّثُ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ سُئِلَ مِنْكُمْ عَنْ عِلْمٍ هُوَ عِنْدَهُ فَلْيَقُلْ بِهِ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ فَلْيَقُلْ اللَّهُ أَعْلَمُ فَإِنَّ مِنْ الْعِلْمِ أَنْ تَقُولَ لِمَا لَا تَعْلَمُ اللَّهُ أَعْلَمُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ {قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ} [ص: 86] إِنَّ قُرَيْشًا لَمَّا غَلَبُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَعْصَوْا عَلَيْهِ قَالَ ( (اللَّهُمَّ أَعِنِّي بِسَبْعٍ كَسَبْعِ يُوسُفَ) ) قَالَ فَأَخَذَتْهُمْ سَنَةٌ أَكَلُوا فِيهَا الْعِظَامَ وَالْمَيْتَةَ مِنْ الْجَهْدِ حَتَّى جَعَلَ أَحَدُهُمْ يَرَى بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّمَاءِ كَهَيْئَةِ الدُّخَانِ مِنْ الْجُوعِ فَقَالُوا {رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ إِنَّا مُؤْمِنُونَ} [الدخان: 12] قَالَ فَقِيلَ لَهُ إِنَّا إِنْ كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَادُوا فَدَعَا رَبَّهُ فَكَشَفَ عَنْهُمْ فَعَادُوا فَانْتَقَمَ اللَّهُ مِنْهُمْ يَوْمَ بَدْرٍ فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى {فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ} إِلَى قَوْلِهِ {يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى إِنَّا مُنْتَقِمُونَ} [الدخان: 10-16] قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَلَوْ كَانَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَا كَشَفَ عَنْهُمْ
۔ مسروق سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ایک دفعہ ایک آدمی کوفہ کی مسجد اعظم میں بیان کر رہاتھا کہ قیامت کے دن آسمان سے دھواں نازل ہوگا، جو منافقوں کے کانوں اور آنکھوں کو پکڑے گا، اور ایمانداروں پر اس کایہ اثر ہو گا کہ ان کو زکام محسوس ہو گا۔ یہ سن کر میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے اس بات کا ذکر کیا، وہ ٹیک لگا کر بیٹھے تھے، لیکن یہ بات سنتے ہی سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور کہا: اے لوگو! جب تم سے علمی سوال کیا جائے تو اگر اس کا علم ہو تو اس کا جواب دو اور اگر علم نہ ہو تو کہہ دیا کرو کہ اللہ اعلم (اللہ سب سے زیادہ جاننے والا ہے)، بے شک یہ بھی علم ہی ہے کہ جس چیز کا علم نہ ہو اس کے بارے میں اللہ اعلم کہا جائے۔ دیکھو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا: {قُلْ مَا أَسْأَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ أَ جْرٍ وَمَا أَ نَا مِنْ الْمُتَکَلِّفِینَ} … کہہ دوکہ میں تم سے اس پر اجرت طلب نہیں کرتا اور میں تکلف کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ جب قریشی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر غالب آ گئے اور آپ پر سر کش ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر ان الفاظ کے ساتھ بد دعا کی: اے میرے اللہ! یوسف علیہ السلام والا سات سالہ قحط ان پر مسلط کر کے ان کے خلاف میری مدد فرما۔ پس وہ قحط سالی میں اس قدر مبتلا ہو گئے کہ انہوں نے ہڈیاں اور مردار کھانا شروع کر دیئے،وہ اس قدر تکلیف اور مشقت میں پڑ گئے کہ بھوک کی وجہ سے ان کو اپنے اور آسمان کے ما بین دھویں کی طرح کی چیز نظر آتی تھی۔ بالآخر انہوں نے کہا: اے ہمارے رب! یہ عذاب ہم سے کھول دے، ہم ایمان لانے والے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا گیا: اگر ان سے عذاب کھل گیا تو یہ پھر پہلی حالت میں لوٹ آئیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب سے دعا کی اور اس نے ان سے عذاب دور کر دیا، لیکن جب وہ پھر اسی نافرمانی کی حالت میں لوٹ آئے تو اللہ تعالیٰ نے بدر کے دن ان کی گرفت کی،یہی صورتیں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی مصداق ہیں: {فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَأْتِی السَّمَائُ بِدُخَانٍ مُبِینٍ … … یَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَۃَ الْکُبْرٰی إِنَّا مُنْتَقِمُونَ}۔ ابن نمیر کی حدیث میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر اس سے قیامت کے دن کا دھواں ہوتا تو پھر ان سے دور نہ کیا جاتا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8748]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4822، ومسلم: 2798، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4104 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4104»
وضاحت: {فَارْتَـقِبْ یَوْمَ تَاْتِی السَّمَاء ُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍ۔ یَّغْشَی النَّاسَ ھٰذَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ رَبَّنَا اکْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ اِنَّا مُؤْمِنُوْنَ۔ اَنّٰی لَہُمُ الذِّکْرٰی وَقَدْ جَاء َہُمْ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ۔ ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْہُ وَقَالُوْا مُعَلَّمٌ مَّجْنُوْنٌ۔ اِنَّا کَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِیْلًا اِنَّکُمْ عَایِدُوْنَ۔ یَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَۃَ الْکُبْرٰی اِنَّا مُنْتَقِمُوْنَ۔}
(سورۂ دخان: ۱۱ تا ۱۶)
اچھا انتظار کرو اس دن کا جب آسمان صریح دھواں لیے ہوئے آئے گا۔ اور وہ لوگوں پر چھا جائے گا، یہ ہے دردناک سزا۔ (اب کہتے ہیں کہ) پروردگار، ہم پر سے یہ عذاب ٹال دے، ہم ایمان لاتے ہیں۔ان کی غفلت کہاں دور ہوتی ہے؟ ان کا حال تو یہ ہے کہ ان کے پاس رسول مبین آگیا۔پھر بھییہ اس کی طرف متوجہ نہ ہوئے اور کہا کہ یہ تو سکھایا پڑھایا دیوانہ ہے۔ہم ذرا عذاب ہٹائے دیتے ہیں، تم لوگ پھر وہی کچھ کرو گے جو پہلے کر رہے تھے۔جس روز ہم بڑی ضرب لگائیں گے وہ دن ہوگا جب ہم تم سے انتقام لیں گے۔
دھویں کے تعین کے بارے میں دواقوال ہیں:
(۱) قیامت کے قریب آنے کی علامت ہے، ابھی تک ظہور پذیر نہیں ہوئی، اس کی ہیئت و حقیقت کا علم اللہ تعالی کو ہے۔
(۲)نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں یہ نشائی ظاہر ہو چکی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل مکہ کے معاندانہ رویے سے تنگ آ کر ان کے لیے قحط سالی کی بددعا کی، نتیجتاً ان پر قحط کا عذاب نازل کر دیا گیا، حتی کہ وہ ہڈیاں، کھالیں اور مردار وغیرہ کھاتے تھے، جب آسمان کی طرف دیکھتے تو بھوک اور کمزوری کی شدت کی وجہ سے انھیں دھواں سا نظر آتا تھا۔
بطشہ(سخت پکڑ): پہلے جنگ بدر میںمشرکین کی سخت گرفت کی، اس سے ان کا غرور خاک میںمل گیا، ستر کافر مارے اور ستر قیدی بنا لیے گئے، دوسری تفسیر کی رو سے یہ سخت گرفت قیامت کے دن ہو گی، جس سے کوئی چھٹکارا نہیں ہو گا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
36. بَابُ: «قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَكَفَرْتُمْ بِهِ»
سورۂ احقاف {قَالَ اَرَاَیْتُمْ مَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ …}کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8749
عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سُفْيَانُ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ {أَوْ آثَارَةٍ مِنْ عِلْمٍ} [الأحقاف: 4] قَالَ ( (الْخَطُّ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، امام سفیان کہتے ہیں: میرایہی خیال ہے کہ یہ روایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے {أَ وْ أَ ثَارَۃٍ مِنْ عِلْمٍ} کے بارے میں فرمایا: اس سے مراد خط ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8749]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه الطبراني: 10725، والحاكم: 2/ 454، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1992 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1992»
وضاحت: فوائد: … طبرانی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: أَ نَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سُئِلَ عَنِ الْخَطِّ، فَقَالَ: ((ھُوَ أَ ثَارَۃٌ مِنْ عِلْمٍ۔)) … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خط کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ علم کا بقیہ ہے۔ ارشادِ باری تعالی ہے: {قُلْ اَرَئَ یْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَرُوْنِیْ مَاذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَــہُمْ شِرْکٌ فِی السَّمٰوٰتِ اِیْتُوْنِیْ بِکِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ ھٰذَآ اَوْ اَثٰرَۃٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ۔}
اے نبی، ان سے کہو،کبھی تم نے آنکھیں کھول کر دیکھا بھی کہ وہ ہستیاں ہیں کیا جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو؟ ذرا مجھے دکھاؤ تو سہی کہ زمین میں انہوں نے کیا پیدا کیا ہے، یا آسمانوں کی تخلیق و تدبیر میں ان کا کیا حصہ ہے۔ اس
سے پہلے آئی ہوئی کتاب یا علم کا کوئی بقیہ (ان عقائد کے ثبوت میں) تمہارے پاس ہو تو وہی لے آؤ اگر تم سچے ہو۔
اس حدیث میں {أَ وْ أَ ثَارَۃٍ مِنْ عِلْمٍ} کا معنی خط کیا گیا ہے خط لگانا ایک نبی کا طریقہ تھا، لیکن ہمارے لیےیہ جاننا ناممکن ہے کہ کون سا خط اس نبی کے خط سے موافقت کر رہا ہے اور کون مخالفت، اس لیے ہمارے لیے علم کا یہ کوئی طریقہ نہیںہے، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((کَانَ نَبِیٌّ مِنَ الْأَ نْبِیَائِیَخُطُّ فَمَنْ وَافَقَ عِلْمَہُ فَہُوَ عِلْمُہُ۔)) … ایک نبی لکیریں لگاتا تھا، پس جس شخص کا علم اس کے موافق ہو جائے، وہ علم درست ہو گا۔ (مسند احمد: ۹۱۰۶)
گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زجر و توبیخ کر رہے ہیں، کیونکہ اس نبی سے موافقت ہو جانے کا کوئی ذریعہ باقی نہیں رہا۔ دورِ جاہلیت میں خط لگانے کی صورت یہ تھی کہ محتاج مٹھائی وغیرہ لے کر کاہن اور پیشین گوئی کرنے والے کے پاس آتا، وہ اس کو کہتا: تو بیٹھ جا، میں تیرے لیے لکیریں لگاتا ہوں، اُدھر کاہن کے سامنے ایک لڑکا ہوتا، اس کے پاس سرمہ کی سلائی ہوتی، پھر وہ نرم زمین کی طرف آتا اور اتنی جلدی سے لکیریں لگاتا کہ ان کو گن نہیں سکتا تھا، پھر دو دو لکیریں مٹانا شروع کر دیتا، اب اگر آخر میں دو لکیریں بچ جاتیں تو ان کو کامیابی کی علامت سمجھا جاتا اور اگر ایک بچ جاتی تو وہ ناکامی کی علامت ہوتی تھی،یہ قسمت آزمائی کی ممنوعہ صورت ہے۔ {أَ وْ أَ ثَارَۃٍ مِنْ عِلْمٍ}کے مزید دو معانی بیان کیے گئے ہیں: کوئی منقول روایتیا واضح علمی دلیل۔
یہ معنی زیادہ واضح ہے اور مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کے پاس غیر اللہ کو پکارنے کے متعلق سابقہ دور کی کوئی نقلی دلیل ہے تو وہ پیش کرو۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
37. بَابُ: «‏‏‏‏فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هذَا عَارِضُ مُمْطِرُنَا» ‏‏‏‏
{قُلْ اَرَاَیْتُمْ اِنْ کَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ وَکَفَرْتُمْ بِہٖ} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8750
عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ انْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَأَنَا مَعَهُ حَتَّى دَخَلْنَا كَنِيسَةَ الْيَهُودِ بِالْمَدِينَةِ يَوْمَ عِيدٍ لَهُمْ فَكَرِهُوا دُخُولَنَا عَلَيْهِمْ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ أَرُونِي اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا يَشْهَدُونَ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ يُحْبِطِ اللَّهُ عَنْ كُلِّ يَهُودِيٍّ تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ الْغَضَبَ الَّذِي غَضِبَ عَلَيْهِ) ) قَالَ فَأَسْكَتُوا مَا أَجَابَهُ مِنْهُمْ أَحَدٌ ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِمْ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ ثُمَّ ثَلَّثَ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ فَقَالَ ( (أَبَيْتُمْ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَنَا الْحَاشِرُ وَأَنَا الْعَاقِبُ وَأَنَا النَّبِيُّ الْمُصْطَفَى آمَنْتُمْ أَوْ كَذَّبْتُمْ) ) ثُمَّ انْصَرَفَ وَأَنَا مَعَهُ حَتَّى إِذَا كِدْنَا أَنْ نَخْرُجَ نَادَى رَجُلٌ مِنْ خَلْفِنَا كَمَا أَنْتَ يَا مُحَمَّدُ قَالَ فَأَقْبَلَ فَقَالَ ذَلِكَ الرَّجُلُ أَيَّ رَجُلٍ تَعْلَمُونَ فِيكُمْ يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ قَالُوا وَاللَّهِ مَا نَعْلَمُ أَنَّهُ كَانَ فِينَا رَجُلٌ أَعْلَمُ بِكِتَابِ اللَّهِ مِنْكَ وَلَا أَفْقَهُ مِنْكَ وَلَا مِنْ أَبِيكَ قَبْلَكَ وَلَا مِنْ جَدِّكَ قَبْلَ أَبِيكَ قَالَ فَإِنِّي أَشْهَدُ لَهُ بِاللَّهِ أَنَّهُ نَبِيُّ اللَّهِ الَّذِي تَجِدُونَهُ فِي التَّوْرَاةِ قَالُوا كَذَبْتَ ثُمَّ رَدُّوا عَلَيْهِ قَوْلَهُ وَقَالُوا فِيهِ شَرًّا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (كَذَبْتُمْ لَنْ يُقْبَلَ قَوْلُكُمْ أَمَّا آنِفًا فَتُثْنُونَ عَلَيْهِ مِنْ الْخَيْرِ مَا أَثْنَيْتُمْ وَلَمَّا آمَنَ كَذَّبْتُمُوهُ وَقُلْتُمْ فِيهِ مَا قُلْتُمْ فَلَنْ يُقْبَلَ قَوْلُكُمْ) ) قَالَ فَخَرَجْنَا وَنَحْنُ ثَلَاثَةٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ {قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَكَفَرْتُمْ بِهِ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى مِثْلِهِ فَآمَنَ وَاسْتَكْبَرْتُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ} [الأحقاف: 10]
۔ سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، یہودیوں کی عید کا دن تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہودیوں کے ایک عبادت خانہ کی طرف گئے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، ہمارا آنا ان کو ناگوار گزرا، بہرحال نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے یہودیوں کی جماعت! (اپنی جماعت میں سے) مجھے بارہ (۱۲) ایسے آدمی بتاؤ جو لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی گواہی دیں، اللہ تعالیٰ نے آسمان کی نیلی چھت کے نیچے جو تم پر غضب در غضب کیا ہے وہ مٹا دے گا۔ یہودی خاموش رہے، ان میں سے کسی نے جواب نہ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر سوال لوٹایا، لیکن کسی نے جواب نہ دیا، تیسری بار سوال دوہرایا، لیکن اس بار بھی جواب نہ آیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود فرمایا: تم انکار کر رہے ہو، اللہ کی قسم! میں حاشرہوں(جس کی ملت پر لوگ اکٹھے کئے جائیں گے)، میں عاقب ہوں(جس کے بعد کوئی نبی نہیں) اور میں نبی مصطفی ہوں، تم ایمان لاؤ یا تکذیب کرو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ پھر آپ واپس چل پڑے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، جب ہم باہر نکلنے ہی والے تھے کہ ہمارے پیچھے سے ایک آدمی نے ہمیں آواز دی، وہ عبداللہ بن سلام تھے، اس نے کہا: اے محمد! ٹھہر جائیں، وہ آیا اور اس نے یہودیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: اے گروہ یہود! میں تمہارے علم کے مطابق کیسا آدمی ہوں؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہماری معلومات کے مطابق تم سے زیادہ کتاب اللہ کا عالم اور فقیہ کوئی نہیں ہے اور نہ ہی تجھ سے پہلے تیرے باپ سے زیادہ کوئی فقیہ اور عالم تھا، بلکہ تیرے باپ سے پہلے تیرے دادے سے بڑھ کر بھی کوئی عالم نہ تھا۔ عبداللہ نے کہا: تو پھر میں تو گواہی دیتا ہوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے وہ نبی ہیں، جن کا ذکر تم تورات میں پاتے ہو، یہودی وہیں بدل گئے اور کہنے لگے: تو جھوٹ بولتا ہے، پھر ساری بات کی تردید کر دی اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو برا کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب تمہاری بات ہر گز قابل قبول نہیں ہو گی، ابھی تم ان کی تعریف کر رہے تھے، جب وہ ایمان لے آیا ہے، تو تم اسے جھوٹا کہنے لگ گئے ہو اور اس کے بارے میں برے الفاظ استعمال کرتے ہو تمہاری بات ہر گز قبول نہیں ہو گی۔ اب ہم باہر نکلے تو تین افراد تھے، میں تھا،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے اور سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ تھے، اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں آیت نازل کی: {قُلْ أَرَأَیْتُمْ إِنْ کَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ وَکَفَرْتُمْ بِہِ وَشَہِدَ شَاہِدٌ مِنْ بَنِی إِسْرَائِیلَ عَلٰی مِثْلِہِ فَآمَنَ وَاسْتَکْبَرْتُمْ إِنَّ اللّٰہَ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِینَ} … کہہ دے کیا تم نے دیکھا اگر یہ اللہ کی طرف سے ہوا اور تم نے اس کا انکار کر دیا اور بنی اسرائیل میں سے ایک شہادت دینے والے نے اس جیسے (قرآن) کی شہادت دی، پھر وہ ایمان لے آیا اور تم نے تکبر کیا (تو تمھارا انجام کیا ہوگا) بے شک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8750]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابن حبان: 7162، والطبراني في الكبير: 18/ 83، والحاكم: 3/ 415، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23984 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24484»
وضاحت: فوائد: … اس آیت میںقومیہود سے خطاب کیا جا رہاہے، عجیب قسم کی ہٹ دھرم اور ضدی قوم ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
38. بَابُ: «وَاذْ صَرَفْنَا إِلَيْكَ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ»
{فَلَمَّا رَاَوْہُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِہِمْ قَالُوْا ھٰذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8751
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَطُّ مُسْتَجْمِعًا ضَاحِكًا قَالَ مُعَاوِيَةُ ضَحِكًا حَتَّى أَرَى مِنْهُ لَهَوَاتِهِ إِنَّمَا كَانَ يَتَبَسَّمُ وَقَالَتْ كَانَ إِذَا رَأَى غَيْمًا أَوْ رِيحًا عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ النَّاسُ إِذَا رَأَوْا الْغَيْمَ فَرِحُوا رَجَاءَ أَنْ يَكُونَ فِيهِ الْمَطَرُ وَأَرَاكَ إِذَا رَأَيْتَهُ عَرَفْتُ فِي وَجْهِكَ الْكَرَاهِيَةَ قَالَتْ فَقَالَ ( (يَا عَائِشَةُ مَا يُؤْمِنِّي أَنْ يَكُونَ فِيهِ عَذَابٌ قَدْ عُذِّبَ قَوْمٌ بِالرِّيحِ وَقَدْ رَأَى قَوْمٌ الْعَذَابَ فَقَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا) )
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کبھی کھل کر ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گلے کا کوا دیکھ سکوں، آپ صرف زیر لب مسکراتے تھے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بادلوں یا ہوا کو دیکھتے تو اس کے اثرات آپ کے چہرہ پر نمایاں ہو جاتے (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پریشان ہو جاتے)، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگ تو بادل یا ہوا دیکھ کر خوش ہوتے ہیں کیونکہ انہیں بارش کے آنے کی امید ہوتی ہے،لیکن اس کے برعکس میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ آپ کے چہرے پر تشویس کے آثار نظر آنے لگتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! مجھے اس سے بے خوفی نہیں ہے کہ اس میں عذاب ہو، جبکہ ایک قوم (یعنی قوم ِ عاد) کو ہوا ہی کے ذریعہ ہلاک کیا گیا اوراس قوم کی نظر تو عذاب پر پڑ رہی تھی، لیکن وہ(ظاہری بادل کو دیکھ کر) کہہ رہے تھے: یہ بادل ہے جو ہم پر مینہ برسانے والا ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8751]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4828، 4829، ومسلم: 899، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24369 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24873»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالی ہود علیہ السلام کی قوم عادیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: {فَلَمَّا رَاَوْہُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَــتِہِمْ قَالُوْا ھٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا بَلْ ہُوَ مَا اسْـتَعْــجَلْتُمْ بِہٖرِیْحٌ فِیْہَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ تُدَمِّرُ کُلَّ شَیْء ٍ بِاَمْرِ رَبِّہَا فَاَصْبَحُوْا لَا یُرٰٓی اِلَّا مَسٰکِنُہُمْ کَذٰلِکَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ۔}
تو جب انھوں نے اسے ایک بادل کی صورت میں اپنی وادیوں کا رخ کیے ہوئے دیکھا تو انھوں نے کہا یہ بادل ہے جو ہم پر مینہ برسانے والا ہے۔ بلکہ یہ وہ (عذاب) ہے جو تم نے جلدی مانگا تھا، آندھی ہے، جس میں دردناک عذاب ہے۔ جو ہر چیز کو اپنے رب کے حکم سے برباد کر دے گی، پس وہ اس طرح ہو گئے کہ ان کے رہنے کی جگہوں کے سوا کوئی چیز دیکھائی نہ دیتی تھی، اسی طرح ہم مجرم لوگوں کو بدلہ دیتے ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
39. بَابُ: «فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الأرْضِ»
{وَاِذْ صَرَفْنَا اِلَیْکَ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ …} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8752
عَنْ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ {نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ} [الأحقاف: 29] قَالَ بِنَخْلَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ {كَادُوا يَكُونُونَ عَلَيْهِ لِبَدًا} [الجن: 19] قَالَ سُفْيَانُ كَانَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ كَاللِّبَدِ بَعْضُهُ عَلَى بَعْضٍ
۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَاِذْ صَرَفْنَآ اِلَیْکَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ یَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ }، یہ واقعہ وادیٔ نخلہ میں پیش آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عشاء کی نماز پڑھ رہے تھے {وَّاَنَّہ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰہِ یَدْعُوْہُ کَادُوْایَکُوْنُوْنَ عَلَیْہِ لِبَدًا۔} … اور یہ کہ بلاشبہ بات یہ ہے کہ جب اللہ کا بندہ کھڑا ہوا، اسے پکارتا تھا تو وہ قریب تھے کہ اس پر تہ بہ تہ جمع ہو جائیں۔ امام سفیان کہتے ہیں: وہ جن اون یا بالوں کی طرح تہ بہ تہ جمع ہو گئے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8752]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1435 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1435»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالی ہے: {وَاِذْ صَرَفْنَآ اِلَیْکَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ یَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ فَلَمَّا حَضَرُوْہُ قَالُوْٓا اَنْصِتُوْا فَلَمَّا قُضِیَ وَلَّوْا اِلٰی قَوْمِہِمْ مُّنْذِرِیْنَ۔} … اور جب ہم نے جنوں کے ایک گروہ کو تیری طرف پھیرا، جو قرآن غور سے سنتے تھے تو جب وہ اس کے پاس پہنچے تو انھوں نے کہا خاموش ہو جاؤ، پھر جب وہ پورا کیا گیا تو اپنی قوم کی طرف ڈرانے والے بن کر واپس لوٹے۔
فوائد: … سورۂ احقاف کی اس سے اگلی تین آیات میں بھی جنوں کا ہی ذکر ہے۔ حافظ ابن کثیر نے کہا: یہ واقعہ نخلہ کا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت نماز عشاء ادا کر رہے تھے، یہ سب جنات سمٹ کر آپ کے اردگرد بھیڑ کی شکل میں کھڑے ہو گئے، ابن عباس کی روایت میں ہے کہ یہ جنات (نصیبین) کے تھے۔ …۔ اس آیت سے استدلال کیا گیا ہے کہ جنات میں بھی اللہ کی باتوں کو پہنچانے والے اور ڈرانے والے ہیں، لیکن ان میں سے رسول نہیں بنائے گئے،
یہ بات بلاشک ثابت ہے کہ جنوں میں پیغمبر نہیں ہیں۔ ارشادِ باری تعالی ہے: {وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَکَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْٓ اِلَیْہِمْ فَسْــَـلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۔} … ہم نے تجھ سے پہلے بھی جتنے رسول بھیجے، وہ سب بستیوں کے رہنے والے انسان ہی تھے جن کی طرف ہم اپنی وحی بھیجا کر تے تھے۔ (سورۂ انبیائ: ۷) نیز اللہ تعالی فرمایا: {وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَکَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّآ اِنَّہُمْ لَیَاْکُلُوْنَ الطَّعَامَ وَیَمْشُوْنَ فِی الْاَسْوَاقِ} … تجھ سے پہلے ہم نے جتنے رسول بھیجے، وہ سب کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے۔ (سورۂ فرقان: ۲۰)، اللہ تعالی نے ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں فرمایا: {وَجَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِہِ النُّبُوَّۃَ وَالْکِتٰبَ وَاٰتَیْنٰہُ اَجْرَہ فِی الدُّنْیَا وَاِنَّہ فِی الْاٰخِرَۃِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ۔} … ہم نے ان کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھ دی، پس ان کے بعد جتنے نبی آئے، وہ ان ہی کے خاندان اور ان ہی کی نسل میں سے ہوئے ہیں۔ (سورۂ عنکبوت: ۲۲) مزید ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۸۸۱۰)
ان تینوں آیات سے ثابت ہوا کہ انبیاء ور سل بشریت کا امتیاز ہے، کسی اور جنس سے پیغمبر نہیں آ سکتے۔ البتہ سورۂ انعام میں ہے: {یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اَلَمْ یَاْتِکُمْ رُسُلٌ مِّنْکُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْکُمْ اٰیٰتِیْ وَیُنْذِرُوْنَکُمْ لِقَاء َ یَوْمِکُمْ ھٰذا} … اے جنوں اور انسانوں کے گروہ: کیا تمہارے پاس تم میں سے رسول نہیں آئے تھے، جو تم کو میری آیات بیان کرتے تھے اور تم کو اس دن کی ملاقات سے ڈراتے تھے۔ (سورۂ انعام: ۱۳۰)
آیت میں اگرچہ دو جنسوں کا ذکر ہے۔ لیکن اس کا مصداق ایک جنس ہی ہو سکتی ہے جیسے فرمایا: {یَخْرُجُ مِنْہُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ۔} … ان دونوں سمندروں میں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں۔ حالانکہ یہ چیزیں دراصل ایک ہی سمندر میں سے ہی نکلتی ہیں۔(سورۂ رحمن: ۲۲)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں